پروین شاکر کی ایک غزل سے متعلق ایک عروضی سوال

شوکت پرویز نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 12, 2017

  1. شوکت پرویز

    شوکت پرویز محفلین

    مراسلے:
    795
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Breezy
    پروین شاکر سے منسوب یہ غزل انٹرنیٹ (ریختہ وغیرہ) پر موجود ہے۔
    میر کی ہندی بحر والی پروین شاکر کی اس غزل کے کئی مصارعِ اول میں ایک دو حرفی رکن زائد ہے۔

    اساتذہ و احباب رہنمائی فرمائیں کہ کیا واقعی یہ پروین شاکر کی غزل ہے؟

    پورا دکھ اور آدھا چاند
    ہجر کی شب اور ایسا چاند

    دن میں وحشت بہل گئی
    رات ہوئی اور نکلا چاند

    کس مقتل سے گزرا ہوگا
    اتنا سہما سہما چاند

    یادوں کی آباد گلی میں
    گھوم رہا ہے تنہا چاند

    میری کروٹ پر جاگ اٹھے
    نیند کا کتنا کچا چاند

    میرے منہ کو کس حیرت سے
    دیکھ رہا ہے بھولا چاند

    اتنے گھنے بادل کے پیچھے
    کتنا تنہا ہوگا چاند

    آنسو روکے نور نہائے
    دل دریا تن صحرا چاند

    اتنے روشن چہرے پر بھی
    سورج کا ہے سایا چاند

    جب پانی میں چہرہ دیکھا
    تو نے کس کو سوچا چاند

    برگد کی اک شاخ ہٹا کر
    جانے کس کو جھانکا چاند

    بادل کے ریشم جھولے میں
    بھور سمے تک سویا چاند

    رات کے شانے پر سر رکھے
    دیکھ رہا ہے سپنا چاند

    سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر
    شبنم تھی یا ننھا چاند

    ہاتھ ہلا کر رخصت ہو گا
    اس کی صورت ہجر کا چاند

    صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
    اپنے عشق میں سچا چاند

    رات کے شاید ایک بجے ہیں
    سوتا ہوگا میرا چاند
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. نمرہ

    نمرہ محفلین

    مراسلے:
    602
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Paranoid
    پڑھنے میں تو درست ہی لگتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,360
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
  4. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,066
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    میری تو یہی رائے ہے کہ اس بحر کی عروضی جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں. اسے شاعر کی موزوں طبیعت پر چھوڑ دینا چاہیے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    11,746
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    یا پھرشاید چاند کو فعلن باندھ دیا گیا ہو :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
  6. شوکت پرویز

    شوکت پرویز محفلین

    مراسلے:
    795
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Breezy
    پروین شاکر صاحبہ سے اس کا صدور بعید از قیاس ہے۔
    اور پھر اگر آنسو والے شعر میں ء کی رعایت کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے بھی خارج از بحر مان لیں تو بھی دوسرے شعر کی کیا توضیح ہوگی؟؟

    آنسو والا شعر:
    آنسو روکے نور نہائے
    دل دریا تن صحرا چاند

    دوسرا شعر جس کا وزن درست ہے۔
    دن میں وحشت بہل گئی
    رات ہوئی اور نکلا چاند
     
  7. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,414
    موڈ:
    Asleep
    کچھ مصرع فعلن فعلن فعلن فع پر پورے اترتے ہیں اور کچھ فعلن فعلن فعلن فعلن پر۔ ہے یہ بحر ہندی ہی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,664
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    رات کے شَ یَ دَیک بجے ہیں
    2 1 1 1 1 2 1 1 2 2
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب ہَمَیں سو جانا چاہیے
     
  9. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,664
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    سب دُرست اور اُستادانہ ہے :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  10. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,183
    محفل کے معزز رکن مزمل شیخ بسمل کے اس مضمون کا مطالعہ کریں۔ شکریہ!
     
  11. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    مصرع کے آخر میں الف، ی، وغیرہ کا اسقاط ہو رہا ہے اور تسبیغ کے ساتھ فعو کو فعول اور فع کو فعل کیا جا رہا ہے۔ اور عروض میں اس کی اجازت ہے۔
    مثلاً
    کس مقتل سے گزرا ہوگا
    فعلن ۔ فعلن ۔ فعلن ۔ فعل
    کس مق ۔ تل سے ۔ گزرا ۔ ہو گ

    اتنا سہما سہما چاند
    فعلن ۔ فعلن ۔ فعلن ۔ فعل
    اتنا ۔ سہما ۔ سہما ۔ چاد

    یادوں کی آباد گلی میں
    فعلن ۔ فعلن ۔ فعل ۔ فعول
    یادوں ۔ کی آ ۔ باد ۔ گلی مِ

    گھوم رہا ہے تنہا چاند
    فعل ۔ فعولن ۔ فعلن ۔ فعل
    گھوم ۔ رہا ہے ۔ تنہا ۔ چاد

    ذیل کے مصرعوں کے آخر میں کر کی جگہ کے اور پر کی جگہ پہ ہو گا۔
    برگد کی اک شاخ ہٹا کے
    سوکھے پتوں کے جھرمٹ پہ

    فعلن ۔ فعلن ۔ فعل ۔ فعول
    برگد ۔ کی اک ۔ شاخ ۔ ہٹا ک

    فعلن ۔ فعلن ۔ فعلن ۔ فعل
    سوکھے ۔ پتوں ۔ کے جھر ۔ مٹ پ

    اس کے مطابق باقی مصرعوں کی بھی تقطیع کر کے دیکھ لیجیے۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 13, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,414
    موڈ:
    Asleep
    برگد کی اک شاخ ہٹا کر

    سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر

    ان دو مصرعوں کو کیسے تقطیع کریں گے؟

    کیا ایسا نہیں کہ آخری ہجہ یک حرفی ہونا چاہئے اور حرف گرا کر اس اصول کو لاگو نہیں کیا جا سکتا؟ اس میں ئے کی استثنا ہے. ایک دو جگہ ایسا پڑھا ہے.
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  13. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    26,360
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    سو کھے
    پت تُ کِ
    جھر مٹ
    پر

    ؟؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    آپ نے شاید میرے مراسلے کا آخری حصہ نہیں پڑھا۔۔۔ کہ میرے خیال میں "پر" کی جگہ "پہ" اور "کر" کی جگہ "کے" ہو گا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    یہاں میں آپ کی بات سمجھ نہیں پایا۔
     
    • متفق متفق × 1
  16. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,414
    موڈ:
    Asleep
    گھر جا کر اس پر تفصیل سے لکھتا ہوں۔ مجھے یاد ہے اس مسئلے پر سرور عالم راز صاحب کا مضمون نظر سے گزرا تھا۔ اس کو ڈھونڈھنا پڑے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  17. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    فعلن ۔ فعلن ۔ فعل ۔ فعول
    آنسو ۔ روکے ۔ نور ۔ نہاء

    فعلن ۔ فعلن ۔ فعلن ۔ فعل
    دل در ۔ یا تن ۔ صحرا ۔ چاد

    فعلن ۔ فعلن ۔ فعل ۔ فعو
    دن میں ۔ وحشت ۔ بہل ۔ گئی

    فعل ۔ فعولن ۔ فعلن ۔ فعل
    رات ۔ ہُئی ار ۔ نکلا ۔ چاد
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,414
    موڈ:
    Asleep
    یہ پریچٹ کی کتاب سے لیا گیا اقتباس:

    ربط

    یعنی پریچٹ کے مطابق ہر بحر کے آخر میں ایک ہجۂ کوتاہ کا اضافہ کیا جا سکتا ہے،سوائےبحرِ ہزج مثمن سالم کے۔ اور یہ ہجۂ کوتاہ ہمیشہ یک حرفی ہوتا ہے، مثلاً او-ر، فرا-ز ، وغیرہ۔ یا پھر دو حرفی میں اس کی شکل یوں ہوتی ہے: ء+ (ا،ی،ے)۔ مثلاً جا-ئے، آ-ئے، وغیرہ ۔

    تو اس کے مطابق سرخ کئے گئے مصرعوں کا وزن فعلن فعلن فعلن فعلن ہی تصور ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  19. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,414
    موڈ:
    Asleep
    سرور عالم راز صاحب کی تحریر بھی مل گئی:

     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  20. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    اسی عمل کو "تسبیغ" کہا جاتا ہے جس کا ذکر میں نے اوپر کے اپنے مراسلے میں کیا۔
    ایک حرفی ہی لیا ہے۔ الف، و، ی اور ے کا اسقاط ہو گیا تو باقی ایک حرف ہی بچتا ہے۔

    جسے ہندی بحر کہا جا رہا ہے اس میں کہیں بھی "فعلن فعلن" یا "فعل فعولن" لا یا جا سکتا ہے۔ یا آخر میں "فعلن فع" یا "فعل فعو" لایا جا سکتا ہے جس پر تسبیغ لاگو ہو تو "فع" بدل جائے گا "فعل" سے اور "فعو" بدل جائے گا "فعول" سے۔
    جیسا کہ سرور عالم راز صاحب نے فرمایا:
    اور جیسے اس مثال میں راز صاحب نے لکھا کہ
    اسی طرح پروین شاکر نے گا کو گَ، میں کو مِ، اٹھّے کو اٹھِّ، سے کو سِ، پیچھے کو پیچھِ، بھی کو بھِ، دیکھا کو دیکھَ، کے کو کِ"رکھّے کو رکھِّ، پہ کو پِ، ہے کو ہَ، وغیرہ کیا ہے۔
    یوں میری رائے میں تو پروین شاکر کی غزل بالکل درست وزن میں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر