السلام علیکم،

میری کم علمی دیکھیئے کہ مجھے کل ہی پتہ چلا کہ کچھ مخصوص پرندوں کے گھونسلے کھانے کے قابل ہوتے ہیں اور بہت شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ اور بہت بیش قیمت ہوتے ہیں اور ان کی مانگ بھی بہت زیادہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ گھونسلے صحت کے لیے بہت اچھے ہوتے ہیں خاص طور پر دمہ اور گلے وغیرہ کے لیے۔

اپنے اندر بہت سی خوبیاں اور طاقت لیے ان گھونسلوں کے سوپ کا ایک پیالہ 30 سے 100 ڈالر تک میں مل جاتا ہے۔ اوریہ گھونسلے 2000 سے 10000 ڈالر فی کلو گرام تک دستیاب ہیں۔ زیادہ تر انڈونیشیا ، تھائی لینڈ وغیرہ کے غاروں اور جنگلات سے برآمد کیے جاتے ہیں۔

Swiftlet ،Swift، اور Swallow، نسلوں کے پرندے یہ گھونسلے انتہائی نفاست اور باریکی سے تیار کرتے ہیں۔
یہ گھونسلے کچھ مخصوص شکلوں میں ہوتے ہیں مثلاً پیالا نما، تکون، ہلال کی شکل میں، یا پھر خام حالت میں۔

SwiftletBirdNests.jpg


ایک پیکنگ

Edible_Bird%27s_Nest%2C_in_decorative_packaging..jpg


ایک اور پیکنگ

Birds_Nest_Box.jpg


سوپ کا ایک پیالہ

Bird%27s_Nest_soup.jpg


ربط:
وکی پیڈیا

رے گروپ

بھئی جو بھی منگوائے ایک کپ سوپ مجھے بھی آفر کرے۔

ٹیگز:
قیصرانی ، شمشاد ، عمر سیف ، نیرنگ خیال ، سید زبیر ، زبیر مرزا ، ساجد ، نیلم ، غدیر زھرا ، ملائکہ ، بھلکڑ ، سید ذیشان زیک حسان خان
 
السلام علیکم،

میری کم علمی دیکھیئے کہ مجھے کل ہی پتہ چلا کہ کچھ مخصوص پرندوں کے گھونسلے کھانے کے قابل ہوتے ہیں اور بہت شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ اور بہت بیش قیمت ہوتے ہیں اور ان کی مانگ بھی بہت زیادہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ گھونسلے صحت کے لیے بہت اچھے ہوتے ہیں خاص طور پر دمہ اور گلے وغیرہ کے لیے۔

اپنے اندر بہت سی خوبیاں اور طاقت لیے ان گھونسلوں کے سوپ کا ایک پیالہ 30 سے 100 ڈالر تک میں مل جاتا ہے۔ اوریہ گھونسلے 2000 سے 10000 ڈالر فی کلو گرام تک دستیاب ہیں۔ زیادہ تر انڈونیشیا ، تھائی لینڈ وغیرہ کے غاروں اور جنگلات سے برآمد کیے جاتے ہیں۔

Swiftlet ،Swift، اور Swallow، نسلوں کے پرندے یہ گھونسلے انتہائی نفاست اور باریکی سے تیار کرتے ہیں۔
یہ گھونسلے کچھ مخصوص شکلوں میں ہوتے ہیں مثلاً پیالا نما، تکون، ہلال کی شکل میں، یا پھر خام حالت میں۔

SwiftletBirdNests.jpg


ایک پیکنگ

Edible_Bird%27s_Nest%2C_in_decorative_packaging..jpg


ایک اور پیکنگ

Birds_Nest_Box.jpg


سوپ کا ایک پیالہ

Bird%27s_Nest_soup.jpg


ربط:
وکی پیڈیا

رے گروپ

بھئی جو بھی منگوائے ایک کپ سوپ مجھے بھی آفر کرے۔

ٹیگز:
قیصرانی ، شمشاد ، عمر سیف ، نیرنگ خیال ، سید زبیر ، زبیر مرزا ، ساجد ، نیلم ، غدیر زھرا ، ملائکہ ، بھلکڑ ، سید ذیشان زیک حسان خان
کیا زبردست اور معلوماتی شراکت ہے
ڈھیر سارا خوش رہیں
 

قیصرانی

لائبریرین
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مخصوص پرندے اپنے گھونسلے بنانے کے لئے ایک مخصوص رطوبت خارج کرتے ہیں جو خشک ہو کر اوپر دکھائی گئی شکل اختیار کر لیتی ہے :)
 
زندگی کرتی ہے جرموں کی تجارت آج کل
چیختی ہے رہگذاروں پر شرافت آج کل
علم کے ماتھے پر ہے دور جہالت آج کل
آج بے نام ونشاں اسلاف کی توقیر ہے
ایک یہ بھی انقلاب وقت کی تصویر ہے
 

قیصرانی

لائبریرین
اور کسی پرندے کا آشیانہ اجاڑنے سے اس کا بھلا ہوجاتا ہے :p
لڑکی ہو کے اتنی ظالم چھی چھی ۔۔۔ ۔بے درد اپو
عموماً پرندے اپنا گھونسلہ صرف انڈے بچے دینے کے لئے بناتے ہیں اور اس کے بعد پھر اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ ہاں ایک ہی گھونسلہ ایک سے زیادہ بار استعمال ہو سکتا ہے :)
 

ماہی احمد

لائبریرین
ظالم والی کیا بات ہے اب بھلا؟؟؟ یہاں انسانوں کا کوئی حال نہیں رہ گیا آپ کو جانوروں کی ٹنشن ہے۔۔۔
بھئی اس کے اوپر ایک واقعہ یاد آ یا ۔ہمارے یہاں ماس کمیونیکیشن سینٹر کے ٹھیک سامنے ایک سڑک جاتی ہے جس کا نام ہے "منٹو لین " تو لین کے بالکل بیچوں بیچ ایک درخت ہے غالبا نیم کا ۔کئی مرتبہ شکایت کے بعد کہ گاڑیوں وغیرہ کے لئے اکثر پریشانی ہوتی ہے کچھ لوگوں نے جس میں اساتذہ بھی شامل تھے منتظمین نے درخت تو کاٹ دینے کا فیصلہ کیا ۔ مگر بعض حقوق کا واویلا مچانے والے اساتذہ نے وہ ہنگامہ کیا کہ الامان و الحفیظ منتظمین کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا ۔انھیں دنوں دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دو مسلم طلبا ء عاطف اور ساجد کو ایک مبینہ انکاونٹر میں قتل کر دیا گیا تھا تو ہمارے ایک استاد نے یہی بات کہی تھی جو آپ نے کہی " یہاں انسانوں کا کوئی حال نہیں رہ گیا آپ کو پیڑوں کی فکر ستائے جارہی ہے۔
 

ماہی احمد

لائبریرین
بھئی اس کے اوپر ایک واقعہ یاد آ یا ۔ہمارے یہاں ماس کمیونیکیشن سینٹر کے ٹھیک سامنے ایک سڑک جاتی ہے جس کا نام ہے "منٹو لین " تو لین کے بالکل بیچوں بیچ ایک درخت ہے غالبا نیم کا ۔کئی مرتبہ شکایت کے بعد کہ گاڑیوں وغیرہ کے لئے اکثر پریشانی ہوتی ہے کچھ لوگوں نے جس میں اساتذہ بھی شامل تھے منتظمین نے درخت تو کاٹ دینے کا فیصلہ کیا ۔ مگر بعض حقوق کا واویلا مچانے والے اساتذہ نے وہ ہنگامہ کیا کہ الامان و الحفیظ منتظمین کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا ۔انھیں دنوں دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے دو مسلم طلبا ء عاطف اور ساجد کو ایک مبینہ انکاونٹر میں قتل کر دیا گیا تھا تو ہمارے ایک استاد نے یہی بات کہی تھی جو آپ نے کہی " یہاں انسانوں کا کوئی حال نہیں رہ گیا آپ کو پیڑوں کی فکر ستائے جارہی ہے۔
کیا کہوں اب۔ لیکن خیر اللہ کے اچھے بندے بھی بہت ہیں :) دل کو ڈھارس رہتی ہے۔۔۔
 
آخری تدوین:

ساقی۔

محفلین
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مخصوص پرندے اپنے گھونسلے بنانے کے لئے ایک مخصوص رطوبت خارج کرتے ہیں جو خشک ہو کر اوپر دکھائی گئی شکل اختیار کر لیتی ہے :)

اسی لیے تو اتنے مہنگے داموں بکتے ہیں ۔۔۔۔۔ ٹیسٹی تو ہوتے ہی ہوں گے۔:clown:
 

قیصرانی

لائبریرین
ایک بار نیشنل جیوگرافک کی ڈاکومنٹری دیکھی تھی، وہی ذہن میں تھا :)
میرے پاس فار ایسٹ کے کیو (غار) برڈس کی یہ ڈاکیومینٹری محفوظ ہے۔غار کی چھتوں پر نصب کیے گئے گھونسلے مقامی افراد انتہائی پر خطر طریقوں سے اتارتے ہیں۔
 
Top