پرندوں کے انڈے اور گھونسلے

شمشاد

لائبریرین
جسامت کے حساب سے ضرور کیوی ہو گی لیکن انڈے کے حجم کو دیکھا جائے تو سب سے بڑا انڈا شتر مرغی کا ہوتا ہے۔
 

جاسمن

لائبریرین
گھونسلہ
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے



ایک ٹوکری نما گھونسلہ
ایسی جگہ جو کہ پناہ لینے کی غرض سے بنائی جائے، جہاں کسی بھی جانور کے انڈے رکھے جائیں یا ایک ایسی جگہ جو کہ جانوروں کے بچوں کی پرورش کے غرض سے مہیا کی جائے، گھونسلہ کہلاتی ہے۔ گھونسلہ زیادہ تر اساسی اشیاء مثلاً تنکے، گھاس اور پتوں سے بنائے جاتے ہیں۔ یہ کسی نشیبی یا کھوکھلی جگہ پر بھی بنائے جاسکتے ہیں اور اس میں بعض اوقات انسانی بنائی ہوئی چیزوں مثلاً رسی، ربڑ، کپڑے، بال اور کاغذ وغیرہ بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ عام طور پر ہر جانور یا پرندے کے گھونسلے بنانے کا انداز منفرد ہوتا ہے۔ زیادہ تر پرندے [[گھونسلے بناتے ہیں لیکن پرندوں کے علاوہ کئی قسم کے پستانئے، مچھلیاں، کیڑے اور رینگنے والے جانور بھی گھونسلے بناتے ہیں
http://ur.wikipedia.org/wiki/گھونسلہ
 

جاسمن

لائبریرین
کوئل---دس ہزار ميل پرواز کرنے والا پرندہ
4105937772102616314816923995523097159.jpg

اگر آپ صبح سويرے سير پر جاتے ہيں تو آپ نے درختوں کے قريب سے گذرتے ہوئے ايک پرندے کي خوبصورت اور سريلي آواز ضرور سني ہوگي- دل کو چھو لينے والي يہ آواز ايک لمحے کے ليے رک پلٹ کر ديکھنے پر مجبور کرديتي ہے- يہ خوبصورت آوازايک چھوٹے سے پرندے کوئل کي ہے-
کوئل اور ہر گھنٹے کے بعد کوئل جيسي آواز نکالنے والے کلاک اب ماضي کا حصہ بنتے جارہے ہيں-زيادہ دور پرے کي بات نہيں ہے کہ باغوں اور پارکوں ميں کوئل کي سريلي اور خوبصورت آواز اکثر سنائي ديتي تھي اور بہت سے گھروں کي ديواروں پر ايسے کلاک نظر آتے تھے جن ميں ہر گھنٹے کے بعد ايک چھوٹي سي کھڑکي کھلتي تھي اور ايک ننھي سي کوئل اپني چونچ باہر نکال کر وقت کا اعلان کرتي تھي-
21412018710516848185581472352005399149197175.jpg

کوکو کلاک موبائل فونز اور ڈيجيٹل ٹيکنالوجي کے ديگر گھريلو آلات کي بھينٹ چڑھ چکا ہے ، جب کہ آب و ہوا کي تبديلياں ہمارے باغوں اور پارکوں کوکوئل کے سريلے نغموں سے محروم کررہي ہيں- جنوبي ايشيا ميں کوئل کي آبادي ميں کتني کمي واقع ہوئي ہے؟ اس بارے ميں مستند اعدادوشمار دستياب نہيں ہيں ليکن برطانيہ ميں ايک حاليہ مطالعے سے پتا چلا ہے کہ 1995ء کے مقابلے ميں 2010ء ميں اس خوش الحان پرندے کي تعداد آدھي ہوچکي تھي-
کم ہي لوگوں کو يہ علم ہے کہ کوئل ايک خانہ بدوش پرندہ ہے اور وہ خوراک کي تلاش اور موسموں کي سختيوں سے بچنے کي خاطر ہر سال ہزاروں ميل کا سفر کرتا ہے- يورپ ميں يہ ننھا پرندہ افريقہ سے طويل سفر کے بعد وہاں آتا ہے اور سردياں شروع ہوتے ہي واپسي کي پرواز شروع کرديتا ہے- آپ کو يہ جان کر يقيناً حيرت ہوگي کہ يہ ننھي سي جان ہرسال دس ہزار ميل سے زيادہ پرواز کرتي ہے- اوراس سے بھي زيادہ حيرت انگيز بات يہ ہے کہ شمالي امريکہ کے سفر کے ليے يہ پرندہ چار ہزار ميل کي ايک مسلسل اڑان ميں بحيرہ کريبيئن عبور کرتا ہے-
کوئل يا کوکو کي کئي اقسام ہيں جن کا وزن 15 گرام سے سوا پونڈ تک ہوتا ہے - مختلف اقسام کے پروں کي رنگت بھي مختلف ہوتي ہے اور کوئل کي نقل مکاني پر نظر رکھنے والے يورپي تحقيقي ادارے بي ٹو او کے مطابق کچھ اقسام نقل مکاني نہيں کرتيں اور کسي خاص علاقے ميں مستقل طور پر رہتي ہيں-
3219780991991831642291382292165936178224182.jpg

برطانوي سائنس دانوں کي ايک ٹيم نے، جو گذشتہ ايک سال سے کوئل پر تحقيق کررہي ہے، افريقہ سے برطانيہ پہنچنے والي کوئل کي پرواز کے راستوں کي مستند معلومات اکھٹي کرنے کا دعويٰ کيا ہے-
اس تحقيق کے ليے پہلي بار جي پي ايس سے مدد لي گئي ہے اور سيٹلائٹ کے ذريعے ان کي پرواز پر نظر رکھ کر ڈيٹا مرتب کيا گيا ہے-
ٹيم کے سربراہ ڈاکٹر فل اٹکن سن کا کہناہے کہ اپني تحقيق کے ليے انہوں نے پچھلے سال مئي ميں نورفوک کے علاقے سے پانچ نر کوئل پکڑے، اور پھر ايک خصوصي چھوٹے جي پي ايس کو ان کے بازوں کے ساتھ باندھنے کے بعد آزاد کرديا گيا-جس کے بعد ان کي پرواز کاريکارڈ مرتب کيا گيا-
ڈاکٹر اٹکن سن کا کہناہے کہ ان پانچ ميں سے دو پرندوں نے جن کے نام لاسٹر اورکرس رکھے گئے تھے، خزاں کا موسم شروع ہوتے ہي اپني واپسي کي پرواز شروع کي اور وہ مختلف راستوں سےاٹلي اور اسپين سے گذرتے، بحيرہ روم کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے افريقہ کے صحرائے اعظم ميں داخل ہوئے اور سرديوں کے آغاز پر ايک برساتي جنگل ميں پہنچ گئے- پھر جب موسم بدلنا شروع ہواتو انہوں نے واپسي کے سفر کا آغاز کيا اور مختلف راستوں سے گذرتے اپريل کے آخر ميں برطانيہ ميں فورنوک کے اسي علاقے ميں پہنچ گئے جہاں سے ايک سال قبل انہيں پکڑا گياتھا-
33152129222183144302052321016513510211611177.jpg

پرندوں پر ايک اور حاليہ تحقيق سے معلوم ہوا ہے کہ 1995ء سے يورپ ميں کوئل سميت پرندوں کي دوسري کئي اقسام کي تعداد مسلسل گھٹ رہي ہے- ان ميں قمري، فاختہ ، بلبل اور ممولے بھي شامل ہيں- ايک اندازے کے مطابق برطانيہ ميں ہر سال کوئل کے دس ہزار سے بيس ہزار جوڑے گرمياں گذارنے آتے ہيں - دلچسپ بات يہ ہے کہ مادہ کوئل اپنے واپسي کے سفر پرروانگي سے قبل عموماً کوئے کے گھونسلے ميں انڈےديتي ہے- اور کوئے کو اس وقت پتا چلتا ہے کہ وہ کوئل کے انڈے سہتا اور اس کے بچے پالتا رہاہے، جب وہ بولنا شروع کرتے ہيں - وہ انہيں گھونسلے سے باہر پھينک دتيا ہے- مگر تب تک وہ اڑنے کے قابل ہوچکے ہيں اور پھر گھونسلے سے بے دخل ہونے کے چند ہي ہفتوں کے بعد وہ افريقہ کے ليے اپني پرواز شروع کرديتے ہيں-
کوئل کي اقسام اپنے انڈے خود سہتي ہيں اور اپنے بچوں کي پرورش بھي خود کرتي ہيں-
نئي تحقيق سے معلوم ہوا ہے کہ کوئل پرواز کے ليے مختلف راستے اختيار کرتا ہے- بالغ پرندے اپنا سفر پہلے شروع کرتے ہيں اور عموماً مارچ کے آخر يا اپريل کے شروع ميں برطانيہ پہنچ جاتے ہيں اور پھر جولائي اگست ميں ان کي واپسي شروع ہوجاتي ہے- جب کہ ان کے بچوں کي پرواز تقريباً ايک ماہ بعد شروع ہوتي ہے-
صحرائے اعظم عبور کرنے سے پہلے يہ پرندے کچھ عرصہ مغربي افريقہ ميں رکتے ہيں اور اپنے قيام کے دوران معمول سے زيادہ خوراک کھاتے ہيں جس سے ان کے وزن اور جسم ميں توانائي کي مقدار بڑھ جاتي ہے- اپني اسي توانائي کے بل پر وہ صحرا ئے اعظم عبور کرتے ہيں-
851116614131218216415915911158183242208169.jpg

ڈاکٹر فل اٹکن سن کا کہناہے کہ ہميں پتا چلا ہےکہ غير معمولي موسمي تبديلياں ان کي ہلاکت کا سبب بن رہي ہيں- انہوں نے بتايا کہ تحقيق ميں شامل پہلا کوئل افريقي ملک کيمرون سے گذرتے ہوئے سخت موسم کے باعث ہلاک ہوگياتھا-
ماہرين کے مطابق کوئل کا اصل وطن افريقہ ہے اور وہ خوراک کي تلاش ميں يورپ کا رخ کرتا ہے-
ڈاکٹر اٹکن سن نے ٹيلي گراف کے ساتھ اپنے انٹرويو ميں موسمياتي تبديليوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تبديلوں کے باعث اس سال فروري کے آخر ميں ہي کوئل کي آمد کاسلسلہ شروع ہوگيا تھا، جب کہ ان کي آمد عموماً اپريل اور مئي ميں ہوتي ہے-
6057512051111842412266812137159281271230.jpg

سائنس دانوں کا کہناہے کہ نر اور مادہ کوئل کي عادات کافي مختلف ہيں - برطانيہ ميں نر پرندوں کي آمد پہلے شروع ہوتي ہے اور وہ گرمياں گذارنے کے ليے ايسي جگہوں کا انتخاب کرتے ہيں جہاں انہيں اپنےليے اچھے جيون ساتھي ملنے کي توقع ہوتي ہے- جب کہ مادہ پرندے کئي ہفتوں کے بعد وہاں پہنچنے ہيں اوران کي پرواز کے راستے بھي مختلف ہوتے ہيں-
ڈاکٹر اٹکن سن کي ٹيم مادہ کوئل کي پرواز کے راستوں کا نقشہ بنانے کے ليے اس سال ان پر تحقيق کررہي ہے-
http://www.tebyan.net/index.aspx?pid=201571
 

جاسمن

لائبریرین
titmouse
Urdu:
بیا, پُھدکی, چھوٹے پرندوں کی قسموں میں سے ایک پرندہ, قرقف, چھوٹے پرندوں کی مختلف اقسام میں سے ایک پرندہ, ایک قسم کی چھوٹی چڑیا
Arabic:
قرقف, طيور صغيرة
http://define.pk/dictionaries/index.php/term/,6d565c9b5c57aea16f5655aeaa5ab1.xhtml

کپڑا بنناانسان کو”بیا“نے سکھایا
اگست یا ستمبر کے مہینے میں گائوں سے باہر کھیتوں میں نکل جائیں تو شیشم اور ببول کے اونچے درختوں اور گنے کے کھیتوں یا سرکنڈے کے جھنڈ میں کسی پرندے کی باریک اور مترنم آوازیں سنائی دیں گی۔ یہ آوازیں اتنی میٹھی ہوتی ہیں کہ دل بے اختیار ان کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ غور سے دیکھیں‘ تو کھیتوں اور درختوں کی ٹہنیوں پر چھوٹے چھوٹے پرندے اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں.... جی ہاں‘ یہ دلکش آوازیں بیا کی ہیں جو اس وقت زور شور سے تعمیراتی کام میں مصروف ہے۔ جسامت میں بیا گھروں میں رہنے والی عام چڑیا کے برابر ہوتا ہے لیکن اس کی نسبت نہایت ذہین اور خوش طبع ہے۔ اپنے ذاتی فرائض ہوں یا بیگار کا کام‘ ہر جگہ خوش طبعی اور زندہ دلی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جہاں کہیں آپ کو درختوں پر وسط ایشیا کے فقیروں کی ٹوپیاں الٹی لٹکی ہوئی نظر آئیں‘ سمجھ لیجئے یہ بیے کے گھونسلے ہیں۔ اپنی نوعیت اور بناوٹ کے لحاظ سے پرندوں کی دنیا میں ان کی مثال ملنی مشکل ہے۔ یہ پرندہ عموماً گھنے جنگل پسند نہیں کرتا۔ معلوم ہوتا ہے انسانی آبادیوں سے اسے خاص مناسبت ہے‘ اسی لیے بستیوں کے آس پاس گھونسلے بناتا ہے۔ بے حد محتاط اور عاقبت اندیش ہے۔ دشمنوں کی یلغار سے بچنے کیلئے باقاعدہ پیش بندی کرتا ہے۔ دشمن سے حفاظت کیلئے ایسی جگہ گھونسلا بناتا ہے جہاں بھڑوں کے چھتے یا زہریلی چیونٹیوں کے بل ہوں۔ ان پیش بندیوں کی وجہ سے دشمن گھونسلے کے قریب نہیں جاسکتا البتہ حضرت انسان اس کی پیش بندیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے محض تفریح طبع کی خاطر گھونسلے اٹھا لیتا ہے۔ بیاگھونسلے بنانے کا کام درخت کی کسی لچکدار شاخ کا انتخاب کرنے کے بعد شروع کرتا ہے۔ وہ گنے‘ دھان یا مونج کے پتوں سے باریک دھاگے بناتا اور شاخ سے لپیٹتا جاتا ہے۔ دھاگے بنانے میں اسے خداداد مہارت حاصل ہے۔ پتے کی جڑ کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور اس کی اگلی نوک پکڑ کر اپنی طرف کھینچتا ہے‘ پتہ درمیان سے مڑجاتا ہے‘ اب یہ ذہین جانور اسے پکڑ کر جھٹکا دیتا ہے۔ پتے کی لمبائی کے برابر باریک دھاگا تیار ہوجاتا ہے جسے گھونسلے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بیا دھاگوں کو رسی کی صورت میں شاخ کے گرد بڑی مضبوطی سے بن کر نیچے کی طرف لٹکا دیتا ہے۔ مناسب مقدار میں دھاگے کا ذخیرہ ہوجائے تو دھاگے کے نچلے حصے کو بلب کی صورت میں موڑتا ہے۔ گھونسلے کا قطر بالعموم اوپر سے چار انچ اور نیچے سے ساڑھے پانچ انچ ہوتا ہے۔ اب اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ انڈے دینے کا خانہ کہاں ہونا چاہیے‘ گھونسلے کے بیچوں بیچ ایک مضبوط اور لمبوتری دیوار بنائی جاتی ہے جو باہر نکلنے والے سوراخ اور انڈوںکی جگہ کے درمیان حد فاصل کا کام دیتی ہے۔ اس وقت گھونسلے کی شکل الٹی لٹکی ہوئی ٹوکری سے مشابہہ ہوتی ہے۔ نر بیا مادہ پرندہ کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے‘ لیکن مادہ اس وقت تک توجہ نہیں کرتی جب تک اس کا بنایا ہوا گھونسلہ نہ دیکھ لے۔ جو گھونسلا اسے پسند آجائے‘ اس میں بسیرا کرتی ہے۔ اب نر اور مادہ مل کر باقی کام مکمل کرتے ہیں۔ بڑی محنت سے دیواروں کو مضبوط‘ نرم اورملائم بناتے ہیں۔ نرباہر سے دھاگے اندر دھکیلتا ہے‘ مادہ اندر سے بنتی ہے۔ کام کے دوران میں نر کے ذوق و شوق کا عجب عالم ہوتا ہے وہ لمبے مترنم سروں میں خوشی کے نغمے الاپتا ہے۔ گھونسلے کی لمبائی ایک فٹ تک ہوتی ہے۔ اسے اتنا مضبوط بنایا جاتا ہے کہ اسے سخت آندھیاں نقصان پہنچا سکتی نہ زور دار بارشوں کا پانی اندر جاسکتا ہے۔ خود بیا گھونسلے میں اس احتیاط سے داخل ہوتا ہے کہ گھونسلا حرکت تک نہیںکرتا۔ دو پروں کو سمیٹ کر ایک ہی جست میں اندرچلا جاتا ہے۔ اس کے گھونسلے کی گانٹھ نہایت مضبوط ہوتی ہے اور اسے شاخ سے جدا کرنے کیلئے خاصا وقت لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آندھی یا طوفان میں گھونسلا دائیں بائیں ڈولتا ضرور ہے لیکن شاخ سے الگ نہیں ہوتا۔ نر بیا کی ایک عجیب عادت یہ ہے کہ ایک گھونسلامکمل ہوجائے تو دوسرے کی تیاری میں مصروف ہوجاتا ہے۔ وہاں بھی کوئی مادہ آکر گھر بسا لیتی ہے۔ اس طرح بعض اوقات ایک نر بیا تین تین گھر آباد کرلیتا ہے۔
http://dev1.ubqari.org/index.php?r=article/details&id=2095
انوکھا پرندہ
ایک ایسا حیرت انگیز پرندہ بھی ہے جو اپنے گھر میں روشنی کئے رکھتا ہے اس کا نام بیا ہے یہ برندہ فلپائن تل محدود ہے۔ اسکے اپنے گھونسلے میں کبھی تاریکی نہیں ہوتی کیونکہ وہ ہمیشہ جگنو کی تاک میں رہتا ہے جونہی کوئی جگنو اسکی گرفت میں آتا ہے وہ اسے گھر لے آتا ہے یہ اپنے گھونسلے میں کچھ اس طرح تانا بانا بنتا ہے کہ جگنو باوجود کوشش کے اس جال کی گرفت سے نہیں نکل سکتا اس طرح کئی جگنو اس کی جھونپڑی کی زینت بن جاتے ہیں اور یہ ان کی جگمگ کرتی ٹھنڈی روشنیوں کے نیچے پڑا سویا رہتا ہے
http://www.urdu.co/encyclopedia/Dilchasp-o-Ajeeb-aur-Herat-Angaiz-Maloomat/anokha-parinda/
 
آخری تدوین:

جاسمن

لائبریرین
چڑیوں کے گھونسلوں میں سگریٹ کے فلٹرز

121206102140_224.jpg

مکسیکو سٹی میں پرندے سگڑیٹوں کے فلٹرز جمع کرتے ہیں
ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پرندے اپنے گھونسلے کو گرم اور کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سگریٹ کے ’بٹ‘ یعنی فلٹرز کا استعمال کرتے ہیں۔
سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ کے فلٹروں میں موجود ’نکوٹین‘ اور دیگر کیمیائی مواد قدرتی طور پر کیڑا شکن کے طور پر کام کرتے ہیں۔
ساتھ ہی ’سیلولوز‘ کے بنے ہوئے فلٹرز گھونسلے کو سردی سے بچانے میں بھی کارآمد ہوتے ہیں۔
جنگلی پرندے اپنے گھونسلے کو کیڑوں سے بچانے کے لیے مخصوص کیمیائی مادہ خارج کرنے والے پودوں کا استعمال بھی کرتے ہیں۔
اس تحقیق میں سائنسدانوں نے میکسیکو سٹی میں عام اور زرد چڑیوں کے گھونسلوں کا جائزہ لیا جن میں اوسطً دس اور زیادہ سے زیادہ سگریٹ کے اڑتالیس فلٹر موجود تھے۔
دونوں قسم کی چڑیوں کے جن گھونسلوں میں زیادہ سگریٹ کے فلٹرز موجود تھے ان میں ہی کیڑوں کی تعداد قدرے کم تھی۔
ان فلٹروں کی کیڑا شکن خصوصیات کو آزمانے کے لیے محققین نے نئے اور استعمال شدہ سگریٹوں کے فلٹرزگھونسلوں میں لگائے۔
ان کے ساتھ بیٹری سے چلنے والے ’تھرمل‘ شکنجے لگائے گئے ہیں جو کہ حرارت سے کیڑوں کو گھونسلوں کی طرف راغب کرتے ہیں۔ جن سگریٹ کے فلٹروں میں نکوٹین والے فلٹر تھے، ان میں کہیں کم کیڑے آئے۔
رائل سوسائٹی کے جریدے بائیولوجی لیٹرز میں محققین کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ ثابت کر رہے ہیں کہ شہری علاقوں کے پرندے استعمال شدہ سگریٹ کے فلٹرز میں موجود سیلولوز اپنے گھونسلے میں لگاتے ہیں اور اس اقدام کا مقصد گھونسلے میں آنے والے کیڑوں کی تعداد میں کمی کرنا ہے۔‘
انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ نکوٹین کیڑوں کے خلاف قدرتی دفاعی کیمیائی مادے کے طور پر کام کرتا ہے۔
نکوٹین کو کھیتوں اور مرغیوں کے فارموں میں بھی کیڑوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ یہ ایک اتفاق ہو اور پرندے سگریٹ کے فلٹروں کا استعمال صرف گھونسلے میں سردی کم کرنے کے لیے کر رہے ہوں۔
اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ کیا پرندے استعمال شدہ یا غیر استعمال شدہ سگریٹ کے فلٹروں میں فرق کرتے ہیں، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مزید تحقیق کرنا ہوگی۔

bird-nest.jpg

http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2012/12/121206_birds_cig_butts_sa.shtml
 
آخری تدوین:

عزیزامین

محفلین
titmouse
Urdu:
بیا, پُھدکی, چھوٹے پرندوں کی قسموں میں سے ایک پرندہ, قرقف, چھوٹے پرندوں کی مختلف اقسام میں سے ایک پرندہ, ایک قسم کی چھوٹی چڑیا
Arabic:
قرقف, طيور صغيرة
http://define.pk/dictionaries/index.php/term/,6d565c9b5c57aea16f5655aeaa5ab1.xhtml
کپڑا بنناانسان کو”بیا“نے سکھایا

اگست یا ستمبر کے مہینے میں گائوں سے باہر کھیتوں میں نکل جائیں تو شیشم اور ببول کے اونچے درختوں اور گنے کے کھیتوں یا سرکنڈے کے جھنڈ میں کسی پرندے کی باریک اور مترنم آوازیں سنائی دیں گی۔ یہ آوازیں اتنی میٹھی ہوتی ہیں کہ دل بے اختیار ان کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ غور سے دیکھیں‘ تو کھیتوں اور درختوں کی ٹہنیوں پر چھوٹے چھوٹے پرندے اڑتے ہوئے نظر آتے ہیں.... جی ہاں‘ یہ دلکش آوازیں بیا کی ہیں جو اس وقت زور شور سے تعمیراتی کام میں مصروف ہے۔ جسامت میں بیا گھروں میں رہنے والی عام چڑیا کے برابر ہوتا ہے لیکن اس کی نسبت نہایت ذہین اور خوش طبع ہے۔ اپنے ذاتی فرائض ہوں یا بیگار کا کام‘ ہر جگہ خوش طبعی اور زندہ دلی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جہاں کہیں آپ کو درختوں پر وسط ایشیا کے فقیروں کی ٹوپیاں الٹی لٹکی ہوئی نظر آئیں‘ سمجھ لیجئے یہ بیے کے گھونسلے ہیں۔ اپنی نوعیت اور بناوٹ کے لحاظ سے پرندوں کی دنیا میں ان کی مثال ملنی مشکل ہے۔ یہ پرندہ عموماً گھنے جنگل پسند نہیں کرتا۔ معلوم ہوتا ہے انسانی آبادیوں سے اسے خاص مناسبت ہے‘ اسی لیے بستیوں کے آس پاس گھونسلے بناتا ہے۔ بے حد محتاط اور عاقبت اندیش ہے۔ دشمنوں کی یلغار سے بچنے کیلئے باقاعدہ پیش بندی کرتا ہے۔ دشمن سے حفاظت کیلئے ایسی جگہ گھونسلا بناتا ہے جہاں بھڑوں کے چھتے یا زہریلی چیونٹیوں کے بل ہوں۔ ان پیش بندیوں کی وجہ سے دشمن گھونسلے کے قریب نہیں جاسکتا البتہ حضرت انسان اس کی پیش بندیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے محض تفریح طبع کی خاطر گھونسلے اٹھا لیتا ہے۔ بیاگھونسلے بنانے کا کام درخت کی کسی لچکدار شاخ کا انتخاب کرنے کے بعد شروع کرتا ہے۔ وہ گنے‘ دھان یا مونج کے پتوں سے باریک دھاگے بناتا اور شاخ سے لپیٹتا جاتا ہے۔ دھاگے بنانے میں اسے خداداد مہارت حاصل ہے۔ پتے کی جڑ کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور اس کی اگلی نوک پکڑ کر اپنی طرف کھینچتا ہے‘ پتہ درمیان سے مڑجاتا ہے‘ اب یہ ذہین جانور اسے پکڑ کر جھٹکا دیتا ہے۔ پتے کی لمبائی کے برابر باریک دھاگا تیار ہوجاتا ہے جسے گھونسلے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بیا دھاگوں کو رسی کی صورت میں شاخ کے گرد بڑی مضبوطی سے بن کر نیچے کی طرف لٹکا دیتا ہے۔ مناسب مقدار میں دھاگے کا ذخیرہ ہوجائے تو دھاگے کے نچلے حصے کو بلب کی صورت میں موڑتا ہے۔ گھونسلے کا قطر بالعموم اوپر سے چار انچ اور نیچے سے ساڑھے پانچ انچ ہوتا ہے۔ اب اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ انڈے دینے کا خانہ کہاں ہونا چاہیے‘ گھونسلے کے بیچوں بیچ ایک مضبوط اور لمبوتری دیوار بنائی جاتی ہے جو باہر نکلنے والے سوراخ اور انڈوںکی جگہ کے درمیان حد فاصل کا کام دیتی ہے۔ اس وقت گھونسلے کی شکل الٹی لٹکی ہوئی ٹوکری سے مشابہہ ہوتی ہے۔ نر بیا مادہ پرندہ کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے‘ لیکن مادہ اس وقت تک توجہ نہیں کرتی جب تک اس کا بنایا ہوا گھونسلہ نہ دیکھ لے۔ جو گھونسلا اسے پسند آجائے‘ اس میں بسیرا کرتی ہے۔ اب نر اور مادہ مل کر باقی کام مکمل کرتے ہیں۔ بڑی محنت سے دیواروں کو مضبوط‘ نرم اورملائم بناتے ہیں۔ نرباہر سے دھاگے اندر دھکیلتا ہے‘ مادہ اندر سے بنتی ہے۔ کام کے دوران میں نر کے ذوق و شوق کا عجب عالم ہوتا ہے وہ لمبے مترنم سروں میں خوشی کے نغمے الاپتا ہے۔ گھونسلے کی لمبائی ایک فٹ تک ہوتی ہے۔ اسے اتنا مضبوط بنایا جاتا ہے کہ اسے سخت آندھیاں نقصان پہنچا سکتی نہ زور دار بارشوں کا پانی اندر جاسکتا ہے۔ خود بیا گھونسلے میں اس احتیاط سے داخل ہوتا ہے کہ گھونسلا حرکت تک نہیںکرتا۔ دو پروں کو سمیٹ کر ایک ہی جست میں اندرچلا جاتا ہے۔ اس کے گھونسلے کی گانٹھ نہایت مضبوط ہوتی ہے اور اسے شاخ سے جدا کرنے کیلئے خاصا وقت لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آندھی یا طوفان میں گھونسلا دائیں بائیں ڈولتا ضرور ہے لیکن شاخ سے الگ نہیں ہوتا۔ نر بیا کی ایک عجیب عادت یہ ہے کہ ایک گھونسلامکمل ہوجائے تو دوسرے کی تیاری میں مصروف ہوجاتا ہے۔ وہاں بھی کوئی مادہ آکر گھر بسا لیتی ہے۔ اس طرح بعض اوقات ایک نر بیا تین تین گھر آباد کرلیتا ہے۔
http://dev1.ubqari.org/index.php?r=article/details&id=2095
انوکھا پرندہ
ایک ایسا حیرت انگیز پرندہ بھی ہے جو اپنے گھر میں روشنی کئے رکھتا ہے اس کا نام بیا ہے یہ برندہ فلپائن تل محدود ہے۔ اسکے اپنے گھونسلے میں کبھی تاریکی نہیں ہوتی کیونکہ وہ ہمیشہ جگنو کی تاک میں رہتا ہے جونہی کوئی جگنو اسکی گرفت میں آتا ہے وہ اسے گھر لے آتا ہے یہ اپنے گھونسلے میں کچھ اس طرح تانا بانا بنتا ہے کہ جگنو باوجود کوشش کے اس جال کی گرفت سے نہیں نکل سکتا اس طرح کئی جگنو اس کی جھونپڑی کی زینت بن جاتے ہیں اور یہ ان کی جگمگ کرتی ٹھنڈی روشنیوں کے نیچے پڑا سویا رہتا ہے
http://www.urdu.co/encyclopedia/Dilchasp-o-Ajeeb-aur-Herat-Angaiz-Maloomat/anokha-parinda/
آخری پرندے اور اس کے گھونسلے کی تصویر مل سکتی ہے؟
 
Top