پرانی کتابوں کا اتوار بازار،کراچی- 09 نومبر 2014

نایاب

لائبریرین
بہت شکریہ بہت دعائیں محترم راشد اشرف بھائی
بچپن میں پڑھی جن کتب کی باتیں اپنے بچوں کو سناتا تھا ۔
اب آپ کی مہربانی سے میرے بچے بھی وہ کتب پڑھتے اپنی شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں ۔
اللہ تعالی آپ کو اجر عظیم سے نوازے آمین
 

راشد اشرف

محفلین
پرانی کتابوں کا اتوار بازار, کراچی-9 نومبر 2014
راشد اشرف
کراچی سے

پرانی کتابوں کے اتوار بازار کی مہربانیاں جاری و ساری ہیں، یہ ہر کس و ناکس کو اپنی مہربان آغوش میں سمیٹ لیتا ہے۔ کتابوں کے متلاشی ناکام لوٹ جائیں، یہ ممکن نہیں۔ جیسے جل ساگر میں مچھلیوں کی کمی کبھی نہیں ہوتی، ہر لہر پر مچھیرے کا نام لکھا ہوتا ہے اور مچھیرے شام ڈھلے شاد کام گھر کو لوٹتے ہیں اسی طرح کتابوں کے اس سمندر میں پر گاہک کے نام کی کم از ایک کتاب تو ہوتی ہے۔ ایک سے زیادہ ہوں تو خوش قسمتی اور خوشی، دونوں دوچند ہوجاتے ہیں۔

عرصہ چھ برس کے دوران اس بازار سے ملنے والی کتابوں کے احوال پر مبنی ایک کتاب راقم الحروف نے بھی جی کڑا کرکے مرتب کرڈالی۔ کچھ احوال کتابوں کا، کچھ خودنوشتوں پر تبصرے، یاد رفتگاں پر مضامین وغیرہ وغیرہ۔ منتشر خیالات یک جا ہوئے۔ خدا جانے قاری اس کا کیا اثر لے گا۔

دیباچے میں تو راقم نے بحوالہ محمد خالد اختر اپنے دل کی بات لکھ ہی دی ہے:

” ان تحریروں کو جب میں نے لکھا تو مجھے قطعا ً یہ خیال نہ تھا کہ وہ کبھی ایک کتاب کی شکل میں چھپیں گی۔ مجھے کوئی دعوی نہیں کہ وہ ادبی شاہکار ہیں یا ان میں بیان یا اسلوب کی کو ئی خاص خوبی ہے۔میں نے انہیں اپنے اکیلے اداس لمحوں میں خود کو بہلانے کے لیے لکھا تھا۔ اور جب وہ مدیروں کی فراخ دلی کی بدولت ماہناموں میں چھپے تو مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ چند پڑھنے والوں کو ان کا انداز اچھا لگا۔ ایک کتاب ان گنت غلطیوں کے باوجود مسرت بخش ہوسکتی ہے۔یا ایک بھی بیہودگی کے بغیر بہت روکھی پھیکی اور غیر دلچسپ (بحوالہ آلیور گولڈ اسمتھ)۔ میں تمنا کرتا ہوں کہ پڑھنے والا کم از کم اسے ایک اکتا دینے والی کتاب نہ پائے گا۔ اگر یہ تحریریں کسی کو بھی تھوڑی سے فرحت دے سکیں تو مجھ سا خوش نصیب اور کون ہوگا ؟۔“
ذکر اتوار بازار کا ہے۔

اتوار بازار سے ملنے والی کتابوں میں پہلی کتاب ملا واحدی دہلوی کے قلم سے خواجہ حسن نظامی کی لکھی سوانح عمری ہے۔ خواجہ حسن نظامی ثانی کے مطابق خواجہ حسن نظامی نے 1919 میں اپنی آپ بیتی لکھی تھی مگر اس کا مقصد مریدوں کی اصلاح تھا لہذا کئی اہم پہلو شامل ہونے سے رہ گئے تھے۔ ملا واحدی کی تحریر کردہ سوانح 1924 تک کے حالات کا احاطہ کرتی ہے اور اس میں سفرنامہ مصر و حجاز و شام و فلسطین کے اقتباسات بھی شامل ہیں۔

حسن نظامی ثانی، ملا واحدی کے انداز تحریر کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

وہ دلی کی ٹکسالی زبان کو بڑی شگفتگی اور دل آویزی سے لکھتے ہیں۔ ان کی تحریر بڑی سادہ، عام فہم اور پر اثر ہوتی ہے۔ کوئی جملہ اور جملے کا کوئی لفظ غیر ضروری اور بھرتی کا نہیں ہوتا۔ جو بات لکھتے ہیں وہ باون تولے پاؤ رتی ہوتی ہے اور اس بات کو کہنے کے لیے الفاظ بھی منتخب اور نپے تلے لاتے ہیں۔ یہ ناپ تول وہ غالبا" شعوری طور پر نہیں کرتے۔ یہ ان کی فطرت کا ایک جز ہے۔"
ملا واحدی نے مذکورہ سوانح عمری میں جو انداز تحریر اپنایا ہے وہ خود اس کے بارے میں دلچسپ انکشاف کرتے ہیں۔ یہ موقع تھا دلی میں ہونے والے ندوتۃ العلماء کے اجلاس کا۔ ملا واحدی, علامہ شبلی نعمانی سے ملاقات کو گئے۔ ان دنوں نظام المشائخ کا خاص نمبر شائع ہوا تھا جس میں مولانا آزاد نے سرمد شہید پر مضمون لکھا تھا۔ علامہ شبلی اس سے کچھ مطمعین نہ تھے۔ ان کے مطابق مولانا آزاد نے دو صفحوں کے مواد کو بیس بائیس صفحات تک پھیلا دیا تھا، بقول شبلی مضمون دو صفحے کا جبکہ باقی مولانا آزاد کی "ادبیت"۔ پھر شبلی نے ملا واحدی کو مخاطب کرکے کیا عمدہ بات کہی:"

مورخ کی تحریر ایسی ہونی چاہیے کہ پڑھنے والا محسوس نہ کرے کہ یہاں لکھنے والے کی تیوری چڑھی ہے اور یہاں لکھنے والے کا چہرہ کھل گیا ہے۔"
ملا واحدی نے علامہ شبلی کی اس نصیحت کو پلے سے باندھ لیا۔
اور حسن نظامی کی سوانح عمری اسی انداز میں لکھی۔

سوانح عمری کی فہرست دیکھیے تو اس کے دلچسپ ہونے کا اندازہ بخوبی ہوتا ہے، ایک جھلک ملاحظہ کیجیے:

سفر کرنے اور اخبار نکالنے کا شوق، قلمی کتابیں جمع کرنے کا شوق، ولولے، مصر و شام و حجاز کا سفر، مالی عروج کی ابتدا، اخبار توحید میرٹھ کی ابتدا، ایک تاریخی تقریر ‘کہو تکبیر‘، شہادت کی افواہ، غریب ملنے والوں کے ساتھ، حسرت موہانی کی رائے، ڈاڑھی کی سالگرہ وغیرہ۔


خواجہ حسن نظامی کی ابتدائی زندگی محنت و مشقت سے عبارت رہی۔ انہوں نے پھیری لگا کر کتابیں بیچیں، تصویریں فروخت کیں یہاں تک کہ درگاہ کے سامنے جوتوں کی رکھوالی بھی کی۔ وقت گزرتا گیا۔ ایک مرتبہ اودھ کے راجہ نوشاد علی خواجہ صاحب سے ملنے آئے۔ یہ 1913 کی بات ہے۔ دونوں درگاہ سلطان المشائخ کی حاضری کو گئے۔ وہاں خواجہ صاحب نے جوتوں کی رکھوالی پر مامور شخص کو پیسے دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو ایک روپیہ نکلا جسے انہوں نے رکھوالے کو دے دیا اور راجہ نوشاد علی سے کہنے لگے
:
" راجہ صاحب، میں خود بھی یہاں بیٹھا ہوں۔ مجھے ایک پیسے سے زیادہ معاوضہ کبھی نہیں ملا۔ اللہ کا شکر ہے آج اس نے مجھ سے ایک روپیہ دلوایا۔ جوتوں کی حفاظت بستی کے کمین کیا کرتے ہیں۔ یہ غریب ایک پیسے ہیں میں خوش ہوجاتے ہیں۔ میں بھی ایک پیسہ لے کر خوش ہوجاتا تھا۔ ایک پیسے سے زیادہ لینے کی ہمت ہی نہیں تھی۔"

-------

ایک دوسری کتاب کے معاملے میں ایک مرتبہ پھر وہی پرانا تجربہ ہوا۔ یعنی مصنف کا دستخط شدہ نسخہ فٹ پاتھ پر پہنچا۔ ایک ایسے پٹھان کتب فروش کے پاس جو مچھیروں کی بستی کیماڑی سے آتا ہے۔ جموں میں عمر کا آخری حصہ بتانے والے پروفیسر جگن ناتھ آزاد نے کب سوچا ہوگا کہ خاتون کو ان کی پیش کردہ یہ کتاب خدا جانے کن کن رستوں کا سفر طے کرتی ایک روز سمندر کنارے واقع ایک بستی میں جاپہنچے گی۔ یہ ذکر ہے جگن ناتھ آزاد کے تحریر کردہ شخصی خاکوں کی معروف کتاب "آنکھیں ترستیاں ہیں" کے ہندوستانی ایڈیشن کا جسے آزاد نے رضیہ شبیر احمد نامی خاتون کو 20 اپریل 1982 کو دستخط کے ساتھ پیش کیا تھا۔ کیا خبر اردو کے اس البیلے راہی کے پتھریلے اور جذبات سے عاری چہرے پر اس لمحے مسکراہٹ دیکھی گئی ہو۔----- 1982 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وقت کی گرد بھی تو بہت پڑگئی تھی، بتیس برس کم تو نہیں ہوتے، خصوصا ایک کتاب کو سنبھالنے کے لیے۔

آزاد نے اندرونی صفحے پر بنام خاتون یہ سطور تحریر کی ہیں:

رضیہ شبیر احمد کی نذر
پیار اور احترام کے ساتھ
کتاب طباعت کی اغلاط سے پر ہے۔ آُپ خود صحیح کرلیجیے۔
جگن ناتھ آزاد-کراچی-20 اپریل 1982

راقم کو آزاد کے لکھے یہ الفاظ پڑھتے سمے ذرا سی تحریف کے ساتھ آصف علی کی گائی غزل "اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے" کا یہ شعر یاد آیا ۔ ۔ ۔ ۔

آپ زلف جاناں کے خم سنواریے صاحب
کتابت کی غلطیوں کو آپ کیا سنواریں گے
--------------

اتوار بازار اس مرتبہ ضرورت سے زیادہ مہربان نظر آیا۔ چونسٹھ برس قبل یعنی 1950 میں شائع ہوئی کتاب "مکاتیب حالی" کا ملنا کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔ زیر نظر پوسٹ کے آغاز میں درج سافٹ لنک کو دیکھیے تو اس میں کتاب مذکورہ کی فہرست پائیے گا کہ کن کن مشاہیر ادب کے نام حالی نے یہ نامے تحریر کیے تھے۔

---------

ایک سوانح عمری کا ذکر بھی کرتا چلوں۔ یہ 1966 میں لاہور سے شائع ہوئی نواب فخر یار جنگ وزیر مالیات دولت آصفیہ کی سوانح عمری ہے۔ راقم چونکہ اس کتاب کے مطالعے سے تادم تحریر محروم رہا ہے لہذا تبصرہ کرنے سے قاصر ہے البتہ اتنا ضرور ہے کہ کسی بھی کتاب کو الٹ پلٹ کر دیکھنے اور ابتدائی چند صفحات کے ملاحظے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ کس پائے کی کتاب ہے۔ مذکورہ سوانح عمری ایک دلچسپ کتاب ہے۔ درج بالا سافٹ لنک پر اس کتاب کی فہرست دیکھی جاسکتی ہے۔

------------

مکاتیب حالی اور سوانح عمری-خواجہ حسن نظامی کو راقم کی جانب سے اسکین کرلیا گیا ہے۔ دونوں کے لنکس جلد پیش کردیے جائیں گے۔
-------------

اتوار بازار سے ملنے والی تمام کتابوں کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے:

سوانح عمری-خواجہ حسن نظامی
ملا واحدی دہلوی
گلڈ-انجمن کتاب گھر، کراچی
سن اشاعت: 1958
صفحات: 336

حیات فخر۔نواب فخر یار جنگ وزیر مالیات دولت آصفیہ
سوانح عمری
مولف: مشتاق احمد خان
ناشر: نقوش پریس، لاہور
سن اشاعت: 1966مکاتیب حالی
سن اشاعت: 1950آنکھیں ترستیاں ہیں
خاکے
جگن ناتھ آزاد
ناشر: موڈرن پبلشنگ ہاؤس، دہلی
سن اشاعت: 1981

ہرے سمندروں کا سفر
سفرنامہ
حسن رضوی

بابا ولایت علی شاہ قلندر
سوانح

بزرگان کراچی
ڈاکٹر ناصر الدین صدیقی قادری
 

نایاب

لائبریرین
محترم راشد اشرف بھائی ۔ کتاب کی اشاعت پر دلی دعاؤں بھری مبارکباد ۔
کتاب کا نام تلاش کرنے پر بھی نہ مل سکا ۔
بہت دعائیں آپ کے لیئے ۔
آپ کا سجایا اتوار بازار بلاشبہ وقت کے پہیے کو الٹا گھما دیتا ہے ۔ کون سی کتاب کس کی جیب سے پیسے نکال کر خریدی تھی ۔ کون سی کتاب کا کرایہ دینے کے لیئے اماں کا پاندان صاف کیا تھا ۔ کس کتاب پر کیا مار پڑی تھی ۔۔
 

تلمیذ

لائبریرین
Top