مصطفیٰ زیدی پاگل خانہ مصطفی زیدی

بنگش

محفلین
ہر طرف چاک گریباں کے تماشائ ہیں
ہر طرف غول بیاباں کی بھیانک شکلیں
ہم پہ ہنسنے کی تمنا میں نکل آئ ہیں

چند لمحوں کی پر اسرار رہا ئش کے ليئے
عقل والے لب مسرور کی دولت لے کر
دور سے آئے ہیں اشکوں کی نمائش کے لیئے

عقل کو زہر ہے وہ بات جو معمول نہیں
عقل والوں کے گھرانوں میں پیمبر کے ليئے
تخت اور تاج تو کیا بنچ اور اسٹول نہیں

اپنی ٹولی تو ہے کچھ سو ختہ سامانوں کی
اکثریت میں ہم آتے تو سمجھتی دنیا
اس کٹہرے کے ادھر بھیڑ ہے دیوانوں کی
 

علی فاروقی

محفلین
پاگل خانہ مصطفی زیدی

ہر طرف چاکِ گریباں کے تماشائ ہیں
ہر طرف غولِ بیاباں کی بھیانک شکلیں
ہم پہ ہنسنے کی تمناء میں نکل آئ ہیں

چند لمحوں کی پُر اسرار رہائش کے لیے
عقل والے لبِ مسرور کی دولت لے کر
دور سے آئے ہیں اشکوں کی نمائش کے لیے

عقل کو زہر ہے وہ بات جو معمول نہیں
عقل والوں کے گھرانوں میں پیمبر کے لیے
تخت اور تاج تو کیا ،بینچ اور اسٹول نہیں

اپنی ٹولی تو ہے کچھ سوختہ سامانوں کی
اکثریت میں ہم آتے تو سمجھتی دنیا
اِس کٹہرے کے اُدھر بِھِیڑ ہے دیوانوں کی
 
Top