پاکستان میں ہم جنس پرستی کے فروغ کے لئے دو امریکی تنظیمیں کام کر رہی ہیں

dxbgraphics

محفلین
news-20.gif
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

اس کا ذکر کرنا نہايت ضروری ہے کہ متنوع امریکی معاشرہ تمام مذاہب، نسل، اور جنس سے تعلق رکھنے والے افراد کو زیادہ رواداری، مساوات، اور احترام کے ساتھ رہنے کے لئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ مذہبی آزادی اور مذہبی رواداری امريکی معاشرے اور آئين کا ايک اہم حصہ اور جزو ہے۔ امریکی آئین مسلمانوں سميت امریکہ میں رہنے والے تمام لوگوں کو اپنے رسم ورواج کيمطابق زندگی گزارنے اور اپنے مذہب پر مکمل آزادی کے ساتھ عمل پيرا ہونے کيلئے مکمل اختيار ديتا ہے ۔

آپ کے معلومات کيلئے، "بنيادی حقوق کا بل" کو امریکہ کی طرف سے 21 اگست 1789کو منظور کر لیا گیا تھا۔ يہ بل لوگوں کی بنيادی انسانی حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں کسی بھی شکایات کے ازالے کے لئے حکومت کے خلاف درخواست دينے کی اجازت دیتا ہے ۔ اس کے علاوہ امریکی عوام اس پر پورا پختہ یقین رکھتے ہیں کہ کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہر زندہ انسان کو اپنے دین اور عقائد سے قطع نظر وقار کے ساتھ رہنے کا بنیادی حق حاصل ہے ۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
 

عسکری

معطل
گندے کام کوئی امریکیوں سے سیکھے کمبخت ایسے منحوس منحوس کاموں کی این جی اوز بناتے ہیں کہ لفظ این جی او سے نفرت ہو چکی ہے مجھے :atwitsend:
 

سویدا

محفلین
امریکہ بنیادی انسانی حقوق کے لیے جو کچھ کررہا ہے وہ صحیح اور حق بجانب ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس
 

موجو

لائبریرین
السلام علیکم
میں نے خبر کی سرخی پڑھ کر یہ سوچا کہ ایسے ہی چھوڑی ہوگی۔ ساتھ گوگل کیا ویب سائٹ بھی مل گئی واپس یہاں آکر غور کیا تو فواد کے جواب سے اندازہ ہوا کہ اس خبر میں سچائی ہے۔
فواد صاحب
امریکہ میں گے اور لزبین کوئی مذھب ہے؟
 
یہ بھی ایک نیا شوشہ ہے کچھ عرصہ قبل میں نے سی این این پرایک پروگرام دیکھا تھا جس کا موضوع یہی تھا جب میزبان نے مہمان سے سوال کیا شادی سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ تو اس نے جوابدیا کہ شادی ایک عورت اور مرد کے درمیان قدرتی فیصلہ ہے - یہاں یہ بیان کرنے کا مطلب ہے کہ پوری قوم کو گندہ نہیں کہہ سکتے کچھ مخصوس طبقات ہے جواس قسم کی حرکات کرتے ہمارے ارباب اختیار کو اس بات کا فورا نوٹس لینا چاہیئے کہیں دیر نہ ہوجائے
 

زیک

مسافر
کیا یہ تنظیم ہوموفوبیا کے خلاف کام کرتی ہے؟

کیا پاکستان میں پہلے گے نہیں تھے؟
 

محمداحمد

لائبریرین
اس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے خلاف کوئی نہ کوئی سازش ہوتی ہی رہتی ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہمارے اپنے سکے بھی کھوٹے ہیں۔
 

ساجد

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
آپ کے معلومات کيلئے، "بنيادی حقوق کا بل" کو امریکہ کی طرف سے 21 اگست 1789کو منظور کر لیا گیا تھا۔ يہ بل لوگوں کی بنيادی انسانی حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں کسی بھی شکایات کے ازالے کے لئے حکومت کے خلاف درخواست دينے کی اجازت دیتا ہے ۔


www.state.gov
http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
مغرب خود کو ادائیگی حقوق کا رستم کہلواتا ہے۔ انسان تو انسان جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے قوانین بھی وہاں بنائے جاتے ہیں ۔ اس کی حمایت کی جانی چاہئیے اور بلا شبہ اپنے فرائض (جو دوسروں کے ہم پر حقوق ہوتے ہیں) کی ادائیگی میں ہر معاشرے کو قوانین بنانے چاہئیں۔
جس طرح انسانوں ، جانوروں ، پرندوں حتی کہ دردندوں کے بھی حقوق ہیں اسی طرح ہمارے جسم اور اس کے اعضاء کے بھی حقوق ہیں۔ خدا نے جو عضو جس کام کے لئے پیدا کیا ہے اس کو اسی کام کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے ۔اس کا غلط استعمال بھی اس عضو کے "بنیادی" حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ چلیں اگر کوئی الٹرا ماڈرن روشن خیال مذاہب اور خدا کو نہیں مانتا تو وہ میڈیکل پر تو "ایمان" رکھتا ہو گا ، وہ بھی اعضاء کے استعمال کے بارے میں وہی کہتی ہے جو مذاہب اور خدا کہتا ہے۔ ان کے غلط استعمال سے جو مہلک جسمانی ، ذہنی اور روحانی بیماریاں پھیلتی ہیں وہ وضاحت کی محتاج نہیں۔
ہم جنس پرستی اعضائے انسانی کے" بنیادی حقوق" کی کھلی خلاف ورزی ہے اس مکروہ عمل کو انسانی حق کہنا ایک سنگین مذاق ہے۔ ہر چیز کو دلیل اور منطق پر پرکھنے والے دانشور اگر ہم جنس پرستی کو انسانی حق کہتے ہیں تو ان کی عقل پہ شک کیا جانا کچھ غلط نہ ہو گا۔
 

زلفی شاہ

لائبریرین
ہماری صفوں میں جو غداران ملت میر جعفر و صادق بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا کیا کیا جائے؟
آستین کے سانپوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
 

زلفی شاہ

لائبریرین
مغرب خود کو ادائیگی حقوق کا رستم کہلواتا ہے۔ انسان تو انسان جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے قوانین بھی وہاں بنائے جاتے ہیں ۔ اس کی حمایت کی جانی چاہئیے اور بلا شبہ اپنے فرائض (جو دوسروں کے ہم پر حقوق ہوتے ہیں) کی ادائیگی میں ہر معاشرے کو قوانین بنانے چاہئیں۔
جس طرح انسانوں ، جانوروں ، پرندوں حتی کہ دردندوں کے بھی حقوق ہیں اسی طرح ہمارے جسم اور اس کے اعضاء کے بھی حقوق ہیں۔ خدا نے جو عضو جس کام کے لئے پیدا کیا ہے اس کو اسی کام کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے ۔اس کا غلط استعمال بھی اس عضو کے "بنیادی" حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ چلیں اگر کوئی الٹرا ماڈرن روشن خیال مذاہب اور خدا کو نہیں مانتا تو وہ میڈیکل پر تو "ایمان" رکھتا ہو گا ، وہ بھی اعضاء کے استعمال کے بارے میں وہی کہتی ہے جو مذاہب اور خدا کہتا ہے۔ ان کے غلط استعمال سے جو مہلک جسمانی ، ذہنی اور روحانی بیماریاں پھیلتی ہیں وہ وضاحت کی محتاج نہیں۔
ہم جنس پرستی اعضائے انسانی کے" بنیادی حقوق" کی کھلی خلاف ورزی ہے اس مکروہ عمل کو انسانی حق کہنا ایک سنگین مذاق ہے۔ ہر چیز کو دلیل اور منطق پر پرکھنے والے دانشور اگر ہم جنس پرستی کو انسانی حق کہتے ہیں تو ان کی عقل پہ شک کیا جانا کچھ غلط نہ ہو گا۔
سو فیصد متفق۔ بہت ہی عمدہ دلائل دیئے ہیں آپ نے۔ ایڈ جسے لاعلاج مرض گردانا جا رہا ہے وہ ہم جنس پرستی کا پہلا تحفہ ہے، آگے آگے دیکھو یہ فتنہ مہلک امراض کی صورت میں کیا کیا گل کھلاتا ہے؟
 
Top