وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا ۔ اطہر نفیس

فاتح

لائبریرین
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا

اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے، تا دیر اسے دہرائیں کیا
وہ زہر جو دل میں اتار لیا، پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا

اک آگ غمِ تنہائی کی، جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو، پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا

پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں، یہ شمعیں بجھنے والی ہیں
ہم خود بھی کسی سے سوالی ہیں، اس بات پہ ہم شرمائیں کیا

ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے، ہم صورت گر کچھ خوابوں کے
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا، کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا
(اطہر نفیس)

فریدہ خانم کی آواز میں یہ خوبصورت غزل:
 

فاتح

لائبریرین
فاتح بھیا ! آج تو آپ ایک سے بڑھ کر ایک غزل پیش کر رہے ہیں۔
واہ واہ کیا بات ہے ! کیا بات ہے بھائی!
آپ کی پسندیدگی کا بہت شکریہ محمد احمد صاحب! محض اتفاق ہی تھا کہ تین چار مشہور غزلیات ایک ہی روز ارسال کر ڈالیں۔

بہت شکریہ فاتح صاحب اس قندِ مکرر کیلیے!
اوہ تو کیا اس سے قبل بھی ارسال کی جا چکی تھی یہ غزل؟ حضور اسے مکرر قندی کو اسی ریڑھی پر لگا دیجیے جہاں یہ جنس پہلے ہی سے برائے فروخت ہے:laughing:۔ پسند کرنے پر شکریہ!
 

فاتح

لائبریرین
بہت خوب انتخاب ہے شریکِ محفل کرنے کا شکریہ ۔
بہت شکریہ شاہ صاحب!

واہ واہ بہت خوب! :) آج تو حقیقت میں غواصی کی جا رہی ہے۔ :)
حضور! کسی روز آپ کو بھی نہ کرنی پڑے غواصی، مرجان و لولو کے لیے نہیں بلکہ ہماری نعش برآمد کرنے کے لیے۔;)
 

مغزل

محفلین
سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ ۔۔۔ کیا کہنے فاتح بھائی ۔ روح سرشار کردی آپ نے ، پچھلے تین ماہ کی گرد دماغ سے چھٹ گئی، پھر ان دنوں پے درپے جانکاہ حادثات سے کمر توڑ کر رکھ دی تھی ، آپ نے تو ہماری کمزور رگ پر ہاتھ رکھ دیا ، اللہ آپ کو سلامتی نصیب فرمائے آمین،۔۔۔۔ کیا عمدہ کلام کیا آواز اور کیا خوب محل ہے پیش کرنے کا ، جیو بھیا جیو۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اوہ تو کیا اس سے قبل بھی ارسال کی جا چکی تھی یہ غزل؟ حضور اسے مکرر قندی کو اسی ریڑھی پر لگا دیجیے جہاں یہ جنس پہلے ہی سے برائے فروخت ہے:laughing:۔ پسند کرنے پر شکریہ!

حضور اگر محفل کیلیے قندِ مکرر ہوتی تو کون کافر اسے چھوڑتا اور آپ کو بتائے بغیر ہی ضم کر دیتا :)

قندِ مکرر خاص اپنے لیے کہا تھا کہ "بچپن" یہی غزل سنتے گزرا تھا اور عرصۂ دراز سے یہ غزل ذہن سے اتری ہوئی تھی ;)
 

فاتح

لائبریرین
تب تو خدا نے لاج رکھ لی ہماری۔۔۔ ورنہ عالمتاب تشنہ کی طرح ہم بھی اپنے مراسلوں کے متعلق کہہ رہے ہوتے کہ
گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے
"اگلے مراسلوں میں وہ" ضم کر دیے گئے:laughing:
 

فاتح

لائبریرین
شکریہ فرخ صاحب! اس ویڈیو کو دیکھ کر مجھے یہ بھی علم ہو گیا کہ اس کی موسیقی ماسٹر منظور حسین کی ترتیب دی ہوئی ہے۔
 

مغزل

محفلین
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا​
کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچا شعر سنائیں کیا​
اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے، تا دیر اسے دہرائیں کیا​
وہ زہر جو دل میں اتار لیا، پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا​
اک آگ غمِ تنہائی کی، جو سارے بدن میں پھیل گئی​
جب جسم ہی سارا جلتا ہو، پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا​
پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں، یہ شمعیں بجھنے والی ہیں​
ہم خود بھی کسی سے سوالی ہیں، اس بات پہ ہم شرمائیں کیا​
ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے، ہم صورت گر کچھ خوابوں کے​
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا، کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا​
(اطہر نفیس)​
گھومتا پھرتا دوبارہ آگیا ۔۔ فاتح بھائی لاجواب انتخاب ہے بارہا پڑھی اور سنی ہوئی غزل دوبارہ دیکھ کر روح سرشار ہوگئی واہ ۔۔​
ایک ایک شعر نگینہ ہے آپ اپنی مثال آپ ہے۔۔ایک شعر یاد آگیا اطہر نفیس مرحوم کا۔۔​
میں اپنے عشق میں سچّا ہوں اور یہ کہتا ہوں​
مری رگوں میں بہت زہر ہے رقابت کا​
 

فاتح

لائبریرین
گھومتا پھرتا دوبارہ آگیا ۔۔ فاتح بھائی لاجواب انتخاب ہے بارہا پڑھی اور سنی ہوئی غزل دوبارہ دیکھ کر روح سرشار ہوگئی واہ ۔۔​
ایک ایک شعر نگینہ ہے آپ اپنی مثال آپ ہے۔۔ایک شعر یاد آگیا اطہر نفیس مرحوم کا۔۔​
میں اپنے عشق میں سچّا ہوں اور یہ کہتا ہوں​
مری رگوں میں بہت زہر ہے رقابت کا​
واہ واہ کیا ہی خوبصورت شعر ہے بھائی۔ زہر لطف دے گیا :)
 
Top