1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

احسان دانش وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کیلیے (احسان دانش)

پیاسا صحرا نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 29, 2008

  1. پیاسا صحرا

    پیاسا صحرا محفلین

    مراسلے:
    704
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کیلیے
    وہ ھنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کیلیے

    بندھا ھوا ھے ، بہاروں کا اب وھیں تانتا
    جہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کیلیے

    کوئی نسیم کا نغمہ ، کوئی شمیم کا راگ
    فضا کو امن کے قالب میں ڈھالنے کیلیے

    خدا نکردہ ، زمین پاؤں سے اگر کھسکی
    بڑھیں گے تند بگولے سنبھالنے کیلیے

    اتر پڑے ھیں کدھر سے یہ آندھیوں کے جلوس
    سمندروں سے جزیرے نکالنے کیلیے

    تری سلیقہ ترتیب نو کا کیا کہنا
    ھمیں تھے قریہ ء دل سے نکالنے کیلیے

    کبھی ھماری ضرورت پڑے گی دنیا کو
    دلوں کی برف کو شعلوں میں ڈھالنے کیلیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • زبردست زبردست × 3
  2. امیداورمحبت

    امیداورمحبت محفلین

    مراسلے:
    3,057
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اچھی غزل ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    تری سلیقہ ترتیب نو کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کہنا
    ھمیں تھے قریہ ء دل سے نکالنے کیلیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    24,999
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ کیا خوبصورت غزل ہے۔
     
  5. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,606
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    تری سلیقہ ترتیب نو کا کیا کہنا
    ھمیں تھے قریہ ء دل سے نکالنے کیلیے
    کیا کہنے صاحب

    بہت ہی خوب غزل ہے ، جناب پیاسا صاحب
     
  6. مزمل شیخ بسمل

    مزمل شیخ بسمل محفلین

    مراسلے:
    3,523
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
  7. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,612
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
    وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لیے
    بندھا ہوا ہے اب بہاروں کا وہاں تانتا
    جہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کےلیے
    کبھی ہماری ضرورت پڑے گی دنیا کو
    دلوں کی برف کو شعلوں میں ڈھالنے کے لیے
    کنویں میں پھینک کے پچھتا رہا ہوں دانش
    کمند جو تھی مناروں پہ ڈالنے کے لیے
    احسان دانش
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,602
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ واہ ۔۔۔! کیا ہی اچھی غزل ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. عبد الرحمن

    عبد الرحمن لائبریرین

    مراسلے:
    1,968
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    عمدہ انتخاب ہے۔
     
  10. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    واہ
    خوبصورت غزل

    بندھا ھوا ھے ، بہاروں کا اب وھیں تانتا
    جہاں رکا تھا میں کانٹے نکالنے کیلیے

    تری سلیقہ ترتیب نو کا کیا کہنا
    ھمیں تھے قریہ ء دل سے نکالنے کیلیے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر محفلین

    مراسلے:
    72
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lurking

اس صفحے کی تشہیر