1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $418.00
    اعلان ختم کریں

ناسخ وصل کی دولت ملی جذبِ دلِ بیتاب سے - امام بخش ناسخ

حسان خان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 25, 2013

  1. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,231
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    وصل کی دولت ملی جذبِ دلِ بیتاب سے
    کیمیا ہم نے بنائی ہے مگر سیماب سے

    دن کو رات اُس نے کیا ہے گیسوئے پرتاب سے
    رات کو دن کر دیا ہے روئے عالمتاب سے

    اُسترا اُس کے ذقن پر جب پھرا ثابت ہوا
    دور ہو جاتے ہیں تنکے حلقۂ گرداب سے

    بے حقیقت کو بلا سے کب ہے دنیا میں گزند
    عکس تنکے کا بھی بہہ سکتا نہیں سیلاب سے

    ہے مسرت راحتِ دنیا سے غفلت کے سبب
    کون خوش ہوتا ہے بیداری میں عیشِ خواب سے

    آسماں کے پاس ساماں عیب پوشی کا نہیں
    کب کسی کا ستر ہو گا چادرِ مہتاب سے

    آگے افتادوں کے پاتے ہیں کہیں سرکش فروغ
    سرد ہو جائے نہ کیوں بازارِ آتش آب سے

    پڑتے ہی عکسِ رخِ جاناں کی ہے تشبیہِ تام
    چوکھٹے کو ہالے سے آئینے کو مہتاب سے

    غیر سے لگوائی مہندی اُس نے ہاتھوں پر جو رات
    پنجۂ مژگاں کو ہم نے بھی رنگا خونناب سے

    مدتیں گذریں کہ رکھتا ہوں فراقِ یار میں
    دن کو پروانے سے صحبت رات کو سرخاب سے

    ہونٹ تیرے دیکھ کر مجھ کو ہوا جوشِ جنوں
    کرتے ہیں کیونکر طبیب اصلاحِ خوں عُنّاب سے

    کھائے ہیں ایسے تری محرابِ ابرو کے فریب
    بھاگتے ہیں دور ہم مسجد کی بھی محراب سے

    خاکِ کوئے یار ہے ناسخ مرے تن پر لباس
    کام کیا مجھ کو حریر و اطلس و کمخاب سے
    (امام بخش ناسخ)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمد حسین

    محمد حسین محفلین

    مراسلے:
    78
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت اعلیٰ۔ کمال ہے۔ ہر شعر زبردست ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر