ناسخ وصل کی دولت ملی جذبِ دلِ بیتاب سے - امام بخش ناسخ

حسان خان

لائبریرین
وصل کی دولت ملی جذبِ دلِ بیتاب سے
کیمیا ہم نے بنائی ہے مگر سیماب سے

دن کو رات اُس نے کیا ہے گیسوئے پرتاب سے
رات کو دن کر دیا ہے روئے عالمتاب سے

اُسترا اُس کے ذقن پر جب پھرا ثابت ہوا
دور ہو جاتے ہیں تنکے حلقۂ گرداب سے

بے حقیقت کو بلا سے کب ہے دنیا میں گزند
عکس تنکے کا بھی بہہ سکتا نہیں سیلاب سے

ہے مسرت راحتِ دنیا سے غفلت کے سبب
کون خوش ہوتا ہے بیداری میں عیشِ خواب سے

آسماں کے پاس ساماں عیب پوشی کا نہیں
کب کسی کا ستر ہو گا چادرِ مہتاب سے

آگے افتادوں کے پاتے ہیں کہیں سرکش فروغ
سرد ہو جائے نہ کیوں بازارِ آتش آب سے

پڑتے ہی عکسِ رخِ جاناں کی ہے تشبیہِ تام
چوکھٹے کو ہالے سے آئینے کو مہتاب سے

غیر سے لگوائی مہندی اُس نے ہاتھوں پر جو رات
پنجۂ مژگاں کو ہم نے بھی رنگا خونناب سے

مدتیں گذریں کہ رکھتا ہوں فراقِ یار میں
دن کو پروانے سے صحبت رات کو سرخاب سے

ہونٹ تیرے دیکھ کر مجھ کو ہوا جوشِ جنوں
کرتے ہیں کیونکر طبیب اصلاحِ خوں عُنّاب سے

کھائے ہیں ایسے تری محرابِ ابرو کے فریب
بھاگتے ہیں دور ہم مسجد کی بھی محراب سے

خاکِ کوئے یار ہے ناسخ مرے تن پر لباس
کام کیا مجھ کو حریر و اطلس و کمخاب سے
(امام بخش ناسخ)
 
Top