ن م راشد وزیر چنیں

سید ذیشان نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 6, 2012

  1. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,801
    موڈ:
    Asleep
    وزیر چنیں

    تو جب سات سو آٹھویں رات آئی
    تو کہنے لگی شہرزاد
    اے جواں بخت ایران میں ایک رہتا تھا نائی
    وہ نائی تو تھا ہی
    مگر اس کو بخشا تھا قدرت نے ایک اور نادر گراں تر ہنر بھی
    کہ جب بھی
    کسی مردِ دانا کا ذہن ذہنِ رسا زنگ آلود ہونے کو آتا
    تو نائی کو جا کر دکھاتا
    کہ نائی دماغوں کا مشہور ماہر تھا
    وہ کاسہء سر سے انکو الگ کر کے
    ان کی سب الائشیں پاک کر کے
    پھر اپنی جگہ پر لگانے کے فن میں تھا کامل
    خدا کا یہ کرنا ہوا کہ ایک دن اس کی دکان سے ایران کا ایک وزیر کہن سال گزرا
    اس نے بھی چاہا
    کہ وہ بھی ذرا اپنے الجھے ہوئے ذہن کی از سر نو صفائی کرا لے
    کیا کاسہء سر کو نائی نے خالی
    ابھی وہ اسے صاف کرنے لگا تھا
    کہ ناگاہ آ کر کہا ایک خوجہ سرا نے
    "میں بھیجا گیا ہوں جنابِ وزارت پناہ کو بلانے"
    وہ اس پر سراسیمہ ہو کر جو اٹھا وزیر ایک دم
    رہ گیا پاس دلاک کے مغز اسکا
    وہ بے مغز سر لے کے دربار سلطاں میں پہنچا
    مگر دوسرے روز
    جو اس نے نائی سے تقاضا کیا تو وہ کہنے لگا "حیف!
    کل شب پڑوسی کی بلی جناب وزارت پناہ کے دماغِ فلک تاز کو کھا گئی ہے!"
    اور اب حکمَ سرکار ہو تو کسی اور حیوان کا مغز لے کر لگا دوں؟"
    تو دلاک نے رکھ دیا دانیالِ زمانہ کے سر پر کسی بیل کا مغز لے کر
    تو لوگوں نے دیکھا
    جناب وزارت پناہ اب فراست میں
    دانش میں
    اور کاروبارِ وزارت میں
    پہلے سے بھی چاک و چوبند تر ہو گئے ہیں
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,801
    موڈ:
    Asleep
    اس میں شائد کچھ غلطیاں موجود ہوں کیونکہ یہ میں نے آڈیو سے لکھی ہے۔
    فرخ منظور صاحب اگر اس کو دیکھ لیں۔ خاص طور پر لائنوں کو کہ کونسی لائن کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ اور "فلک تاز" پر بھی مجھے کچھ شک ہے۔ کیا یہ فارسی کا لفظ ہے؟
    محمد وارث صاحب
     
  3. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    کمال نظم کہتے تھے ن م راشد صاحب
    بہت شکریہ شراکت پر zeesh بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,069
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بہت خوب ذیشان بھائی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,641
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    فلک تاز کا مطلب شاید فلک پر حملہ کرنے والا ہے۔ فارسی میں تاختن بھاگتے ہوئے (اچانک) حملہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اور 'تاز' اسی مصدر (infinitive) کا مضارع ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • متفق متفق × 1
  6. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,641
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اردو میں بھی اسی مصدر سے مشتق لفظ 'تاخت' استعمال ہوتا ہے۔
    منبع
     
  7. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    یہ نظم کچھ عرصہ قبل ہم نے بھی ارسال کرنا چاہی تھی لیکن چونکہ کافی اغلاط تھیں تو ارادہ ترک کر دیا کہ تب کلیات راشد ہمارے پاس موجود نہیں تھی۔ ویسے بھی ماورا والوں نے کو کلیات شائع کی ہے اس میں کتابت کی بے شمار اغلاط ہیں۔ اگر کسی طور اغلاط سے پاک نظم مل سکی تو ارسال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,801
    موڈ:
    Asleep
    کہیں یہ تازیانہ کا اختصار تو نہیں؟ یعنی فلک تاز کا معنی ہو فلک پر تازیانے لگانے والا۔
     
  9. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,641
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میرے خیال سے نہیں، کیونکہ 'تاز' تازیانہ کے مخفف کے طور پر فارسی میں استعمال نہیں ہوا، اور دستوری لحاظ سے یہ معنی درست بھی نہیں ہے۔ہاں، تازیانہ 'تاختن' سے ہی مشتق لفظ ہے۔

    فارسی میں کسی بھی فعل کا مضارع دوسرے اسماء کے ساتھ مل کر اُس فعل کے فاعل کے معانی دیتا ہے۔ مثلا:

    کردن = کرنا ؛ مضارع: کن
    تیز کُن = تیز کرنے والا، حیران کُن = حیران کرنے والا

    ریختن = بہانا؛ مضارع: ریز
    خونریز = خون بہانے والا

    رفتن = چلنا؛ مضارع: رو
    تیز رو = تیز چلنے والا

    آراییدن = سجانا، آرایش کرنا؛ مضارع: آرا
    بزم آرا = بزم سجانے والے

    کشتن = قتل کرنا؛ مضارع: کش
    خود کُش = خود کو قتل کرنے والا

    سوختن = جلانا؛ مضارع: سوز
    دل سوز = دل جلانے والا

    دانستن = جاننا؛ مضارع: داں
    اردو داں = اردو جاننے والا

    اسی لیے میرا گمانِ غالب ہے کہ یہاں فلک تاز سے مطلب فلک پر دھاوا بولنے والا ہے۔ باقی محمد وارث صاحب یا دوسرے فارسی داں حضرات زیادہ بہتر روشنی ڈال سکیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر