واقعہ شق القمر اور سائنسی حقائق

asim10

محفلین
واقعہ شق القمر ۔ قرآن ،حدیث اور سائنس کی روشنی میں

نبی اکرم ﷺ کے ویسے تو کئی معجزات ہیں ۔اور ان میں سے ہر ایک پر ہمارا یقین محکم ہے ۔ ان ہی میں سے ایک واقعہ شق القمر بھی ہے ۔ اس واقعہ کے مطابق کفار مکہ کے مطالبہ پر اللہ کے نبی ﷺ نے چاند کو دو ٹکڑو ں میں تقسیم کیا ۔ اور پھر یہ ٹکڑے آپس میں واپس مل بھی گئے۔ اسکا ذکر قرآن کی سورہ القمر ۵۴ :۱ میں ہے

)اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم (اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴿١

ترجمہ اردو : قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا(مولانا مودودی)The Hour has drawn near, and the moon has split. : Eng Trans (itani)

اسی طرح یہ واقعہ کتب حدیث میں سے بخاری،مسلم، ترمذ ی میں موجود ہے ،جو اس واقع کے سچے ہونے کی دلیل ہے ۔اسے کے ریفرنسز کے لیے مختصر حوالے درج ہیں

صحیح البخاری۔ کتاب المناقب،باب مشرقین کا سوال کہ آپ ﷺ کوئی نشانی دیکھائیں تو آپ نے شق القمر کا معجزہ دیکھایا۔کتاب مناقب الانصار،باب انشقاق القمر۔صحیح مسلم۔کتاب ۔صفۃ القیامۃوالجنۃوالنار ،۔باب، انشقاق القمر۔ترمذی،کتاب التفسیر، باب تفسیر سورہ القمر

یہ واقعہ ان کتب احادیث میں بکثرت موجود ہے اور کئی صحابہ اور خود کفار مکہ اس بات کے چشم دید گواہ تھے۔لیکن جو حق کے طالب نہ ہوں وہ اسکو اپنے سامنے ہوتا دیکھ کر بھی جھٹلا دیتے ہیں ۔اس واقعہ کو دیکھنے والوں نے اسکو اس وقت تک تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جب تک کوئی باہر سے آنے والاقافلہ یاکوئی فرد اسکی تائید نہ کردے۔کہ یہ واقعہ ایک حقیقی واقعہ ہے انکی آنکھوں کا دھوکہ نہیں ۔لیکن اس واقعہ کی تایئد کے باوجود بھی ان کفار نے اللہ کے نبی ﷺ کو نبی تسلیم نہ کیا۔نبی اکر مﷺ کے اس معجزے کو نہ صرف یہ کہ مکہ کے لوگوں یا گرد و نواح نےدیکھا بلکہ سرزمین عرب کے علاوہ ، اس واقعہ کو دور دراز علاقوں میں بھی دیکھا گیا۔اور اسکی دلیل اس وقت کے انڈیا کے شہر مالابار کے بادشاہ چکرورتی فارمس جو چیرامن پیرومل بھاسکرا روی ورما آف کوڈنگالیور کے نام سے مشہور ہیں اور جنکا اسلامی نام تاج دین، کا اس معجزہ کو دیکھنا اور پھر خدمت رسول ﷺ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کا واقعہ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے

چکرورتی فارمس یا چیرامن پیرومل بھاسکرا روی ورما آف کوڈنگالیور کے متعلق جاننے کے لیے،انگلش لٹریچر کے لیے یہ پیجز وزٹ کریں

http://www.cheramanmosque.com/history.php


http://www.cyberistan.org/islamic/farmas.html

اردو میں اس واقعہ کو پڑھنے کے لیے یہ پیجز وزٹ کریں

http://www.kashmiruzma.net/PrintIt.asp?Date=24_11_2010&Cat=8&ItemID=7

https://groups.google.com/forum/#!topic/bazmeqalam/eY47waonExs

یہ واقعہ اس تواتر کے ساتھ کتب حدیث میں درج ہے کہ اسکا جھوٹا ہونا ناممکن ہے۔لیکن آج انسانوں کا ایک طبقہ ایسا ہے جو اللہ کے وجود کا ہی انکار کر رہا ہے ۔ انکے نزدیک جب تک سائنس کسی واقعہ کی تائید نہیں کرتی اس وقت تک انکے نزدیک وہ واقعہ جھوٹاہے لیکن انکا یہ نظریہ صرف الفاظ کی حد تک ہے ورنہ قرآن کے ایسے تمام واقعات جس کی تائید سائنس کر چکی ہے،یہ ان واقعات کو بھی کسی نہ کسی طرح جھٹلا دیتے ہیں ۔حیرت کی بات تو یہ کہ کفار کا ووطیرہ تو یہ رہا ہی ہے کہ جیسے ہی قرآن کا کوئی واقعہ انسانی علم میں آیا فورا اسکو جھٹلا دیا۔ لیکن اس دور میں کچھ مسلمان بھی کفار کے اس طرز عمل میں انکے شریک ہیں ۔اور بلکل کفار کے انداز میں ہر اسلامی واقعہ کو جھٹلانا انکا فرض بن چکا۔اور شاید یہ مسلمان ، مخالفت اسلام میں ان کفار کو بھی پیچھے چھوڑ چکےہیں ۔

میرے یہ کالم لکھنے کا مقصد مسلمانوں کے لیےاس واقعہ کو سائنس سے ثابت کرنا نہیں بلکہ ان لوگوں کو سائنسی ثبوت فراہم کرنا ہے جنکے نزدیک صرف سائنس ہی سب کچھ ہے۔میں نے پہلے قرآنی آیت اور پھر حدیث اور پھر چکرورتی فارمس کاتاریخی واقعہ پیش ہی اس وجہ سے کیا ہے ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میرا قرآن و حدیث پر مکمل یقین ہےچاہے آج کے سائنس دان اس کو مانیں یا نہ مانیں ۔
جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ ان ملحدین کا یہ ایک وطیرہ بن چکا ہے کہ جیسے ہی کوئی قرآن کا واقعہ انسانی علم میں آیا اسکو جھٹلا دیا۔ لیکن حقیقت کو بدلنا انکے بس میں نہیں۔واقعہ شق القمر 1969 سے پہلے تک کافروں کے لیے ایک معمے کی حیثیت رکھتا تھا۔اور وہ بلا چون ہ چرا اسے جھٹلا دیتے تھے۔لیکن جب سے ناسا نےخلائی سیاروں کی مدد سے لی گئی تصاویر شائع کی ہیں ۔ اس دن سے اسلام کی حقیقت ان پر واضح ہو چکی لیکن انکا کام چونکہ نہ ماننا ہے اسلیے یہ آج بھی اس حقیقت کو جھٹلا ہی رہے ہیں ۔ جبکہ یہ تصاویر اور بعد کی لی گئی ویڈیو میں بلکل صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے چاند کے درمیان دور تک ایک لائن سی کھچی ہوئی ۔اور بلکل واضح طور پر پتا چلتا ہے کہ یہ لائن کسی عمل کا نتیجہ ہے۔اور چاند کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ شق القمر کے علاوہ چاند پر آج تک کوئی اور واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔کچھ تصاویر پیش کرتا ہوں تا کہ میری بات واضح ہو سکے۔

نیچے دی گئی ایک بہت ہی معروف تصویر ہے جو نیٹ پر سرچ کرنے سے با آسانی مل سکتی ہےاور جو اپولو 10 سے 1969 میں لی گئی تھی اس میں ایک لائن بلکل واضح نظر آ رہی ہے جس کی سائنس دان اب تک کوئی قابل قدر وضاحت نہیں کر سکے ,اسے rocky beltکا نام دے کر اپنی جان چھڑا لی۔لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ یہ نشان چاند کی سطح پر کسی عمل کا تو رد عمل ہے۔کیونکہ یہ لائن یا راستہ کسی ایک چھوٹی سے جگہ پر نہیں بلکہ کئی سو کلو میڑ پر موجود ہے۔اگر تو چاند پر پانی ہوتاہےتو ہم کہ سکتے تھے کہ پانی کے بہنے سے یہ راستہ بن گیا ہو۔ یا اگر اسی طرح کی اور بھی لائنز اور اتنی لمبی لائنز اور چاندپر کہیں اور بھی ملتی تو پھر بھی یہ کہ سکتے تھے کہ چاند کی سطح پر ایسے نشانات کو ہونا کوئی نئی بات نہیں لیکن نہ تو چاند پر پانی ہے اور نہ ہی کوئی اور مواد یا کوئی ایسا عنصر جو زمین پر موجود ہے جیسے گیسز وغیرہ اور نہ ہی کوئی اور اس قسم کی لائنزکہ جسکی وجہ سے یہ پگڈنڈی سے بن گئی ہو۔اور نہ ہی سائنس اسی کوئی بھی توجیہ پیش کر سکی ہے جبکہ یہ تصویر 1969کی ہے یعنی آج سے کم و بیش45 سال پہلے کی اتنے لمبے عرصے تکہ سائنس کا خاموش رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس لائن ، خط یا راستے کی سائنس کے پاس کوئی ٹھوس وضاحت نہیں ۔ تو لا محالہ یہ نشان اللہ نے آج کے انسان کے لیے ایک دلیل کے طور پر چھوڑ دیا ہے کہ یہ لوگ اس دلیل کو دیکھ کر ہی اسلام کو سچا دین مان لیں ۔لیکن جس نے نہ ماننا ہو جب انکے سامنے یہ معجزہ ہوا تو بھی انھوں نے نہ مانا۔

clip_image002.jpg
clip_image004.jpg

یہ ایک اور تصویر ہے جس میں درمیانی حصہ واضح طور پر دوسرے پورے چاند سے مختلف نظر آ رہا ہے۔اور بہت ہی واضح طور پر یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اسی جگہ سے چاند پہلے پھٹا ہو گا اور پھر جب واپس ملا (یہ ملنا ایک دھماکے کی صورت بھی ہو سکتی ،یاد رہے کہ دھماکے سے ملنے کا یہ نظریہ میرا ذاتی ہے )تو اس ملنے کے عمل سے یہ نشانات چاند کی سطح پر نمودار ہوگئے۔

clip_image002.jpg
clip_image004.jpg


اس تصویر میں ایک چاند کے ایک لائن کھنچتی سی ہوئی صاف نظر آ رہی۔اور اگر آپ اس تصویر کو غور سے دیکھیں تو یہ لائن ایک مرکز سے شروع کو کر واپس اسی مرکز پر ختم ہو رہی ہے،اگر یہ کہا جائے کہ اس قسم کی لائنیں اور بھی نظر آ رہی تو اگر غور کیا جائے تو ان میں سے ایک بھی لائن پورے چاند کا احاطہ کرتی نظر نہیں آتی۔

clip_image006.jpg


آئیے اب ذرا ان نیچے والی مختلف زاویوں سے لی گئی مختلف تصاویر پر غور کریں۔ دوستو اگر آپ ان تصاویر کو غور سے دیکھیں تو ان میں ایک باریک سی لائن تمام ہی تصاویر میں واضح طور پر نظر آ رہی حالانکہ تمام ہی تصاویر مختلف زاویوں سے لی گئی ہیں ۔لیکن وہ باریک سی لائن تمام ہی تصاویر میں واضح ہے۔کیا اس سے بھی واضح اور کوئی دلیل ہو سکتی ہے یہ لائن خود بخود نہیں کھنچی بلکہ کسی واقعہ کا نتیجہ ہے۔

clip_image008.jpg


ایک اور تصویر پر ذرا غور کریں ۔ اور دیکھیں کیا چاند پر کسی عمل کا ثبوت ملتا ہے کہ نہیں ۔

clip_image010.jpg


ناسا کی طرف سے اس بات کا اعتراف کہ چاند پر یہ لائن کسی نہ کسی عمل کا نتیجہ ہے۔ویڈیو لنک میں ایک سائنس دان اس بات کا اعتراف کر رہا ہے
ایک مصری سائنٹس کا ایک مشہور و معروف انٹرویو جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ آخر سائنٹس چاند پر گئے کیوں اور انکو وہاں کیا نظر آیا۔
عقل والے کے لیے تو ایک ثبوت ہی کافی ہوتا ہے ۔ اگر اس کے دل میں واقعی حق کی طلب ہو تو۔

میرے اس کالم پر ہمارے بہت سے مسلمان(جنکے نزدیک عقل ہی معیار زندگی ہے)ہی اعتراض کریں گے کہ یہ کوئی قابل قدر ثبوت نہیں ہیں ۔ تو ان دوستوں سے یہ گزارش ہے کہ آپ لوگ خود ہی ان تصاویر میں ظاہر ہونے والے نشانوں کی وضاحت کر دیں ۔کہ ہمیں بھی تو پتہ چلے کہ آخر یہ سب کچھ چاند پر جہاں کوئی مخلوق نہیں اور نہ ہی کوئی اور چیزیں ہیں ، کیسے عمل میں آیا۔اگر آپ کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہیں تو میرے دوستو

ہمارے پاس ان نشانوں کا جواب قرآن کی آیت کی سورت میں موجود ہے ۔
 

M khurshid

محفلین
فلسفیکو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے سرا ملتا نہیں
معرفت خالق کی عالم میں بہت دشوار ہے
شہرِ تن جبکہ خود اپنا پتا ملتا نہیں
فلسفیکو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے سرا ملتا نہیں
معرفت خالق کی عالم میں بہت دشوار ہے
شہرِ تن جبکہ خود اپنا پتا ملتا نہیں
 
Top