"نہ" کو دو حرفی یعنی "نا" باندھنا

جاں نثار اختر کی ایک غزل پیش ِ خدمت ہے جس میں انہوں نے " نہ " کو دو حرفی باندھا ہے ..۔

اب شہر میں جینے کے بھی اسباب رہے نا
وہ آگ لگی ہے کہ بجھائے سے بجھے نا

تو مجھ کو کوئی راز لگے سر سے قدم تک
سوچوں کہ یہ کیا راز ہے کچھ راز کھلے نا

دیکھی ہے محبت بھی کبھی سنگ دلوں میں
ایسا نہیں پتھر پہ کوئی پھول کھلے نا

لہجے ک کرشمہ ہے کہ آواز کا جادو
وہ بات بھی کہہ جائے مرا دل بھی دکھے نا

کچھ رنگ تھے خوابوں کے جو اشکوں میں نہ ٹھہرے
کچھ رنگ ہیں ایسے کہ جو پلکوں سے چُھٹے نا

غم ہجر کا ہم ہجر کے ماروں سے تو پوچھو
دن چاہے گزر جائے مگر رات کٹے نا

تو ہی مری آنکھوں کے لئے حد ِ نظر ہے
دیکھا مری نظروں نے کبھی تجھ سے پرے نا

جاں نثار اختر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی طرح ابن ِ انشا کی ایک غزل سے ایک شعر ..۔۔۔

نا تجھ سے کچھ ہم کو نسبت نا تجھ کو کچھ ہم سے کام
ہم کو یہ معلوم تھا لیکن دل کو یہ سمجھا نہ سکے ..۔۔

ابن ِ انشا ..۔۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
"نہ" کو دو حرفی باندھنے پر اعتراض سے ایک بات یاد آئی۔
فیس بک پر کسی خاتون شاعرہ نے اپنی شاعری پوسٹ کی تھی، میں نے اس پر اعتراض دھر دیا کہ "نہ" دو حرفی کیسے باندھا؟
ایک شاعر نے اس کے جوابات دئیے کہ بھائی، یہ جائز ہوتا ہے۔ آپ اعتراض کیوں کر رہے ہیں؟
میں نے ایک بات کی رٹ لگا دی کہ کوئی ایک شعر بتا دو کسی شاعر کا جو زباں زدِعام ہو اور اس میں نہ کو دو حرفی باندھا گیا ہو۔
اس نے دلائل کے انبار لگا دئیے، لیکن شعر پیش نہیں کرسکا۔ میں نے سمجھا "میں جیتا" اور واپس آگیا۔
اب وہ بات پرانی ہوچکی ہے، اِس وقت بھی میں "نہ" دو حرفی نہیں باندھتا، اور اگر کوئی باندھے تو اسے سمجھاتا ہوں کہ یہ فصیح نہیں ، لیکن اگر باندھنا ضروری ہی لگے تو حرج بھی نہیں۔۔۔
 
الف عین صاحب ..۔۔۔۔۔آپ ابن ِ انشا اور جاں نثار کے مندرجہ بالا اشعار سے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں ..۔
میں خود فورم کی سالگرہ کے مشاعرے میں جو غزل پیش کی تھی اُس کا مطلع ملاحظہ کریں ..۔

مجھے مکان و زماں کی حدود میں نا رکھ ..

ردیف ..۔۔۔ میں نا رکھ ..۔
لیکن اس پر یہاں اساتذہ نے کوئی بات نہیں کی ..۔
 

الف عین

لائبریرین
میں اکثر لکھتا ہوں کہ ’مجھے ذاتی طور پر پسند نہیں‘۔ ممکن ہے کہیں بھول بھی گیاہوں گا یہ لکھنا۔ محفل میں ہی خود محمد وارث اسے جائز سمجھتے ہیں۔
الف عین صاحب ..۔۔۔۔۔
۔
میں خود فورم کی سالگرہ کے مشاعرے میں جو غزل پیش کی تھی اُس کا مطلع ملاحظہ کریں ..۔

مجھے مکان و زماں کی حدود میں نا رکھ ..

ردیف ..۔۔۔ میں نا رکھ ..۔
لیکن اس پر یہاں اساتذہ نے کوئی بات نہیں کی ..۔
مشاعرے میں تو میں خود بھی کسی کی غلطی کی نشان دہی نہیں کرتا۔ اگرچہ وہاں میں ’صدارت‘ کا فائدہ اٹھا سکتا تھا!!
 
لفظ "نہ" اور "نا" الگ الگ ہیں
نہ بطور کلمہ نہی اور نا بطور کلمہ اصرار، بالکل دو الگ الفاظ ہیں، تاہم یہاں بحث "نہ" کو دوحرفی وزن پر باندھنے پر ہورہی ہے، جس کی مثال خود حضرت میر کے یہاں بھی مل جاتی ہے.
 
میرے خیال میں تو شعر و بحر کے ماحول کے مطابق اسے نہ اور نا دونوں شکل میں ہی باندھا جاسکتا ہے لیکن بہتر چھوٹی والی شکل رہتی ہے ۔
 

محمداحمد

لائبریرین

محمداحمد

لائبریرین
یوں تو 'نہ 'کو ایک حرفی ہی باندھنا چاہیے ۔ لیکن کبھی کبھی دو حرفی کو ایک حرفی سے بدلنے میں مصرع کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے اور روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔
 
میر کے کس کلام میں ایسی مثال ہے؟
یہی سوال میرا بھی ہے۔ :)
صاحبان عالی قدر،
بہت شرمندہ ہوں کہ "ٹاپ آف دی مائنڈ" کوئی مثال یاد نہیں، سو فی الوقت پیش کرنے سے قاصر ہوں.
رہی بات یہ کہ پھر میں نے اوپر ایسا دعوی ہی کیوں کیا؟ سو اس بابت یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ حضرات جانتے ہی ہیں کہ یہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے سو اکثر و بیشتر ادبی محافل میں زیر بحث رہتا ہے. کچھ، بلکہ کئی سال قبل یہ مسئلہ مکرمی سرور عالم راز صاحب کی اردو انجمن پر بھی موضوع بحث رہا، اور مجھے یاد ہے کہ دو حرفی نہ کے ضمن میں کلام میر سے مثال پیش کی گئی تھی. بدقسمتی سے شعر میرے ذہن سے محو ہو گیا.
 
صاحبان عالی قدر،
بہت شرمندہ ہوں کہ "ٹاپ آف دی مائنڈ" کوئی مثال یاد نہیں، سو فی الوقت پیش کرنے سے قاصر ہوں.
رہی بات یہ کہ پھر میں نے اوپر ایسا دعوی ہی کیوں کیا؟ سو اس بابت یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ حضرات جانتے ہی ہیں کہ یہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے سو اکثر و بیشتر ادبی محافل میں زیر بحث رہتا ہے. کچھ، بلکہ کئی سال قبل یہ مسئلہ مکرمی سرور عالم راز صاحب کی اردو انجمن پر بھی موضوع بحث رہا، اور مجھے یاد ہے کہ دو حرفی نہ کے ضمن میں کلام میر سے مثال پیش کی گئی تھی. بدقسمتی سے شعر میرے ذہن سے محو ہو گیا.
ہم بھی ریختہ پر میر کی غزلوں میں تلاش کرتے رہے لیکن ایسا کوئی شعر نظر نہیں آیا۔
 

فہد اشرف

محفلین
نہ کو جب بھی دو حرفی باندھنے کی ضرورت پیش آئی ہے تو اساتذہ نے "نے" کا سہارا لیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ نہ نا باندھنا اساتذہ کے نزدیک قبیح رہا ہوگا۔
 
Top