تبسم نہ کر سکیں انھیں برسوں کی آندھیاں مدّھم ۔ صوفی تبسم

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 22, 2017

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نہ کر سکیں انھیں برسوں کی آندھیاں مدّھم
    یہ کون چھوڑ گیا لوحِ دل پہ نقشِ قدم

    ہزار دورِ خزاں سے گزر کے آئے ہیں
    عجیب رنگ سے گزرا بہار کا موسم

    ابھی ہے چاند ستاروں کی روشنی مدّھم
    ابھی ہے شام کے چہرے پہ پَرتوِ شبِ غم

    گزرنا ہو گیا دشوار رہگزاروں سے
    یہ کس کے پاؤں کی آہٹ کو سن رہے ہیں ہم

    ستارے بن کے مژہ پر چمک اٹھے آنسو
    بلند ہو کے رہا تیری یاد کا پرچم

    یہ کس کی یاد میں ہم آج مسکرائے ہیں
    جہان بھر کا تبسمؔ مزاج ہے برہم

    (صوفی تبسمؔ)

     

اس صفحے کی تشہیر