تبسم نہ روبرو کوئی دل بر نہ دل رُبا منظر ۔ صوفی تبسم

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 22, 2017

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,826
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نہ روبرو کوئی دل بر نہ دل رُبا منظر
    تو پھر یہ کیسے دریچے، یہ کیسے بام و در

    بہک نہ جائے نگہ، ڈگمگا نہ جائیں قدم
    رہِ وفا ہے، یہاں سے ذرا سنبھل کے گزر

    ملیں گے جا کے، خدا جانے کِس مقام پہ دل
    ابھی تو اُن کی نظر سے نہیں ملی ہے نظر

    ابھی تو دور بہت ہے تجلیِ رخِ دوست
    ابھی تو قدموں سے ابھرا ہے، دامنوں سے ابھر

    کبھی جو جھانکنا چاہا کسی گریباں میں
    تو آ پڑی ہے نظر اپنے ہی گریباں پر

    ملے گی اشکِ ندامت سے کیا نمی اُس کو
    کہ زہدِ خشک سے الجھا ہے میرا دامنِ تر

    فغاں کی رسم یہاں عام ہو گئی یارو
    کہیں سے ڈھونڈ کے لا دو مجھے حدیثِ نظر

    یہ بات غم نے مرے کس طرح گوارا کی
    طویل رات یہ فرقت کی کٹ گئی کیوں کر

    گئے تھے کر کے تبسّمؔ وہ مجھ سے وعدۂ صبح
    نہ جانے کون سے لمحوں میں کھو گئی وہ سحر!

    (صوفی تبسم)
     

اس صفحے کی تشہیر