نہیں بجھاتے، جلا رہے ہیں چراغ اپنے ۔۔۔۔ برائے تنقید

شاہد شاہنواز

لائبریرین
یہ غزل نامکمل ہے، ابھی اس میں اضافہ بھی کرنا باقی ہے ، تاہم یہاں پوسٹ کر رہا ہوں تاکہ جو اشعار فضول ، بے معنی یا ناقص ہوں، ان کو حذف کردیاجائے۔

نہیں بجھاتے، جلا رہے ہیں چراغ اپنے
مثالِ گل ہم کھِلا رہے ہیں چراغ اپنے

مہک چراغوں سے آرہی ہے گُلوں کی یا پھر
ہمِیں گُلوں کو بتا رہے ہیں چراغ اپنے؟

امیر لوگوں نے بند کمروں میں قید رکھا
غریب لیکن سجا رہے ہیں چراغ اپنے

اندھیر نگری میں جینے والے بھی خوش نہیں ہیں
کسی کے ڈر سے چھپا رہے ہیں چراغ اپنے

یہ رات سے دوستی ہے یا اُن کی بد نصیبی
بجھا کے خود جو اُٹھا رہے ہیں چراغ اپنے

نہ زور کچھ تیرگی کا اُن سے ہی کم ہوا ہے
نہ روشنی کو گنوا رہے ہیں چراغ اپنے

گلہ کسی غیر سے ہو کیونکر ستم گری کا
کہ گھر ہمارا جلا رہے ہیں چراغ اپنے

ہمیں کوئی پیار زندگی سے نہ موت کا ڈر
کہ جلتے بجھتے سدا رہے ہیں چراغ اپنے

کھلِیں جب آنکھیں تو زندگی کو یوں ہم نے دیکھا
عدم کا منظر دکھا رہے ہیں چراغ اپنے

دہکتا سورج میں ہاتھ میں لے کے بیٹھتاہوں
وہ مسکرا کر دِکھا رہے ہیں چراغ اپنے

ہوا کے جھونکوں سے چھپ کے بیٹھو نہ گھر میں شاہد
ہم آندھیوں میں جلا رہے ہیں چراغ اپنے

الف عین صاحب
محمد یعقوب آسی صاحب
محمد خلیل الرحمٰن بھائی
اسد قریشی بھائی
مزمل شیخ بسمل بھائی
محمد اظہر نذیر بھائی
محمد بلال اعظم بھائی
 
جناب شاہد شاہنواز صاحب کی غزل پر بات چیت ۔

اس سے پہلے آپ کی ایک غزل دیکھی اور اس پر بات بھی کی۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ وہ غزل زیرِ نظر غزل سے بہتر تھی۔

نہیں بجھاتے، جلا رہے ہیں چراغ اپنے​
مثالِ گل ہم کھِلا رہے ہیں چراغ اپنے​
محسوس ہوتا ہے کہ غزل ہو چکی تو مطلع بہ تکلف کہا گیا۔ مناسب ہے۔

مہک چراغوں سے آرہی ہے گُلوں کی یا پھر​
ہمِیں گُلوں کو بتا رہے ہیں چراغ اپنے؟​
’’بتا رہے ہیں‘‘ یہاں قرار دینا کے معانی میں آ رہا ہے، جو عمومی محاورے سے کسی قدر ہٹا ہوا ہے۔ الف عین صاحب کیا فرماتے ہیں؟۔ پہلے مصرعے میں الفاظ کی بچت کی جا سکتی تھی۔ مضمون و معانی میں وسعت پیدا کرنے کا ایک (بقول انور مسعود) کامیاب ’’حربہ‘‘ ہے۔ عربی کا عام مقولہ ہے: خیر الکلام ما قلّ و دلّ (بات مختصر ہو اور دلیل کے ساتھ کی جائے تو اچھا ہے)۔ بہ ایں ہمہ اس شعر میں کوئی قابلَ توجہ نقص نہیں ہے۔

امیر لوگوں نے بند کمروں میں قید رکھا​
غریب لیکن سجا رہے ہیں چراغ اپنے​
پہلا مصرع کمزور ہے، صاحب!۔ یہ مضمون پہلے بھی کئی پیرایوں میں بیان ہو چکا ہے۔ ایک شعر فوری طور پر ذہن میں آیا:۔
ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ
۔۔۔۔ (شاعر کا نام مجھے نہیں معلوم)۔
ایک بہت معروف نظم جو بچپن میں پڑھی تھی۔
جھٹ پٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا
ایک بڑھیا نے سرِ رَہ لا کے روشن کر دیا
میرا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ پہلے سے بیان شدہ مضامین کو نہ باندھا جائے۔ باندھئے، ضرور باندھئے! تاہم اس میں کوئی تازگی لائیے، کوئی منفرد معانی یا مضمون سے نیا مضمون نکالئے۔ اس پر غور فرمائیے گا۔

اندھیر نگری میں جینے والے بھی خوش نہیں ہیں​
کسی کے ڈر سے چھپا رہے ہیں چراغ اپنے​
’’خوش نہیں ہیں‘‘ اس سے زیادہ ’’ڈرے ہوئے ہیں‘‘ کا محل ہے۔ دوسرے مصرعے میں کچھ قطع و برید کر کے ’’ڈر‘‘ اور ’’ڈرے ہوئے‘‘ کی تکرار سے بچا جا سکتا ہے۔ مثلاً ’’کہ ہر کسی سے چھپا رہے ہیں ۔۔۔‘‘ یا جیسے آپ کو بھلا لگے۔

یہ رات سے دوستی ہے یا اُن کی بد نصیبی​
بجھا کے خود جو اُٹھا رہے ہیں چراغ اپنے​
بجھا کے اٹھانا کی بجائے اگر جلا کے بجھانا ہو تو، کیسا رہے گا؟

نہ زور کچھ تیرگی کا اُن سے ہی کم ہوا ہے​
نہ روشنی کو گنوا رہے ہیں چراغ اپنے​
اسے میری کم فہمی پر محمول کر لیجئے کہ بات مجھ پر کھل نہیں رہی۔


گلہ کسی غیر سے ہو کیونکر ستم گری کا​
کہ گھر ہمارا جلا رہے ہیں چراغ اپنے​
ع: اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ مضمون آفرینی کی کوشش پوری طرح کامیاب نہیں ٹھہری۔
گلہ کسی کی ستم گری کا کریں تو کیونکر
کہ گھر تو اپنا جلا رہے ہیں چراغ اپنے
ایک ’’حربہ‘‘ آپ کے علم میں تو ہو گا، یاد دِلاتا چلوں؛ وہ ہے انشاء پردازی۔ اپنے الفاظ کی در و بست ایسی رکھئے کہ کوئی ’’سوال سا‘‘ پیدا ہو، کسی انداز میں خوشی، مایوسی، شوخی، طنز، تحیر وغیرہ کا عنصر پیدا ہو جائے تو شعر کی جاذبیت بڑھ جاتی ہے۔

ہمیں کوئی پیار زندگی سے نہ موت کا ڈر​
کہ جلتے بجھتے سدا رہے ہیں چراغ اپنے​
پہلے مصرعے میں الفاظ کی بندش کو ادھر ادھر کر کے تاثر کو کسی قدر مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں ’’ٹمٹماتے‘‘ کی گنجائش بنتی تو ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں، تو!۔ اس شعر میں تعقیدِ لفظی سے بچنا خاصا مشکل ہو گا۔ الف عین صاحب کی توجہ چاہتا ہوں۔

کھلِیں جب آنکھیں تو زندگی کو یوں ہم نے دیکھا​
عدم کا منظر دکھا رہے ہیں چراغ اپنے​
نہیں صاحب! میں ایسی صورتِ حال کو عجزِ بیان سے تعبیر کروں گا۔ بات بیان ہوتی ہے، اور صاف واضح بیان ہوتی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ کچھ کہنا رہ گیا ہے۔ کچھ ایسی صورتِ حال یہاں بھی ہے۔ دوسرا مصرع بہت عمدہ ہے، پہلا مصرع اُس کا ساتھ نہیں دے پا رہا۔ اس شعر میں ’’یوں‘‘ اور اگلے شعر میں ’’مَیں‘‘ اگرچہ حرفِ علت کو گرایا جا سکتا ہےمگر صوتی ملائمت مجروح ہو رہی ہے۔

دہکتا سورج میں ہاتھ میں لے کے بیٹھتاہوں​
وہ مسکرا کر دِکھا رہے ہیں چراغ اپنے​
’’مَیں‘‘ پر بات ہو چکی۔ ’’بیٹھتا ہوں‘‘ اور ’’دکھا رہے ہیں‘‘ میل نہیں کھا رہے۔ معنوی سطح پر اگر آپ اِس کو داخلی حوالے سے دیکھیں (دھیان فوراً ادھر جاتا ہے) تو چراغ واحد کا تقاضا ہے۔ خارجی حوالے سے البتہ درست ہے۔

ہوا کے جھونکوں سے چھپ کے بیٹھو نہ گھر میں شاہد​
ہم آندھیوں میں جلا رہے ہیں چراغ اپنے​
یہ وہی بات آ گئی۔ ’’امیر لوگوں‘‘ والے شعر کے تحت میری جسارت آپ دیکھ چکے۔

اس غزل کو اگر ہم عمومی شاعری کے تناظر میں دیکھیں تو ’’قابلِ قبول‘‘ غزل ہے۔ اور اگر آپ کی پہلی غزل کے تناظر میں دیکھیں تو وہ آگے نکل گئی۔ ہمارے افسانہ نگار دوست (’’سانس کی سیٹی‘‘ کے مصنف) ظفری پاشا نے بات افسانے کے حوالے سے کی: ’’افسانہ وہ ہے جو قاری کو چونکا دے‘‘۔ یہی بات تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ شعر پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

اجازت چاہوں گا۔ میری جسارتوں کو مسکرا کر ٹال دیا کیجئے، کہ میرے حق میں یہی اچھا ہے۔

جناب محمد وارث، جناب محب علوی، جناب اسد قریشی اور عزیزہ مدیحہ گیلانی سے بھی توجہ کی درخواست ہے۔
 
موقع کی مناسبت سے (سید حسن ناصر مرحوم کی طرح میں کہی گئی ایک غزل سے) ایک شعر احباب کی نذر کرتا ہوں۔

یوں خیالوں کی تصویر قرطاس پر کیسے بن پائے گی
لفظ کھو جائیں گے فن کی باریکیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے

آداب۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
جناب شاہد شاہنواز صاحب کی غزل پر بات چیت ۔

اس سے پہلے آپ کی ایک غزل دیکھی اور اس پر بات بھی کی۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ وہ غزل زیرِ نظر غزل سے بہتر تھی۔
÷÷ضرور یہی بات ہے۔۔۔
نہیں بجھاتے، جلا رہے ہیں چراغ اپنے​
مثالِ گل ہم کھِلا رہے ہیں چراغ اپنے​
محسوس ہوتا ہے کہ غزل ہو چکی تو مطلع بہ تکلف کہا گیا۔ مناسب ہے۔
÷÷مناسب ہے تو تبدیلی نامناسب ہوئی کیونکہ میں جب تبدیلی کرتا ہوں تو پرانی بات سے بہتر کہنا مشکل ہوتا ہے۔۔
مہک چراغوں سے آرہی ہے گُلوں کی یا پھر​
ہمِیں گُلوں کو بتا رہے ہیں چراغ اپنے؟​
’’بتا رہے ہیں‘‘ یہاں قرار دینا کے معانی میں آ رہا ہے، جو عمومی محاورے سے کسی قدر ہٹا ہوا ہے۔ الف عین صاحب کیا فرماتے ہیں؟۔ پہلے مصرعے میں الفاظ کی بچت کی جا سکتی تھی۔ مضمون و معانی میں وسعت پیدا کرنے کا ایک (بقول انور مسعود) کامیاب ’’حربہ‘‘ ہے۔ عربی کا عام مقولہ ہے: خیر الکلام ما قلّ و دلّ (بات مختصر ہو اور دلیل کے ساتھ کی جائے تو اچھا ہے)۔ بہ ایں ہمہ اس شعر میں کوئی قابلَ توجہ نقص نہیں ہے۔
÷÷فی الحال اسے جوں کا توں چھوڑتے ہیں۔۔
امیر لوگوں نے بند کمروں میں قید رکھا​
غریب لیکن سجا رہے ہیں چراغ اپنے​
پہلا مصرع کمزور ہے، صاحب!۔ یہ مضمون پہلے بھی کئی پیرایوں میں بیان ہو چکا ہے۔ ایک شعر فوری طور پر ذہن میں آیا:۔
ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ
۔۔۔ ۔ (شاعر کا نام مجھے نہیں معلوم)۔
ایک بہت معروف نظم جو بچپن میں پڑھی تھی۔
جھٹ پٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا
ایک بڑھیا نے سرِ رَہ لا کے روشن کر دیا
میرا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ پہلے سے بیان شدہ مضامین کو نہ باندھا جائے۔ باندھئے، ضرور باندھئے! تاہم اس میں کوئی تازگی لائیے، کوئی منفرد معانی یا مضمون سے نیا مضمون نکالئے۔ اس پر غور فرمائیے گا۔
÷÷پرانے مضامین کو نئے انداز سے لکھنا ضروری نہیں ہے، پھر بھی یہ شعر لکھ دیا ہے تو کوشش کرتے ہیں کہ بہتر ہوجائے۔۔۔لیکن یہ کوشش اگلی بار تک ادھار رہی۔۔۔
اندھیر نگری میں جینے والے بھی خوش نہیں ہیں​
کسی کے ڈر سے چھپا رہے ہیں چراغ اپنے​
’’خوش نہیں ہیں‘‘ اس سے زیادہ ’’ڈرے ہوئے ہیں‘‘ کا محل ہے۔ دوسرے مصرعے میں کچھ قطع و برید کر کے ’’ڈر‘‘ اور ’’ڈرے ہوئے‘‘ کی تکرار سے بچا جا سکتا ہے۔ مثلاً ’’کہ ہر کسی سے چھپا رہے ہیں ۔۔۔ ‘‘ یا جیسے آپ کو بھلا لگے۔
۔۔۔ اندھیر نگری میں جینے والے ڈرے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ ہر کسی سے چھپا رہے ہیں چراغ اپنے ۔۔۔ ایسے زیادہ بہتر ہے۔۔

یہ رات سے دوستی ہے یا اُن کی بد نصیبی​
بجھا کے خود جو اُٹھا رہے ہیں چراغ اپنے​
بجھا کے اٹھانا کی بجائے اگر جلا کے بجھانا ہو تو، کیسا رہے گا؟
÷÷ بہت بہتر رہے گا۔۔۔ یہ رات سے دوستی ہے یا اُن کی بد نصیبی ۔۔۔ جلا کے خود جو بجھا رہے ہیں چراغ اپنے ۔۔۔
نہ زور کچھ تیرگی کا اُن سے ہی کم ہوا ہے​
نہ روشنی کو گنوا رہے ہیں چراغ اپنے​
اسے میری کم فہمی پر محمول کر لیجئے کہ بات مجھ پر کھل نہیں رہی۔
۔۔۔ ضروری شعرنہیں ہے۔۔

گلہ کسی غیر سے ہو کیونکر ستم گری کا​
کہ گھر ہمارا جلا رہے ہیں چراغ اپنے​
ع: اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ مضمون آفرینی کی کوشش پوری طرح کامیاب نہیں ٹھہری۔
گلہ کسی کی ستم گری کا کریں تو کیونکر
کہ گھر تو اپنا جلا رہے ہیں چراغ اپنے
ایک ’’حربہ‘‘ آپ کے علم میں تو ہو گا، یاد دِلاتا چلوں؛ وہ ہے انشاء پردازی۔ اپنے الفاظ کی در و بست ایسی رکھئے کہ کوئی ’’سوال سا‘‘ پیدا ہو، کسی انداز میں خوشی، مایوسی، شوخی، طنز، تحیر وغیرہ کا عنصر پیدا ہو جائے تو شعر کی جاذبیت بڑھ جاتی ہے۔
÷÷ یہ اصلاح بھی درست ہے اور انشاء پردازی کا خیال رکھنے کا قصد تو پہلے سے ہے، لیکن شعر کہتے ہوئے یہ بات نہ جانے بھول کیوں جاتی ہے÷
ہمیں کوئی پیار زندگی سے نہ موت کا ڈر​
کہ جلتے بجھتے سدا رہے ہیں چراغ اپنے​
پہلے مصرعے میں الفاظ کی بندش کو ادھر ادھر کر کے تاثر کو کسی قدر مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں ’’ٹمٹماتے‘‘ کی گنجائش بنتی تو ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں، تو!۔ اس شعر میں تعقیدِ لفظی سے بچنا خاصا مشکل ہو گا۔ الف عین صاحب کی توجہ چاہتا ہوں۔
÷÷ تعقید لفظی سے مراد لفظوں کی تکرار ہے یا کچھ اور؟
کھلِیں جب آنکھیں تو زندگی کو یوں ہم نے دیکھا​
عدم کا منظر دکھا رہے ہیں چراغ اپنے​
نہیں صاحب! میں ایسی صورتِ حال کو عجزِ بیان سے تعبیر کروں گا۔ بات بیان ہوتی ہے، اور صاف واضح بیان ہوتی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ کچھ کہنا رہ گیا ہے۔ کچھ ایسی صورتِ حال یہاں بھی ہے۔ دوسرا مصرع بہت عمدہ ہے، پہلا مصرع اُس کا ساتھ نہیں دے پا رہا۔ اس شعر میں ’’یوں‘‘ اور اگلے شعر میں ’’مَیں‘‘ اگرچہ حرفِ علت کو گرایا جا سکتا ہےمگر صوتی ملائمت مجروح ہو رہی ہے۔
÷÷یہ شعر بھی ضروری نہیں ہے۔۔
دہکتا سورج میں ہاتھ میں لے کے بیٹھتاہوں​
وہ مسکرا کر دِکھا رہے ہیں چراغ اپنے​
’’مَیں‘‘ پر بات ہو چکی۔ ’’بیٹھتا ہوں‘‘ اور ’’دکھا رہے ہیں‘‘ میل نہیں کھا رہے۔ معنوی سطح پر اگر آپ اِس کو داخلی حوالے سے دیکھیں (دھیان فوراً ادھر جاتا ہے) تو چراغ واحد کا تقاضا ہے۔ خارجی حوالے سے البتہ درست ہے۔
÷÷ضروری یہ بھی نہیں ہے۔۔
ہوا کے جھونکوں سے چھپ کے بیٹھو نہ گھر میں شاہد​
ہم آندھیوں میں جلا رہے ہیں چراغ اپنے​
یہ وہی بات آ گئی۔ ’’امیر لوگوں‘‘ والے شعر کے تحت میری جسارت آپ دیکھ چکے۔
÷÷مقطع کی جگہ کچھ اور لکھتے ہیں۔۔۔
اس غزل کو اگر ہم عمومی شاعری کے تناظر میں دیکھیں تو ’’قابلِ قبول‘‘ غزل ہے۔ اور اگر آپ کی پہلی غزل کے تناظر میں دیکھیں تو وہ آگے نکل گئی۔ ہمارے افسانہ نگار دوست (’’سانس کی سیٹی‘‘ کے مصنف) ظفری پاشا نے بات افسانے کے حوالے سے کی: ’’افسانہ وہ ہے جو قاری کو چونکا دے‘‘۔ یہی بات تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ شعر پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

اجازت چاہوں گا۔ میری جسارتوں کو مسکرا کر ٹال دیا کیجئے، کہ میرے حق میں یہی اچھا ہے۔
÷÷قابل قبول شاعری میرا مدعا نہیں ہے۔۔۔ مجھےصرف اچھے اشعار سے لگاؤ ہے، وہی میرا اثاثہ ہونگے۔۔۔
رہی بات جسارتوں کو مسکرا کر ٹالنے کی تو میرے حق میں یہ اچھا نہیں ہے۔۔
فی الحال جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، غزل کے یہ اشعار تو ٹھیک ہیں۔۔۔​
نہیں بجھاتے، جلا رہے ہیں چراغ اپنے​
مثالِ گل ہم کھِلا رہے ہیں چراغ اپنے​
اندھیر نگری میں جینے والے ڈرے ہوئے ہیں
وہ ہر کسی سے چھپا رہے ہیں چراغ اپنے
یہ رات سے دوستی ہے یا اُن کی بد نصیبی
جلا کے خود جو بجھا رہے ہیں چراغ اپنے
گلہ کسی کی ستم گری کا کریں تو کیونکر
کہ گھر تو اپنا جلا رہے ہیں چراغ اپنے

اور اس شعر کے پہلے مصرعے پر غور فرمانا باقی ہے:

ہمیں کوئی پیار زندگی سے نہ موت کا ڈر​
کہ جلتے بجھتے سدا رہے ہیں چراغ اپنے​
۔۔۔ اس کے علاوہ میں نے عرض کیا تھا کہ یہ غزل ابھی مکمل نہیں ہے۔۔ مجھے اور بھی کچھ کہنا ہے، تو دیکھتے ہیں اور کہنے کے حوالےسے کب کوئی پیشرفت سامنے آتی ہے۔۔ آپ کے تفصیلی جواب کا بے حد ممنون ہوں۔۔۔​
 

الف عین

لائبریرین
بارہ اشعار کی ’چراغ اپنے‘ جیسی مشکل ردیف میں نا مکمل غزل!!
یہ تو پہلا تاثر ہے۔ ابھی غور سے دیکھتا ہوں۔
 

الف عین

لائبریرین
آسی بھائی سے متفق ہوں اکثر تجویزوں کے بارے میں۔
مجھے تو مطلع بھی کمزور لگا۔ ’نہیں بجھاتے، جلا رہے ہیں‘ کے بیانیہ سے۔
’چراغوں کو بتانا‘ تو محاورہ واقعی نہیں۔ لیکن اگر اس شعر میں بنانا کا فعل استعمال کیا جائے تو؟
مہک چراغوں سے آرہی ہے گُلوں کی (یا پھر)
ہمِیں گُلوں کو بنا رہے ہیں چراغ اپنے؟
’یا پھر‘ کی جگہ کچھ اور لفظ استعمال کرو۔
گلہ کسی کی ستم گری کا کریں تو کیونکر
کہ گھر تو اپنا جلا رہے ہیں چراغ اپنے
بہت بہتر ہو گیا ہے۔ ایک خیال اور آیا ہے، ’گلہ کسی سے‘ کہا جائے تو کیسا رہے؟
دہکتا سورج میں ہاتھ میں لے کے بیٹھتاہوں
وہ مسکرا کر دِکھا رہے ہیں چراغ اپنے
’بیٹھتا ہوں‘ سے چھٹکارا مل سکتا ہے الفاظ بدل کر
مثلاً
میں ہاتھ میں تابناک سورج لئے ہوئے ہوں
ویسے بھی دہکتا کہنے سے اس کی شعلگی کا تو کوئی ذکر نہیں ہے، محض چمک کا ہے۔
مقطع بھی ایسا برا نہیں کہ تم القط ہی کر دو۔
ہمیں کوئی پیار زندگی سے نہ موت کا ڈر
کہ جلتے بجھتے سدا رہے ہیں چراغ اپنے
پہلا مصرع واقعی روانی مانگتا ہے۔ اور واقعی ’ٹمٹماتے‘ چراغ ہوں تو شعر بہتر ہو جاتا ہے۔ اس کو بدلنے کی کوشش تو کر ہی سکتے ہو۔
 
جناب شاہد شاہنواز صاحب کی غزل پر بات چیت ۔

اس سے پہلے آپ کی ایک غزل دیکھی اور اس پر بات بھی کی۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ وہ غزل زیرِ نظر غزل سے بہتر تھی۔

نہیں بجھاتے، جلا رہے ہیں چراغ اپنے​
مثالِ گل ہم کھِلا رہے ہیں چراغ اپنے​
محسوس ہوتا ہے کہ غزل ہو چکی تو مطلع بہ تکلف کہا گیا۔ مناسب ہے۔

مہک چراغوں سے آرہی ہے گُلوں کی یا پھر​
ہمِیں گُلوں کو بتا رہے ہیں چراغ اپنے؟​
’’بتا رہے ہیں‘‘ یہاں قرار دینا کے معانی میں آ رہا ہے، جو عمومی محاورے سے کسی قدر ہٹا ہوا ہے۔ الف عین صاحب کیا فرماتے ہیں؟۔ پہلے مصرعے میں الفاظ کی بچت کی جا سکتی تھی۔ مضمون و معانی میں وسعت پیدا کرنے کا ایک (بقول انور مسعود) کامیاب ’’حربہ‘‘ ہے۔ عربی کا عام مقولہ ہے: خیر الکلام ما قلّ و دلّ (بات مختصر ہو اور دلیل کے ساتھ کی جائے تو اچھا ہے)۔ بہ ایں ہمہ اس شعر میں کوئی قابلَ توجہ نقص نہیں ہے۔

امیر لوگوں نے بند کمروں میں قید رکھا​
غریب لیکن سجا رہے ہیں چراغ اپنے​
پہلا مصرع کمزور ہے، صاحب!۔ یہ مضمون پہلے بھی کئی پیرایوں میں بیان ہو چکا ہے۔ ایک شعر فوری طور پر ذہن میں آیا:۔
ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ
۔۔۔ ۔ (شاعر کا نام مجھے نہیں معلوم)۔
ایک بہت معروف نظم جو بچپن میں پڑھی تھی۔
جھٹ پٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا
ایک بڑھیا نے سرِ رَہ لا کے روشن کر دیا
میرا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ پہلے سے بیان شدہ مضامین کو نہ باندھا جائے۔ باندھئے، ضرور باندھئے! تاہم اس میں کوئی تازگی لائیے، کوئی منفرد معانی یا مضمون سے نیا مضمون نکالئے۔ اس پر غور فرمائیے گا۔

اندھیر نگری میں جینے والے بھی خوش نہیں ہیں​
کسی کے ڈر سے چھپا رہے ہیں چراغ اپنے​
’’خوش نہیں ہیں‘‘ اس سے زیادہ ’’ڈرے ہوئے ہیں‘‘ کا محل ہے۔ دوسرے مصرعے میں کچھ قطع و برید کر کے ’’ڈر‘‘ اور ’’ڈرے ہوئے‘‘ کی تکرار سے بچا جا سکتا ہے۔ مثلاً ’’کہ ہر کسی سے چھپا رہے ہیں ۔۔۔ ‘‘ یا جیسے آپ کو بھلا لگے۔

یہ رات سے دوستی ہے یا اُن کی بد نصیبی​
بجھا کے خود جو اُٹھا رہے ہیں چراغ اپنے​
بجھا کے اٹھانا کی بجائے اگر جلا کے بجھانا ہو تو، کیسا رہے گا؟

نہ زور کچھ تیرگی کا اُن سے ہی کم ہوا ہے​
نہ روشنی کو گنوا رہے ہیں چراغ اپنے​
اسے میری کم فہمی پر محمول کر لیجئے کہ بات مجھ پر کھل نہیں رہی۔


گلہ کسی غیر سے ہو کیونکر ستم گری کا​
کہ گھر ہمارا جلا رہے ہیں چراغ اپنے​
ع: اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ مضمون آفرینی کی کوشش پوری طرح کامیاب نہیں ٹھہری۔
گلہ کسی کی ستم گری کا کریں تو کیونکر
کہ گھر تو اپنا جلا رہے ہیں چراغ اپنے
ایک ’’حربہ‘‘ آپ کے علم میں تو ہو گا، یاد دِلاتا چلوں؛ وہ ہے انشاء پردازی۔ اپنے الفاظ کی در و بست ایسی رکھئے کہ کوئی ’’سوال سا‘‘ پیدا ہو، کسی انداز میں خوشی، مایوسی، شوخی، طنز، تحیر وغیرہ کا عنصر پیدا ہو جائے تو شعر کی جاذبیت بڑھ جاتی ہے۔

ہمیں کوئی پیار زندگی سے نہ موت کا ڈر​
کہ جلتے بجھتے سدا رہے ہیں چراغ اپنے​
پہلے مصرعے میں الفاظ کی بندش کو ادھر ادھر کر کے تاثر کو کسی قدر مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں ’’ٹمٹماتے‘‘ کی گنجائش بنتی تو ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں، تو!۔ اس شعر میں تعقیدِ لفظی سے بچنا خاصا مشکل ہو گا۔ الف عین صاحب کی توجہ چاہتا ہوں۔

کھلِیں جب آنکھیں تو زندگی کو یوں ہم نے دیکھا​
عدم کا منظر دکھا رہے ہیں چراغ اپنے​
نہیں صاحب! میں ایسی صورتِ حال کو عجزِ بیان سے تعبیر کروں گا۔ بات بیان ہوتی ہے، اور صاف واضح بیان ہوتی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ کچھ کہنا رہ گیا ہے۔ کچھ ایسی صورتِ حال یہاں بھی ہے۔ دوسرا مصرع بہت عمدہ ہے، پہلا مصرع اُس کا ساتھ نہیں دے پا رہا۔ اس شعر میں ’’یوں‘‘ اور اگلے شعر میں ’’مَیں‘‘ اگرچہ حرفِ علت کو گرایا جا سکتا ہےمگر صوتی ملائمت مجروح ہو رہی ہے۔

دہکتا سورج میں ہاتھ میں لے کے بیٹھتاہوں​
وہ مسکرا کر دِکھا رہے ہیں چراغ اپنے​
’’مَیں‘‘ پر بات ہو چکی۔ ’’بیٹھتا ہوں‘‘ اور ’’دکھا رہے ہیں‘‘ میل نہیں کھا رہے۔ معنوی سطح پر اگر آپ اِس کو داخلی حوالے سے دیکھیں (دھیان فوراً ادھر جاتا ہے) تو چراغ واحد کا تقاضا ہے۔ خارجی حوالے سے البتہ درست ہے۔

ہوا کے جھونکوں سے چھپ کے بیٹھو نہ گھر میں شاہد​
ہم آندھیوں میں جلا رہے ہیں چراغ اپنے​
یہ وہی بات آ گئی۔ ’’امیر لوگوں‘‘ والے شعر کے تحت میری جسارت آپ دیکھ چکے۔

اس غزل کو اگر ہم عمومی شاعری کے تناظر میں دیکھیں تو ’’قابلِ قبول‘‘ غزل ہے۔ اور اگر آپ کی پہلی غزل کے تناظر میں دیکھیں تو وہ آگے نکل گئی۔ ہمارے افسانہ نگار دوست (’’سانس کی سیٹی‘‘ کے مصنف) ظفری پاشا نے بات افسانے کے حوالے سے کی: ’’افسانہ وہ ہے جو قاری کو چونکا دے‘‘۔ یہی بات تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ شعر پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

اجازت چاہوں گا۔ میری جسارتوں کو مسکرا کر ٹال دیا کیجئے، کہ میرے حق میں یہی اچھا ہے۔

جناب محمد وارث، جناب محب علوی، جناب اسد قریشی اور عزیزہ مدیحہ گیلانی سے بھی توجہ کی درخواست ہے۔

میں بہت ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے اس دھاگے میں ٹیگ کیا مگر شاید میں وضاحت نہیں کر سکا کہ میں شاعری پڑھنے اور سننے کی حد تک بہت مشتاق ہوں مگر شاعری کے رموز اور فن سے بہت حد تک لاعلم ہوں۔

آپ کا یہ دھاگہ پڑھ کر مجھے کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے اور عروض کے اسباق کا یونیکوڈ میں انتطار ہے۔

"قابل قبول" کی رعایت بہت خوبی سے استعمال کی ہے اور بہت خوشی ہوئی کہ اصلاح کا کام ایسے احسن اور شگفتہ لہجے میں ہو سکتا ہے۔ جس طرح نرم اور تعمیری تنقید کی ہے ، اس سے کلام سے کہیں زیادہ لطف آیا ہے۔
 
شاہد شاہنواز
”تعقید لفظی“ اصطلاح میں یعنی آپ نے شعر میں الفاظ کو گرامر کی رو سے بہت زیادہ آگے پیچھے کر دیا ہے جو روانی کو مجروح کرتا ہے۔
دیکھیں:
ہمیں کوئی پیار زندگی سے نہ موت کا ڈر
کہ جلتے بجھتے سدا رہے ہیں چراغ اپنے
پہلے مصرعے کو اگر بطور نثر لکھتے تو کیا ہوتا؟
”نہ ہمیں زندگی سے کوئی پیار ہے نہ موت کا ڈر“
یہی تعقیدِ لفظی ہے۔ شعر نثر کے جتنا قریب تر ہو اتنا رواں ہوتا ہے۔ :)
 
بہت شکریہ محب علوی، آپ کے حسنِ نظر کے لئے۔

جناب الف عین، آپ کی توجہ میرے لئے خوشی کا باعث ہوا کرتی ہے، تابناک سورج والی تجویز بہت اچھی ہے، صاحب غزل جناب شاہد شاہنواز کو بھی اچھی لگے گی۔ اور ہاں، محب علوی صاحب ’’اسباق‘‘ کی یونی کوڈ فائل کے منتظر ہیں۔

شاہد شاہنواز صاحب، یہ جو آپ نے کہا ہے:

۔۔۔ اس کے علاوہ میں نے عرض کیا تھا کہ یہ غزل ابھی مکمل نہیں ہے۔۔ مجھے اور بھی کچھ کہنا ہے، تو دیکھتے ہیں اور کہنے کے حوالےسے کب کوئی پیشرفت سامنے آتی ہے۔۔ آپ کے تفصیلی جواب کا بے حد ممنون ہوں۔۔۔​

میں نے موجودہ اشعار کو جیسا پایا، بے کم و کاست عرض کر دیا۔ اپنی تو ہمت نہیں ہوتی کہ پانچ چھ شعروں سے زیادہ ایک غزل میں جمع کر سکیں۔ ’’چراغ اپنے‘‘ جیسی مشکل ردیف میں اتنے سارے شعر کہہ لینا، آپ کا ’’جِگرا‘‘ ہے! اِس سے زیادہ کہا کہوں کہ جب تک آپ خود اپنے کہے سے پوری طرح مطمئن نہ ہوں، اپنے اشعار کے ساتھ رہیں۔ تبدیلی، ترمیم تو کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے۔ میرے مرحوم دوست (’’درِ نیم وا‘‘ کے شاعر) ڈاکٹر رؤف امیر کہا کرتے تھے۔ ’’اپنے شعروں کو ہمیشہ پالش کرتے رہا کرو‘‘۔

اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
آسی بھائی سے متفق ہوں اکثر تجویزوں کے بارے میں۔
مجھے تو مطلع بھی کمزور لگا۔ ’نہیں بجھاتے، جلا رہے ہیں‘ کے بیانیہ سے۔
÷÷کمزور تو ہے، کیونکہ بقول محترم آسی صاحب کے ، وہ بہ تکلف کہا گیا۔۔ اسے پر اثر بنانے کی کوئی صورت فی الحال ذہن میں نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ نہیں بجھاتے کوبدلنے کا خیال ہے،سو وہ ’’یہی نہ سمجھو، جلا رہے ہیں چراغ اپنے، مثالِ گل ہم کھلا رہے ہیں چراغ اپنے ‘‘ ہوسکتا ہے، بشرطیکہ یہی نہ سمجھو سے صورتحال مزید بگاڑ کی طرف نہ جاتی ہو۔۔
’چراغوں کو بتانا‘ تو محاورہ واقعی نہیں۔ لیکن اگر اس شعر میں بنانا کا فعل استعمال کیا جائے تو؟
مہک چراغوں سے آرہی ہے گُلوں کی (یا پھر)
ہمِیں گُلوں کو بنا رہے ہیں چراغ اپنے؟
÷÷ مہک چراغوں سے آرہی ہے گلوں کی صورت ۔۔۔ کہ ہم گلوں کو بنا رہے ہیں چراغ اپنے ۔۔۔ شاید اس طرح بہتر ہو۔۔
’یا پھر‘ کی جگہ کچھ اور لفظ استعمال کرو۔
گلہ کسی کی ستم گری کا کریں تو کیونکر
کہ گھر تو اپنا جلا رہے ہیں چراغ اپنے
بہت بہتر ہو گیا ہے۔ ایک خیال اور آیا ہے، ’گلہ کسی سے‘ کہا جائے تو کیسا رہے؟
÷÷ میں جان بوجھ کر ایسے مصرعے بدل دیتا ہوں ۔۔ گلہ کسی سے ستم گری کا کریں تو کیونکر ۔۔۔ معنوی طور پر تو بات وہی ہے، لیکن کسی اور سے میں س ٹکرا تو نہیں رہا؟؟
دہکتا سورج میں ہاتھ میں لے کے بیٹھتاہوں
وہ مسکرا کر دِکھا رہے ہیں چراغ اپنے
’بیٹھتا ہوں‘ سے چھٹکارا مل سکتا ہے الفاظ بدل کر
مثلاً
میں ہاتھ میں تابناک سورج لئے ہوئے ہوں
ویسے بھی دہکتا کہنے سے اس کی شعلگی کا تو کوئی ذکر نہیں ہے، محض چمک کا ہے۔
÷÷یہ تبدیلی بہت اچھی ہے۔۔۔
مقطع بھی ایسا برا نہیں کہ تم القط ہی کر دو۔
÷÷ متفق ۔۔۔ لیکن کوشش کرتا ہوں بہتر ہوجائے۔۔۔اگر ہو جائے۔۔
ہمیں کوئی پیار زندگی سے نہ موت کا ڈر
کہ جلتے بجھتے سدا رہے ہیں چراغ اپنے
پہلا مصرع واقعی روانی مانگتا ہے۔ اور واقعی ’ٹمٹماتے‘ چراغ ہوں تو شعر بہتر ہو جاتا ہے۔ اس کو بدلنے کی کوشش تو کر ہی سکتے ہو۔
گویا اب تک کی صورتحال کچھ یوں ہوئی:
یہی نہ سمجھو جلا رہے ہیں چراغ اپنے ÷÷÷ (نہیں بجھاتے، کی یہ تبدیلی درست ہے یا نہیں؟)
مثالِ گل ہم کھِلا رہے ہیں چراغ اپنے
اندھیر نگری میں جینے والے ڈرے ہوئے ہیں
وہ ہر کسی سے چھپا رہے ہیں چراغ اپنے
مہک چراغوں سے آرہی ہے گلوں کی صورت
کہ ہم گلوں کو بنا رہے ہیں چراغ اپنے
یہ رات سے دوستی ہے یا اُن کی بد نصیبی
جلا کے خود جو بجھا رہے ہیں چراغ اپنے
گلہ کسی کی/سے ستم گری کا کریں تو کیونکر (کی اورسے کا سوال، جبکہ میری نظر میں دونوں طرح سے درست ہے)
کہ گھر تو اپنا جلا رہے ہیں چراغ اپنے
میں ہاتھ میں تابناک سورج لئے ہوئے ہوں
وہ مسکرا کر دِکھا رہے ہیں چراغ اپنے
ہمیں کوئی پیار زندگی سے نہ موت کا ڈر
کہ ٹمٹماتے سدا رہے ہیں چراغ اپنے
÷÷ ہمیں محبت ہے زندگی سے نہ موت کا ڈر ۔۔۔ اور مزمل شیخ بسمل بھائی کے بیان سے جو کچھ سمجھا ہے، اس کے تحت ایک دوسری صورت کچھ یوں ہوسکتی ہے: نہ ہم کو چاہت ہے زندگی کی نہ موت کا ڈر ۔۔۔تیسری صورت ۔۔۔ نہ زندگی کی کوئی تمنا نہ موت کا ڈر ۔۔۔ ان تینوں صورتوں میں موت کا ڈر مشترک ہے ۔۔۔ اگر ’’نہ موت کا ڈر‘‘والا حصہ رواں نہیں ، تو تینوں ہی صورتیں غلط اور کوئی چوتھی صورت سوچنا پڑے گی۔
ہوا کے جھونکوں سے چھپ کے بیٹھو نہ گھر میں شاہد
ہم آندھیوں میں جلا رہے ہیں چراغ اپنے
÷÷÷÷بقول آسی صاحب، اس مقطعے میں کوئی تازگی یا منفر دخیال نہیں ، ضرور یہ خیال پرانا ہے سو اس پر ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ : حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا ۔۔ لیکن مجموعی طور پر چونکہ ہم ردیف ہی بڑی مشکل لے آئے تھے ، سو اس مشکل سے نکلنے کا ایک ہی حل سمجھ میں آتا ہے کہ اس سلسلے کو یہیں موقوف کیاجائے اور جو سوالات ہنوز حل طلب ہیں، ان کا جواب جان کر اس غزل سے آگے بڑھا جائے۔ مزید شعر لکھنے کا جو میں سوچ رہا تھا، موخر کرتا ہوں۔۔۔ ہر شعر میں چراغ لے کر آنا ضروری ہے اور وہ بھی اپنے ۔۔ اتنے سارے چراغوں سے کہیں آگ نہ لگ جائے!! بہرحال جاتے جاتے اس کا مرکزی خیال بتا دوں کہ ایسی مشکل ردیف لانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔ مرکزی خیال یہ شعر تھا:
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
لوگ کیا سادہ ہیں، سورج کو دکھاتے ہیں چراغ ۔۔
خدا معلوم کس نابغہ روزگار نے لکھا تھا۔۔۔ میں شعر یاد رکھتا ہوں، شاعر بھول جاتا ہوں، سو معذرت۔۔۔
 
وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
۔۔۔
بر سبیلِ تذکرہ، جناب محمد وارث صاحب! اور الف عین صاحب! میں نے یہ اس طرح بھی پڑھا ہے:
وہ آئے بزم میں اتنا تو ہم نے دیکھا میر
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
مصدقہ املاء کون سی ہے؟
 

شاہد شاہنواز

لائبریرین
وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
۔۔۔
بر سبیلِ تذکرہ، جناب محمد وارث صاحب! اور الف عین صاحب! میں نے یہ اس طرح بھی پڑھا ہے:
وہ آئے بزم میں اتنا تو ہم نے دیکھا میر
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
مصدقہ املاء کون سی ہے؟
وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔۔۔
یہ زیادہ پڑھا اور سنا ہے۔۔
 

الف عین

لائبریرین
محمد شمس الحق کی تحقیق کے مطابق اصل شعر یوں ہے:

وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

شعر مہاراج بہادر برق کا ہے اگرچہ میر کے نام سے مشہور ہے
 
محمد شمس الحق کی تحقیق کے مطابق اصل شعر یوں ہے:

وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

شعر مہاراج بہادر برق کا ہے اگرچہ میر کے نام سے مشہور ہے

جی بالکل۔ میر کی تو اس طرح پر کوئی غزل ہی نہیں سرے سے۔
 
وہ آئے بزم میں اتنا تو میر نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
۔۔۔
بر سبیلِ تذکرہ، جناب محمد وارث صاحب! اور الف عین صاحب! میں نے یہ اس طرح بھی پڑھا ہے:
وہ آئے بزم میں اتنا تو ہم نے دیکھا میر
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
مصدقہ املاء کون سی ہے؟

اس شعر سے مجھے وہ دلچسپ دھاگہ یاد آ گیا جس میں کسی نے اس شعر کو میرے دستخط میں دیکھ کر لکھا تھا کہ یہ شعر میر کا نہیں بلکہ برق لکھنوی کا ہے اور پھر اس کا پورا پس منظر بھی بیان کیا تھا۔ میرے ہٹانے پر یہ شکوہ بھی کیا تھا کہ اگر شعر میر کا نہیں رہا تو اسے ہٹا کیوں دیا۔ :)

مغزل بھی کسی دھاگے میں اس کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ یہ شعر شاید زیڈ اے بخاری نے ریڈیو پر غلط پڑھ دیا تھا جس کے بعد سے یہ میر کے نام سے مشہور ہو گیا۔

وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
 
Top