نواب انشاء اللہ خان

رضوان نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 1, 2006

  1. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    سید انشاء اللہ خان انشاء (1756ء 1817ء)

    سید انشاء اللہ خان انشاء میر ماشااللہ خان کے بیٹے تھے۔ جو ایک ماہر طبیب تھے۔ ان کے بزرگ نجف اشرف کے رہنے والے تھے۔ مغلیہ عہد میں ہندوستان تشریف لائے۔ کئی پشتیں بادشاہوں کی رکاب میں گزارنے کے بعد جب مغل حکومت کو زوال آیا تو ماشاء اللہ خان دہلی چھوڑ کر مرشد آباد چلے گئے۔ جہاں انشاء پیدا ہوئے۔

    انشاء کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل،ریختی ، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اوراردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔یہی نہیں بلکہ انشاء پہلے ہندوستانی ہیں جنہوں نے دریائے لطافت کے نام سے زبان و بیان کے قواعد پرروشنی ڈالی۔

    انشاء نے غزل میں الفاظ کے متنوع استعمال سے تازگی پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ تاہم بعض اوقات محض قافیہ پیمائی اور ابتذال کا احساس بھی ہوتا ہے۔انشاء کی غزل کا عاشق لکھنوی تمدن کا نمائندہ بانکا ہے۔ جس نے بعد ازاں روایتی حیثیت اختیار کر لی جس حاضر جوابی اور بذلہ سنجی نے انہیں نواب سعادت علی خاں کا چہیتا بنا دیا تھا۔اس نے غزل میں مزاح کی ایک نئی طرح بھی ڈالی۔ زبان میں دہلی کی گھلاوٹ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اس لیے اشعار میں زبان کے ساتھ ساتھ جو چیز دگر ہے اسے محض انشائیت ہی سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔

    ان کی چند نمائندہ غزلیں پیش خدمت ہیں۔




    چھيڑا نہ کرو ميرے قلم دان کے کاغذ
    ہيں اس ميں پڑے بندے کے ديوان کے کاغذ

    اس طِفل کو بيتوں کا مري شوق ہواتو
    محسوس ہوئے سارے گلستان کے کاغذ

    ہر وصلي سرکار پہ جدول ہے طلائي
    اب آپ لگے رکھنے بڑي شان کے کاغذ

    اس شوخ نے کل ٹکڑے زليخا کے کيے اور
    مارے سر استاد پہ تان کے کاغذ

    دس بيس اکھٹے ہيں خط آس پاس تو قاصد
    لے جاکہ يہ ہيں سخت ہي ارمان کے کاغذ

    کيا چہرہ انشا کا ہوا رنگ، کل اس کا
    يک بار جو قاصد نے ديا آن کے کاغذ
    ‌‌
     
  2. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    دھوم اتني ترے ديوانے مچا سکتے ہيں
    کہ ابھي عرش کو چاہيں تو ہلاسکتے ہيں

    مجھ سے اغيار کوئي آنکھ ملاسکتے ہیں؟
    منہ تو ديکھو وہ مرے سامنے آسکتے ہيں؟

    ياں و آتش نفساں ہيں کہ بھريں آہ تو جھٹ
    آگ دامان شفق کو بھي لگا سکتے ہيں

    سوچئے توسہي، ھٹ دہرمي نہ کيجئے صاحب
    چٹکيوں ميں مجھے کب آپ اڑا سکتے ہيں

    حضرت دل تو بگاڑ آئے ہيں اس سے ليکن
    اب بھي ہم چاہيں تو پھر بات بنا سکتے ہيں

    شيخي اتني نہ کر اے شيخ کہ رندان جہاں
    انگليوں پر تجھے چاہيں تو نچا سکتے ہيں
     
  3. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    دل کے نالوں سے جگر دکھنے لگا
    ياں تلک روئے کہ سر دکھنے لگا

    دور تھي از بسکہ راہ انتظار
    تھک کے ہر پائے نظر دکھنے لگا

    روتے روتے چشم کا ہر گوشہ ياں
    تجھ بِن اے نور بصر دُکھنے لگا

    درد يہ ہے ہاتھ اگر رکھا ادہر
    واں سے تب سرکا ہاتھ دُکھنے لگا

    مت کراہ انشا نہ کر افشائے راز
    دل دُکھنے دے اگر دُکھنے لگا
     
  4. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668

    کام فرمائيے کس طرح سے دانائي کو
    لگ گئي آگ ياں صبر و شکيبائي کو

    عشق کہتا ہے يہ وحشت سے جنوں کے حق ميں
    چھيڑ مت بختوں جلے ميرے بڑے بھائي کو

    کيا خدائي ہے منڈانے لگے اب خط وہ لوگ
    ديکھ کر ڈيوڑھي ميں چھپ رہتے تھے جونائي کو

    وعدہ کرتا ہے غزالانِ حرم کے آگے
    کس نے يہ بات سکھائي ترے سودائي کو

    گرچہ ہيں آبلہ پا دشت جنوں کے اے خضر
    تو بھي تيار ہيں ہم مرحلہ پيمائي کو

    اک بگولا جو پھرا ناقہ ليلي کے گرد
    ياد کررونے لگي اپنے وہ صحرائي کو

    مست جاروب کشي کرتے ہيں ياں پلکوں سے
    کعبہ پہنچے ہے مے خانے کي ستھرائي کو

    جي ميں کيا آگيا انشا کے يہ بيٹھے بيٹھے
    کہ پسند اس نے کيا عالم تنہائي کو
     
  5. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    مستي ہي تيري آنکھوں کي ہے جام سے لذيذ
    ہے ورنہ کون شے مئے گل فام سے لذيذ

    چٹکارے کيوں بھرے نہ زباں تيرے ذکر ميں
    کوئي مزہ نہيں ہے ترے نام سے لذيذ

    گالي وہ اس کي ہوہو کي آنکھيں دکھاتے وقت
    ہے واقعي کہ پستہ و بادام سے لذيذ

    انشا کو لذت اس کي جواني کي حسن کي
    ھے زور طِفلگي کے بھي ايام سے لذيذ

    آجاوے پختگي پہ جو ميوہ درخت کا
    وہ کيوں نہ ہو بھلا ثمر خام سے لذيذ
     
  6. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    نرگس نے پھر نہ ديکھا جو آنکھ اٹھا چمن ميں
    کيا جانے کس ني کس سے کيا کرليا چمن ميں

    چڑھ بيٹھا ياسمين کي گردن پہ عشق پيچا
    آيا کدہر سے کافر يہ تسمہ پا چمن ميں

    نالے پہ ميرے نالے کرنے لگي ہے اب تو
    بلبل نے يہ نکالا نخرا نيا چمن ميں

    تکليف سير گلشن ، اے ہم صفير مت دے
    اس گل بغير ميرا کب دل لگا چمن ميں



    کچہ اوس سي گلوں پر کيوں پڑ گئي يکايک
    ديکھو تو کس نے کھولے بند قبا چمن ميں

    داؤدي آج پہنے عيسي کا پيرہن ہے
    ٹک سير کيجئے عالم مہتاب کے چمن ميں

    مجھ کو دکھا جواس نے کاجل دياتو اس کے
    معني يہ تھے کہ شب کو نرگس کے آچمن ميں

    ايسي ہوا چلي ہے تو بھي نہ پوچھے کوئي
    کوئل کا جاوے کوا گر منہ چڑا چمن ميں

    بجلي نہيں چمکتي نے ابر ہے ہي تجھ بن
    پھرتي ہے آگ اڑاتي کالي بلا چمن ميں

    ہے ہے پھر يري لے لے تيرا يہ کہتے جانا
    چلتي ہے ٹھنڈي ٹھنڈي کيا ہي ہوا چمن ميں
     
  7. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    سودا زندہ ہے تو يہ تدبير کريں گے
    اس زلف گرہ گير کي زنجير کريں گے

    غصے ميں ترے ہم نے بڑا لطف اٹھايا
    اب تو عمداً اور بھي تفصير کريں گے

    ديکھيں گے جب آتے تھے آپ ايک ادا سے
    ہو چيں بہ تکيہ بہ شمشير کريں گے

    يہ نالہ جاں کاہ پر از حسرت و درد آہ
    تا بند ترے دل ميں نہ تاثير کريں گے

    چمکا ہے ترا رنگ جو نظارے سے اپنے
    پوچھ اہل نظر سے کہ وہ تقرير کريں گے

    چندے جو بسر يوں ہوئي اوقات تو ہم يار
    مکھڑے کو ترے عالم تصوير کريں گے

    دل شاد رکھ انشا متفکر نہ ہو ہرگز
    عقدے ترے حل حضرت شبير کريں گے
     
  8. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    پيدا ھوا جي وشق سے جب سنگ ميں کيڑا
    پھر کيوں نہ پڑے زخم دل تنگ ميں کيڑا

    عکس لب جاں بخش سے جوں بير بہيٹي
    پھرتا ہے پڑا ايک قدح بنگ ميں کيڑا

    کيٹرے کے پر انگيا ميں لگا رادہکا بولي
    ہے کشن يہ کاٹے گا مرے انگ ميں کيڑا

    منہ چنگي نے فنکاري کي يہ لي جھجک کے
    کيڑے ني کہا ہے ترے منہ چنگ ميں کيڑا

    جگنوں کو نہ رکھ محرم شبنم ميں، اري چھوڑ
    ايک زھر بھرا ميرے دل تنگ ميں کيڑا

    جھينگر کي آواز سن، مراقب ہو کہے يہ
    مشغول عبادت عجب آھنگ ميں کيڑا

    لچھے ھيں يہ ريشم کے نہ يہ کط شعاعي
    ھے مہر بھي ايک عالم نيرنگ ميں کيڑا

    ڈورے تري آنکھوں کے اگر ديکھے تو وہيں
    ريشم کا لگے آئينے کے زنگ ميں کيڑا

    بوسيدہ لغت چھانٹے ہے، اللہ کرے پڑ جائے
    اے شيخ تري عقل کے فرہنگ ميں کيڑا

    وھ مور و ملخ فوج مضا ميں ہے مرے پاس
    جس کے نہ مقابل ہو کسي ڈھنگ ميں کيڑا

    شدھ شدھ دستے شدھ پائي پڑہو تو
    موذي نہ رہے سيکڑوں فرسنگ ميں کيڑا

    زاہد جو چمک جائے تو جوں کرمک شب تاب
    بے پيچ کوئي مقعد پر تنگ ميں کيڑا

    چونکے يہ گرہ بند سے، سمجھے کہ در آيا
    دارائي کے ايک نيفہ، خوش رنگ ميں کيڑا

    اس دور ميں افسوس نہيں خواجوي کرمان
    ہوتا تو بٹھاتا وہ ہر اک رنگ ميں کيڑا

    من بعد فنا، ناک سے ايک ناگ ہو نکلا
    تھا کبر کا وہ جو سر ہو شنگ ميں کيڑا

    سائل ہو جکت بولنے پر مجھ سے تو وہيں
    پڑ جائے تھيگاہ جگت جنگ ميں کيڑا

    انشا نے چھوا آبلہ، دل کو تو آيا
    جان دار، سمندر نمط ، ايک چنگ ميں کيڑا
     
  9. رضوان

    رضوان محفلین

    مراسلے:
    2,668
    ٹک آنکھ ملاتے ہي کيا کام ہمارا
    تس پر يہ غضب پوچھتے ہو نام ہمارا

    تم نے تو نہيں، خير يہ فرمائيے بارے
    پھر کن نے ليا ، راحت و آرام ہمارا

    ميں نے جو کہا آئيے مجھ پاس تو بولے
    کيوں، کس لئے ، کس واسطے کيا کام ہمارا؟

    رکھتے ہيں کہيں پاؤں تو پڑے ہيں کہيں اور
    ساقي تو ذرا ہاتھ تو لےتھام ہمارا

    ٹک ديکھ ادھر ، غور کر،انصاف يہ ہے واہ
    ہر جرم و گنہ غير سے اور نام ہمارا

    اے باد سحر محفل احباب ميں کہو
    ديکھا ہے جو کچھ حال تہ دام ہمارا
     

اس صفحے کی تشہیر