نقش ہائے گزشتگاں ہیں ہم ۔ وحشت

فرخ منظور نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 21, 2012

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    نقش ہائے گزشتگاں ہیں ہم​
    محوِ حیرت ہیں اب جہاں ہیں ہم​
    ضعف سے کیا کہیں کہاں ہیں ہم​
    اپنی نظروں سے خود نہاں ہیں ہم​
    صبر و تاب و تواں کے جانے سے​
    ہائے گُم کردہ کارواں ہیں ہم​
    دل کی لے کر خبر بھی دل کی نہ لی​
    پھر کہو گے کہ دل ستاں ہیں ہم​
    آ کے جلدی کرو مسیحائی​
    اب کوئی دم کے میہماں ہیں ہم​
    آئینہ دیکھنے نہ دیویں گے​
    جانتے ہو کہ بدگماں ہیں ہم​
    کم کوئی ہو گا موردِ آفات​
    جس قدر زیرِ آسماں ہیں ہم​
    (میر بہادر علی، وحشت)​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  2. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,859
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت خوب۔۔۔۔!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,845
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    عمدہ غزل فرخ بھائی۔ شیئر کرنے کا شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    شکریہ احمد صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,661
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت نوازش خلیل صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر