نظر لکھنوی نعت: سجا کر سر پہ وہ تاجِ نبوت زرنگار آیا ٭ نظرؔ لکھنوی

سجا کر سر پہ وہ تاجِ نبوت زرنگار آیا
رسولِ ہاشمی آیا نرالا تاجدار آیا

وہ ختمِ مرتبت عالی نسب فرخ تبار آیا
وہ بزمِ نازِ حسنِ لم یزل کا راز دار آیا

خدا کی صنعتِ تخلیق کا وہ شاہکار آیا
امام الانبیاء، ختم الرسل سا تاجدار آیا

بہاروں کے لئے مژدہ کہ وہ جانِ بہار آیا
ہوا شاداب گلشن ہر شجر پر برگ و بار آیا

درِ نایاب کا خواہاں ہر اک دیوانہ وار آیا
علومِ معرفت کا بحرِ نا پیدا کنار آیا

قرارِ جان و دل بن کر وہ سب کا غمگسار آیا
خوشا قسمت وہ جانِ رحمتِ پروردگار آیا

نظامِ زندگی برہم تھا ایسا انتشار آیا
بفضلِ ایزدی شیرازہ بندِ کاروبار آیا

وہ ساقی میکدہ بردوش جب عالی وقار آیا
تو لے کر ساغرِ دل دوڑتا ہر مے گسار آیا

تہی دامن کوئی پلٹا نہ کوئی شرمسار آیا
ہر اک دریوزہ گر اس آستاں سے کامگار آیا

وہ راہِ عشق کا سالک وہ حسنِ خلق کا مالک
تعلق بندہ و مولا کا کرنے استوار آیا

وہ مزّمل وہ مدّثر قیام اللیل کا خوگر
حبیبِ کردگار آیا زہے شب زندہ دار آیا

کرشمہ حسنِ سیرت کا کہ جادو حسنِ صورت کا
ملا جو ایک بار ان سے وہ ملنے بار بار آیا

ابو بکرؓ و عمرؓ فاروق و عثمانِؓ غنی، حیدرؓ
خوشا اس حسن کے پہلو میں عشقِ چار یار آیا

نظرؔ بیتاب دل رہتا ہے کیوں، راہِ مدینہ لے
کہ ہر مضطر کو روضے پر پہنچ کر ہی قرار آیا

٭٭٭

محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
 
مدیر کی آخری تدوین:
کیا قادرالکلامی ہے ! نو عدد مطلع!!
تابش بھائی اس مصرع میں ایک ٹائپو درست کرلیجئے :
حبیبِ کردگار آیا ، زہے شب زندہ وار آیا
یہاں شب زندہ دار ہوگا ۔
 
جزاک اللہ ظہیر بھائی.
کیا قادرالکلامی ہے ! نو عدد مطلع!!
تابش بھائی اس مصرع میں ایک ٹائپو درست کرلیجئے :
حبیبِ کردگار آیا ، زہے شب زندہ وار آیا
یہاں شب زندہ دار ہوگا ۔
نشاندہی کا شکریہ. یہاں تدوین کا اختیار نہیں. رپورٹ کر دیتا ہوں. اپنے پاس درست کر لیا ہے.
 
Top