نظر لکھنوی نعت: امامِ رسولاں متاعِ دو عالم ٭ نظر لکھنوی

امامِ رسولاں، متاعِ دو عالم
محمدؐ رسول و نبی مکرّم

مَلَک بھیجتے ہیں درود اس پہ پیہم
سلام اس کو آتے ہیں از عرشِ اعظم

ہے قرآن اس کا مؤثر، منظّم
ہے دین اس کا کامل، شریعت ہے محکم

درود اس پہ بھیجیں بھی دن رات گر ہم
ہے کم اس کے احساں کے آگے، بہت کم

بہ حالاتِ امّت، وہ غرقِ تفکر
وہ اک دردِ جاں سوز رکھتا تھا پیہم

علوم و معارف کا ذات اس کی مخزن
حقائق سے آگاہ، رازوں کا محرم

کلام اس کا بر حق، کلام اس کا شیریں
مقفیٰ، مسجّع، مرصّع و محکم

وہ بیداریِ شب حضورِ خدا میں
دعاؤں میں مصروف با چشمِ پُر نم

ہے ذکر اس کا خالق کے پہلو بہ پہلو
کہیں ہے مؤخر، کہیں پر مقدّم

ہے اس کی اطاعت، خدا کی اطاعت
ہو جس کا وہ ہمدم، خدا اس کا ہمدم

حقیقت میں اس کا ہے دربار شاہی
بظاہر نہیں گرچہ کوئی خم و چم

قدم بوس ہونے کو جاتی ہے دنیا
بر آں بارگاہِ شہنشاہِ عالمؐ

نظرؔ ہم نہ کیوں اس کے قربان جائیں
وہ رحمت سراپا، وہ خیرِ مجسّم

٭٭٭
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
 

الف نظامی

لائبریرین
ہے اس کی اطاعت، خدا کی اطاعت
ہو جس کا وہ ہمدم، خدا اس کا ہمدم

نظرؔ ہم نہ کیوں اس کے قربان جائیں
وہ رحمت سراپا، وہ خیرِ مجسّم

 
Top