نظم: غیبت از :: محمد خلیل الرحمٰن

محمد خلیل الرحمٰن نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 6, 2019

  1. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,849
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    غیبت

    ( شیخ سعدی کی ایک حکایت سے ماخوذ )
    محمد خلیل الرحمٰن





    تمام شب کے عبادت گزار بیٹے نے
    کہا ادب سے یہ اپنے عزیز والد سے
    یہ میرے گِرد جو سوئے ہوئے ہیں غفلت میں
    اِنہیں سکون نہ مِل پائے گا عبادت میں؟
    اگر یہ ایک گھڑی اپنی نیند سے جاگیں
    سیاہ بختیٗ انجام سے نکل بھاگیں
    کہا یہ باپ نے اے کاش! تو نہ یوں کہتا
    برا نہ ہوتا اگر تو دبک کے سو رہتا
    بڑی جہاں میں برائی کسی کی غیبت ہے
    جو بچ سکو تو یہی وقت اِک عبادت ہے
    *****
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 6, 2019
    • زبردست زبردست × 6
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. عمران سرگانی

    عمران سرگانی محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    بہت خوب۔۔۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,849
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    جزاک اللہ جناب۔ خوش رہیے۔
     
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,849
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ٹیگ نامہ:
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 7, 2019
  5. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    379
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    سبحان اللہ سبحان اللہ۔ واہ واہ ۔

    ناچیز کی ایک حقیر رائے ہے ۔ یہ نظم بچوں کیلئے بہت ہی خوبصورت اور جامع ہے۔ تیسرے شعر کے دوسرے مصرع کو اگر ذرا سہل بنادیں تو بچوں کیلئے اور آسان ہوجائے۔ ( سیاہ بختیٔ انجام) بچوں کیلئے کچھ مشکل لگ رہا ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,849
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    جزاک اللہ خیرا جناب۔ پسندیدگی پر شکریہ قبول فرمائیے۔

    اس کا کچھ متبادل سوچتے ہیں
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر