نزول سخن

الف عین نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 31, 2009

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    31,249
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میرے خیال میں اس قسم کا بھی ایک تانا بانا یہاں ہونا چاہئے جس میں کسی شعر کے نزول کی کہانی سنائی جا سکے۔

    پہلا واقعہ میں ہی شروع کرتا ہوں۔ بحوالہ ’بزمِ سہارا‘ اگست 2009ء
    ء کی بات ہے، شکیلہ بانو بھوپالی کسی پروگرام کے سلسلے میں حیدر آباد آئ ہوئ تھیں۔ وہ مخدومؔ اور ان کے دوست شاہد صدیقی سے کافی بے تکلف تھیں۔ تینوں دوستوں میں یہ بات طے ہوئی کہ اب جو بات ہو گی وہ منظوم ہو گی۔ رات کو شکیلہ بانو کو خوب ہار پہنائے گئے جو ان کے سامنے رکھے ہوئے تھے۔ وہ بے خیالی میں پتی پتٓی توڑ کر ان کو بکھیر رہی تھیں، جس کی وجہ سے ان کے سامنے پتیاں ہی پتیاں بچھ گئی تھیں۔ شاید نے آہستہ سے کہا "کیا بچھا دی بساط پھولوں کی"۔ شکیلہ نے بر جستہ جواب دیا ’بے مروت ہے ذات پھولوں کی‘ ۔ مخدوم نے دونوں کو خاموش کرانے کی غرض سے کہا "لوگ سنتے ہیں بات پھولوں کی‘ ۔ اگلے دن ’پھولوں کی‘ والی زمین پر مخدوم کی مشہور زمانہ غزل تیار تھی جو بعد میں فلم ‘بازار‘ میں ساگر سرحدی نے بھی استعمال کی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 9
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  2. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,023
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bitched
    بہت خوب بابا جانی۔ شاید آپ نزول لکھنا چاہ رہے تھے، غلطی سے بزول لکھ دیا ہے:)

    اس طرح کا بہت ہی مشہور عام واقعہ مجھے جرات و انشاء کا یاد ہے۔

    ایک دفعہ انشا جرات سے ملنے گئے ، وہ خیال سخن میں مگن تھے۔ انشاء نے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ جرات نے کہا کہ ایک مصرع ہو گیا ہے، دوسرے کی فکر میں ہوں۔ انشاّ نے کہا کہ مجھے مصرع سنا۔ جرات نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ تو گرہ لگا کر شعر اچک لوگے۔ خیر انشا نے بہت اصرار کیا تو اسے مصرع سنایا

    اس زلف کو پھبتی کہ شب دیجور کی سوجھی

    انشاّ نے جھٹ سے گرہ لگایا ۔۔

    اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی

    مزے کی بات یہ ہے کہ جرات اندھا تھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    31,249
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اوہو جوجو، ’ب‘ اور ’ن‘ میں اکثر ادل بدل ہو جاتا ہے، لیکن تم نے تو ’و‘ کو بھی ’د‘ سے بدل دیا۔ ویسے یہ بہت عام غلطی ہے کمپوزنگ کی۔ جیسی مجھے سینکڑوں جگہ نظر آئی ہے، ’واماندگی‘ کو ’داماندگی‘ "وقیع‘ کو ’دقیع‘ اعور ’دقیق‘ کو ’وقیق‘۔
    لیکن اس پر اب اتنی ہنسی نہیں آتی، ہنسی تو اس پر آتی ہے جب ’ ا ک ث ر‘ کو ’اکژ‘ یعنی ا ک ژ اور ڈ ا ک ٹ ر کو ڈاکڑ یعنی ڈ ا ک ڑ!!!


    اور ہاں، یہاں یہ تدوین کر دوں کہ اوپر بھی تدوین کر دی ہے، نشان دہی کرنے کاشکریہ ادا نہیں کرتا، یہ تو تمہارا فرض تھا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  4. ثمینہ معیز

    ثمینہ معیز محفلین

    مراسلے:
    149
    کیا خوبصورت لمحہ ہے یہ

    پھر چھڑی رات بات پھولوں کی
    رات ہے یا بارات پھولوں کی

    بہت خوبصورت سلسلہ ہے جناب ، شکریہ ہدیہ خدمت ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,304
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    جویریہ صحیح شعر یوں ہے۔
    اس زلف پہ پھبتی شبِ دیجور کی سوجھی
    اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  6. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    20,017
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بہت خوب اعجاز عبید صاحب بہت اچھا سلسلہ ہے یہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. جیہ

    جیہ لائبریرین

    مراسلے:
    15,023
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bitched
    ہاں مجھے اندازہ تھا کہ شعر غلط ہو گیا ہے مگر سوچا شعر تو غالب کا نہیں، مجھے کیا ضرورت ہے ٹھیک کرنے کی:grin:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    :grin:واہ ، یعنی غالب کے علاقے کوئی دم بھی نہیں مارسکتا اور آپ شعر کی ٹانگ توڑدیں اس بنیاد پر کہ ان کا کوئی والی وارث نہیں ، :battingeyelashes:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    3,291
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    عمدہ سلسلہ تھا ۔۔اسے چلنا چاہیے تھا۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر