مصطفیٰ زیدی نذرِ غالب مصطفی زیدی

علی فاروقی

محفلین
اس کشمکشِ ذہن کا حاصل نہیں کچھ اور
انکار کو ٹھکرائے نہ ، اقرار کو چاہے

مفرور طلب رات کو حاصل کرے بن باس
مغرور بدن گرمئ بازاز کو چاہے

سنبھلے نہ خمِ زیست سے بوجھ آب و ہواکا
آسائشِ دنیا درو دیوار کو چاہے

آنکھیں روشِ دوست پہ بچھتی چلی جایئں
اور دوست کہ طبعِ سرِ خود دار کو چاہے

قوم ایسی کہ چلتے ہوے اشعار سے مانوس
مضمون کے اس صورتِ دشوار کو چاہے

اک دل کہ بھرا آئے نہ سمجھے ہوے غم سے
اک شعر کہ پیرایہ ء اظہار کو چاہے
 

علی فاروقی

محفلین
شکریہ علی فاروقی صاحب اس پوسٹ کیلیے!

آپ سے پہلے بھی شاید استدعا کی تھی کہ اپنی پوسٹ کو شاعر کے نام کا ٹیگ لگا دیا کریں، اس ربط کو دیکھیے گا اس میں ٹیگ لگانے کا طریقہ بھی شامل ہے، نوازش!

شکریہ وارث بھائ، میں آئندہ اس بات کا خیال کھوں گا
 
Top