1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $418.00
    اعلان ختم کریں

فیض نثار میں تری گلیوں کے (فیض احمد فیض)

زونی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 10, 2007

  1. زونی

    زونی محفلین

    مراسلے:
    4,187
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused


    نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
    چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
    جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
    نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
    ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
    کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

    بہت ہے ظلم کہ دستِ بہانہ جو کے لیے
    جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
    بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی
    کسیے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
    مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
    ترے فراق میں یوں صبح شام کرتے ہیں

    بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
    کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
    چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
    کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی
    غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں
    گرفتِ سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں

    یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
    نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
    یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
    نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
    اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
    ترے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے

    گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
    یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
    گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
    یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
    جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
    علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 9
    • زبردست زبردست × 1
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,552
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت خوب زونی صاحبہ! آج بھی یہ نظم ایک اٹل سچ ہے -
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. ظہور احمد سولنگی

    ظہور احمد سولنگی محفلین

    مراسلے:
    1,388
  4. زونی

    زونی محفلین

    مراسلے:
    4,187
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    بہت شکریہ سخنور بھائی واقعی یہ نظم آج بھی حقیقت کی ترجمان ھے
     
  5. زونی

    زونی محفلین

    مراسلے:
    4,187
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused

    بہت شکریہ جناب
     
  6. جیا راؤ

    جیا راؤ محفلین

    مراسلے:
    1,888
    نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں

    نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
    چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
    جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
    نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے

    ہے اہلِ دل کے لئے اب یہ نظمِ بست و کشاد
    کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

    بہت ہےطلم کہ دستِ جو کے لئے
    جو چند اہلِ جنوں تیرے نام لیوا ہیں
    بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی، منصف بھی
    کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

    مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
    ترے فراق میں یوں صبح و شام کرتے ہیں

    بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
    کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
    چمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
    کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی

    غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں
    گرفت سایۃدیوار و در میں جیتے ہیں

    یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
    نہ ان کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
    یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
    نہ ان کی ہار نئی ہے، نہ اپنی جیت نئی

    اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
    ترے فراق میں ہم دل برا نہیں کرتے

    گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
    یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
    گر آج اوج میں ہے طالعِ رقیب تو کیا
    یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں

    جو تجھ سے عہدِ وفا استعار رکھتے ہیں
    علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں



    فیض احمد فیض
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  7. زونی

    زونی محفلین

    مراسلے:
    4,187
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    بہت خوب ، زبردست کلام ھے فیض صاحب کا اور حسبِ حال بھی، بہت شکریہ اس اچھی شئیرنگ کیلئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. جیا راؤ

    جیا راؤ محفلین

    مراسلے:
    1,888
    شکریہ زونی۔
    آپ سال پہلے شئیر کر چکی ہیں، ہمیں معلوم نہ تھا۔:grin:
     
  9. محسن حجازی

    محسن حجازی محفلین

    مراسلے:
    2,525
    موڈ:
    Breezy
    نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
    چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
    جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
    نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے

    ارے مطمئن رہیے چلی نہیں ہے ماشااللہ چل رہی ہے!

    ہے اہلِ دل کے لئے اب یہ نظمِ بست و کشاد
    کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد


    قبلہ آپ تو سو لیے چرخ تلے جانے کب تک۔۔۔ لیکن یہاں بہت ترقی ہوئی کہ سگ آزاد مرد حر کہلانے لگے۔۔۔۔ مقید سنگ وخشت سے بھی لرزاں مرد حر و سگ آزاد! پھر یوں ہوا کہ رسم ٹھہری کہ غسل دیا جائے زندہ مردوں کو۔۔۔ سبھی نہائے سبھی دھوئے۔۔۔

    بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
    کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
    چمک اٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
    کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی


    آپ کے دور میں ہوا کرتا ہوگا روزن زنداں بھی کہ ریت اب تاریک تہہ خانوں کی ہے۔ مانگ لہو سے بھرنے کی ریت۔۔۔
    چمکتے نہیں اب سلاسل زنداں کہ زنگ آلود مانند قلب و جاں۔۔۔
    لب بستہ اہل حق و صداقت برائے فروخت جنس ضمیر و ایماں۔۔۔

    یہ لرکھڑاتے جملے ہم نے ابھی گھڑے ہیں امید ہے آپ کے عشاق انہیں آپ کے دیوان میں تلاش نہیں کریں گے۔:)

    یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
    نہ ان کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی

    حضور اصلاح تو نہیں کہیں گے تصیح کر لیجئے کہ جہاں بھی کہیں بھی ظلم سے خلق الجھی تو ہمیشہ نہیں الجھی۔۔۔ چین و ایراں۔۔۔ وادی گل بداماں۔۔۔
    یہاں ہماری ذاتی رائے ہے کہ خلق ظلم سے کبھی الجھی ہی نہیں۔


    گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
    یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
    گر آج اوج میں ہے طالعِ رقیب تو کیا
    یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں

    دیکھئے۔۔۔ اوج میں کہاں اب تو سخت حصار میں ہیں۔۔۔ وگرنہ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ

    فراز صحنِ چمن میں بہار کا موسم
    نہ فیض دیکھ سکے تھے نہ ہم ہی دیکھیں گے

    جس لہجے میں ہم آپ سے مخاطب ہیں یہاں کئی ابروئیں کمان ہوئی جاتی ہیں قبل اس کے کہ کوئی تیر بھی آ نکلے، ہم نکلتے ہیں۔
    دو سال قبل آپ سے ملاقات ہوئی تھی آپ سگریٹ رکھتے نہ تھے ہم اٹھاتے نہ تھے اب دیکھئے کب ملتے ہیں :grin:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر