بہزاد لکھنوی ناز والے یہ ناز رہنے دے - بہزاد لکھنوی

کاشفی

محفلین
وقفِ مجاز
(بہزاد لکھنوی)
ناز والے یہ ناز رہنے دے
غم کی دنیا کو راز رہنے دے

مطربِ خوش گلو ترے صدقے
نغمہء دل گداز رہنے دے

وہ اُٹھیں پھر گھٹائیں، اے ساقی
میکدہ آج باز رہنے دے

تو حقیقت تلاش کر زاہد
مجھ کو وقفِ مجاز رہنے دے

ناز کا لطف بخشنے والے
مجھ کو محوِ نیاز رہنے دے

مجھ کو سمجھا نہ واعظِ ناداں
یہ نشیب و فراز رہنے دے

محو آئینہ بن کے وہ بہزاد
ذکر آئینہ ساز رہنے دے
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
تو حقیقت تلاش کر زاہد
مجھ کو وقفِ مجاز رہنے دے

مجھ کو سمجھا نہ واعظِ ناداں
یہ نشیب و فراز رہنے دے

زبردست۔۔۔۔ کیا ہی اعلیٰ انتخاب ہے۔۔۔ بے شک آپ کے ذوق لطیف کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔
 

کاشفی

محفلین
تو حقیقت تلاش کر زاہد
مجھ کو وقفِ مجاز رہنے دے

مجھ کو سمجھا نہ واعظِ ناداں
یہ نشیب و فراز رہنے دے

زبردست۔۔۔ ۔ کیا ہی اعلیٰ انتخاب ہے۔۔۔ بے شک آپ کے ذوق لطیف کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔
بہت شکریہ نیرنگِ خیال بھائی۔۔یہ آپ کا حسنِ ذوق اور حسن نظر ہے کہ آپ کو غزل پسند آئی۔۔
غزل کی پسندیدگی اور حوصلہ افزائی کے لیئے بہت شکریہ۔۔خوش و خرم رہیئے ہمیشہ۔۔
 
آخری تدوین:

کاشفی

محفلین
واہ۔ اور میں مفت میں ناز پان مصالحہ کا اشتہار سمجھ کر بھاگا بھاگا آیا
اچھا کلام ہے :(
میری مٹھی میں بند ہے کیا ۔۔۔؟
بتا دو ناں۔۔۔
ناز پان مصالحہ۔۔غلط۔۔۔
ڈنگ ڈونگ ببل گم۔۔۔۔۔ حلال کی ڈنگ ڈونگ۔۔۔:)
غزل کی پسندیدگی کے لیئے شکریہ۔۔خوش رہیئے ہمیشہ۔۔قیصرانی بھائی۔۔
 

mohsin ali razvi

محفلین
1497706_611911718868756_1391768969_n.jpg
 
Top