ناروے میں اسلام مخالف ریلی

محمد وارث

لائبریرین
آپ کی مرادیں پوری ہوئی۔ ناروے پورے ملک میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ سب لوگ موبائل سم جہاد میں شامل ہو کر ثواب کمائیں۔
ZNvQ5el.png
چلیں ہم اپنا مطالبہ بدل دیتے ہیں تا کہ اس آگ کی کچھ حدت آپ تک بھی پہنچے۔ ہم ناروے حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں وہ ناروے میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کو فی الفور واپس پاکستان بھیج دے۔ :)
 

سید عمران

محفلین
چلیں ہم اپنا مطالبہ بدل دیتے ہیں تا کہ اس آگ کی کچھ حدت آپ تک بھی پہنچے۔ ہم ناروے حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں وہ ناروے میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کو فی الفور واپس پاکستان بھیج دے۔ :)
ایسا ہوجائے تو کتنا مزہ آئے گا نا!!!
:daydreaming::daydreaming::daydreaming::daydreaming::daydreaming:
 

زیک

تکنیکی معاون
چلیں ہم اپنا مطالبہ بدل دیتے ہیں تا کہ اس آگ کی کچھ حدت آپ تک بھی پہنچے۔ ہم ناروے حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں وہ ناروے میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کو فی الفور واپس پاکستان بھیج دے۔ :)
تمام پاکستانیوں پر کیوں ظلم کرتے ہیں۔ بس جاسم اور حملہ آوروں کو واپس منگوا لیں
 

زیک

تکنیکی معاون
چرچ کے ممبر نارویجن بچے پیدائش کے وقت از خود بن جاتے ہیں جب تک بڑے ہو کر اپنا نام اس رجسٹر سے خارج نہ کریں۔ اس کی عملی طور پر کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اصل حقیقت یہی ہے جو نیچے بیان کی گئی ہے۔
For first time, majority in Norway don’t believe in God
2019-06-14

چرچ اور حکومت کا آپس میں اختلاط کم ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں ناروے میں
 

فرقان احمد

محفلین
آپ کی مرادیں پوری ہوئی۔ ناروے پورے ملک میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔ سب لوگ موبائل سم جہاد میں شامل ہو کر ثواب کمائیں۔
ZNvQ5el.png
یہ سم ہزار جگہوں پر استعمال میں آتی رہی ہو گی۔ کئی ویب سائیٹس پر، بنکوں میں، اکاؤنٹ کے حوالے سے ٹیلی نار نمبر سے توثیق یا تصدیق کا عمل ہوا ہو گا۔ سب بے کار ہو جائے گا۔ اس کا کا کوئی حل ہے تو بائیکاٹ کریں۔
 

فرقان احمد

محفلین
تنقید اور توہین میں فرق نہ سمجھنے والا معاشرہ دوسروں کے لیے کم از کم اس حوالے سے لائقِ تقلید کیسے ہو سکتا ہے۔ ناروے حکومت اس کا کوئی حل نکالے وگرنہ مذہبی منافرت میں مزید اضافہ ہو گا۔ برداشت کی بھی آخر کوئی حد ہوا کرتی ہے! انتہائی افسوس ناک رجحان فروغ پا رہا ہے ۔۔۔!
 
اس ناہنجار کی پشت فربہ اندام پر ایک سالخوردہ لات رسید کرنے کی خواہش ایمانی و مسلمانی کو مابدولت بدقت تمام دبا پارہے ہیں ۔اور ایک دوہتھڑ تکلیف رساں بدشکل گورے کی گردن گناہ آلود پر جمانے کےلیے مابدولت نوجوان رفیق پرجوش سید عمران بھائی پر اعتماداکمل رکھتے ہیں ۔:):)
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
ممتاز قادری، الم دین جیسے مشتعل حملہ آروں کو بھی اسی طرح مسلمانوں نے شاباشیاں دی تھی۔ سب قانون کی نظر میں مجرم ٹھہرے۔ یہ والا بھی ہیرو بن گیا ہے۔ لیکن نارویجن قانون کی نظر میں مجرم ہی ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
یہ سم ہزار جگہوں پر استعمال میں آتی رہی ہو گی۔ کئی ویب سائیٹس پر، بنکوں میں، اکاؤنٹ کے حوالے سے ٹیلی نار نمبر سے توثیق یا تصدیق کا عمل ہوا ہو گا۔ سب بے کار ہو جائے گا۔ اس کا کا کوئی حل ہے تو بائیکاٹ کریں۔
یاد رہے کہ پچھلے چند ماہ میں پاکستان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ناروے سے آئی ہے۔ جس میں ٹیلی نار سر فہرست ہے۔ اگر اس بائیکاٹ سے کمپنی کو نقصان ہوا تو وہ اپنے پیسے ملک سے نکال لے گی۔ جس سے کمپنی کو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ الٹا ملک کے قومی خزانہ اور ٹیلی کام سیکٹر کو نقصان ہوگا۔
Foreign Direct Investment Jumps 238.7% In 4 Months - UrduPoint
 

جاسم محمد

محفلین
تنقید اور توہین میں فرق نہ سمجھنے والا معاشرہ دوسروں کے لیے کم از کم اس حوالے سے لائقِ تقلید کیسے ہو سکتا ہے۔ ناروے حکومت اس کا کوئی حل نکالے وگرنہ مذہبی منافرت میں مزید اضافہ ہو گا۔ برداشت کی بھی آخر کوئی حد ہوا کرتی ہے! انتہائی افسوس ناک رجحان فروغ پا رہا ہے ۔۔۔!
آپ یورپی کلچر سے نابلد ہونے کی وجہ سے ایسا سمجھ رہے ہیں۔ مغربی یورپ میں کلیسا کی طاقت کا خاتمہ اپنے آپ نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے باقاعدہ تحریکیں چلی جنہوں نے مسیحیت کی تنقید و تضحیک کو معمول بنایا ہے۔ ۱۹۳۳ میں معروف نارویجن شاعر Arnulf Øverland نے “مسیحیت دسویں طاعون” کے نام سے بھرے مجمع میں تقریر کی۔ ان کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ بھی ہوا مگر عدالت نے بری کر دیا۔ یہ ملک کی تاریخ کا آخری مقدمہ تھا جس میں توہین مذہب کا قانون لاگو ہوا۔ اور ۲۰۱۵ میں اس قانون کو آئین سے یکسر ختم کر دیا گیا۔
Word of Man: Christianity, the Tenth Plague

اب چونکہ مسلم تارکین وطن ایک ایسے ملک میں آگئے ہیں جہاں مذہب کی توہین و تنقید بالکل معمول کی بات ہے ۔ ایسے میں یہاں کے مقامی لوگ مسلمانوں کے جذبات کا خیال کیوں کریں؟
آپ کا ناروے کی حکومت سے اس حوالہ سے اقدامات کا مطالبہ کرنا ملک کے آئین، قانون اور کلچر میں مداخلت سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ جیسے مغرب کی فرمائش پر پاکستانی توہین رسالت، اینٹی قادیانی قوانین تبدیل نہیں ہو سکتے۔ ویسے ہی پاکستانیوں یا مسلم دنیا کی فرمائش پر ناروے اپنے قوانین تبدیل کرنے کا مجاز نہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
ناروے میں یہ واقعہ ایک نیا رُخ اختیار کر گیا ہے۔ خبریں سامنے آئی ہیں کہ ان اسلام مخالف احتجاجوں سے قبل محکمہ پولیس نے خاص احکامات جاری کئے تھے کہ مسلمان انتہا پسندوں کی جوابی شدت پسند کاروائی سے بچنے کیلئے قرآن پاک کو جلانے سے روکا جائے۔ ماضی میں پولیس نے کئی شہروں میں احتجاج سے قبل قرآن پاک کو جلنے سے روکا ہے۔ جو کہ قانون آزادی احتجاج اور آزادی اظہار کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ ماہرین قانون نے محکمہ پولیس کے ان اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
نارویجن عوام بھی اس معاملہ کو لے کر اضطراب کا شکار ہے کہ جب مسیحی بائبل کی توہین یا اس کو جلانا اکوئی بڑی بات نہیں تو قرآن پاک کے لئے دہرا معیار کیوں پولیس کی طرف سے سیٹ کیا گیا ہے؟
Raser mot politiets hemmelige koran-ordre: – Egne særregler for islam
 
Top