میں گلستاں میں نشیمن ہوں پھر بنانے کو - مقسط ندیم

فرخ منظور

لائبریرین
میں گلستاں میں نشیمن ہوں پھر بنانے کو
خبر کرو کسی بجلی کے تازیانے کو

متاعِ درد ملی ہے ہزار جتنوں سے
بہت سنبھال کے رکھا ہے اس خزانے کو

پکارتی ہے تمہیں بام و در کی تاریکی!
کبھی تو روشنی بخشو غریب خانے کو

کہو اندھیروں سے چاہیں تو راستہ روکیں
میں جا رہا ہوں چراغِ وفا جلانے کو

سوائے سنگِ ملامت وہ کچھ بھی لا نہ سکے
گئے تھے چاند پہ جو بستیاں بسانے کو

خدا کرے کہ سلامت رہیں ندیم مرے
تمام عمر پڑی ہے فریب کھانے کو
 

فرحت کیانی

لائبریرین
میں گلستاں میں نشیمن ہوں پھر بنانے کو
خبر کرو کسی بجلی کے تازیانے کو


واہ۔۔۔سارا کلام ہی بہت عمدہ ہے مسقط ندیم کا۔۔۔۔ شیئر کرنے کے لیے بہت شکریہ سخنور
 

زونی

محفلین


کہو اندھیروں سے چاہیں تو راستہ روکیں
میں جا رہا ہوں چراغِ وفا جلانے کو

سوائے سنگِ ملامت وہ کچھ بھی لا نہ سکے
گئے تھے چاند پہ جو بستیاں بسانے کو





بہت خوب!


بہت شکریہ فرخ بھائی شئیر کرنے کیلئے:)
 

محمداحمد

لائبریرین
پکارتی ہے تمہیں بام و در کی تاریکی!
کبھی تو روشنی بخشو غریب خانے کو

کہو اندھیروں سے چاہیں تو راستہ روکیں
میں جا رہا ہوں چراغِ وفا جلانے کو

سوائے سنگِ ملامت وہ کچھ بھی لا نہ سکے
گئے تھے چاند پہ جو بستیاں بسانے کو

خدا کرے کہ سلامت رہیں ندیم مرے
تمام عمر پڑی ہے فریب کھانے کو


واہ سخنور صاحب،

بہت عمدہ انتخاب ہے، دل خوش ہو گیا پڑھ کر۔۔۔
 

جیا راؤ

محفلین
میں گلستاں میں نشیمن ہوں پھر بنانے کو
خبر کرو کسی بجلی کے تازیانے کو

کہو اندھیروں سے چاہیں تو راستہ روکیں
میں جا رہا ہوں چراغِ وفا جلانے کو

بہت خوبصورت غزل ہے !
شیئر کرنے کا شکریہ:)
 
Top