میکدے میں شام کو
آپ کیوں اداس ہیں
پاس آ کے بیٹھئیے
ایک جام لیجئیے
جھوم جھوم جائیے
میکدے میں شام کو

دکھ کسی کا کچھ بھی ہو
سو دوا سبو میں ہے
دیکھئیے صراحیاں
ساغروں کا بوسہ لیں
میکدے میں شام کو

دو گھڑی کی بات ہے
کھل کے پی رہے ہیں رند
حوصلہ بڑھائیے
دل لگا کے پی جئیے
میکدے میں شام کو

شیخ مست ہے مگر
مستیاں کئیے بغیر
لوگ اس کے نام کا
گھونٹ گھونٹ پی گئے
میکدے میں شام کو

کس قدر گرانیاں
شام کی ہیں رانیاں
آس پاس دیکھئیے
اور لطف لیجئیے
میکدے میں شام کو

رنجشوں سے دور دور
آگیا ہے اب سرور
تیرے لب کی خیر ہو
ساقیا! پلا ہمیں
میکدے میں شام کو

لی فقیر کی دعا
اس سیاہ چشم نے
جس کے ہاتھ جام تھے
جس کے سب غلام تھے
میکدے میں شام کو

اسامہ جمشید ۱۲ اپریل ۲۰۱۷
 
میکدے میں شام کو
ہم نے دیکھا جام کو
بھول گئے آم کو
چھوڑ دیا کام کو
امی نے ڈانٹا شام کو
ابا نے پیٹا شام کو

شاعری شاید اس سے ملتی جلتی چیز ہے :thinking:
 
معذ رت چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ اگر کچھ برا لگا ۔ ۔ ۔۔ استاد محترم خود ہمارے باذوق ہونے کی گواہی دینگے ۔ ۔ ۔ وہ مذکورہ ۔ ۔ ۔ تو ازراہ تفنن تھا جسے برطرف فرمائے گا ۔ ۔ ۔:-o
جزاکم اللہ خیرا ۔ ۔ اب دل صاف ہے ۔ ۔ اللہ عزت دے ۔ ۔ شاد رہیں ۔ ۔
 
اسامہ جمشید صاحب آپ نے بہت عمدہ غزل کہی ۔غصہ تھوک دیجئے اور خوش رہئے
نوازش حضور ۔ ۔ وہ نظم تھی ۔ ۔ شاید جلد بازی کا اور کم توجہی کا شکار ہوئی ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ یا نا مکمل یا دم کٹی معلوم ہوتی ہے ۔ ۔ یا اور بھی ڈھیروں نقص ہیں ۔ ۔ مجھے از خود پانچواں اور آخری بند کچھ اچھا معلوم ہوا ہے ۔ ۔
 
نوازش حضور ۔ ۔ وہ نظم تھی ۔ ۔ شاید جلد بازی کا اور کم توجہی کا شکار ہوئی ہے ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ یا نا مکمل یا دم کٹی معلوم ہوتی ہے ۔ ۔ یا اور بھی ڈھیروں نقص ہیں ۔ ۔ مجھے از خود پانچواں اور آخری بند کچھ اچھا معلوم ہوا ہے ۔ ۔
مجھے آپ کی ساری نظم ہی اچھی لگی
 
Top