میرے والد صاحب کی ایک نعت احباب کے لیے۔ضیائے خورشید سے انتخاب۔میں جاہ طلب ہوں نہ کوئی جاہ حشم ہے

میرے والد صاحب سید خورشید علی ضیاء عزیزی جے پوری کی ایک۔ نعت۔ احباب کے لیے۔ضیائے خورشید سے منتخب کی گئی۔

میں جاہ طلب ہوں نہ کوئی جاہ حشم ہے
اک بندہ ناچیز طلبگارِکرم ہے

تو احمدِ مختار نویدِ بن مریم
ہاں تو ہی دعائے دمِ تعمیر حرم ہے

موسیٰ کے لئے برق تھی ،میرے لئے قندیل
اب وہ ہی تجلّی سرِ دیوار حرم ہے

ہے قرّۃ العینین مدینے کا نظارہ
فردوس یہی ہے یہی گلزارِ اِرم ہے

تسبیح زباں پر ہے کبھی نام نبی کا
یہ دل کبھی یثرب ہے کبھی صحن حرم ہے
۔۔۔
سید خورشید علی ضیاءعزیزی جے پوری​
 
آخری تدوین:

loneliness4ever

محفلین
ماشاءاللہ ۔۔۔۔
مالک منظور و مقبول فرمائے
اور نذرانہ عقیدت لکھنے، یہاں پیش کرنے اور اسکو پڑھنے کی سعادت
حاصل کرنے والوں پر اپنا خصوصی کرم فرمائے ۔۔۔۔ آمین
 

کاشفی

محفلین
بہت خوبصورت!
آپ کے والد محترم کا کوئی دیوان ہے تو عنایت کیجئے۔
شکریہ۔ خوش رہیئے۔۔
 
کاشفی بھائی ۔طبع تو نہیں ہوا ۔ البتہ جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ یہاں اپنے الف عین بھائی کی نگرانی میں ای بک کی شکل میں سمجھ لیں کہ ترتیب پارہا ہے۔ میرے دھاگوں میں میری اور والد صاحب کی کافی غزلیات ہیں فی الحال موجود ہیں اور میں وقتاًفوقتاً کر رہا ہوں۔
 
Top