میرے والد صاحب مرحوم کی ایک غزل۔ضیائے خورشید ۔صراحی سر نگوں ، مینا تہی اور جام خالی ہے

میرے والد صاحب مرحوم (سید خورشید علی ضیا عزیزی جے پوری) کی ایک اور غزل۔


صراحی سر نگوں ، مینا تہی اور جام خالی ہے
مگر ہم تائبوں نے نیّتوں میں مے چھپالی ہے

کبھی اشکوں کی صورت میں کبھی آہوں کی صورت میں
نکلنے کی تمنّا نے یہی صورت نکالی ہے

یہی ڈر ہے کہیں گلچیں نہ کہہ دیں یہ جہاں والے
کبھی صحنِ چمن سے پھول کی پتّی اٹھا لی ہے

ابھر آئی وہاں محراب تیرے آستانے کی
جہاں فرطِ محبّت سے جبیں ہم نے جھکا لی ہے

کہیں ایسا نہ ہو بھولے سے جنّت میں چلا جاؤں
گلی فردوس کی تیری گلی کے ساتھ والی ہے

ضیاؔ اس خواب کی تعبیر بھی اک خواب ہے اپنا
پسینہ آ گیا جب اس کے دامن کی ہوا لی ہے
 
آخری تدوین:
کمال ہے عاطف بھائی ۔۔ غزل کا ایک ایک شعر ٹھاہ کر کے لگ رہا ہے ۔۔نوازش ہو گی اگر والد محترم کی کتاب کا نام اور ملنے کا پتہ عنایت ہو جائے ۔۔۔یا آن لائن کسی ایک جگہ پورا کلام مل جائے ۔
 

نایاب

لائبریرین
حق مغفرت فرمائے۔۔ آمین
کیا خوب غزل کہتے تھے محترم سید خورشید علی ضیاء عزیزی (جے پوری)صاحب
 

الف عین

لائبریرین
کیا عمدہ غزل ہے، جی خوش ہو گیا۔ والد مرحوم کا سارا مجموعہ محفل میں فراہم کر دو تو سب مل جل کر ٹائپ کر دیں۔
 
کیا عمدہ غزل ہے، جی خوش ہو گیا۔ والد مرحوم کا سارا مجموعہ محفل میں فراہم کر دو تو سب مل جل کر ٹائپ کر دیں۔
اعجاز بھائی۔ غزلیات تو میں نے تقریباً سب ہی ٹائپ کر لی ہیں جو زیادہ نہیں ۔ برادر محمد اسامہ سرسری کے مشورے کے مطابق یہاں ضیائے خورشید کے نام سے ٹیگ کردیتا ہوں۔کچھ منظومات نعتیں اور سلام وغیرہ جب پورے ہو جایئں تو ایک ای بک بنا دیجیے گا۔
 
آخری تدوین:

امان زرگر

محفلین
اعجاز بھائی۔ غزلیات تو میں نے تقریباً سب ہی ٹائپ کر لی ہیں جو زیادہ نہیں ۔ برادر محمد اسامہ سرسری کے مشورے کے مطابق یہاں ضیائے خورشید کے نام سے ٹیگ کردیتا ہوں۔کچھ منظومات نعتیں اور سلام وغیرہ جب پورے ہو جایئں تو ایک ای بک بنا دیجیے گا۔
اردو محفل اس ٹیگ کی منتظر ہے!
 
Top