میرے والد صاحب سید خورشید علی ضیاء عزیزی جے پوری کی ایک غزل احباب کے لیے۔ضیائے خورشید سے انتخاب۔یہ بہاروں میں چمن کی داستاں ہو جائیگا

میرے والد صاحب سید خورشید علی ضیاء عزیزی جے پوری کی ایک غزل احباب کے لیے۔ضیائے خورشید سے انتخاب۔

یہ بہاروں میں چمن کی داستاں ہو جائیگا
غنچہ معصوم کانٹوں میں جواں ہو جائیگا

خار میری حسرتوں کے آپ کے جلووں کے پھول
یہ بہم ہو جائیں تو ,اک گلستاں ہو جائیگا

آپ بھی روشن رکھیں اپنی محبت کے چراغ
یہ دیئے گل ہو گئے تو پھر دھواں ہوجائیگا

مثبت و منفی اشاروں سے ترا پہلاپیام
بے تکلمّ ہی نوشتِ داستاں ہوجائے گا

اجنبی سے اس لیے دامن بچاتا ہوں ضیاؔء
آشنا ہونے سے پہلے رازداں ہوجائےگا
-----------------------
سید خورشید علی ضیاء عزیزی جے پوری
 
خار میری حسرتوں کے آپ کے جلووں کے پھول
یہ بہم ہو جائیں تو ,اک گلستاں ہو جائیگا
کیا کہنے، حضور!
غنچہ معصوم کانٹوں میں جواں ہو جائیگا
غنچۂِ معصوم؟
اساتذہ والی کلاسیکیت ہے کلام میں، ماشاءاللہ۔ میں اسے اپنی کوتاہی سمجھوں کہ بزرگوار سے تعارف نہیں میرا؟
 
کیا کہنے، حضور!
غنچۂِ معصوم؟
اساتذہ والی کلاسیکیت ہے کلام میں، ماشاءاللہ۔ میں اسے اپنی کوتاہی سمجھوں کہ بزرگوار سے تعارف نہیں میرا؟
یقینا ۔ یہ آپ کی جوہر شناسی کا عکس ہے۔ راحیل بھائی۔ والد مرحوم سید خورشید علی ضیاء اپنے نام کے ساتھ عزیزی جے پوری کی نسبت کو گویا لازم جانتے تھے ۔ بسبب اس کے کہ جے پور شہر کے شاعر یوسف علی عزیز کے حلقے میں تلمذ کو ملحوظ و محضور کیا جائے البتہ یہ راز مجھ پر منکشف اور واضح نہیں کہ سبب اس کا تفاخر تھا یا تواضع یا دونوں ۔عزیز جے پوری صاحب کا تلمذ رضا دھلوی (متخلص بہ) آگاہ سے تھا۔ اور جناب آگاہ صاحب کا قدرے مفصل تذکرہ "تلامذہء غالب" میں مذکور ہے۔ بہت کلام پاکستان آتے وقت ضایع ہوا اور بہت سا کلام مرور ایام اور ہماری ناقدری کی نذر ہوا جس وقت جمع کرنے کا احساس ہوا جو محفوظ ہوا وہیی غنیمت ہوا۔
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
یقینا ۔ یہ آپ کی جوہر شناسی کا عکس ہے۔ راحیل بھائی۔ والد مرحوم سید خورشید علی ضیاء اپنے نام کے ساتھ عزیزی جے پوری کی نسبت کو گویا لازم جانتے تھے ۔ بسبب اس کے کہ جے پور شہر کے شاعر یوسف علی عزیز کے حلقے میں تلمذ کو ملحوظ و محضور کیا جائے البتہ یہ راز مجھ پر منکشف اور واضح نہیں کہ سبب اس کا تفاخر تھا یا تواضع یا دونوں ۔عزیز جے پوری صاحب کا تلمذ رضا دھلوی (متخلص بہ) آگاہ سے تھا۔ اور جناب آگاہ صاحب کا قدرے مفصل تذکرہ "تلامذہء غالب" میں مذکور ہے۔ بہت کلام پاکستان آتے وقت ضایع ہوا اور بہت سا کلام مرور ایام اور ہماری ناقدری کی نذر ہوا جس وقت جمع کرنے کا احساس ہوا جو محفوظ ہوا وہیی غنیمت ہوا۔
ضیائے خورشید کیا طبع شدہ کتاب نہیں ہے؟
 
ضیائے خورشید کیا طبع شدہ کتاب نہیں ہے؟
جی نہیں اعجاز بھائی ۔۔ ۔ میں نےارادہ کیا لیکن مقدار آڑے آتی ہے۔ یہ فقط والد صاحب کا تجویز کردہ نام تھا ۔ طباعت کی نوبت ہی نہیں آئی ۔کوئی بیس تیس غزلیں ہیں اور کچھ نعتیں ،منقبتیں اور سلام کوئی تمام کوئی ناتمام ۔آج ہی ایک غزل کے دو شعرلڑکھڑاتے حافظے میں گونجے اور بڑے بھائی صاحب کو پاکستان بھیجے ہیں کہ ان کا حافظہ کافی بہتر ہے شایدکچھ مکمل کر دیں کہ یہ غزل میرے پاس موجود مواد میں نہیں تھی ۔۔۔
 
آخری تدوین:
اُف۔۔۔ لاجواب
کیا کہنے کیا کہنے
سید عاطف علی بھائی بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اسے محفل میں شامل کیا۔
یہ آپ کے والد کی تازہ( حالیہ) غزل ہے؟
ادب دوست ۔۔۔ یہ تازہ غزل تو نہیں ہے البتہ پڑھنے میں تازہ لگتی ہے۔ کم از کم میری عمر کی تو ہوگی یا شاید زیادہ۔اپنے لڑکپن بلکہ بچپن سے والد صاحب(1923-2001) کی ایک ڈائری میں اس کا نقش مرتسم ہے۔
 
جی نہیں اعجاز بھائی ۔۔ ۔ میں نےارادہ کیا لیکن مقدار آڑے آتی ہے۔ یہ فقط والد صاحب کا تجویز کردہ نام تھا ۔ طباعت کی نوبت ہی نہیں آئی ۔کوئی بیس تیس غزلیں ہیں اور کچھ نعتیں ،منقبتیں اور سلام کوئی تمام کوئی ناتمام ۔آج ہی ایک غزل کے دو شعرلڑکھڑاتے حافظے میں گونجے اور بڑے بھائی صاحب کو پاکستان بھیجے ہیں کہ ان کا حافظہ کافی بہتر ہے شایدکچھ مکمل کر دیں کہ یہ غزل میرے پاس موجود مواد میں نہیں تھی ۔۔۔
جو امید تھی بر آئی ۔ اور دو اور اشعار اس غزل کے ملے۔

نہ پوچھو کاہنوں سے خواب کی تعبیر کے پہلو
تراشو پہلوئے تدبیر سے تقدیر کے پہلو

ادھوری داستاں کی اب یہی تکمیل کرتے ہیں
تری تصویر کے آگے مری تصویر کے پہلو

تری عصیاں طلب رحمت ، مرے رحمت طلب عصیاں
ترےغفران کے پہلو ، مری تقصیر کے پہلو

ضیاء کوئی جہاں میں ہمکنارِ شادمانی ہے
لیے بیٹھا ہے کوئی آہ ِبے تاثیر کے پہلو
 
میرے والد صاحب سید خورشید علی ضیاء عزیزی جے پوری کی ایک غزل احباب کے لیے۔ضیائے خورشید سے انتخاب۔

یہ بہاروں میں چمن کی داستاں ہو جائیگا
غنچہ معصوم کانٹوں میں جواں ہو جائیگا

خار میری حسرتوں کے آپ کے جلووں کے پھول
یہ بہم ہو جائیں تو ,اک گلستاں ہو جائیگا

آپ بھی روشن رکھیں اپنی محبت کے چراغ
یہ دیئے گل ہو گئے تو پھر دھواں ہوجائیگا

مثبت و منفی اشاروں سے ترا پہلاپیام
بے تکلمّ ہی نوشتِ داستاں ہوجائے گا

اجنبی سے اس لیے دامن بچاتا ہوں ضیاؔء
آشنا ہونے سے پہلے رازداں ہوجائےگا
-----------------------
سید خورشید علی ضیاء عزیزی جے پوری

جو امید تھی بر آئی ۔ اور دو اور اشعار اس غزل کے ملے۔

نہ پوچھو کاہنوں سے خواب کی تعبیر کے پہلو
تراشو پہلوئے تدبیر سے تقدیر کے پہلو

ادھوری داستاں کی اب یہی تکمیل کرتے ہیں
تری تصویر کے آگے مری تصویر کے پہلو

تری عصیاں طلب رحمت ، مرے رحمت طلب عصیاں
ترےغفران کے پہلو ، مری تقصیر کے پہلو

ضیاء کوئی جہاں میں ہمکنارِ شادمانی ہے
لیے بیٹھا ہے کوئی آہ ِبے تاثیر کے پہلو

ہر ہر شعر لاجواب ہے۔ :)
 
Top