میاں محمد بخش کی شاعری میں استعارات

السلام علیکم ۔۔
نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہی پایا
کیکر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا ۔۔۔

احباب مکرم ۔۔۔۔میاں صاحب رح کے اس شعر کے دوسرے مصرعے میں "کیکر" اور "انگور " استعارہ ہے یا علامت ؟؟
 
ویسے تو میری پنجابی میں کوئی استعداد نہیں لیکن اپنا اندازہ ہے کہ یہاں کیکر اور انگور لفظی طور پر علامتیں ہیں اور معنوی طور پر استعارے بھی کہ استعارہ بھی معنوی لحاظ سے مربوط ہی ہوتا ہے۔
نیچاں سے مراد غالباََِ وہی ہے جو ذیل کےشعر مین مولانا کی دوناں سے ہے،جس کی طرف کیکر کی نسبت ہے ۔
کار مرداں روشنی و گرمی است
کار دوناں حیلہ و بے شرمی است
[RIGHT]فلک شیر[/RIGHT]
بھائی​
[RIGHT]فرخ منظور[/RIGHT]
بھائی
یقیناََ بہتر بتا سکیں گے۔​
 

نایاب

لائبریرین
اور پہلے مصرعے میں "نیچ" کیا ہے
میری ناقص سوچ میں " نیچ " سے مراد وہ " کمتر " ہیں ۔
جو قران کی زبان میں ہدایت سے جان بوجھ کر دور رہتے ہیں ۔ اور اپنے اعمال سے انسان اور انسانیت کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔
برے اعمال کے حامل جنہیں " اسفل السافلین " کہا گیا ہے ۔

مصرعے میں "کیکر" اور "انگور " استعارہ ہے یا علامت ؟؟
یہ استعارے ہیں جو خود میں واضح علامت بھی رکھتے ہیں ۔ کیکر پر انگور کی بیل چڑھی ہو تو انگور کے گوشے زخمی ہونے سے نہیں بچ سکتے ۔
ایسے ہی برے لوگوں کی صحبت رکھنے والے کبھی خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتے ۔۔۔۔۔۔۔
یہ صرف میری ذاتی سوچ ہے جو کہ ناقص ہو سکتی ہے ۔۔۔
بہت دعائیں
 

اوشو

لائبریرین
اسی پیرائے میں میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
دنیا تے جو کم نہ آیا اوکھے سوکھے ویلے
اوس بے فیضے سنگی کولوں بہتر یار اکیلے
 

باباجی

محفلین
نیچ
یہاں استعمال ہوا ہے کم ظرف بد کردار ایسے لوگ جو قابل اعتبار نہیں ہوتے اپنوں کو ڈستے ہیں دھوکہ دیتے ہیں پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہیں
 

فلک شیر

محفلین
اس دھاگے میں سید عاطف بھائی اور یوسف سلطان صاب نے مجھے دو دفعہ ٹیگ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں نے یہ آج دیکھا ہے ۔
احباب نے بات بیان کر دی ہے کھول کر۔
 
Top