موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں - رضا سرسوی

سید محمد نقوی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 12, 2009

  1. سید محمد نقوی

    سید محمد نقوی محفلین

    مراسلے:
    692
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بسم اللہ الرحمن الرحیم​

    نہیں معلوم، ہو سکتا ہے کہ یہ نظم پہلے محفل پر پوسٹ ہو چکی ہو۔
    میں آج اسے یہاں اس لیے پوسٹ کررہا ہوں کہ پرسوں میرے ایک بہت عزیز دوست اور بھائی کی والدہ ہمیں داغ مفارقت دے گئیں، اس لیے سرچ کر کے یہ نظم نکالی سوچا کہ یہاں پیش کردوں، ہر ماں کی یاد میں۔ اگر تکرار ہے تو معافی چاہتا ہوں۔
    ہر ماں کی صحت اور طول عمر کی دعا کے ساتھ۔

    موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں
    تب کہیں جاکر رضا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں​

    موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں
    جب پریشانی میں ہوں بچے تڑپ جاتی ہے ماں​

    جاتے جاتے پھر گلے بچے سے ملنے کے لئے
    توڑ کر بند کفن باہوں کو پھیلاتی ہے ماں​

    روح کے رشتوں کی یہ گھرائیاں تو دیکھئے
    چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں​

    بھوکا سونے ہی نہیں دیتی یتیموں کو کبھی
    جانے کس کس سے کہاں سے مانگ کر لاتی ہے ماں​

    ہڈیوں کا رس پلاکر اپنے دل کے چین کو
    کتنی ہی راتوں کو خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں​

    جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول
    آنسووں کے ساز پر بچے کو بھلاتی ہے ماں​

    ماردیتی ہے طمانچہ گر کبھی جذبات میں
    چومتی ہے لب کبھی رخسار سہلاتی ہے ماں​

    کب ضرورت ہو مِری بچے کو اتنا سوچ کر
    جاگتی رہتی ہے ممتا اور سوجاتی ہے ماں​

    گھر سے جب پردیس کو جاتا ہے گودی کا پلا
    ہاتھ میں قرآں لئے آگن میں آجاتی ہے ماں​

    دیکے بچے کو ضمانت میں رضائے پاک کی
    سامنا جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں​

    لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم
    ڈال کر باہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں​

    ایسا لگتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں
    کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں​

    دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں
    ریت پہ مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں​

    مرتے دم بچہ نہ آئے گھر اگر پردیس سے
    اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں​

    حال دل جاکر سنا دیتا ہے معصومہ کو وہ
    جب کسی بچے کو اپنی قم میں یاد آتی ہے ماں​

    تھام کر روضے کی جالی جب تڑپتاہے کوئی
    ایسا لگتاہے کہ جیسے سر کو سھلاتی ہے ماں​

    گمرہی کی گرد جم جائے نہ میرے چاند پر
    بارش ایمان میں یوں ہرروز نھلاتی ہے ماں​

    اپنے پہلو میں لٹاکر روز طوطے کی طرح
    ایک بارہ پانچ چودہ ہم کو رٹواتی ہے ماں​

    عمر بھر غافل نہ ہونا ماتم شبیر سے
    رات دن اپنے عمل سے ہم کو سجمھاتی ہے ماں​

    دوڑ کر بچے لپٹ جاتے ہیں اس رومال سے
    لےکے مجلس سے تبرک گھر میں جب آتی ہے ماں​

    یاد آتا ہے شب عاشور کا کڑیل جواں
    جب کبھی الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھاتی ہے ماں​

    اللہ اللہ اتحاد صبر لیلا اور حسین
    باپ نے کھینچی سناں سینے کو سہلاتی ہے ماں​

    سامنے آنکھوں کے نکلے گر جواں بیٹے کا دم
    زندگی بھر سر کو دیواروں سےٹکراتی ہے ماں​

    سب سے پہلے جان دینا فاطمہ کے لال پر
    رات بھر عون ومحمد سے یہ فرماتی ہے ماں​

    یہ بتا سکتی ہے بس ہم کو رباب خستہ تن
    کس طرح بن دودھ کے بچے کو بھلاتی ہے ماں​

    شمر کے خنجر سے یا سوکھے گلے سے پوچھئے
    ماں ادھر منھ سے نکلتاہے ادہر آتی ہے ماں​

    اپنے غم کو بھول کر روتے ہیں جو شبیر کو
    ان کے اشکوں کے لئے جنت سے آجاتی ہے ماں​

    باپ سے بچے بچھڑجائیں اگر پردیس میں
    کربلا سے ڈھونڈنے کوفے میں خود آتی ہے ماں​

    جب تلک یہ ہاتھ ہیں ہمشیر بے پردہ نہ ہو
    ایک بہادر باوفا بیٹے سے فرماتی ہے ماں​

    جب رسن بستہ گزرتی ہے کسی بازار سے
    ایک آوارہ وطن بیٹی کو یاد آتی ہے ماں​

    شکریہ ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا
    مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں​

    جناب رضا سرسوی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 10
    • زبردست زبردست × 3
  2. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    بہت ہی اداس کردیا آپ نے تو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. زھرا علوی

    زھرا علوی محفلین

    مراسلے:
    1,698
    موڈ:
    Asleep
    اس نظم نے اشک بار کر دیا۔۔۔
    اللہ تعالیٰ آپکے دوست کی والدہ کو جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔۔ گو یہ خلا کبھی پر نہیں ہو سکتا مگر اللہ انہیں صبر عطا کرے۔۔۔
    سج ہے ماں کی نعمت کیا ہوتی ہے صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جن سے یہ نعمت چھن جاتی ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,900
    لاجواب کلام ہے رضا سرسوی صاحب کا جناب انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں اور میرے پسندیدہ شاعروں میں سے ہیں ۔ بہت ہی پر شفقت بے مثل شخصیت کے حامل ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. اشتیاق علی

    اشتیاق علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,994
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بھئی کیا کہنے ، غزل پڑھ کر مزہ آ گیا ۔ شکریہ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. سید محمد نقوی

    سید محمد نقوی محفلین

    مراسلے:
    692
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    سب کا مشکور ہوں۔
    کچھ عرصہ پہلے رضا صاحب ہمارے گھر تشریف لائے تھے، اور یہ نظم ہماری درخواست پر پڑھی تھی، تھی تو عید کی محفل لیکن حاضرین سب اشکبار ہوگئے تھے۔
    اللہ کسی کو ماں کا غم نہ دے، آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    عمدہ جناب سید محمد نقوی صاحب۔۔۔بہت ہی عمدہ۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. سید زبیر

    سید زبیر محفلین

    مراسلے:
    4,362
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    شکریہ ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا
    مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں

    لا جواب نذرانہ
     
  9. محمد فہد

    محمد فہد محفلین

    مراسلے:
    1,488
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Inspired
    ماشاء اللہ بہت خوبصورت اور لاجواب
     

اس صفحے کی تشہیر