مجید امجد منٹو - از مجید امجد

فرخ منظور

لائبریرین
منٹو

میں نے اس کو دیکھا ہے
اُجلی اُجلی سڑکوں پر اِک گرد بھری حیرانی میں
پھیلتی پھیلتی بھیڑ کے اندھے اوندھے
کٹوروں کی طغیانی میں
جب وہ خالی بوتل پھینک کر کہتا ہے :
" دنیا ! تیرا حُسن یہی بدصورتی ہے ۔ "
دنیا اس کو گھورتی ہے
شورِ سلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے
انگاروں بھری آنکھوں میں یہ تند سوال
کون ہے یہ جس نے اپنی بہکی بہکی سانسوں
کا جال
بامِ زماں پر پھینکا ہے
کون ہے جو بل کھاتے ضمیروں کے پُر پیچ
دھندلکوں میں
روحوں کے عفریت کدوں کے زہراندوز
محلکوں میں
لے آیا ہے یوں بن پوچھے اپنے آپ
عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں
کی چاپ
کون ہے یہ گستاخ
تاخ تڑاخ ۔۔۔۔۔۔۔!

از مجید امجد
 

فرخ منظور

لائبریرین
شکریہ وارث صاحب! مجھے بھی یہ نظم نہیں‌پسند لیکن منٹو بہت پسند ہے - اسی لیے یہ پوسٹ کی - لیکن مجید امجد کچھ خاص لوگوں کو بہت پسند آتا ہے اور ان کے لیے مجید امجد جیسا کوئی نہیں اور یقینا" مجید امجد میں کچھ ہے ضرور جو کہ مجھ اور آپ جیسے لوگوں سے میل نہیں‌کھاتا لیکن انہیں وہ بہت گرویدہ کرجاتا ہے -
 

محمد وارث

لائبریرین
گرویدہ تو حضور ہم اس شخص کے ہیں جو اپنے آپ کو شاعر کہلواتا ہے، بلکہ میں تو ان کے پاؤں دھو کر بھی پینے کو ہر وقت تیار رہتا ہوں۔

میرے آفس میں ایک نوجوان بڑھئی کچھ عرصہ قبل کام کر رہا تھا، بات چیت سے کُھلا کہ قبلہ شاعر بھی ہیں اور اپنا نیم پنجابی، نیم اردو، بے وزن "کلام" کسی طور گلوکار اکرم راہی تک پہنچانے کی فکر میں ہمہ وقت سرگرداں رہتے تھے۔ مجھے اپنا مرید بنا کر اور منوں داد وصول کر کے گئے۔

آپ کہہ لیجیئے اسے منافقت، منفاقت ہی سہی، لیکن کسی دوسرے کا دل توڑنے سے بہتر ہے کہ اپنے اوپر 'منافق' کا لیبل لگوا لیا جائے۔ :)
 
نظم -منٹو ۔مجید امجد

منٹو
میں نے اس کو دیکھا ہے
اجلی اجلی سڑکوں پر
اک گرد بھری حیرانی میں
پھیلتی پھیلتی بھیڑ کے اندھے اوندھے
کٹوروں کی طغیانی میں
جب وہ خالی بوتل پھینک کر کہتا ہے:
" دنیا تیرا حسن یہی بدصورتی ہے-"
دنیا اس کو گھورتی ہے
شورِ سلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے
انگاروں بھری آنکھوں میں یہ تند سوال
کون ہے یہ جس نے اپنی بہکی بہکی سانسوں
کا جال
بامِ زماں پر پھینکا ہے
کون ہے جو بل کھاتے ضمیروں کے پرپیچ
دھندلکوں میں
روحوں کے عفریت کدوں کے زہر اندوز
محلکوں میں
لے آیا ہے یوں بن پوچھے اپنا آپ
عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں
کی چاپ
کون ہے یہ گستاخ
تاخ تڑاخ!---------

مجید امجد
 

نوید صادق

محفلین
شکریہ وارث صاحب! مجھے بھی یہ نظم نہیں‌پسند لیکن منٹو بہت پسند ہے - اسی لیے یہ پوسٹ کی - لیکن مجید امجد کچھ خاص لوگوں کو بہت پسند آتا ہے اور ان کے لیے مجید امجد جیسا کوئی نہیں اور یقینا" مجید امجد میں کچھ ہے ضرور جو کہ مجھ اور آپ جیسے لوگوں سے میل نہیں‌کھاتا لیکن انہیں وہ بہت گرویدہ کرجاتا ہے -

تُسی اک واری فیر سانوں چھیڑ رے او! تاڈا ارادہ کی اے، سخنور جی!!!
 

کاشفی

محفلین
منٹو

میں نے اس کو دیکھا ہے
اُجلی اُجلی سڑکوں پر اِک گرد بھری حیرانی میں
پھیلتی پھیلتی بھیڑ کے اندھے اوندھے
کٹوروں کی طغیانی میں
جب وہ خالی بوتل پھینک کر کہتا ہے :
" دنیا ! تیرا حُسن یہی بدصورتی ہے ۔ "
دنیا اس کو گھورتی ہے
شورِ سلاسل بن کر گونجنے لگتا ہے
انگاروں بھری آنکھوں میں یہ تند سوال
کون ہے یہ جس نے اپنی بہکی بہکی سانسوں
کا جال
بامِ زماں پر پھینکا ہے
کون ہے جو بل کھاتے ضمیروں کے پُر پیچ
دھندلکوں میں
روحوں کے عفریت کدوں کے زہراندوز
محلکوں میں
لے آیا ہے یوں بن پوچھے اپنے آپ
عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں
کی چاپ
کون ہے یہ گستاخ
تاخ تڑاخ ۔۔۔۔۔۔۔!

از مجید امجد


بہت خوب۔۔شکریہ بہت بہت شیئرنگ کے لیئے۔۔
 

مغزل

محفلین
سخنور صاحب ، بہت خوب ، بہت شکریہ کیا عمدہ انتخاب ہے ۔
مجھے مجید امجد کی نظم ’’ تاج محل ‘‘ درکار ہے ، مگر ذپ کیجے گا،
یہاں نہیں‌۔ امید ہے کہ میری امید بر آئے گی
 

فرخ منظور

لائبریرین
سخنور صاحب ، بہت خوب ، بہت شکریہ کیا عمدہ انتخاب ہے ۔
مجھے مجید امجد کی نظم ’’ تاج محل ‘‘ درکار ہے ، مگر ذپ کیجے گا،
یہاں نہیں‌۔ امید ہے کہ میری امید بر آئے گی

میرے پاس کلیاتِ مجید امجد کبھی تھی اب نہیں ہے اور تاج محل نظم ساحر لدھیانوی کی تو پڑھی ہے لیکن مجید امجد کی کبھی نہیں پڑھی۔
 
Top