کاشفی

محفلین
غزل
(حضرت نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالب رحمتہ اللہ علیہ)

منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی
اپنا بیان حسنِ طبیعت نہیں مجھے

سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری
کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے

آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلحِ کل
ہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے

کیا کم ہے یہ شرف کہ، ظفرؔ کا غلام ہوں؟
مانا کہ، جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے

استادِ شہ سے، ہو مجھے پر خاش کا خیال
یہ تاب، یہ مجال، یہ طاقت، نہیں مجھے

جامِ جہاں نما، ہے شہنشاہ کا ضمیر
سوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے

میں کون، اور ریختہ! ہاں، اس سے مدعا
جز انبساطِ خاطرِ حضرت نہیں مجھے

سہرا لکھا گیا، ز رہِ امتثالِ امر
دیکھا کہ، چارہ غیرِ اطاعت نہیں مجھے

مقطع میں آ پڑی ہے، سخن گسترانہ بات
مقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے

روئے سخن کسی کی طرف ہو، تو رو سیاہ
سودا نہیں، جنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے

قسمت بری سہی، پہ طبیعت بری نہیں
ہے شکر کی جگہ کہ، شکایت نہیں مجھے

صادق ہوں اپنے قول میں، غالبؔ! خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ، جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
 
غالب کا کلام تو یونیکوڈ شکل میں دسیتاب ہے اور جس پر احبابِ محفل ، لائیبریری اراکین اور دوستوں نے بہت محنت کی ہے، محترم اساتذہ کرام پہلے ہی ان کاموں‌ میں اپنا وقت دے رہے ہیں، اس لئے پہیے کو نئے سرے سے ایجاد کے بجائے بنے ہوئے سے ہی کام لیجئے، اس طرح وقت بھی بچے گا اور اچھا کلام بھی پڑھنے کو ملتا رہے گا، غالب کو کون پڑھنا نہیں چاہتا، جب پڑھو نیا مزا دے جاتا ہے، آپ کا بھی شکریہ کہ یادیں تازہ کردیں، بقول م م مغل "رسید حاضر ہے" ۔۔۔۔۔۔
 
منظُور ہے گُزارشِ احوالِ واقعی
اپنا بیانِ حُسنِ طبیعت نہیں مجھے
سَو پُشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری
کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے
آزادہ رَو ہوں اور مِرا مسلک ہے صلحِ کُل
ہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے
کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوں
مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے
اُستادِ شہ سے ہو مجھے پَرخاش کا خیال؟
یہ تاب ، یہ مجال ، یہ طاقت نہیں مجھے
جامِ جہاں نُما ہے شہنشاہ کا ضمیر
سَوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے
میں کون ، اور ریختہ ، ہاں اِس سے مدعا
جُز انبساطِ خاطرِ حضرت نہیں مجھے
سِہرا لکھا گیا ز رہِ امتثالِ اَمر
دیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے
مقطع میں آ پڑی ہے سُخن گُسترانہ بات
مقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے
رُوئے سُخن کسی کی طرف ہو تو رُوسیاہ
سودا نہیں ، جُنوں نہیں ، وحشت نہیں مجھے
قسمت بُری سہی پَہ طبیعت بُری نہیں
ہے شُکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے
صادق ہوں اپنے قول میں غالبؔ ، خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جُھوٹ کی عادت نہیں مجھے
 

الف عین

لائبریرین
اور کاشفی، کم از کم ٹائپ کرو تو کاما (،)کی جگہ اصل کاما ہی ٹائپ کرو، بایاں تخاطبی نشان (‘)نہیں، اس کو ہر جگہ کنورٹ کرنا پڑتا ہے.
 
خوش ہو اَے بخت کہ ہے آج تِرے سر سہرا

[1] خوش ہو اَے بخت کہ ہے آج تِرے سر سہرا
باندھ شہزادہ [2] جواں بخت کے سر پر سہرا

کیا ہی اِس چاند سے مُکھڑے پہ بھلا لگتا ہے!
ہے تِرے حُسنِ دل افروز کا زیور سہرا

سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرفِ کُلاہ
مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے تِرا لمبر سہرا

ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتی
ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا

سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتی
تب بنا ہو گا اِس انداز کا گز بھر سِہرا

رُخ پہ دُولھا کے جو گرمی سے پسینا ٹپکا
ہے رگِ ابرِ گُہر بار سَراسَر سِہرا

یہ بھی اِک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائے
رہ گیا آن کے دامن کے برابر سِہرا

جی میں اِترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اِک چیز
چاہیے پُھولوں کا بھی ایک مقرّر [3] سہرا

جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارے
گوندھے پُھولوں کا بھلا پھر کوئی کیونکر سِہرا

رُخ روشن کی دَمک، گوہرِ غلتاں [4] کی چمک
کیوں نہ دکھلائے فرُوغِ مہ و اختر سہرا

تار ریشم کا نہیں، ہے یہ رَگِ ابرِ بہار
لائے گا تابِ گرانباریِ گوہر سِہرا!

ہم سُخن فہم ہیں، غالبؔ کے طرفدار نہیں
دیکھیں، اس سہرے سے کہہ دے کوئی بڑھ کر سہرا! [5]
1. غالب نے یہ سہرا اپنے دیوان میں شامل نہیں کیا تھا۔ (حامد علی خان)
2. نسخۂ مہر میں " شہزادے" (ج۔م۔)
3. نسخۂ حسرت میں "مکرر" چھپا ہے لیکن کسی اور نسخے میں اس کی سند نہیں ملی۔ (حامد علی خان)
4. اس کی ایک املا "غلطاں" بھی ہے (ج۔م۔)
5. نسخۂ مہر میں یہ مصرع اس طرح درج ہے:
دیکھیں، کہہ دے کوئی اس سہرے سے بڑھ کر سہرا!
(ج۔م)
مزید: محمد حسین آزاد کی آبِ حیات میں "بڑھ کر" کی جگہ بہتر" چھپا ہے مگر مروجہ نسخوں میں اختلاف ہے۔ معلوم نہیں کہ غالب نے کیا کہا تھا۔ (حامد علی خان)
 
ہم نشیں تارے ہیں، اور چاند شہاب الدیں خاں

ہم نشیں تارے ہیں، اور چاند شہاب الدیں خاں
بزمِ شادی ہے فلک، کاہکشاں ہے سہرا

ان کو لڑیاں نہ کہو، بحر کی موجیں سمجھو
ہے تو کشتی میں، ولے بحرِ رواں ہے سہرا​
 
چرخ تک دھوم ہے، کس دھوم سے آیا سہرا

چرخ تک دھوم ہے، کس دھوم سے آیا سہرا
چاند کا دائرہ لے، زہرہ نے گایا سہرا

رشک سے لڑتی ہیں آپس میں اُلجھ کر لڑیاں
باندھنے کے لیے جب سر پہ اُٹھایا سہرا​
 
واہ بہترین تابش بھائی ۔ استاد ذوق والا سہرا بھی ساتھ ہی شامل ہو تو اچھا رہے۔
جن کو دعوی ہو سخن کا یہ دکھادو ان کو
دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا
اے جواں بخت! مبارک تجھے سر پر سہرا
آج ہے یمن و سعادت کا ترے سر سہرا

آج وہ دن ہے کہ لائے دُر انجم سے فلک
کشتیِ زر میں مہِ نو کی، لگا کر سہرا

تابشِ حسن سے مانند شعاع ِ خورشید
رخِ پُرنور پہ ہے تیرے منور سہرا

وہ کہے صلّ علیٰ یہ کہے سبحان اللہ
دیکھے مکھڑے پہ جو تیرے مہ و اختر سہرا

تا بنے اور بنی میں رہے اخلاص بہم
گوندھیے سورۂ اخلاص کو پڑھ کر سہرا

گونج ہے گلشنِ آفاق میں اس سہرے کی
گائیں مرغانِ نوا سنج نہ کیوں کر سہرا

روئے فرخ پہ جو ہیں تیرے برستے انوار
تارِ بارش ہے بنا ایک سراسر سہرا

ایک کو ایک پہ تزئیں ہے دمِ آرائش
سر پہ دستار ہے دستار کے اوپر سہرا

اک گُہر بھی نہیں صد کان گہر میں چھوڑا
تیرا بنوایا ہے لے لے کے جو گوہر سہرا

پھرتی خوشبو سے ہے اترائی ہوئی بادِ بہار
اللّہ اللّہ رے پھولوں کا معطر سہرا

سر پہ طرہ ہے مزین تو گلے میں بدھی
کنگنا ہاتھ میں زیبا ہے تو سر پر سہرا

رونمائی میں تجھے دے مہ و خورشید فلک
کھول دے منہ کو جو تُو منہ سے اٹھا کر سہرا

کثرتِ تارِ نظر سے ہیں تماشائیوں کے
دمِ نظارہ ترے روئے نکو پر سہرا

دُرِ خوش آب مضامین سے بنا کر لایا
واسطے تیرے ترا ذوقؔ ثنا گر سہرا

جس کو دعویٰ ہو سخن کا یہ سنا دے اُس کو
دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخن ور سہرا
٭٭٭
استاد ابراہیم ذوقؔ​
 
Top