مناقب مولا علی علیہ السلام پر ایک طائرانہ نظر

عمرمختارعاجز

لائبریرین
1۔سب سے آپ نے اسلام قبول کیا۔
2۔سب سے پہلے آپ نے نماز پڑھی۔
3۔سیدہ کائنات سے شادی کا شرف پانے والے۔
4۔آپ اھلبیت میں سے ہیں۔
5۔فرمان مصطفی جس کا میں مولا اس کا علی مولا۔
6۔فرمان مصطفی میرے بعد علی ہر مومن کا ولی ہے۔
7۔فرمان ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم علی میرے اورتمام مومنین کے مولا ہیں۔
8۔فرمان مصطفی میں علی سے ہوں علی مجھ سے ہے۔
9۔مولا علی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لیے ایسے ہیں جیسے ھارون علیہ السلام موسی علیہ السلام کے لیے۔
10۔لوگوں میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سب سے زیادہ محبوب۔
11۔حب علی حب مصطفی ہے اور بغض علی بغض مصطفی ہے۔
12۔حب علی علامت ایمان ہے اور بغض علی علامت نفاق ہے۔
13۔ابو تراب اور سید العرب کے مصطفوی القاب۔
14۔آپ کا فاتح خیبر اور علمبردار مصطفی ہونا۔
15۔مسجد نبوی میں باب علی کے سوا تمام دروازوں کا بند کروا دینا۔
16۔فرمان مصطفی میں حکمت کا گھر ہوں علی اس کا دروازہ۔
17۔فرمان مصطفی میں علم کا شہر ہوں علی اس کا دروازہ
18۔صحابہ کرام میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے۔
19-فرمان نبوی علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔
20-سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو غسل کے لیے آپ کا انتخاب۔
21-فرمان نبوی علی امت میں سب سے زیادہ بردبار ہیں۔
بحوالہ کنزالمطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب مصنف ڈاکٹر طاہرالقادری
 

نایاب

لائبریرین
سبحان اللہ
علی حیدر صفدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہی خوب شراکت ہے محترم عاجز بھائی
بہت شکریہ بہت دعائیں
محترم بیدم وارثی نے کیا خوب کہا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


کعبہ دل قبلہ جان طاق ابروئے علی
ہو بہو قرآن ناطق مصحف روئے علی

خاک کے ذروں میں عطربوترابی کی مہک
باغ کے ہر پھول سے آتی ہے خوش بوئے علی

اے صبا کیا یاد فرمایا ہے مولا نے مجھے
آج میرا دل کھنچا جاتا ہے کیوں سوئے علی

دامن فردوس ہے ہر گوشہ شہر نجف
ہے مقیم خلد گویا ساکن کوئے علی

کیوں نہ ہوں کونین کی آزادیاں اس پر نثار
ہے دل بیدم اسیر دام گیسوئے علی

بیدم وارثی
 



15۔مسجد نبوی میں باب علی کے سوا تمام دروازوں کا بند کروا دینا۔
16۔فرمان مصطفی میں حکمت کا گھر ہوں علی اس کا دروازہ۔
17۔فرمان مصطفی میں علم کا شہر ہوں علی اس کا دروازہ

19-فرمان نبوی علی کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے۔

21-فرمان نبوی علی امت میں سب سے زیادہ بردبار ہیں۔
بحوالہ کنزالمطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب مصنف ڈاکٹر طاہرالقادری
برائے تصحیح :

15۔ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کے سوا تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ ( صحيح البخاري » كتاب فضائل الصحابة » باب قول النبي صلى الله عليه وسلم سدوا الأبواب إلا باب أبي بكر )۔
مندرجہ بالا (یعنی عمر مختار صاحب کی ذکر کردہ) روایت بھی کتب احادیث (مثلا سنن الترمذی) میں آئی ہے۔ بعض نے صحیح اور بعض نے غیر صحیح قرار دیا ہے۔ محدثین نے دونوں حدیثوں میں تطبیق بھی کی ہے ۔

16۔ یہ روایت غیر صحیح ہے ۔ اکثر کے نزدیک غیر ثابت ہے۔ بعض محدثین نے اسے موضوع (من گھڑت ) کہا ہے۔ اس کو فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علی سیدنا کہنا درست نہ ہوگا

17۔ نفس کلام۔ امام سیوطی و ابن جوزی نے اس موضوعات (من گھڑت روایات ) میں شمار کیا ہے۔

19۔ یہ بات اللہ کے محبوب صلی اللہ علی سیدنا پر بہتان ہے۔ اس روایت کی صحت کا کوئی ثبوت نہیں اور یہ من گھڑت ہے۔ اسی سے ملتی جلتی ایک اور روایت بھی مشہور ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر عبادت ہے ، یہ بھی موضوع ہے اور اس کا کوئی صحیح ثبوت نہیں۔
21۔ یہ مجھے ان الفاظ کے ساتھ نہیں مل سکی۔ (حتی کہ ذکر کردہ کتاب میں بھی)
یہ تصحیح صرف اس لیے عمل میں لائی گئی ہے کہ ان روایات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک سے منسوب کر کے پھیلایا جاتا ہے جبکہ آنحضرت علیہ السلام کا ارشاد پاک ہے (مفہوم) کہ جو مجھ پر قصدا جھوٹ باندھے۔ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے ۔

میرے سردار و جد اعلیٰ کے اتنے سارے صحیح فضائل ہیں، ہمیں ان کو پھیلانا چاہیے ، نہ کہ غیر صحیح اور غیر ثابت شدہ۔
نوٹ :
(میں جن روایات پر تحقیق کرسکا ، صرف انہی کے متعلق بیان کررہا ہوں۔ باقی تمام کی تحقیق میں نے نہیں کی۔ البتہ ان میں میرے علم کی حد تک کافی فضائل صحیح ہیں )۔

صلی اللہ علی سیدنا وعلی آلہ وصحبہ وبارکوسلم۔
 
برائے تصحیح :

15۔ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دروازے کے سوا تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ ( صحيح البخاري » كتاب فضائل الصحابة » باب قول النبي صلى الله عليه وسلم سدوا الأبواب إلا باب أبي بكر )۔
مندرجہ بالا (یعنی عمر مختار صاحب کی ذکر کردہ) روایت بھی کتب احادیث (مثلا سنن الترمذی) میں آئی ہے۔ بعض نے صحیح اور بعض نے غیر صحیح قرار دیا ہے۔ محدثین نے دونوں حدیثوں میں تطبیق بھی کی ہے ۔

16۔ یہ روایت غیر صحیح ہے ۔ اکثر کے نزدیک غیر ثابت ہے۔ بعض محدثین نے اسے موضوع (من گھڑت ) کہا ہے۔ اس کو فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علی سیدنا کہنا درست نہ ہوگا

17۔ نفس کلام۔ امام سیوطی و ابن جوزی نے اس موضوعات (من گھڑت روایات ) میں شمار کیا ہے۔

19۔ یہ بات اللہ کے محبوب صلی اللہ علی سیدنا پر بہتان ہے۔ اس روایت کی صحت کا کوئی ثبوت نہیں اور یہ من گھڑت ہے۔ اسی سے ملتی جلتی ایک اور روایت بھی مشہور ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر عبادت ہے ، یہ بھی موضوع ہے اور اس کا کوئی صحیح ثبوت نہیں۔
21۔ یہ مجھے ان الفاظ کے ساتھ نہیں مل سکی۔ (حتی کہ ذکر کردہ کتاب میں بھی)
یہ تصحیح صرف اس لیے عمل میں لائی گئی ہے کہ ان روایات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک سے منسوب کر کے پھیلایا جاتا ہے جبکہ آنحضرت علیہ السلام کا ارشاد پاک ہے (مفہوم) کہ جو مجھ پر قصدا جھوٹ باندھے۔ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے ۔

میرے سردار و جد اعلیٰ کے اتنے سارے صحیح فضائل ہیں، ہمیں ان کو پھیلانا چاہیے ، نہ کہ غیر صحیح اور غیر ثابت شدہ۔
نوٹ :
(میں جن روایات پر تحقیق کرسکا ، صرف انہی کے متعلق بیان کررہا ہوں۔ باقی تمام کی تحقیق میں نے نہیں کی۔ البتہ ان میں میرے علم کی حد تک کافی فضائل صحیح ہیں )۔

صلی اللہ علی سیدنا وعلی آلہ وصحبہ وبارکوسلم۔
بہت ہی پیارے انداز میں آپ نے میری معلومات میں اضافہ فرمایا اللہ آپ کو اس کا اجر دے۔ آمین
 

الف نظامی

لائبریرین
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَنَا مَدِيْنَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِيْنَةَ فَلْيَأْتِ الْبَابَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ
وَ قَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ.


’’ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ لہٰذا جو اس شہر میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس دروازے سے آئے۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور کہا یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔‘‘

الحديث رقم 151 : أخرجہ الحاکم فی المستدرک، 3 / 137، الحديث رقم : 4637، و الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 1 /
 
مدیر کی آخری تدوین:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : أَنَا مَدِيْنَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِيْنَةَ فَلْيَأْتِ الْبَابَ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ
وَ قَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ.



الحديث رقم 151 : أخرجہ الحاکم فی المستدرک، 3 / 137، الحديث رقم : 4637، و الديلمي في الفردوس بمأثور الخطاب، 1 /
امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے لیکن ائمہ حدیث نے اس کی تردید کی ہے۔ امام بخاری نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح طریقہ سے نہیں ہے ، امام ترمذی نے "منکر" ، امام دارقطنی مضطرب غیر ثابت ، امام یحییٰ ابن معین نے " جھوٹ ، اس کی کوئی اصل نہیں ، امام ابن جوزی نے موضوعات (من گھڑت) میں شمار کیا ہے اور امام ذہبی نے ان کی تائید کی ہے۔ امام ابو حاتم کہتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں۔ امام ابن دقیق العید نے غیر ثابت قرار دیا ہے۔
عصر حاضر کے محدث امام ناصر الدین البانی نے موضوع (من گھڑت ) کہا ہے ۔ رحمھم اللہ تعالیٰ۔
محدثین کی اکثریت نے اس کی صحت سے انکار کیا ہے جن میں سے بہت سے اقوال میں بیان کر چکا ہوں۔

اس روایت کو امام ابن حجر ، امام علائی نے اور غالبا امام سیوطی نے "حسن" (جو صحیح سے کم درجہ ہے) قرار دیا ہے ۔ اِن ائمہ سے پہلے اور بعد کے اکثر محدثٰین نے اسے غیر صحیح قرار دیا ہے۔
امام ابن حجر کی تحقیق پر بھی اہل علم کی جانب سے نقد کیا جا چکا ہے۔

یاد رہے کہ امام حاکم کو اکثر محدثین نے متساہل قرار دیا ہے۔ ان کی تحقیق اور حدیث کی تصحیح و تضعیف (حدیث کو صحیح یا ضعیف کہنا) آنکھیں بند کرکے نہیں مانی جاتی۔
 
آخری تدوین:
مولا علی علیہ السلام

1۔ مولا علی علیہ السلام خود بھی قطعی جنتی ۔
2۔ مولا علی علیہ السلام کی زوجہ فاطمہ علیہا السلام بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنتی عورتوں کی سردار۔
3۔ مولا علی علیہ السلام کے دونوں صاحب زادے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام جنت کے سردار۔
4۔ مولا علی علیہ السلام کے چچا حضرت امیر حمزہ علیہ السلام تمام شہیدوں کے سردار ۔
5۔ مولا علی علیہ السلام کے بھائی حضرت جعفر علیہ السلام جنت کی طرف تیز پرواز کرنے والے طیار ۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مولا علی علیہ السلام کے عم زاد اور سسر مالک نہر جنت تمام عالمین کے لئے رحمت انبیاء علیہ السلام کے امام محبوب رب عالمین تاج دار ود جہاں یعنی حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
 
برائے تصحیح :
میرے سردار و جد اعلیٰ کے اتنے سارے صحیح فضائل ہیں، ہمیں ان کو پھیلانا چاہیے ، نہ کہ غیر صحیح اور غیر ثابت شدہ۔
نوٹ :
(میں جن روایات پر تحقیق کرسکا ، صرف انہی کے متعلق بیان کررہا ہوں۔ باقی تمام کی تحقیق میں نے نہیں کی۔ البتہ ان میں میرے علم کی حد تک کافی فضائل صحیح ہیں )۔

صلی اللہ علی سیدنا وعلی آلہ وصحبہ وبارکوسلم۔

کوئی آپ بھی بیان فرمادیں یا صرف آپ دوسروں کے بیان کئے فضائل مولا علی علیہ السلام کی تصحیح ہی فرماتے رہیں گے
 
امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے
یاد رہے کہ امام حاکم کو اکثر محدثین نے متساہل قرار دیا ہے۔ ان کی تحقیق اور حدیث کی تصحیح و تضعیف (حدیث کو صحیح یا ضعیف کہنا) آنکھیں بند کرکے نہیں مانی جاتی۔

کیا امام حاکم خود محدث نہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے مومن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا۔ (جامع سنن ترمذی، کتاب المناقب، حدیث # 3737، صححہ الشیخ الالبانی رحمہ اللہ )

الحمدللہ اہل سنت و الجماعت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین سے محبت رکھتے ہیں ۔
 
Top