ممکِن نہیں ہے چاک گریبانِ وقت میں ۔ عطا تراب

ش زاد

محفلین
ممکِن نہیں ہے چاک گریبانِ وقت میں
اِک عُمر قید کاٹیے زندانِ وقت میں

پھر اس اُڑان پر بھی ہے پرواز کا گُماں
ہم مِثلِ برگِ خُشک ہیں طوفانِ وقت میں

ہے گونج گوشِ گنبدِ مینا میں دمبدم
الماسِ بازگشت نہیں کانِ وقت میں

در اصل اس محلّ پہ اندھیروں کا راج ہے
کچھ دیپ جل رہے ہیں شبستانِ وقت میں

میں نے تو خواب میں یہ حقیقت بھی دیکھ لی
سورج بُجھے ہوئے تھےگریبانِ وقت میں

شاید پہنچ نہ پائے خدا کی حدود تک
واجب کئی وجود تھے اِمکانِ وقت میں

اپنی پسند کی میں غزل ڈھونڈتا رہا
مصرع تلک تو تھا نہیں دیوانِ وقت میں

ممکِن ہے ماورائے زمان و مکان ہو
میرا خدا نہیں ہے خُدایانِ وقت میں

جو گردبادِ غم میں کہیں کھو گئے تراب
وہ پل ملیں گے خاک بیابانِ وقت میں

(عطاءتراب)
 

فاتح

لائبریرین
انا للہ و انا الیہ راجعون! یہ غزل میری نظروں سے پوشیدہ کیونکر رہی۔
خوش قسمتی محسوس ہو رہی ہے کہ اس وقت یہ غزل عطا تراب صاحب کی ہی زبان سے سن رہا ہوں۔ سبحان اللہ کیا ہی خوبصورت غزل ہے۔
شہزاد صاحب! آپ کا بے حد شکریہ!
 
Top