ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ملتی نہیں منزل تو مقدر کی عطا ہے
یہ راستہ لیکن کسی رہبر کی عطا ہے

کب میری صفائی کوبھلا مانے گی دنیا
الزام ہی جب ایسے فسوں گر کی عطا ہے

جچتے نہیں آنکھوں میں شبستان و گلستاں
یہ دربدری ایسے کسی در کی عطا ہے

ساحل کے خزانے نہیں دامن میں ہمارے
جو کچھ بھی ملا ، گہرے سمندر کی عطا ہے

اُجرت میں ملی ہے مجھے اقلیمِ سخن یہ
ہر شعر کسی زخمِ ستمگر کی عطا ہے

محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ
نسبت جو مجھے ساقیء کوثر کی عطا ہے

ظہیر احمد ظہیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۲۰۰۴​
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
میں آپ دوستوں سے معذرت چاہتا ہوں کہ آج پوسٹ کی ہوئی غزلوں پر وقت کی کمی اور ٹائپنگ میں مشکل کے سبب سے آپ کو اس طرح فردًا فردًا ٹیگ نہ کرسکا جیسا سابقہ پوسٹوں پر کیا کرتا تھا ۔ غزلیات اب تقریبًا تمام ہوئیں ( خس کم جہاں پاک ۔ :):):)) ۔ آپ دوستوں کی توجہ اور محبت کے لئے سراپا سپاس ہوں ۔
فاتح کاشف اختر ، محمد تابش صدیقی سید عاطف علی
 

فاتح

لائبریرین
واہ کیا کہنے۔ زبردست ظہیر بھائی
محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ
نسبت جو مجھے ساقیِ کوثر کی عطا ہے
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
واہ کیا کہنے۔ زبردست ظہیر بھائی
محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ
نسبت جو مجھے ساقیِ کوثر کی عطا ہے

فاتح بھائی ، کام تو بخشش والے ہیں نہیں میرے ۔ بس اُس کی رحمتِ بے پایاں سے امید ہے کہ اپنے پیغمبر کا امتی جان کر اس کشتہء عصیاں پر کرم فرمادے ۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
کب میری صفائی کوبھلا مانے گی دنیا
الزام ہی جب ایسے فسوں گر کی عطا ہے
واہ۔۔۔۔ بہت خوب۔۔۔۔۔

ساحل کے خزانے نہیں دامن میں ہمارے
جو کچھ بھی ملا ، گہرے سمندر کی عطا ہے
اعلی۔۔۔۔ آہا۔۔۔

محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ
نسبت جو مجھے ساقیء کوثر کی عطا ہے
کیا کہنے۔۔۔ اسی نسبت کا تو کھا رہے ہیں۔۔۔ بلاشبہ۔۔۔ اعلیٰ

سر ماشاءاللہ۔۔۔
 

جاسمن

لائبریرین
ساحل کے خزانے نہیں دامن میں ہمارے
جو کچھ بھی ملا ، گہرے سمندر کی عطا ہے

اُجرت میں ملی ہے مجھے اقلیمِ سخن یہ
ہر شعر کسی زخمِ ستمگر کی عطا ہے
محشر میں بنے گی مری بخشش کا سبب یہ
نسبت جو مجھے ساقیء کوثر کی عطا ہے
بہت خوب!
خوبصورت غزل۔
واہ واہ!
 
Top