ملتان میں ایک دن (ستمبر 2010)

اسد

محفلین
پچھلے مہینے میں ہم لوگ ایک شادی میں شرکت کرنے ملتان گئے، وہاں کی کچھ تصویریں۔

ہم لوگ 16 تاریخ کی دوپہر کو لاہور سے روانہ ہوئے اور شام کے وقت ملتان پہنچے، ٹھہرنے کا انتظام ایک گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ اگلی صبح میں اپنے بھانجے کو ساتھ لے کر رکشہ پر، پرانے قلعہ گیا۔

قلعے میں حضرت شاہ رکن الدین عالمؒ اور حضرت بہا الدین زکریاؒ کے مزارات ہیں، قاسم باغ اور قاسم باغ کرکٹ سٹیڈیم ہے۔ مزارات پر دکانیں نہیں ہیں اور صرف کبوتروں کا دانہ فروخت ہوتا ہے۔ کھانے پینے کی دکانیں یا ہوٹل بھی نہیں ہیں، ایک یا دو کیبن ہیں جن میں بوتلیں اور بسکٹ اور چپس وغیرہ فروخت ہوتے ہیں۔

قلعہ کا گیٹ، تصویر اندر سے لی گئی ہے۔
Multan086.JPG


حضرت شاہ رکن الدین عالمؒ کے مزار کا بغلی دروازہ۔
Multan087.JPG


حضرت شاہ رکن الدین عالمؒ کا مزار۔
Multan089.JPG


مزار کے صحن میں کبوتر۔
Multan092.JPG
 

اسد

محفلین
حضرت بہا الدین زکریاؒ کے مزار کی تصاویر۔
Multan118.JPG


Multan110.JPG


Multan112.JPG


Multan116.JPG


مزار کے احاطے میں موجود ایک قبر۔
Multan128.JPG


مزار کا صدر دروازہ۔
Multan129.JPG


بغلی دروازہ۔
Multan131.JPG


Multan134.JPG


مزار کے احاطے میں موجود مسجد۔ جمعے کی وجہ سے مساجد میں شامیانے نصب تھے اس لئے مساجد کی واضح تصاویر نہ لے سکا۔
Multan147.JPG
 

اسد

محفلین
حضرت بہا الدین زکریاؒ کے مزار کے ساتھ واقع ایک عمارت کا کھنڈر۔
Multan133.JPG


قاسم باغ۔
Multan151.JPG


قاسم باغ میں دو برطانوی افسروں کی قبروں پر بنی یادگار۔ ان افسروں کو 1848 میں قتل کیا گیا تھا اور 1849 میں ملتان پر برطانوی فوجوں نے قبضہ کر لیا۔
Multan148.JPG


قاسم باغ سے قاسم باغ سٹیڈیم کا ایک منظر۔
Multan152.JPG


قلعے میں پولیس کے ایک دفتر کے باہر نصب توپ۔
Multan168.JPG


ملتان کا گھنٹہ گھر، قلعے سے کھینچی ہوئی تصاویر۔ پسِ منظر میں سٹیٹ بینک کی سفید عمارت نظر آ رہی ہے۔
Multan172.JPG


Multan173.JPG


Multan176.JPG
 

اسد

محفلین
ابھی ہمیں حضرت شمس الدین ولی سبزواریؒ کے مزار پر جانا تھا لیکن بھوک بہت لگ رہی تھی اس لئے ہم قلعے سے نکل کر گھنٹہ گھر کی طرف گئے اور وہاں ایک ہوٹل میں ناشتہ کیا۔

قلعے کے گیٹ پر کبوتروں کے لئے بکنے والا دانہ۔
Multan186.JPG


کبوتر۔
Multan184.JPG


Multan182.JPG


گھنٹہ گھر۔
Multan188.JPG


Multan192.JPG
 

اسد

محفلین
حضرت شمس الدین ولی سبزواریؒ کا مزار۔ تصویر باہر سے لی گئی ہے کیونکہ مزار کا صحن کافی چھوٹا ہے اور وہاں سے عمارت کی تصویر لینا مشکل ہے۔
Multan194.JPG


مزار کے برآمدے کی چھت۔
Multan201.JPG


مزار کا سامنے کا برآمدہ۔
Multan210.JPG


قلعے سے مزار کا منظر۔
Multan137.jpg


مزار کے باہر بکنے والے مٹی کے چراغ وغیرہ۔
Multan193.JPG


ملتان میں بھی پٹرول نہیں مل رہا تھا۔
Multan412.JPG


گھنٹہ گھر سے مزار کا فاصلہ تقریباً دو سے تین کلومیٹر ہے۔ حضرت شمس الدین ولی سبزواریؒ کے مزار سے نکل کر ہمارا ارادہ ملتان کے قدیم بازار حسین آگاہی جانے اور حافظ کا ملتانی سوہن حلوہ خریدنے کا تھا۔ لیکن مزار کے باہر ہی حافظ کے سوہن حلوے کی دکان تھی اور کیونکہ گرمی کی شدت میں کافی اضافہ ہو گیا تھا لہذا وہیں سے حلوہ خرید کر واپس گیسٹ ہاؤس چلے آئے۔

ہم صبح آٹھ بجے نکلے تھے اور تقریباً سوا گیارہ بجے واپس پہنچ گئے۔ جمعے کی نماز کے بعد شادی میں شرکت کی اور سہپہر میں واپس روانہ ہو گئے۔
 

شمشاد

لائبریرین
بہت شکریہ جناب کہ آپ نے اتنی ساری تصاویر شریک محفل کین۔

افسوس ہوتا ہے دیکھ کر کہ محکمہ آثار قدیمہ والے کہاں سوئے ہوئے ہیں جو یہ ورثہ ضائع ہو رہا ہے۔
 

اسد

محفلین
افسوس ہوتا ہے دیکھ کر کہ محکمہ آثار قدیمہ والے کہاں سوئے ہوئے ہیں جو یہ ورثہ ضائع ہو رہا ہے۔
غالباً آپ کا اشارہ کھنڈر کی طرف ہے۔ میرے خیال میں اس عمارت کی ملکیت تصفیہ طلب ہو گی اسی لئے اس حالت میں ہے۔ ملتان میں محکمہ آثار قدیمہ کے آثار نظر نہیں آئے، مزارات غالباً محکمہ اوقاف کے ذمے ہیں، پارک پی ایچ اے یا میونسپیلٹی کے اور توپ پولیس والوں کے۔

گھنٹہ گھر میں ضلعی انتظامیہ کے دفاتر ہیں۔ سنا ہے کہ اب اسے میوزیم بنایا جائے گا۔ آج کل ملتان وزیرِاعظم کا شہر ہے لہذا بیک وقت 6 فلائی اوور تعمیر ہو رہے ہیں، بہت سی سڑکیں بن رہی ہیں اور دیگر تعمیراتی کام ہو رہے ہیں۔ لیکن مجھے محسوس ہوا کہ بعض جگہوں پر کام کی رفتار، عام پاکستانی سست رفتار سے بھی گئی گزری ہے۔ شاید ٹھیکیدار اس انتظار میں ہیں کہ حکومت بدل جائے یا اپنی میعاد پوری کر لے۔
 
Top