مغربی میڈیا اور ایرانی صدر احمدی نجاد

مہوش علی

لائبریرین
میڈیا بہت بڑی پاور ہے اور سچ اس کے سامنے کمزور پڑتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

مغربی میڈیا نے صدر احمدی نجاد کے بیانات کو بہت توڑ مڑوڑ کر پیش کیا ہے۔

ذیل میں احمدی نجاد کے اصل الفاظ کا انگریزی ترجمہ ہے:
[align=left:6a06ea8673]
LONDON, December 15 (IranMania) - Iran's President Mahmoud Ahmadinejad said Iran believed polling was the only solution to the Palestinian problem so that the Palestinians would be given a chance to determine their own fate, according to IRNA.

The president who arrived in this southeastern city Wednesday morning further told the local people, "The Iranian nation believes the only solution is that all Palestinians take part in a referendum and announce their viewpoint on their government."

President Ahmadinejad was elaborated on his remarks made on the sidelines of a recent summit of the Organization of the Islamic Conference in Saudi Arabia which faced a propaganda ballyhoo by western media.

He said, "There I said to come and have a look at Palestine.

Every day people are getting killed, women and children are getting buried under debris, farms are being set ablaze, people who have been living there

for thousands of years are being displaced, people and personalities are targeted with prior notice.

"Now the question is where the people who commit these crimes and are now rulers in Palestine and permit themselves to carry on such crimes, to displace and imprison the local residents of the land have come from. Where are their fathers from? Where had they been for thousands of years?

How is it that they now have the right to self-determination but the nation which has been living in the land for thousands of years, does not have such a right?"

Ahmadinejad said another question he raised there was why the Palestinian nation should pay for the crimes the Europeans have committed.

"If the Europeans are telling the truth in their claim that they have killed six mlnJews in the Holocaust during the World War II - which seems they are right in their claim because they insist on it and arrest and imprison those who oppose it, why the Palestinian nation should pay for the crime. Why have they come to the very heart of the Islamic world and are committing crimes against the dear Palestine using their bombs, rockets, missiles and sanctions."

Stressing that "the same European countries have imposed the illegally-established Zionist regime on the oppressed nation of Palestine", he said, "If you have committed the crimes so give a piece of your land somewhere in Europe or America and Canada or Alaska to them to set up their own state there, IRNA added.

"Then the Iranian nation will have no objections, will stage no rallies on the Qods Day and will support your decision."
Ahmadinejad said some have created a myth on holocaust and hold it even higher than the very belief in religion and prophets because when a person expresses disbelief in God, religion and prophets they do not object to him but they will protest to anyone who would reject the Holocaust.

He said those who claim to be advocates of freedom of expression, democracy and human rights take advantage of propaganda means in the face of his vivid and documented reasoning and criticize him and say Iran's president seems to be incapable of living in a civilized world.

The president further said, "If your civilization consists of aggression, displacing the oppressed nations, suppressing
justice-seeking voices and spreading injustice and poverty for the majority of people on the earth, then we say it out loud that we despise your hollow civilization."[/align:6a06ea8673]

ذاتی طور پر مجھے حق اور انصاف وہی لگتا ہے جو صدر احمدی نجاد نے کہا ہے۔ مگر میں اُن سے اس بات پر متفق نہیں ہوں کہ اس طرح کے بیانات دے کر مغربی میڈیا کو موقع دیا جائے کہ وہ غلط فہمیاں پیدا کر کے فائدہ اٹھائے۔
ہر چیز سیاہ اور سفید نہیں ہوتی۔
مذہبی انتہا پسند حضرات کی پرابلم یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی قدر خیالی دنیا میں رہتے ہیں اور انہیں حقائق کا مکمل ادراک نہیں ہوتا۔
ایسے وقت میں امریکا کو للکارنا ایرانی قوم کو بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔

والسلام۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
یہ مسلمانوں کا المیہ ہے کہ انہیں لیڈروں کی بجائے مداری اور تماشہ لگانے والے نصیب ہوئے ہیں۔ 1991 میں صدام حسین نے بھی اسرائیل پر کیمیائی ہتھیار پھینکنے کی بڑیں مارنی شروع کر دی تھیں۔ نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے۔ باقی ہم سدا کے جذباتی لوگ ہیں۔ عراق پر امریکی حملہ ہوا تو پاکستان میں صدام حسین کی حالت نماز میں تصویر کے بڑے بڑے پوسٹر لگ گئے اور پورے ملک میں مظاہرے ہونے شروع ہو گئے۔ لگتا ہے کہ پاکستان کے عوام کو مظاہرہ کرنے کا بہانہ چاہیے۔ بم کہیں گر رہے ہوتے ہیں اور دھماکے کہیں اور۔۔۔
 

زیک

مسافر
مہوش: احمدی نژاد کا بیان غلط تھا اور اب اس میں ردوبدل کیا جا رہا ہے۔ آپ نے جو خبر لکھی ہے اس میں ایرانی صدر نے مانا ہے کہ ہالوکاسٹ ایک حقیقت ہے مگر پہلے ان کا بیان فرق تھا۔ مثلاً ایران کے سپیکر کہتے ہیں:

He explained that Ahmadinejad was only suggesting in his speech that researchers should be allowed to conduct further studies on the Holocaust

ایک اور خبر:

President Ahmadinejad said at a press conference in Saudi Arabia that Europe has victimized the entire region of the Middle East to compensate for the so-called Nazi holocaust

میں نے جان بوجھ کر ایرانی خبر ایجنسی IRNA سے یہ خبریں نوٹ کی ہیں تاکہ آپ اس کو مغربی پراپیگنڈا نہ کہہ سکیں۔
 

جیسبادی

محفلین
"غلط" بیان کیا ہوتا ہے؟ ہر آدمی کا اپنا انداز فکر ہوتا ہے۔ امریکی آئین میں تو سنتے تھے کہ آزادی خیال کی اجازت ہے۔ کسی بل آف رائیٹس کا ذکر سننے میں آتا ہے۔
 

زیک

مسافر
جیسبادی: کیا یہ بھی انداز فکر ہے کہ 1994 میں روانڈا میں تتسی لوگوں کا کوئی قتل عام نہیں ہوا تھا؟ یا مغربی پاکستان نے 1971 میں بنگالیوں کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا تھا؟ یا سٹالن نے کڑوڑوں کو نہیں مارا تھا؟ کیا ان سب واقعات کو myth کہنا صرف ایک انداز فکر ہے؟ انداز فکر کا آئیڈیا اگر زیادہ بڑھا دیا جائے تو postmodernism کی absurd حروں تک جا پہنچتا ہے۔ حقائق کو جھٹلانے یا نظرانداز کرنے کو انداز فکر کہنا کچھ صحیح نہیں لگتا۔

آزادی رائے تو ہے۔ ایران کے صدر جو چاہیں کہیں مگر میں بھی تو ان کی مذمت کرنے کا حق رکھتا ہوں۔
 

مہوش علی

لائبریرین
ایرانی میڈیا میں میں نے صدرِ ایران کا نام دونوں طریقے سے لکھا دیکھا ہے (نژاد اور نیجاد)۔

میری یونی میں کافی ایرانی ہیں یہ بات انہوں نے کہی ہے کہ صدرِ ایران کے بیان کو توڑ مڑوڑ دیا گیا ہے اور اصل ترجمہ وہی ہے جو کہ اوپر پیش کیا گیا ہے۔

یہ ایرانی سٹوڈنٹز کٹر انقلاب مخالف ہیں اور اسی طرح احمدی نژاد کے بھی مخالف ہیں۔ لہذا اُن کی گواہی اگر احمدی نژاد کے حق میں جا رہی ہے تو میں اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔

یہ حقیقت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ مغربی میڈیا میں احمدی نژاد کے بیانات کو جس طرح پیش کیا گیا ہے ، وہ ایک دوسرے سے قدرے مختلف ہے۔

بہرحال بات کو مختصر کرتے ہیں۔

زکریا، کیا آپ احمدی نژاد کی اس بات کے متفق ہیں کہ اگر جرمنی نے اہل یہود کا قتل عام کیا تھا تو انہیں اپنے علاقے میں یہودی ریاست دینی چاہیے تھی نہ کہ فلسطینیوں کو ملک بدر کر کے وہاں اسرائیلی ریاست قائم کی جاتی۔

ہالوکاسٹ سے متعلق بیان کیمذمت کرنے کا حق آپ کو ہے۔ مگر کیا آپ اس بات کوبھی حق بجانب سمجھتے ہیں کہ جرمنی نے دھمکی دی ہے کہ وہ احمدی نژاد پر سفری پابندی لگا رہے ہیں اور کوشش کریں گے کہ ایرانی فٹبال ٹیم ورلڈ کپ میں حصہ نہ لے سکے۔

کیا وجہ ہے کہ ہالوکاسٹ کا انکار کرنا اتنا بڑا جرم بن گیا ہے؟

اگر میں بالکل غیر جانبدار ہو کر دیکھنے کی کوشش کروں تو مجھے احمدی نژاد کی باتوں میں صداقت نظر آتی ہے، مگر انسانی فطرت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہتی ہوں کہ یہ وقت ایسے بیانات کو نہیں ہے کیونکہ آپ بہت کمزور ہیں اور زمانہ Might is Right کا ہے۔ لہذا ایسے بیانات سے بیگناہ ایرانی عوام کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے جبکہ عالمی برادری بھی آپ کی بات نہیں سنے گی۔
 

زیک

مسافر
مہوش: اسرائیل کے قیام کی بحث بہت لمبی اور شاید بیکار بھی ہے۔ میں نے اسرائیل سے متعلق جو کچھ کہنا تھا عرصہ پہلے اپنے بلاگ پر کہہ چکا ہوں۔

بات رہی جرمنی کی احمدی نژاد پر پابندی لگانے کی تو جرمنی کی نازی تاریخ کی وجہ سے وہاں اس سلسلے میں کافی سخت قوانین ہیں۔ البتہ ایرانی فٹبال ٹیم کو ورلڈ کپ سے نکالنا غلط ہے۔

احمدی نژاد کے بیان کے بارے میں میں نے ایران کی سرکاری خبر ایجنسی کا حوالہ دیا تھا۔ اگر وہ اپنے صدر کے بیان کو صحیح رپورٹ نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟
 

زیک

مسافر
ایک اور بات: ہالوکاسٹ سے انکار ایک جرم جرمنی کی نازی تاریخ کی وجہ سے ہے۔ مگر اگر جرم نہ بھی ہو تو کتنا ذلیل انسان ہو گا وہ جو چھ ملین انسانوں کے genocide کو انسانیت کے خلاف جرم سمجھنے کی بجائے اس سے انکاری ہو جائے۔

کیا کسی کو علم ہے کہ روانڈا میں وہاں کے 1994 کے genocide سے انکار کرنے سے متعلق کوئی قانون ہے؟
 

نبیل

تکنیکی معاون
مہوش، مجھے یہ تاثر ملتا ہے کہ آپ جرمنی میں میں ہی زیر تعلیم ہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر تو شاید آپ کو یہاں کی تاریخ جاننے کے وافر مواقع میسر آئے ہوں گے حالانکہ جرمنی کی تاریخ کے مطالعے کے لیے جرمنی میں ہونا ضروری نہیں ہے۔ شاید خود جرمنوں کو بھی کبھی اپنے سے ہمدردی رکھنے والوں پر حیرانی ہوتی ہو کہ وہ ان کو ان کی تاریخ بھلانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں۔ دراصل ناتزی ازم اب صرف جرمنی کی تاریخ کا حصہ نہیں رہا ہے بلکہ دنیا بھر کے فاشسٹوں کی انسپریشن کا منبع ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں نسلی اور لسانی منافرت کا پرچار کرنے والے ناتزیوں کا روپ دھارتے ہیں اور ہٹلر کو اپنا رہنما مانتے ہیں۔

جرمن بہت محنتی، منظم اور ضابطے کی پابند قوم ہے۔۔اور ہولوکاسٹ میں یہودیوں کو ٹھکانے لگانے میں انہوں نے واقعی بہت مستعدی اور مستقل مزاجی کا ثبوت دیا ہے۔ شاید انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے کیے کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے، اسی لیے ناتزیوں نے اپنے گھناؤنے کاموں کو مکمل طور پر ڈاکومنٹ کیا۔ شاید آپ کو معلوم ہی ہو کہ ناتزیوں کے خلاف مشہور نیورمبرگ ٹرائلز میں یہی ڈاکومنٹڈ پروف پیش کیے گئے تھے اور ان کی صحت سے کسی نے انکار نہیں کیا تھا۔

ہولوکاسٹ کا جھٹلایا جانا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس سے انسانیت نے کوئی سبق سیکھا ہے۔ بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے تو ظالم حکمرانوں اور حملہ آوروں کے ہاتھ نسل کشی کا ایک انسٹرکشن مینوئل آ گیا ہے۔

پاکستان کے اخبارات و جرائد میں صحافی اور دانشور حضرات سرے سے مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان کے ڈھائے گئے مظالم سے انکار کرتے ہیں۔ سرب عوام اس بات کو جھٹلاتے ہیں کہ ان کی افواج نے ایک ہی دن میں آٹھ ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ اسی طرح ہمارے کئی دوستوں کا کہنا ہے کہ 11 ستمبر 2001 کا کوئی واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر جہازوں کے ٹکرانے اور ان کے منہدم ہونے کی ویڈیو شاید کوئی کمپیوٹر انیمیشن ہے۔

ہم سب فلسطینیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کو justify نہیں کرتے کہ تاریخ کا چہرہ مسخ کیا جائے۔ مجھے ایران کے عوام سے بھی دلی ہمدردی ہے۔ وہ یقیناً احمدی نژاد سے بہتر آدمی کے حقدار ہیں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
دنیا کی موجودہ سیاسی صورتحال میں احمدی کے بیان کو محض جذباتی نہج سے نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس کو سیاسی تناظر میں دیکھنا زیادہ بہتر ہے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
آپ سب حضرات کا شکریہ کہ آپ نے اس ڈسکشن میں حصہ لیا۔

مسئلہ گھوم پھر کر پھر وہی آ رہا ہے کہ اصل موجودہ مسئلہ فلسطینی زمین پر اسرائیل کے قیام کا ہے جبکہ ہالوکاسٹ ضمنی بحث ہے۔

مگر میڈیا نے مسائل کو گھما کر ہالوکاسٹ کو بحث کا بنیادی نکتہ بنا دیا اور اصل مسئلہ کو فراموش کروا دیا۔

اب ہالوکاسٹ کا زبانی انکار اُس قتل و غارت اور ناانصافی اور دیگر جرائم سے بڑا جرم ہے جو کہ فلسطینی قوم پر ڈھائے گئے۔ ( یہ بات میں اس لیے نہیں کہہ رہی کیونکہ میں مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی ہوں، بلکہ میرا ضمیر بطور انسانیت اس ناانصافی پر احتجاج کرتا ہے)۔

ایک عام انسان کو ماضی میں ہونے والے ہالوکاسٹ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ پاکستان میں اسی فیصد آبادی نے کبھی ہالوکاسٹ کا نام بھی نہیں سنا ہو گا۔ کیا اُن کی یہ لاعلمی ایک جرم ہے؟

اگرچہ کہ حالات کی بنیاد پر میں بھی صدرِ ایران کے بیانات کو صحیح نہیں سمجھتی، مگر ایک بات مانتی ہوں کہ اُس نے بالکل حق بات کہی، مگر میڈیا نے اُسے کسی اور ہی رنگ میں پیش کر کے "حق" کی دھجیاں اڑا دیں۔

اسرائیل کے معاملے میں Might is Right سے کام ہوا ہے ۔ یہی اصل موضوع ہے مگر میڈیا ہماری توجہات ہمیشہ اصل موضوع سے ہٹا دیتا ہے ۔


ذیل کی رپورٹ بھی ملاحظہ فرما لیں۔
[align=left:38f4fd5688]
By NICHOLAS PAPHITIS, Associated Press Writer
Fri Dec 16, 7:46 AM ET



ATHENS, Greece - The Iranian president's widely condemned remarks about Israel and the Holocaust were "misunderstood" by Western governments, Iran's interior minister said Friday.

ADVERTISEMENT

Speaking on the sidelines of an Athens conference on immigration, Mostafa Pur Mohammadi told The Associated Press: "Actually the case has been misunderstood. (President Mahmoud Ahmadinejad) did not mean to raise this matter.

"He wanted to say that if certain people have created troubles for the Jewish community they should bear the expenses, and it is not others who should pay for that."

Ahmadinejad's comments Wednesday drew quick condemnations from Israel, the United States and Europe, which warned he is hurting Iran's position in talks aimed at resolving suspicions about his regime's nuclear program.

During a tour of southeastern Iran, Ahmadinejad said that if Europeans insist the Holocaust occurred, then they are responsible and should pay the price.

"Today, they have created a myth in the name of Holocaust and consider it to be above God, religion and the prophets," Ahmadinejad told thousands of people in Zahedan. "If you committed this big crime, then why should the oppressed Palestinian nation pay the price?"

"This is our proposal: If you committed the crime, then give a part of your own land in Europe, the United States, Canada or Alaska to them so that the Jews can establish their country," he said in remarks carried live by state television.

In October, he provoked an international outcry by calling for Israel to be "wiped off the map."

European Union leaders meeting in Brussels, Belgium, warned in a draft statement Friday Ahmadinejad's remarks could be grounds for sanctions against Iran.

"These comments are wholly unacceptable and have no place in civilized political debate," the draft statement said.

Inside Iran, moderates have called on the Islamic cleric-led regime to rein in the president. His election in June sealed the long decline of Iran's reform movement, which had largely dropped the harsh anti-Israeli and anti-U.S. rhetoric of the 1979 Islamic Revolution and sought to build international ties.

Nations across the world have condemned Ahmadinejad's remarks. The White House said his words "only underscore why it is so important that the international community continue to work together to keep Iran from developing nuclear weapons."

Israel's Foreign Ministry said the comments illustrated "the mind-set of the ruling clique in Tehran and indicate clearly the extremist policy goals of the regime."

Benita Ferrero-Waldner, EU external relations commissioner, called Ahmadinejad's views "absolutely irresponsible." Denying the Holocaust — in which 6 million Jews died during World War II at Nazi hands — is a crime in several European nations.

China, which maintains good relations with both Iran and Israel, said such remarks could undermine world stability.

"We are not in favor of any remarks detrimental to stability and peace," Foreign Ministry spokesman Qin Gang said Thursday. "Israel is a sovereign state."

Moscow did not directly criticize Ahmadinejad but condemned any attempts to deny the Holocaust and said it was necessary to restate Moscow's "principled position."

"Speculation on these themes runs contrary to the principles of the U.N. Charter and the opinion of the world community," the Russian Foreign Ministry said.

Arab governments appeared reluctant to condemn Ahmadinejad. In Saudi Arabia, government-controlled newspapers picked up the remarks from international news agencies but did not comment on them.
[/align:38f4fd5688]
 

زیک

مسافر
نعیم: آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔

مہوش: آپ کو شکایت احمدی نژاد (اور دوسرے ایرانی حکومت لے لوگوں) سے ہونی چاہیئے کیونکہ ہالوکاسٹ کا ذکر انہوں نے کیا۔ اگر وہ فلسطینیوں پر ظلم کی بات کرنا چاہتے تو اس کے کئی طریقے تھے ہالوکاسٹ پر شک کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
 

نبیل

تکنیکی معاون
مہوش میری ایک درخواست ہے آپ سے، کہیں سے احمدی نژاد کے بیان کے اوریجنل ورژن کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔۔ اور اگر مل جائے تو یہاں پوسٹ کریں۔ اس کے بعد دیکھتے ہیں کہ ہمیں کیا سمجھ آتی ہے اس کی۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
اب عربی سمجھنا تو مشکل ہوگا۔ اس محفل کے کوئی دوست اگر اس سائٹ سے احمدی نژاد کے انٹرویو کے متن کا ترجمہ پوسٹ کر دیں تو بہت عنایت ہوگی۔ اس کے علاوہ اردو میں خبروں کی دو ویب سائٹس تیبیان اور مہر نیوز ہیں جو کہ غالباً حکومت ایران کا ماؤتھ پیس ہی ہیں۔ ان پر تلاش سے مجھے احمدی نژاد کا انٹرویو ابھی تک تو نہیں ملا۔
 

پردیسی

محفلین
صدر احمدي نژاد کے بیان کا مکمل متن ذیل میں دیا جا رہا ہے۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
[rainbow:29ac296adc]فلسطين كي مظلوم قوم كويورپ كے ظلم كا تاوان نہيں ادا كرنا چاہيے[/rainbow:29ac296adc]
صدر احمدي نژاد : 6 ملين يہوديوں كا قتل فراڈ ہے اور اگر يورپيوں نےچھ ملين يہوديوں كو قتل كيا ہے تو يورپيوں كے ظلم و جرم كي سزا فلسطينيوں كو نہيں ملني چاہيے

صدر احمدي نژاد نے زاہدان كے 17 شہريور اسٹيڈيم ميں زاہدان كےعوام كے ايك عظيم اجتماع سے خطاب كرتے ہوئے اسرائيلي غاصب حكومت كو يورپ يا امريكہ كے كسي خطے ميں منتقل كرنے پر تاكيد كي ہے انھوں نے كہا كہ يورپيوں كے جرم كي سزا فلسطينيوں كو نہيں ملني چاہيے اگر يورپي اس بات پر مصر ہيں كہ ساٹھ لاكھ يہوديوں كو جلايا گيا ہے تو فلسطين كي مظلوم قوم كويورپ كے اس ظلم كا تاوان نہيں ادا كرنا چاہيے
مہرخبررساں ايجنسي كے نامہ نگار كي رپورٹ كے مطابق جمہوري اسلامي ايران كے صدر ڈاكٹر احمدي نژاد نے زاہدان كے 17 شہريور اسٹيڈيم ميں زاہدان كےعوام كے ايك عظيم اجتماع سے خطاب كرتے ہوئے اسرائيلي غاصب حكومت كو يورپ يا امريكہ كے كسي خطے ميں منتقل كرنے پر تاكيد كي ہے انھوں نے كہا كہ يورپيوں كے جرم كي سزا فلسطينيوں كو نہيں ملني چاہيے

انھوں نے مغربي ملكوں كومخاطب كر تے ہوئے كہا كہ اگر يورپي اس بات پر مصر ہيں كہ ساٹھ لاكھ يہوديوں كو جلايا گيا ہے تو فلسطين كي مظلوم قوم كوآپ كے اس ظلم تاوان نہيں ادا كرنا چاہيے ڈاكٹر محمود احمدي نژاد نے زاہدان ميں ايك بڑے عوامي اجتماع سے خطاب كرتے ہوئے دوسري جنگ عظيم ميں بھٹيوں ميں يہوديوں كوجلائے جانے كے افسانے كي بابت مغرب كے تعصب پرتعجب كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ ان كے خيالات پر تنقيد دراصل اسرائيل كے حاميوں كي طرف سے كي جا رہي ہے انھوں نےاسرائيل كے حاميوں سے كہا كہ اگر كوئي تمہارے سامنے خدا كي ذات، يا مذہب يا پيغمبروں سے انكار كياجائے تو تم كچھ نہيں كہتے مگر اگر كوئي يہ كہہ دے كہ يہوديوں كا قتل عام نہيں ہوا تو صہيونيوں كے ترجمان بن كر چلانا شروع كر ديتے ہوانہوں نے اس بات كو دہرايا كہ يہودي رياست بنانے كي ذمہ داري يورپ كي ہےاگر يورپ نے اتنا بڑا گناہ كيا ہےتو مظلوم فلسطينيوں كو اس كي سزا كيوں دي جا رہي ہے انھوں نے كہا كہ ہماري تجويز يہ ہےكہ آپ يورپ، امريكہ يا الاسكا ميں اپني زمين كا ايك حصہ ديں تاكہ يہودي اس پر اپني رياست قائم كر سكيں صدر احمدي نژاد نے كہا كہ اگر مغربي سرزمين كا كوئي علاقہ اسرائيلي حكومت كي تشكيل كے ليے ديا جائے تو ايراني عوام اس فيصلے كي حمايت كريں گے اور اسرائيل كے خلاف پھر مظاہرے كرنے بند كرديں گے صدر مملكت جناب محمود احمدي نژاد نے كہا ہے كہ ملت ايران پرامن ايٹمي توانائي كے حصول كے اپنے مسلمہ حق سے ہرگز دستبردار نہيں ہوگي انھوں نے كہا كہ ان لوگوں كو يہ حق حاصل نہيں ہے كہ وہ ملت ايران كو پرامن ايٹمي توانائي حاصل كرنے سے روكيں جنہوں نے ايٹمي اور كيميائي ہتھيار بناركھے ہيں اور بنارہے ہيں اور ان كا انسانيت كے خلاف استعمال كرچكے ہيں صدر كے حق پر مبني بيان پر يورپ ميں ايك بار پھر آگ لگ كئي ہے
 

جیسبادی

محفلین
زکریا نے کہا:
جیسبادی: کیا یہ بھی انداز فکر ہے کہ 1994 میں روانڈا میں تتسی لوگوں کا کوئی قتل عام نہیں ہوا تھا؟

"شہاب نامہ" میں مصنف اپنے انگریز افسروں کے بارے میں سوچتا ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ لوگ اس طرح کے مظالم میں کس طرح ملوث ہوتے ہیں۔ کہتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے اس کا جواب خود ہی مل گیا.......

روانڈا کی ایک سطر کی تاریخ میں اگر تیسرے فریق کا بھی ذکر کر دیا جائے تو بہتر ہے۔ اس کو "diamond trade" کہتے ہیں۔ ذرا گوگل کر کے دیکھا جائے۔
http://www.projectcensored.org/publications/2003/19.html

لوگ سمجھتے ہیں کہ NYT کی کہانیاں دہرانا آزاد خیالی اور "فریڈم آف سپیچ" ہے۔
 
Top