معتزلہ

طالوت نے 'تاریخ اسلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 16, 2009

  1. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,353
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    تاریخ اسلام قران کی روشنی میں (حافظ اسلام جیراج پوری)
    (صفحہ نمبر 94 تا 106)
    معتزلہ​

    اس جماعت کی ابتدا بصرہ میں ہوئی ۔ بانی واصل بن عطاء اور عمرو بن عبید تھے۔ یہ دونوں موالی میں سے تھے اور حسن بصری کے شاگردہ بصرہ سے اس کی شاخ بغداد پہنچی ۔ بصری سلسلہ یہ ہے
    (صفحہ نمبر 94 دیکھیے)
    عراق متعدد اہل مذاہب کا گہوارہ تھا ۔ یہودی ، نصرانی ، مجوسی ، مانوی ، زرتشی، صابی ، ویصانی اور دہری وغیرہ۔ اسلامی فتوحات کے بعد جب ان میں سے لوگ مسلمان ہونے لگے اس وقت ان قوموں نے مسلمانوں کے ساتھ بحثیں شروع کیں۔ اہل علم کی ایک جماعت اسلام کی تائد اور ان کی تردید کے لیے کھڑی ہوئی۔ اس نے پہلے ان کے مذہبی حقائق کو سمجھا پھر انھی کے اصولوں پر ان کے جوابات دینے کی کوشش کی۔ ان میں سے بعض مذاہب مثلاً یہودیت و عیسائیت یونانی فلسفہ سے بھی مسلح تھی اسلیے اس جماعت نے اس سے بھی واقفیت پیدا کی تاکہ ان کے اعتراضات کی مدافعت کر سکے۔ اس کے لیے یہ بھی لازم تھا کہ عقلیت کی راہوں سے ان بحثوں میں گھسے کیونکہ منقولی دلائل سے کام نہیں چل سکتا تھا۔ اس وجہ سے اس جماعت کا طریق فکر محدثوں سے الگ ہو گیا اور یہ معتزلہ کے نام سے مشہور ہوئی۔
    اصول خمسہ
    معتزلہ میں باہم پانچ امور میں اختلاف ہیں لیکن اصل مبادی میں سب کے سب متفق ہیں اور وہ پانچ ہیں
    1. توحید 2. عدل 3. وعدووعید 4. بین بین 5. امر بالمعروف و نہی عن المنکر
    توحید ہر مسلمان کا ایمان ہے لیکن اس جماعت نے اس کی مخصوص تفسیر کی یعنی ذات الہٰی کو صفات سے منزہ قرار دیا۔ اس کے نزدیک قدرت ، ارادہ، سمع ، بصر ، حیات و کلام وغیرہ صفات الہٰی جو قران میں بیان کیے گئے ہیں بذات خود قائم نہیں ہیں ورنہ قدماء کا تعدد لازم آئے گا بلکہ عین ذات الہٰی قادر اور سمیع بصیر وغیرہ ہے۔ اہل سنت صفات کو عین ذات نہیں مانتے بلکہ قائم بالذات کہتے ہیں۔
    اسی طرح عدل کے بھی تمام مسلمان قائل ہیں کہ اللہ عادل مطلق ہےکسی پر ظلم نہیں کرتا لیکن معتزلہ اس میں اور آگے جا تے ہیں اور کہتے ہیں
    (1) اللہ نے مخلوق کو ایک نتیجہ کے لیے پیدا کیا ہے جو اس کے لیے سر تا سر خیر ہے۔
    (2) اللہ مخلوق کے لیے نہ شر کارادہ کرتا ہے نہ حکم دیتا ہے اسی بناء پر وہ اشیاء حسن و قسح کو اہل سنت کی طرح شرعی نہیں بلکہ ذاتی قرار دیتے ہیں۔
    (3) انسان سے اچھے یا برے جو افعال صادر ہوتے ہیں ان کا خالق وہ خود ہے اور انسانی ارادہ افعال کی تخلیق میں آزاد ہے اسی وجہ سے اس کو ان کے اوپر جزا و سزا ملتی ہے۔
    وعدہ و وعید سے ان کی مراد یہ ہے کہ جس عمل پر جو وعدہ یا وعید ہے اس کا مترتب ہونا لازمی ہے اور ایمان قلبی تصدیق کا نام نہیں ہے بلکہ ادائے واجبات بھی اس کا جزو ہے ۔ اگر کوئی اللہ و رسول کو مان لے اور اعمال شرعیہ ادا نہ کرے تو مومن نہیں ہے۔ ہر عمل خواہ فرض ہو یا نفل ایمان کا جزو ہے جس قدر عمل بڑھتا ہے اسی قدر ایمان بڑھتا ہے۔
    گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ مومن ہے نا کافر بلکہ فاسق ہے جو ان دونوں کا درمیانی درجہ ہے اسی کا نام بین بین رکھتے ہیں جو ان کے الفاظ میں 'منزلہ بین منزلتین" کہا جاتا ہے۔
    امر بالمعروف کو بھی فرض سمجھتے ہیں لیکن خوارج کی طرح فرض عین نہیں بلکہ فرض کفایہ اور خروج بالسیف اس وقت ان کے نزدیک جائز ہے جب کامیابی کی پوری امید ہو۔
    ان اصولوں پر یہ جماعت کھڑی ہوئی پھر ان اصولوں سے بہت سے مسائل پیدا ہوئے جن سے دوسری اسلامی جماعتوں سے مخالفت پیدا ہو گئی مگر علمی عقلی اور ادبی لحاظ سے ان لوگوں نے جملہ اسلامی جماعتوں پر نمایاں فوقیت حاصل کر لی۔ یونانی علوم نیز دیگر مذاہب کے عقائد اور ان تاریخوں سے بھی باخبر تھے ۔ قران میں بھی ان کو توخل تھا اگرچہ آیات کی تاویلیں اپنے اصول کے مطابق کرتے تھے ۔ حدیثوں کو خواہ محدثین کے نزدیک وہ کتنی ہی قوی ہوں اپنےاصولوں کے خلاف پاتے تو موضوع کہہ دیتے یعنی عقل کو حدیث پر حاکم سمجھتے تھے حدیث کو عقل پر نہیں بلکہ عمر بن عبید اور ابراہیم نظام جن کی شخصیتیں ان میں نہایت ممتاز تھیں بحز قران اور عقل کے کسی شے پر دین کا مدار نہیں رکھتے تھے۔
    صفات معتزلہ​

    معتزلہ عقائد میں پختہ اعمال شرعیہ میں متشدد روزہ نماز کے سخت پابند اور حج کے عاشق تھے۔ دین کی حفاظت مخالفوں سے مقابلہ اور اسلامی تعلیمات کے عقلی ثبوت کو اپنا فریضہ سمجھتے تھے ۔ جس مقام پر اس کی ضرورت دیکھتے گرمی یا سردی اور سفر کی مشقتوں کا خیال کیے بغیر پہنچتے۔ زبانوں میں طاقت تھی فصاحت میں ممتاز تھے۔ اور اس زمانے کے عقلی علوم سے مسلح تھے اسلیے بحثوں میں غلبہ حاصل کرتے۔ ملحدوں اور دہریوں اور دیگر اہل مذاہب کی تردید اور اور اپنے عقائد کے اثبات میں کتابیں اور رسالے لکھتے۔ اور مجامع اور مجالس میں دین کی حمایت میں تقریریں کرتے جو دلنشین اور بلیغ ہوتیں ، غیر مزاہب کے مجادلوں پر ان کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔
    زہد و تقوٰی اور اخلاق و عادات کے لحاظ سے اس قدر مقبول تھے کہ جہاں جاتے ہزاروں آدمی ان کے ساتھ ہو جاتے ۔ امت کی ہدایت اور رہنمائی یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر ان کے اصول میں داخل تھی۔ جس کے لیے اپنے آپ کو وقف سمجھتے تھے۔ واصل بن عطاء نے اپنے خاص شاگردوں میں سے عبد اللہ بن حارث کو مغرب میں حفص بن سالم کو خراسان میں ایوب کو جزیرہ میں حسن بن ذکوان کو کوفہ میں اور عثمان الطویل کو آرمینیہ میں بھیجا ، ان میں سے ہر ایک کے ساتھ مقام مذکوری میں بڑی بڑٰ ی جماعتیں بن گئیں۔ جو امر با المعروف کرتی تھیں اور امت کا ایک طبقہ ان کے زیر اثر تھا خاص کر وہ لوگ جو اس وقت کی علمی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے ۔ یاقوت نے معجم البلدان میں تاہرت کے تحت لکھا ہے کہ یہاں واصلیہ یعنی اصحاب واصل بن عطاء کے کم و بیش 30،000 آدمی ہیں جو خیموں میں رہتے ہیں اور جا بجا دین کی تلقین و تبلیغ کرتے پھرتے ہیں۔
    اسی قسم کی جماعتیں ان کی مغرب سے مشرق تک پھیلی ہوئی تھیں اور ان کے باہمی تعلقات بمقابلہ دوسری اسلامی جماعتوں کے زیادہ مخلصانہ تھے۔ عقلیت کی وجہ سے توہم پرستیوں سے آزاد تھے ۔ جن کے قائل تھے کہ وہ اللہ کی مخلوق ہیں مگر آیت
    "وہ اور ان کا قبیلہ دیکھتا ہے تم کو جہاں سے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے" (7/27)
    کے مطابق یہ نہیں مانتے تھے کہ وہ انسانوں کو نظر آتے ہیں اسلیے ان کے بچوں نیز ان کی عورتوں میں بھوتوں اور چڑیلوں کا خوف بالکل نہ تھا۔
    معتزلہ اور خلفاء​

    بنی امیہ کے زمانے میں معتزلہ کا حلقہ زیادہ نہین پھیلا تھا مگر ان کی جماعت قائم ہو چکی تھی۔ خلیفہ ولید بن یزید نے جب لہو لعب اور شراب و غناء میں وقت برباد کرنا شروع کیا اس وقت سب سے زیادہ اس کی مخالفت اسی جنگ نے حصہ لیا اور یزید ثالث کی جو ان کا ہم خیال تھا بھرپور ساتھ دیا یہاں تک کہ ولید مارا گیا اور یزید اس کی جگہ تخت پر آ گیا ۔ بعض معتزلہ اس کو حضرت عمر بن عبدالعزیز سے بھی بہتر قرار دیتے تھے۔
    عباسی عہد میں عمرو بن عبید راس المعتزلہ ابو جعفر منصور کے دربار میں بہت عزت رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ اس پر تنقید بھی کرتا اور اس کے مظالم اس کے سامنے گناتا۔ منصور نے ایک دن کہا یہ شاہی مہر لو تم اور تمہارے ساتھی اس کام کو سنبھالو اس نے کہا کہ یہیں آپ کے دروازے پر ہزار قسم کے مظالم ہیں پہلے ان کو دور کیجیے پھر ہم کو بلائیے تو ہم سمجھیں گے کہ آپ ہمیں سچے دل سے بلا رہے ہیں۔ محمد (نفس زکیہ) نے اپنے خروج سے پہلے عمرو کو خط لکھا تھا جس میں غالباً اس کی نصرت چاہی تھی ۔ منصور کو اس کا پتا لگ گیا عمرو سے پوچھا کہ کیا تمھارے پاس کوئی محمد کا خط آیا ہے ؟ کہا ایک خط ہے جو انھیں کے ایک خط سے ملتا جلتا ہے پوچھا پھر کیا جواب دیا ؟ بولا کہ تم کو میری رائے معلوم ہے کہ میں مسلمانوں میں تلوار کے استمعال کو جائز نہیں سمجھتا ، کہا ہاں ! لیکن قسم کھاؤ اس نے کہا کیا فائدہ میں نے اگر تقیہ سے کہا ہے تو تقیہ سے قسم بھی کھا لوں گا ۔ منصور نے کہا نہیں نہیں تم بالکل سچے ہو۔
    اس سے ظاہر ہوتا کہ اگرچہ وہ منصور کی خلافت سے بیزار تھے لیکن اس کے خلاف تلوار اٹھانا جائز نہیں سمجھتے تھے اور یہی بات تھی جس کی وجہ سے خلفاء عباسیہ نے معتزلہ کو سیاسی حیثیت سے کبھی نہیں چھیڑا۔ کیونکہ یہ لوگ ان کے حامی نہ تھے تو ان دشمنوں کے بھی حامی نہ تھے۔ منصور نے اس سے اپنی تائید کی خواہش ظاہر کی اس نے انکار کر دیا دروازے پر ابو ایوب موریانی وزیر ملا اور کہا کہ تم نے خلیفہ کو مایوس کر دیا عمرو نے کہا کہ تم کس لیے ہو ؟ اس کی مدد کرو ۔ ملت کی بد نصیبی ہے کہ اس کے مہمات تم جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔
    ہارون الرشید کے دور میں ان کا زور کم رہا کیونکہ وہ ان کے جدلیات کو ناپسند کرتا تھا اور اس نے حکم دے رکھا تھا کہ عقائد میں بحثیں نہ کی جائیں۔ لیکن اس کے بیٹے مامون الرشید نے جب اعتزال کو اختیار کیا اس وقت معتزلہ کا ستارہ چمک اٹھا جو معتصم اور واثق کے زمانوں میں عروج پر رہا اور متوکل کے زمانہ میں ڈوب گیا۔
    مامون عباسی​

    مامون جب .... سے 204 ہجری میں بغداد آیا تو اس نے اپنے علمی ذوق کی وجہ سے قاضی القضاۃ یحیٰ بن اکثم کو حکم دیا کہ پایہ تخت کے علماء کو دربار میں بلائیں۔ انھوں نے مختلف جماعتوں کے چالیس علماء چن کر حاضر کیے۔ مامون نے مجلس مناظرہ قائم کی جو ہر منگل کو منعقد ہوتی تھی اس میں وہ خود بھی شریک ہوتا تھا اور ہر ہر فرقہ کے اہل علم آزادی کے ساتھ بحث کرتے یہاں تک کہ امامیہ اور زیدیہ بھی مسئلہ امامت پر بیباکی سے دلیلیں لاتے اور معتزلہ اپنے عقائد کا ثبوت پیش کرتے۔
    اس سے پہلے اصحاب حدیث کے غلبہ کی وجہ سے کوئی شخص اعلانیہ کسی امر میں ان کی مخالفت کی جرات نہیں کر سکتا تھا لیکن اس مجلس مناظرہ نے ان کا راستہ کھول دیا۔ مامون کا مقصد غالباً یہ تھا کہ باہمی مناظرات سے اختلاف مٹ جائیں گے اور تمام فرقے ہم خیال ہو کر باہم متحد ہو جائیں گے لیکن نتیجہ برعکس نکلا کیونکہ اس نے خود اپنے آپ کو ان بحثوں سے بالاتر نہیں رکھا بلکہ معتزلہ کی تائید کی خاص کر مسئلہ خلق قران میں اس وجہ سے محدثین اور فقہا اور ان کے اثر سے جمہور اہل سنت اس کے خلاف ہو گئے اور یہی صرف یہی ایک مسئلہ تھا جو اعتزال کی تباہی کا سبب بنا اس لیے اس کو کسی قدر تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔
    فتنہ خلق قران
    معتزلہ نے جب تنزیہ ذات اور نفی ذات کا عقیدہ نکالا اس وقت اس بحث کے سلسلہ میں ذات باری سے صفت کلام کی نفی کے بعد قران کے مخلوق یا غیر مخلوق ہونے کی بحث درمیان میں آئی۔ سب سے پہلے دوسری صدی ہجری کے آغاز میں جعد بن درہم نے قران کے مخلوق ہونے کا دعوٰی کیا پھر جہم بن صفوان نے اس کی پیروی کی محدثین نے اس قول کو خلاف اسلام قرار دیا چناچہ جعد بن درہم کو خالد بن عبداللہ قسری والئ عراق نے عید الاضحٰی کے دن بطور قربانی ذبح کیا اور جہم کو سلمہ بن احوز نے عرو میں قتل کر ڈالا۔ لیکن اس خیال کے پیرو باقی رہ گئے اور جہم کی نسب سے ان کی جماعت فرقہ جہمیہ کے نام سے موسوم ہوئی۔
    مامون الرشید کے زمانے میں اس مسئلہ نے بہت شدت اختیار کر لی کیونکہ وہ خود اور اس کے درباری علماء اسی خیال کے ہو گئےاب انھوں نے محدثین کے خلاف قوت سے کام لینا شروع کیا بہت سے محدثوں کو کافر قرار دے کر قتل کر ڈالا اور سینکڑوں کو قید کی سزائیں دیں اور ابتلا و امتحان میں ڈال کر اذیتیں دیں اکثر علماء نے مجبوراً قران کو مخلوق کہہ کر اپنی جانیں بچائیں۔ مگر امام احمد بن حنبل اس ابتلاء میں ثابت قدم رہے 218 ہجری میں جبکہ مامون طرسوس میں تھا اس کے حکم سے اسحاق بن ابراہیم امیر بغداد نے امام احمد کو بیڑیاں پہنا کر سپاہیوں کی حراست میں اس کے پاس روانہ کیا مقام رقہ میں پہنچے تھے کہ مامون کے مرنے کی خبر آ گئی اس لیے پھر بغداد میں لا کر قید کر دئیے گئے۔
    مامون اپنے بھائی معتصم کو جو اس کا جانشین ہوا سخت تاکید کر گیا کہ میرے بعد کوشش کر کے اس "مشرکانہ" عقیدے کو مٹا دینا ۔ بھائی کی وصیت نیز احمد بن داؤد راس الاعتزال کے اثر سے جو یحیٰ بن اکثام کی جگہ قاضی القضاۃ بھی تھا اور وزیر بھی معتصم نے 220 ہجری میں مجلس مناظرہ منعقد کی امام احمد بن حنبل پابچولاں لائے گئے خلیفہ اور وزیر دونوں جاہ جلال کے ساتھ جلوس فرما تھے دیگر علماء معتزلہ بھی جمع تھے قضاۃ فقہا امراء و روساء سے دربار بھرا ہوا تھا وہ معتصم کے سامنے بٹھائے گئے۔
    معتصم: قران کی بابت کیا کہتے ہو ؟
    امام احمد: کوئی آیت یا روایت پیش کی جائے اس کے مطابق کہنے کو تیار ہوں
    ایک معتزلی: قران میں ہے "ما یاء تیھم من ذکر من ربھم محدث" کیا محدث مخلوق نہیں ؟
    امام احمد: قران کے لئے الذکر کا لفظ آیا ہے الف الم کے ساتھ اس میں ذکر بغیر الف لام کے ہے اسلئے اس سے قران مقصود نہیں۔
    دوسرا معتزلی: قران میں ہے "اللہ خالق کل شئی" کیا قران شے نہیں ہے ؟
    امام احمد: اللہ نے قران میں کئی جگہ اپنے لئے "نفس" کا لفظ استعمال کیا ہے مثلاً "کتب علی نفسۃ الرحمۃ" پھر فرماتا ہے "کل نفس ذائقۃ الموت" کیا تمھارے خیال میں نفس الہٰی کے لیے یہی موت ہے ؟
    تیسرا معتزلی: عمران بن حصین سے روایت ہے کہ " ان اللہ خلق الذکر "
    امام احمد: اس روایت کا صحیح لفظ ہے "ان اللہ کتب الذکر"
    چوتھا معتزلی: حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ "ما خلق اللہ من جنۃ ولا سماء ولا رض اعظم من ایۃ الکرسی"
    امام احمد: خلق کا فعل جنت نار سماء اور ارض سے متعلق ہے نہ کہ ایتہ الکرسی سے ۔
    پانچواں معتزلی: کلام اللہ کو غیر مخلوق کہنے سے اس کی مشابہت اللہ کے ساتھ لازم آتی ہے۔
    امام احمد: اللہ احمد ہے صمد ہے نہ کوئی اس کا شبہیہ ہے نہ عدیل۔
    لیس کمثلہ شئیی 1
    معتصم: ہاں تم کیا کہتے ہو ؟
    امام احمد: کوئی روایت یا آیت دیجیے تو اس کے مطابق کہوں ۔ ایک معتزلی نے عقلی دلائل دینے شروع کیے۔
    امام احمد: میں اس کو نہیں جانتا ۔ نہ یہ آیت ہے نا روایت۔
    معتزلی: (خلیفہ سے مخاطب ہو کر) امیر المومنین ! جب ان کو کوئی دلیل نظر آتی ہے تو ہمارے اوپر جھپٹ پڑتے ہیں اور جب ہم کچھ کہتے ہیں تو بول اٹھتے ہیں کہ میں اس کا نہیں جانتا۔
    احمد بن داؤد: امیر المومنین ! یہ گمراہ ہے گمراہ کن اور بدعتی !
    اس بحث کے بعد قید خانے واپس بھیج دئیے گئے دوسرے دن پھر لائے گئے اور مناظرہ ہوا تیسرے دن جب اہل دربار تھک کر مایوس ہو گئے تو اس وقت معتصم نے تازیانہ مارنے کا حکم دیا ۔ مسعودی کے مطابق 38 کوڑے لگائے گئے تھے کہ جسم سے خون جاری ہو گیا اور بے ہوش ہو گئے ۔ معتصم نے قید خانے بھجوا دیا اور ایک طبیب مقرر کر دیا جس کے علاج سے اچھے ہوئے۔ معتصم ان لوگوں کو جو قران کو غیر مخلوق کہے قتل کر دیتا تھا ۔ اس دن بھی جس دن امام احمد کو دربار میں بحث کے لئے طلب کیا تھا دو شخصوں کا اسی جرم میں قتل کر چکا تھا۔ لیکن امام موصوف کے قتل کی جرات اسلئے نہیں کی جس کے حسب ذیل اسباب تھے:

    (1) امام احمد کے ساتھ جمہور کی عقیدت بہت زیادہ تھی اس لئے ڈرا کہ ان قتل سے فتنہ عام برپا ہو جائے گا جسے مٹا نا نہایت دشوار ہو گا۔
    (2) معتصم خود شجاع تھا اور شجاعت کا قدر دان امام موصوف کے مناظرے سے ان کے استقلال اور ثبات کا نقش اس کے دل میں بیٹھ گیا جس کی وجہ سے ان کو قتل کرنا گوارا نہ کیا۔
    (3) اس نے ان کے بشرہ سے ان کی راست بازی اور خلوص کو دیکھا اور سمجھ گیا کہ وہ صرف اس وجہ سے قران کو غیر مخلوق کہتے ہیں کہ مخلوق کہنے کی کوئی دلیل نہیں پاتے۔
    آخر کار ان کو چھوڑ دیا ۔ اس کے بعد سات سال تک زندہ رہا مگر پھر ان سے کچھ نہیں بولا ۔ 227 ہجری میں اس کے مرنے پر واثق خلیفہ ہوا وہ خلق قران کے عقیدہ کی حمایت کرتا رہا یہاں تک کہ احمد بن نصر کو اس کی مخالفت پر خود اپنے ہاتھوں سے قتل کیا۔ لیکن امام احمد سے کبھی کچھ تعرض نہیں کیا۔ جب متوکل خلیفہ ہوا اور اس نے دیکھا کہ اس فضول بحث سے نہ خلافت کو کوئی فائدہ ہے نہ امت کو بلکہ دن بدن نفرت کی خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ 234 ہجری میں تمام صوبوں میں حکم بھیج دیا کہ کوئی قران کو مخلوق نہ کہے۔ اس پر سارے ملک میں خوشی منائی گئی اور جو لوگ معتزلہ کی سختیوں سے تنگ تھے خوش ہو گئے بلکہ رائے عامہ ان کے خلاف اس قدر بڑھک اٹھی کہ جمہور نے ان سے انتقام لینا شروع کیا متوکل نے محدثین کی مدارات کے لئے ان کو سامرہ میں بلا کر انعامات دئیے اور صفات اور رویت کی احادیث روایت کرنے کی آزادی عطا کی چناچہ ان کی مجالس میں غیر معمولی مجمع ہونے لگا امام احمد بن حنبل جو اس امتحان میں پورے اتر گئے تھے محدثوں کے سردار مانے گئے یہاں تک یہ اصول مسلمہ ہو گیا کہ جس کو وہ ثقہ کہہ دیں وہ ثقہ ہے جس کو ضعیف کہہ دیں وہ ضعیف ۔ لوگ متوکل کے شکرے کے ساتھ اس کے لیے دعائے خیر کہنے لگے۔ اور اس قدر تعریف کی کہ بعض حنابلہ نے اس بد تدبیر اور عیاش خلیفہ کو جس کے محل میں بقول ابوبکر خوارزمی 12،000 حرم تھیں خلفاء راشدین کے برابر قرار دیا۔ حنبلیوں کا زور اس قدر بڑھ گیا کہ انھوں نے بغداد میں احتساب اپنے ہاتھ میں لے لیا معتزلہ خوف سے چھپ گئے اور جماعتی لحاظ سے ان کا وجود ختم ہو گیا۔
    تو ضیح مسئلہ
    خلق قران کا مسئلہ جس نے نا صرف امت بلکہ عباسی سلطنت میں تزلزل ڈال دیا تھا۔ محض فلسفیانہ غلو اور قران کی ناواقفیت کی بنا پر پیدا ہوا تھا۔ معتزلہ سمجھتے تھے کہ غیر مخلوق کہہ دینے سے قران قدیم ہو جاتا ہے جس سے قدماء کا تعدد لازم آتا ہے اسلیے یہ عقیدہ مشرکانہ ہے لہذا خلیفہ اسلام کا یہ فرض ہے کہ ایسے عقیدے کو جو توحید کے خلاف ہو قوت سے مٹائے ، دوسری طرف محدثوں کے پاس بھی غیر مخلوق کہنے کے دلائل اس قدر واضح نہ تھے کہ معتزلی کی تشفی کر سکتے نتیجہ یہ ہوا کہ تعصب درمیان میں ایا اور معاملہ بہت بڑھ گیا محدثین کے پاس اس کے علاوہ کیا چارہ تھا کہ رسول اللہ کی حدیثیں سنا سنا کر عوام کے ایمان کو جو ایمان کی قوت تھے تازہ رکھیں چناچہ متعدد حدیثیں اس مضمون کی کہ "القران کلام اللہ غیر مخلوق" مختلف پیرایوں میں رسول اللہ سے روایت کی گئیں اور وعظ و تذکیر کے ذریعے سے لوگوں میں پھیلائی گئیں لیکن اگر قران میں غور کیا جاتا تو یہ مسئلہ بالکل واضح ہو جاتا اور روایات کی مطلق ضرورت نہ پڑتی۔
    امام احمد بن حنبل نے اپنے رسالہ رد جہمیہ میں سورہ اعرعاف کی آیت "الا لہ الخلق والامر" سے یہ استدلال کیا ہے کہ "خلق اور امر دو مختلف چیزیں ہیں کیونکہ قران میں یہ اصول عام ہے کہ جب وہ ایک ہی چیز کا مختلف الفاظ میں ذکر کرتا ہے تو ان کے درمیان فصل کے لئےواؤ نہیں لاتا مثلا ً سورہ حشر میں ہے "الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر" اور جب دو مختلف چیزیں ہوتی ہیں تو ان کے درمیان واؤ عاطفہ داخل کرتا ہے جیسے سورہ فاطر میں ہے۔
    "و ما یستوی الا عمٰی والبصیر ولا الظلمات ولا النور ا ولا الظل ولا الحرور اوما یستوی الا حیاء ولا الاموات"
    سورہ تحریم میں ایک ہی آیت میں دیکھو
    "ازواجاً خیراً منکن مسلمت مومنات فانتات تائبات عابدات ثیبات و ابکاراً"
    جہاں تک ایک ہی چیز کے مختلف اسماء اور صفات تھے وہاں تک بلا فصل رکھا لیکن ثیبا اور بکر دو مختلف صفتیں ہیں جن کا باہم اجتماع نہیں ہو سکتا اسلئے ان میں واؤ لا کر فصل کر دیا لہذا خلق کا اطلاق امر پر اور امر کا اطلاق خلق پر نہیں ہو سکتا قران امر ہے۔ سورہ طلاق میں ہے " زالک امر اللہ انزلہ الیکم" اسلئے اس کو خلق نہیں کہہ سکتے یہ استدلال ان کا صحیح ہے لیکن عالم امر کی مزید حقیقت ان کے اوپر منکشف نہیں تھی کہ وہ عالم خلق کی طرح حادث ہے اور محدث کا لفظ اس کے لئے بولا جا سکتا ہے اس وجہ سے معتزلہ کے استدلال "ما یاء تیھم من ذکر من ربھم محدث" کا ٹھیک جواب وہ نہ دے سکے۔
    اصلیت یہ ہے کہ امر کا لفظ جس طرح قران میں جا بجا بہت سے معنوں میں مستعمل ہوا ہے اسی طرح اس کی متعدد نوعیتیں بھی قران سے ثابت ہوتی ہیں۔
    امر تکوینی یعنی اشیاء کی تخلیق کا حکم ۔ سورہ یسین میں ہے "انما امرہ اذا اراد شیاء ان یقول لہ کن فیکون"
    اس کا حکم جب کہ وہ کسی شے کی تخلیق کا ارادہ کرتا ہے یہی ہے کہ اس سے کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔
    امر تدبیری یعنی عالم خلق کے انتظامی اور تدبیری احکام سورہ یونس میں ہیں
    "خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش یدبر الامرا"
    آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر براجا تدبیر کرتے ہوئے امر کی۔
    آیت زیر بحث "الا لہ الخلق والامر" میں جو امر مذکور ہے وہ تدبیری ہے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے کے بعد اللہ نے ان کے انتظام کی تدبیر کے لئے اپنے اوامر نافذ فرمائے۔ سورہ حم سجدہ میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے کہ ہم نے دو دن میں زمین پیدا کی پھر دو دن میں پہاڑ اور زمین کے جملہ اندرونی ذخیرے بنائے پھر دونوں دن میں ساتوں آسمان کھڑے کئے اس کے بعد "اوحی فی کل اسماء امرھا" ساتوں بلندیوں میں ان کے تدبیر ی اور انتظامی اوامر نافذ کئے ایسا ہی ساتوں پستیوں کے مطلق سورہ طلاق میں فرمایا
    "خلق سبع سموات و من الارض مثلھن ینزل الامیر بینھن"
    سات بلندیاں پیدا کیں اور ویسی ہی سات پستیاں جن میں اوامر اترتے ہیں۔
    اس طرح بلندیوں اور پستیوں سب میں اوامر تدبیری نافذ ہیں۔ سورہ سجدہ میں ہے
    "یدبر الامر من السماء الی الارض" وہ امر کی تدبیر کرتا ہے بلندی سے پستی تک۔
    اب واضح ہو گیا کہ عالم امر عالم خلق کے بعد ہے جس کی ان آیات کے علاوہ بھی متعدد آیتوں میں تصریح ہے۔ سورہ سجدہ میں ہے
    "خلق السموات والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش"
    پیدا کیا آسمانوں اور زمینوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پھر عرش پر مستولی ہوا۔
    عرش اسی کا نام رکھا جہاں سے اوامر تدبیری نافذ ہوتے ہیں۔ اور جن کا نفاذ رحمت کی تجلی سے ہوتا ہے۔ "الرحمن علی العرش استوی" اس لئے عرش استواء علی العرش اور تنفیذ اوامر تدبیری سب خلق کے بعد کی چیزیں ہیں اور عالم خلق اور عالم امر دونوں حادثات ہیں اور دونوں کی ہر شے پر محدث کا لفظ بولا جا سکتا ہے۔
    اسی امر تدبیری کے ذیل میں امر تشریعی ہے وہ بھی حادث اور محدث ہے بنی اسرائیل کے بارے میں سورہ جاثیہ میں ہے
    "وایتنا ھم بینات من الامر" اور ہم نے کھلی دلیلیں امر (شریعت) کی ان کو دیں
    خاتم النبین سے اسی سورہ میں خطاب ہے
    "ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر" پھر ہم نے جھ کو عالم امر سے ایک شریعت پر لگا دیا
    وحی اور کلام الہٰی اسی تشریعی امر میں داخل ہے سورہ طلاق میں ہے
    "ذلک امر اللہ انزلہ الیکم" یہ امر الہٰی ہے جس کو اس نے تمھاری طرف اتارا۔
    سورہ شورٰی میں ہے
    " و کذالک اوحینا الیک روحاً من امرنا" ایسا ہی ہم نے تیری طرف اپنے امر کی ایک روح (قران) کی وحی کی
    اس لئے قران جو امر تشریعی ہے حادث ہے اور محدث ہے مگر عالم امر سے ہے عالم خلق سے نہیں ہے لہذا اس کو مخلوق کہنا قران کے خلاف ہے۔
    فنا کے اسباب​

    معتزلہ کے مٹنے کے اسباب خود ان کے اصول اور اعمال میں غور کرنے سے واضح ہو جاتے ہیں اور حسب ذیل ہیں

    (1) یہ جماعت دین میں ایمان اور عقلیت (دلائل علمی) دو نوں کی راہ سے داخل ہوئی تھی اور اعتزال کے قوام ماہیت میں فلسفہ شامل تھا اس وجہ سے اس کا راستہ امت سے نمایاں طور پر الگ ہو گیا
    ایمان کے اجزاء: اللہ ، رسول ، ملائکہ ، کتاب ، یوم آخر ۔
    اسلام کے ارکان: کلمہ طیبہ ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ
    اعتزال کے عناصر: توحید، عدل ،وعدہ و عید، بین بین ، امر بالمعروف
    یہی وجہ ہے کہ جو پختگی محدثین کے دل میں تھی وہ معتزلہ میں پیدا نہیں ہو سکی۔

    (2) معتزلہ اگرچہ عقلیت پرست تھے اور حدیثوں کے راویوں تابعین عظام بلکہ صحابہ کرام پر بھی بے تھاشہ تنقید کرتے تھے مگر عوام کی طرح ان مذہبی جھگڑوں میں بھی حصہ لیتے تھے جو روایتوں سے پیدا ہوئے تھے خاص کر ابوبکر و علی کی بحث میں بصری جماعت کی بڑٰی تعداد حضرت ابوبکر کو افضل سمجھتی تھی اور بغدادی شاخ تمام تر حضرت علی کو ۔ ان کی عقلیت شخصیت پرستی سے ان کو نہیں نکال سکی تھی یہاں تک کہ استبدادی خلافتوں کو بھی صحیح مانتے تھے اور ان کے ساتھ موالات رکھتے تھے۔

    (3) قران میں تدبر و تفکر کرتے تھے مگر اس سے زیادہ تر غرض ہوتی تھی اپنے مخصوص عقائد کی دلیل یا آیات اور معجزات کی تاویل ، اسلئے قران کے پاس بھی نہ پھٹک سکے اور پہلا قدم ہی جو انھوں نے اس میں رکھا غلط پڑا۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ قران نے اپنی آیات کو محکمات اور متشہبات میں تقسیم کیا ہے اور متشہبات کے متعلق تصریح کر دی ہے کہ ان کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ان کو صرف مان لینا چاہیے جو لوگ علم میں پختہ ہیں ان پر ایمان لاتے ہیں مگر جن کے دلوں میں کجی ہے وہ ان کی تاویلوں کے پیچھے پڑتے اور فتنے برپا کرتے ہیں۔ یہ متشہبات اللہ کی ذات صفات جنت نار اور میزان عمل وغیرہ ہیں جن کا بیان تمثیل و تشبیہ کے طور پر ہے اور جن کی حقیقت کو سمجھنے میں انسان اس دنیا میں قاصر ہے۔ معتزلہ نے سب سے پہلے متشہبات کو ہی لیا اور اللہ کی ذات کو صفات سے منزہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کی اور اسی کو اپنا اولین اصول "توحید" قرار دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اسی سے خلق قران کا مسئلہ نکلا جس سے فتنہ برپا ہو گیا اور آخر اسی فتنے کی موجیں خار و خس کی طرح ان کو بہا کر لے گئیں۔

    (4) غلطی پر غلطی انھوں نے یہ کی کہ اس فلسفیانہ عقیدہ میں عوام کو شریک کرنا چاہا اور اپنی جماعت میں سے ٹولیاں بنا کر اطراف ممالک میں تبلیغ کے لئے بھیجنے لگے۔ اور کوشش شروع کی کہ اعتزال کو حکومت کا رسمی مذہب بنا دیں ۔ خلیفہ مامون اور وزیر احمد بن ابی داؤد دونوں ان کے ہم خیال تھےاس وجہ سے کامیابی کی امید بھی قوی تھی۔

    (5) آخر میں سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ اس عقیدے کو اپنے حریفوں سے منوانے کے لئے قوت سے کام لیا اور اس عقلیت پرست جماعت نے جس کو وسیع القلب ہونا چاہیے تھا ایسی تنگ دلی اختیار کی کہ بڑے بڑے محترم بزرگان امت کو سزائیں دلوائیں۔ قید و بند میں ڈالا اور قتل کرایا۔ آخر مکافات کے اصول نے ان کو جڑ بنیاد سے اکھاڑ پھینکا۔
    احمد بن ابی داؤد جو مامون کے زمانے میں واثق کے عہد یعنی 217 سے 222 ہجری تک نہ صرف قاضٰ القضاۃ بلکہ عملاً وزیر بھی تھا اس تمام فتنہ کا بانی تھا۔ 233 ہجری میں اس پر فالج گرا متوکل نے اس کی جگہ اس کے بیٹے ابو الولید کو مقرر کیا تھا پھر معزول کر دیا دونوں باپ بیٹا کی ساری ملکیت ضبط کر لی گئی سخت مصیبتیں اٹھا کر نہایت نامرادی کے ساتھ یہ دونوں 239 ہجری میں مرے اور امام احمد بن حنبل نے 241 ہجری میں وفات پائی۔ اس دن بغداد میں دارا کاروبار بند ہو گیا ان کے جنازے میں جس قدر خلقت تھی اس کا شمار تیرہ لاکھ سے زائد تھا اور بالا خانوں اور شہر پناہ کے اوپر مستورات کم از کم ساٹھ ہزار تھیں۔ حنابلہ کہتے ہیں (بیننا و بینکم یوم الجنائز) ہمارے تمھارے درمیان جنازہ کے دن فرق ظاہر ہوتا ہے۔
    معتزلہ کے بعد​

    معتزلہ اگرچہ اپنی تباہی کے آپ ذمہ دار ہیں مگر ان کے فنا ہو جانے سے امت کا عقلی اور دینی نقصان ہوا محدثوں نے منقوولات سے جوجمود پیدا کیا تھا اس کے مقابلے میں ان کی عقلیت نے توازن پیدا کر رکھا تھا ان کے مٹ جانے سے پھر وہی جمود عود کر آیا اب جو لوگ علوم عقلیہ لے کر اٹھے مثلاً فارابی ، ابن سینا اور ابن رشد وغیرہ وہ محدثین کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتے تھے اور اسی کو غنیمت سمجھتے تھے کہ وہ ان کو افکار میں آزاد رہنے دیں ان کی زندگیوں کا ماحاصل فلسفہ تھا اور اعتزال دین کو ہر شے پر مقدم رکھتے تھے اس لئے یہ لوگ ان کی جگہ پر نہ کر سکے اور متکلمین نے تو شروع ہی سے علم کلام کی بنیاد اہل سنت کے عقائد پر رکھی اور دینی لحاظ سے ہمیشہ محدثوں کے تابع رہے۔

    وسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. طالوت

    طالوت محفلین

    مراسلے:
    8,353
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Bashful
    (شیعہ سے متعلق دھاگہ حذف کرنے کا شکریہ مگر یہ بھی یاد رکھا جائے کہ آئندہ کے لئے امیر المومنین یزید بن معاویہ سے متعلق کسی بھی قسم کی بے ہودہ گفتگو بھی حذف کی جائے گی کیونکہ وہ میرے لئے تکلیف دہ ہے اور میں اسے فرقہ واریت کا سبب جانتا ہوں ۔۔ امید ہے میری گزارش پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے گا)
    وسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. طارق راحیل

    طارق راحیل محفلین

    مراسلے:
    456
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. Sumera

    Sumera محفلین

    مراسلے:
    1
    قدما کی تعدد سے کیا مراد ہے وہ کس طرح توحید کے منافی ہے
     

اس صفحے کی تشہیر