1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $420.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ چہاردہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی چودہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

مصطفوی چراغ صلی اللہ علیہ والہ وسلم

نور وجدان نے 'آپ کی تحریریں' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 12, 2019

  1. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,231
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    عربی.ڈھولا....یا مصطفی
    کمال.مرشد، کمال نبوت
    کمال.بندگی یا مصطفی
    سید البشر کا.شیریں لقب
    حیات و ممات کا.سبق
    کیا لمحات ہیں یہ عجب
    ملتا.اسے جو کرتا ادب
    ادب سے روشنی پائی
    روشنی.نے زندگی دی
    زندگی.نے درد.کا رشتہ.
    شکستگی سے ملی خوشی


    جمال نبی کی نظر سے بدلی ہوئ
    برسات میں نور برستا دیکھا یے
    محمد محمد کا نوری کلمہ.دیکھا
    دل ملا، دل جلتا ہوا .تب دیکھا
    شاہ ولا سے ملا ولایت کا تحفہ
    شاہ ولا نے زمین پہ نام محمد لکھا
    شاہ ولا کا بارِ علم سماوی نور ہے
    شاہ ولا کا شعار یقین رہبری کا.سرور ہے
    شاہ ولا نے حسن کی چادر اوڑھے ہوئے
    دل صدقے دل پہ ہزار جان نچھاور


    من کی بتیاں نچھاور، مرے یاور
    کمال کی یہ اگر بتیاں، مرے یاور
    مل رہے ہیں نوری ہالے، جل.رہے ہیں سارے
    سرر نے عجب حال کر رکھا ہے
    شاہا نے سایہ ڈال یوں رکھا.ہے
    کمال کی چادر گلابی گلابی.ہے
    حیا کی.چادر سرخ عنابی ہے
    کفن پہ نام محمد کی تجلی.ہے
    شاہا کے نام کی یہ کملی ہے
    کملی جانے کیا، .ادب سے جھکی
    شاہا کی نظر سے مست و مجذوب
    شاہا کے الطاف کی حد نہیں ہے
    ان کے قد کی. کوئ حد نہیں.ہے
    شام حنا نے رنگ سے اجالا کردیا
    آقا کے نور نے یوں بول.بولا کردیا
    کعبے نے شوق حضور میں کہا ہے
    نور کے دل میں مرا حبیب رہا.ہے
    کعبہ کا کعبہ دل مجذوب ہوا ہے
    قصہ یوں عشق کا.مشہور ہوا ہے
    سماوات پہ میم کی عجب مثال
    سنگیوں پہ.روشنی، عجب کمال
    آپ کی نعمت سے دل پہ نوری ہالہ
    دل کہے جائے ہے شاہ والا.شاہ والا ...
    قبر پہ.روشنی.، روشنی.ہادی ہے
    یہ قبر نہیں، غار حرا کی.وادی.ہے


    فقیر ہوں، فقیر پہ اہل کرم کا کرم
    خالی جھولی کا رکھا ہے یونہی.بھرم
    جھکا رہا سر مرا کہ عاری ہے شرم
    مرے سر پہ شاہا کا ہاتھ، ان کا ہے کرم
    نوازئیے نور ابدی کے کامل آئنے
    مطلق حقیقت کے سب کامل.آئنے
    درود سے چلتا ہے نظام مصطفوی
    مصطفوی نور میں.چمکے حجابات
    مصطفوی نور سے ہوتی رہی ہے بات
    آج تو پانی ہو رہے سماوات،
    شاہ ولا نے سنا قصہ کہا یہ حل.ترا
    چہرہ محبوب دیکھنا بس،حق ہے
    چہرہ محبوب دیکھنا عبادت، حق ہے
    چہرہ نور سے دل نور ولا میں روشن
    جانب.طور سلسلہ.ء جبل میں روشن
    تقریب حسن کی.رعنائ ہے،
    تقریب گام میً.جلوہ، گاہ میں

    ملائک سے سماوات مخاطب
    مولائے کائنات سے آپ مخاطب
    یوں سلسلہ ہائے نور در نو.چلا
    عرش سے نور فرش تک چلا
    زیست کے سفر میں کفر اضافی
    شمس کی زندگی ولا ہے کافی
    اللہ والے پہ رہتا الوالی کا سایہ
    جو ملے سایہ تو بدلتی.ہے کایہ
    نام محمد تو جہاں پہ چھایا ہے
    کلمہ حق کی استمراری زبان ہے
    نام محمد تو اللہ کی گردان ہے
     

اس صفحے کی تشہیر