مسلم معاشرہ کے سنگین اور بھیانک مسائل

شمشاد نے 'اپنا اپنا دیس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 7, 2006

  1. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,193
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آج مسلم معاشرہ جن سنگین اور بھیانک مسائل سے دو چار ہے ان میں ایک مسئلہ نوجوان لڑکیوں کی شادیوں کا ہے۔ پاکستان، ہندوستان اور دیگر اسلامی ممالک میں لاکھوں لڑکیاں ایسی ہیں جن کی شادی نہیں ہو سکی حالانکہ ان کی عمریں 30-35 سال سے تجاوز کر چکی ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم اللہ کی شریعت سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ آیئے اس سلسلے میں اللہ تعالٰی کے احکامات اور اپنی حالت کا جائزہ ہیں :

    لڑکیوں کی تعلیم و تربیت : اسلام نے لڑکیوں کی پرورش اور ان کی تعلیم و تربیت پر زور دیا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جس نے تین لڑکیوں کی پرورش کی، ان کی تعلیم و تربیت کی، ان کی شادیاں کیں اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔ (ابو داؤد 5147)

    مغرب کی اندھی تقلید میں حجاب کی پابندیوں کو نظر انداز کر کے مخلوط تعلیم میں عورتوں کو مردوں کے ساتھ اسکولوں اور کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے۔

    کوٹھی، بنگلہ اور آرائشِ زندگی کی بلندی کے مقصودِ حیات نے لوگوں میں حلال و حرام، جائز و ناجائز کا فرق مٹا دیا ہے۔ جبکہ معیارِ زندگی کی بلندی کی کوئی حد مقرر نہیں لیکن یہی خواہش نے اصلی سکون اور راحت ختم کر دی ہے۔

    لڑکی کو اعلٰی تعلیم دلوانے کے بعد کوئی رشتہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔ معیاری رشتہ کی تلاش میں لڑکیوں کی شادی کی عمریں گزر جاتی ہیں۔ کسی کی تعلیم کم ہے اور کسی کے پاس دولت کم ہے، کسی کا حسب و نسب معیاری نہیں ہوتا، گویا آج کے دور میں ایک بہت بڑا فتنہ معیاری رشتہ کی تلاش ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دینداری کی بنیاد پر رشتہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

    آج مسلمان دنیاوی تعلیم کے پیچھے اس طرح پڑے ہوئے ہیں کہ دینی تعلیم کا خیال بھی ان کے ذہن میں نہیں آتا۔ جب شادی ہوتی ہے تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ حقوق الزوجین کیا ہیں اور اس کی کمی بیشی کی وجہ سے رشتے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔

    مہر : نکاح کے لیے مہر دینا واجب ہے لیکن آج بعض اوقات مہر کی رقم اتنی زیادہ مقرر کی جاتی ہے کہ نکاح کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مہر اتنا ہی ہونا چاہیے جتنا مرد آسانی سے ادا کر سکے۔

    آج ہمارے معاشرہ کا رواج ہے کہ ہم شادی میں لاکھوں خرچ کرتے ہیں لیکن نکاح کے وقت مہر ادا نہیں کرتے اور کئی تو ایسے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کا مہر ان کی بیوی سے زبردستی معاف کروا دیتے ہیں جو شریعت میں بالکل غلط ہے۔

    غیر ضروری اخراجات : آج ہم اگر اپنی شادیوں کے اخراجات پر نظر ڈالیں تو ایسے لگتا ہے کہ ہم صرف فضول خرچی کرنے کے لیے کما رہے ہیں۔ کم از کم چھ یا سات قسم کے پکوان ہوتے ہیں، سینکڑوں ہزاروں مہمانوں کی دعوت ہوتی ہے، ایک ایک لباس ہزاروں کا ہوتا ہے جو صرف ایک دن کے لیے بنوایا جاتا ہے۔ غیر شرعی رسموں کی وجہ سے ایک دوسرے کو تحفہ تحائف دینے کے چکر میں لوگ قرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور جو تحفہ دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ پھر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور شادی سے غیر حاضر ہو جاتے ہیں۔ خاص طور سے جو لوگ خلیجی ممالک سے جاتے ہیں یہ تک نہیں سوچتے کہ ہم جو قربانی دے کر اپنے گھر سے دور رہ کر جو کچھ کماتے ہیں اسے کس طرح ضائع کر رہے ہیں۔

    = اور تم اپنے رشتہ داروں کو غریب مسکینوں کو اور مسافروں کو ان کا حق دو اپنی دولت کو مگر فضول خرچ مت کرو (سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 26)

    = فضول خرچی کرنے والا شیطان کا بھائی ہے اور شیطان اپنے خدا کا ہمیشہ سے ناشکرا رہا ہے (سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 27)

    جہیز : اسلام میں جہیز کے مطالبہ کا کوئی تصور نہیں۔ یہ ہندوانہ رسم ہے جو مسلمانوں کے اندر پھیل گئی ہے۔ آج مسلم معاشرہ میں بھی یہ چیز عام ہے کہ جہیز میں جوڑے، نقد رقم، کار، موٹر سائیکل اور دیگر چیزوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اور جو لڑکی جہیز میں مطلوبہ چیزیں نہیں لاتی اسے طعن و تشیع سے لے کر مار کٹائی بلکہ طلاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    غریب لوگ بھی اپنی اور اپنی لڑکی کی عزت قائم رکھنےکے لیے ادھار بلکہ سود پر رقم لیتے ہیں اور ساری زندگی اس کی ادائیگی کرتے رہتے ہیں لیکن اعلٰی قسم کا جہیز اس لیے تیار کرتے ہیں کہ ان کی لڑکی کو سسرال میں طعنے نہ سننے پڑیں اور وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر سکے۔ اور سسرال والوں کے ظلم سے بچ سکے۔ اس معاملے میں معاشرہ بے حس ہو چکا ہے۔ الا ماشاء اللہ - اس ظلم کے خلاف کوئی موثر کوشش نظر نہیں آتی۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے اللہ تعالٰی اس سب کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔ (ابو داؤد 4338، ترمذی 2168)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ایک صحابی نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وہ مظلوم ہو تو میں اس کی مدد کروں گا لیکن یہ فرمائیے اگر وہ ظالم ہو تو اس کی مدد کیسے کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو تم ظلم کرنے سے روک دو۔ یہی اس کی مدد ہے (بخاری 2443)۔

    آج معاشرہ میں جہیز کے نام پر جو ظلم و فساد ہو رہا ہے اس کو روکنے کے لیے کتنا جامع ارشاد ہے کہ اخلاق و جرات سے کام لے کر ظالم کو ظلم کرنے سے روکو۔ کمزور عورتوں پر ظلم کرنے والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد رکھنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظلم کرنے سے بچو اس لیے کہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہو گا۔ (مسلم 2578)۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب اس کی گرفت فرماتا ہے تو اسے نہیں چھوڑتا (بخاری 4686، مسلم 2583)۔

    بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ ساری خلقت میں بہتر ہیں۔ (سورۃ البینہ آیت 7)

    اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے اور ہمیں معاشرہ میں ہونے والے ہر ظلم کو روکنے کی توفیق دے۔

    آمین یا رب العالمین۔
     
  2. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    واقعی کافی سنگین مسئلہ ہے مگر یہ مسئلہ جہاں تک میرا خیال ہے برصغیر کا ہی ہے باقی مسلم معاشروں کا نہیں۔
     
  3. تیلے شاہ

    تیلے شاہ محفلین

    مراسلے:
    3,283
    نہیں محب بھائی یہاں سعودی لوگ بھی اسی چکر میں پڑے ہیں میرے دوست ہیں یہاں کے لڑکے وہ بھی لڑکی والوں کی طرف سے
    شرطوں پر پریشان ہیں کہی رہے تھے کے جس کے پاس نوٹ ہیں وہ 5 5 شادیاں کر رہا ہے اور جو غریب ہیں وہ ایک کے لیے بھی ترس رہے ہیں
     
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,193
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہ پورے مسلم معاشرے کا مسئلہ ہے، ملک کا نہیں، یہ الگ بات ہے کہ مختلف ملکوں میں مسائل مختلف ہوں گے۔

    محب بھائی یورپ اور امریکا میں تو یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے۔
     
  5. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جی ان یورپی ممالک اور امریکہ یا کینیڈا میں‌تو نیشنلٹی کا چکر ہی سب سے بڑا اور برا ہے۔ شادی برائے پیپرز کی جاتی ہے۔ 3-4-5 سال بعد جب شہریت ملتی ہے تو بنا بنایا گھر اجڑ جاتا ہے۔ بچے بھی اسی کی نذر ہو جاتے ہیں۔
    بےبی ہاتھی
     
  6. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,193
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ان ممالک میں صرف شہریت کا ہی مسئلہ نہیں ہے، اور بھی بہت زیادہ مسائل ہیں۔
     
  7. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    میرا کہنا تھا کہ برصغیر میں لڑکیوں کی شادی کا مسئلہ زیادہ تر جہیز کی وجہ سے ہوتا ہے جبکہ عرب دنیا میں مسئلہ الٹا ہے یعنی لڑکوں کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے شادی کے لیے۔ یورپ اور امریکہ میں یہ مسئلہ ایک اور رخ لے لیتا ہے۔ وہاں شادی زندگی موت کا مسئلہ نہیں ہے ، طلاق معیوب نہیں بلکہ معاشرے میں عام ہے اس لیے شادیاں کم ہی نبھتی ہیں۔
     
  8. شارق مستقیم

    شارق مستقیم محفلین

    مراسلے:
    894
    شعور بیدار کرنے کی کوشش

    اچھا لکھا ہے شمشاد ایسے مسائل کے بارے میں لوگوں میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ خصوصاً جہیز کی لعنت بہت پریشان کن ہے اور ایسا شیطانی چکر ہے جس میں ہم سب پھنس گئے ہیں۔ میں نے بھی ایک مرتبہ اس حوالے سے لکھا تھا:

    ہم آپ کی طرف سے ایسے مزید مضامین کے منتظر رہیں گے۔
     
  9. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جی شمشاد بھائی، میں‌نے صرف یہ کہا ہے کہ جیسے پاکستان یا بھارت میں‌ جہیز والا مسئلہ سب سے بڑا اور بُرا ہے، اسی طرح‌ان ممالک میں‌سب سے بڑا اور برا یہی نیشنیلٹی والا ہے۔ باقی تو مسائل حلال کھانوں‌سے لے کر بچوں‌کی پرورش تک۔
    بےبی ہاتھی
     
  10. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,193
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آپ کہہ سکتے ہیں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ قومیت کا مسئلہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
     
  11. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جی یہ کچھ کچھ ٹھیک ہے‌:)
    بےبی ہاتھی
     
  12. تیشہ

    تیشہ محفلین

    مراسلے:
    21,892


    اگلے دن جیو پر ‘ پولیس نے اک ایسا باپ پکڑا ہے جس نے اپنی نو سال کی بیٹی کے ساتھھ زبردستی کی اور وہ بھی سگا باپ اسکا اپنا ، اور اس بچی کا اپنا سگا باپ ، باپ جس کی بیوی مرگئی صرف تین مہینے ہوئے اور باپ نے سگی بیٹی کے ساتھھ :? :(

    پکڑا گیا ، باپ بیٹی دونوں کو ٹی وی پر دیکھایا گیا ہے اور سب کچھ بچی نے سب کے سامنے اپنے سگے باپ کا کرتوت کھولا ،

    یہ مسلہ، مسائیل کم ہے کیا؟ اور ہے اس قابل کے اسکے بارے میں کچھ :? :(


    ہم دوسروں مسلوؤں کو تو بڑھ چڑھکر ڈسکس کرتے ہیں ، مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں وجہ تلاش کی جاتی ہے ، کبھی انکے بارے میں بھی کسی نے سوچ سمجھا ،؟ کیا وجہ ؟
     
  13. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,193
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    استغفر اللہ، قربِ قیامت کی نشانیاں ہیں۔

    اللہ ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
     
  14. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جی باجو، لیکن یہ مسئلہ ہمارے ساتھ نہیں ہر مذہب میں‌پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بے شمار مثالیں ہیں۔ میری بات سے یہ مطلب مت لیں کہ میں اس بات کو برا نہیں سمجھتا۔ حیوانیت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ یہ اور بات ہے کہ ایسے حیوان انسان کے روپ میں‌ہوتے ہیں۔ اللہ پاک سب کو ایسے حیوان بننے سے بچائیں نہیں تو ایسے حیوانوں‌سے سب کو بچائیں۔ آمین۔ ثم آمین۔
    منصور
     
  15. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,748
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    اللہ تعالی نے انسان کو ایک جانب احسن تقویم قرار دیا ہے تو یہ بھی بتایا کہ یہی انسان اسفل السافلین بن جاتا ہے۔
     
  16. تیشہ

    تیشہ محفلین

    مراسلے:
    21,892
  17. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,193
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یعنی آپ نے باز نہیں آنا کسی بھی دھاگے پر روند مارنے سے
     
  18. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    درست کہا نبیل بھائی۔
    بےبی ہاتھی
     
  19. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,193
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اسی لیے کہتے ہیں کہ ہر وقت توبہ استغفار کرتے رہنا چاہیے۔
     
  20. تیشہ

    تیشہ محفلین

    مراسلے:
    21,892

    :? تو کیا کروں ، بات ہی کچھ ایسی ہے کہ دل تو کرتا ہے بہت کچھ بول دیتی ، مگر خیال آگیا اور چپ ہوگئی ،
    :? :(
     

اس صفحے کی تشہیر