مسعود حسن شہاب دہلوی -رہ حیات کی تنہائیوں کو کیا کہیے

چوہدری لیاقت علی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 25, 2015

  1. چوہدری لیاقت علی

    چوہدری لیاقت علی محفلین

    مراسلے:
    305
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    رہ حیات کی تنہائیوں کو کیا کہیے
    ہجوم شوق کی رسوائیوں کو کیا کہیے

    مرے وجود کا بھی دور تک مقام نہیں
    ترے خیال کی گہرائیوں کو کیا کہیے

    غموں کی اوٹ سے بھی ہو سکیں نہ تر پلکیں
    نہ برسے ابر تو پروائیوں کو کیا کہیے

    شرار زیست کی اک جست ہے بہت لیکن
    نفس کی مرحلہ پیمائیوں کو کیا کہیے

    ترے جمال کو چھو کر نکل رہی ہے سحر
    طلوع مہر کی رعنائیوں کو کیا کہیے

    مسعود حسن شہاب دہلوی
     

اس صفحے کی تشہیر