نوشی گیلانی :::مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے:::

حسن محمود جماعتی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 16, 2016

  1. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,504
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے
    کبوتر کہہ رہے تھے ہم کہانی سن رہے تھے
    میری گڑیا تیرے جگنو ہماری ماؤں کے غم
    ہم اک دوجے سے بچپن کی کہانی سن رہے تھے
    کبھی صحرا کے سینے پر بکھرتا ہے تو کیسے
    سنہرے گیت گاتا ہے یہ پانی سن رہے تھے
    گزرتی عمر کے ہر ایک لمحے کی زبانی
    محبت رائیگانی رائیگانی سن رہے تھے
    مزاج یار سے اتنی شناسائی غضب تھی
    ہم اس کی گفتگو میں بے دھیانی سن رہے تھے
    وفا کے شہر میں اک شام تھی خاموش بیٹھی
    ہم اس میں بھی کمال خوش بیانی سن رہے تھے
    دعائے آخری شب آسماں کو چھو رہی تھی
    نوید روشنی اس کی زبانی سن رہے تھے
    ہتھیلی پر رکھے پھولوں پہ جو آنسو گرے تھے
    انہی سے کوئی اذن حکمرانی سن رہے تھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. سفیر آفریدی

    سفیر آفریدی محفلین

    مراسلے:
    403
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    انتہائی لاجواب
     
  3. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,577
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    عجیب سے غمگین احساسات کے ساتھ یہ فقرہ کہیں دور لے جاتا ہے!
     
    • متفق متفق × 1
  4. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,504
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    متفق۔۔۔
    لیکن احتیاط کیجیے گا زیادہ دور نہ جائیں۔ اور اکیلے تو بالکل نہیں۔
     
  5. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,577
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    اکیلے ہی جانا پڑتا ہے کیا کریں!
     
  6. ظہیر عباس ورک

    ظہیر عباس ورک محفلین

    مراسلے:
    311
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بہت اعلٰی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر