مرے ساتھ ساتھ رہا کرے مرے سارے درد سنا کرے

مرے ساتھ ساتھ رہا کرے مرے سارے درد سنا کرے
کوئی شخص مجھ کو بھی زندگی میں کچھ اس طرح سے ملا کرے

نہ میں اس کو خود سے جدا کروں نہ وہ مجھ کو خود سے جدا کرے
مجھے آئینے میں ملا کرے مرے روبرو وہ رہا کرے

مری زندگی میں خدا کرے نہ کبھی وہ مجھ سے لڑا کرے
نہ ہوں مجھ کو اس سے شکایتیں نہ کبھی وہ مجھ سے گلہ کرے

میں غزل کہوں وہ سنا کرے وہ غزل کہے میں سنا کروں
میں کہا کروں کہ خدا ہمیں وہ کہا کرے نہ جدا کرے

مری مشکلوں کی آسانیاں مری زندگی کی کہانیاں
میں سوال بن کے کہا کروں وہ جواب بن کے سنا کرے

توصیف یوسفٌ.....
 

الف عین

لائبریرین
عزیزی ریحان کی بات درست ہے۔ لیکن یہ کیونکہ آپ کی شاعری کے زمرے میں تھی، اس لئے میں نےخاموش رہنا بہتر سمجھا۔
مطلع میں اور ایک اور شعر میں ’زندگی میں‘ محض بھرتی کا لگ رہا ہے۔

یہ دونوں اشعار بھی واضح نہیں

میں غزل کہوں وہ سنا کرے وہ غزل کہے میں سنا کروں
میں کہا کروں کہ خدا ہمیں وہ کہا کرے نہ جدا کرے

مری مشکلوں کی آسانیاں مری زندگی کی کہانیاں
میں سوال بن کے کہا کروں وہ جواب بن کے سنا کرے
 

shehzubaba

محفلین
ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻏﻢ ﮐﺎ ﻏﺒﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ؛ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺍﻟﻢ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ؛ ﺟﻮ ﭘﺎﺅﮞ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﮎ ﺁﻟﻮﺩ ﮨﻮﺍ ﮨﻮ ﺍُﺳﮯ ﺁﺏِ ﺣﯿﺎﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔
‏( ﻣﺸﻔﻘﯽ ﺩﻫﻠﻮﯼ
 
عزیزی ریحان کی بات درست ہے۔ لیکن یہ کیونکہ آپ کی شاعری کے زمرے میں تھی، اس لئے میں نےخاموش رہنا بہتر سمجھا۔
مطلع میں اور ایک اور شعر میں ’زندگی میں‘ محض بھرتی کا لگ رہا ہے۔

یہ دونوں اشعار بھی واضح نہیں

میں غزل کہوں وہ سنا کرے وہ غزل کہے میں سنا کروں
میں کہا کروں کہ خدا ہمیں وہ کہا کرے نہ جدا کرے

مری مشکلوں کی آسانیاں مری زندگی کی کہانیاں
میں سوال بن کے کہا کروں وہ جواب بن کے سنا کرے

بہت شکریہ سر
 
Top