مخاطب آپ سب ہیں

سیما علی

لائبریرین
کافی کا استعمال:
کافی کا استعمال بھی دماغ کے لیے مفید ہے کیونکہ اس میں موجود اینٹی آکسایئڈنٹ دماغ کی حفاظت کرتے ہیں اور سیلز کو مرنے نہیں دیتے جس کے باعث انسان ڈیمنشیا اور الزائمر جیسی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

COFEE.gif
 

زوجہ اظہر

محفلین
السلام علیکم محترمہ
ایک مثبت معلوماتی سلسلہ ہے ماشاءاللہ ۔جاری رہنا چاہیے۔
عنوان مجھے لگتا ہے "مخاطب ہم سب ہیں" ہونا چاہیے کیونکہ معالج یا ماہر کو بھی ایک اور معالج اور ماہر کی بہرحال ضرورت پڑ سکتی ہے۔

وعلیکم السلام

یاسر شاہ حوصلہ افزائی کے لئے بہت بہت شکریہ
آپکی رائے میرے لئے اہم ہے
مخاطب آپ سب ہیں عنوان کے تحت
میں عام لوگوں کو مخاطب کرکے اپنے مشاہدات و تجربات کی بناء پر کچھ چیزیں لکھ دیا کرتی ہوں
 

یاسر شاہ

محفلین

فاخر رضا

محفلین
نفسیاتی مسائل کے ساتھ جڑے taboo کو ہٹانے کے لئے کیا کیا جائے. ایک شخص کینسر اور دل کی بیماری کو تو بآسانی ڈاکٹر کو دکھا دیتا ہے مگر ذہنی الجھاؤ کے لئے نہیں
 

زوجہ اظہر

محفلین
نفسیاتی مسائل کے ساتھ جڑے taboo کو ہٹانے کے لئے کیا کیا جائے. ایک شخص کینسر اور دل کی بیماری کو تو بآسانی ڈاکٹر کو دکھا دیتا ہے مگر ذہنی الجھاؤ کے لئے نہیں

پہلے کے مقابلے اس سلسلے میں لوگوں میں کافی شعور و آگاہی نظر آتی ہے

اس کا حل یہی ہے کہ مسلسل بات کی جائے
جیسے گزشتہ مراسلے تقریبا اسی نوعیت کے ہیں
 

فاخر رضا

محفلین
ایک مصیبت ہمارے curriculum کی بھی ہے جہاں ہمیں مریضوں کی دیکھ بھال کے آداب نہیں سکھائے جاتے. ہم لوگوں کے امراض کا ذکر اپنے جاننے والوں سے کررہے ہوتے ہیں. یہ بھی ایک خطرناک کام ہے
 

زوجہ اظہر

محفلین
مخاطب آپ سب ہیں

اتار چڑھاو رنج و غم اور مشکلات سب زندگی کا حصہ ہیں عموما ہم ان سے نکل بھی آتے ہیں لیکن بعض اوقات چیزوں میں اتنی شدت یا وہ اتنی مسلسل ہوتی ہیں کہ سنبھلنا آسان نہیں لگتا اور جمود کی کیفیت طاری ہوتی ہے
کیا حرج ہے کہ کسی ماہر کی مدد لے لی جائے
برائے مہربانی باہر نکلئے
اس سوچ سے کہ اپنے مسئلے کے حل کے لئے کسی ماہر نفسیات سے بات کرنے کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ
ہمارا دماغ خراب ہے
یا
ہم پاگل ہیں
یا کسی ذہنی بیماری کا شکار ہیں

ایک ماہر آپکو ان پہلووں سے روشناس کراتا ہے جن کو سمجھنا مشکل ہورہا ہوتا ہے
سوچ کو نئے زاویے ملتے ہیں کہ جنکی بدولت حل تک پہنچا جا سکتا ہے
سوچیے کہ اس سے پہلے دیر ہو.... گفتگو کرنے سے نہ جھجھکیں

عالمی ذہنی صحت کے دن کے موقع پر
باز گشت
10 اکتوبر2021
یوم عالمی ذہنی صحت
 

سیما علی

لائبریرین
مزید:
گاڑی کھڑی ہے کوٹھی وسیع و عریض ہے
لیکن بچارا سیٹھ دماغی مریض ہے
سب دولتیں جہان کی حاصل بھی ہیں تو کیا
ثابت ہوا کہ دل کا سکون اصل چیز ہے

آخر میں ایک شعر کہ اگر کوئی صحیح العقل ہے تو اس نعمت خداداد پہ جتنا شکر کیا جائے کم ہے۔

بس اک رگ_دماغ ادھر سے ادھر ہوئی
وہ عقل ساتھ چھوڑ گئی جس پہ ناز تھا
اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے
آخر میں ایک شعر کہ اگر کوئی صحیح العقل ہے تو اس نعمت خداداد پہ جتنا شکر کیا جائے کم ہے۔
ذہنی دباؤ، لاتعلقی اور ذہنی بوجھ برداشت کرنے کے طریقہ کار پر سکولوں سے ہی بچوں کو تربیت دینا ضروری ہے، تاکہ آنے والے دنوں میں وہ لوگ ٹینشن اور ڈپریشن جیسے مسائل سے نمٹنے کا طریقہ کار طے کر سکیں۔۔۔۔۔۔
عبرت کدہ" کتاب پڑھی ہے؟یہ گدو بندر کے ایک مشہور ڈاکٹر نے لکھی ہے جن مریضوں کا علاج کیا تھا ان کے متعلق۔میری خواہش ہے کہ اردو محفل کے لائبریرینز اسے ٹائپ کریں تاکہ عبرت ہو۔
بہترین کتاب ۔۔۔۔آپ کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے ہم تیار ہیں ۔۔۔۔محب علوی صاحب کو کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
عالمی ذہنی صحت کے دن کے موقع پر
مزے کی بات ہے ہم میں سے زیادہ تر لوگ اینگزائیٹی اور ڈیپریشن جیسے امراض کو اوّل تو امراض ہی نہیں سمجھتے اور اگر کچھ سمجھ لیتے ہیں تو علاج شادی سمجھتے ہیں یا پھر کہہ رہے ہوتے ہیں سب ڈرامہ ہے کوئی بیماری ویماری نہیں ہے ۔۔۔۔افسوس صد افسوس جب تک کسی گھر میں کوئی بہت تشویش ناک بات نہ ہوجائے اور مرض اسقدر نہ بڑھ جائے کے ڈاکٹر کو دکھائے بغیر کوئی چارہ نہ ہو ڈاکٹر سے رجوع ہی نہیں کرتے ۔۔۔۔
 

زوجہ اظہر

محفلین
باز گشت
10 اکتوبر2021
یوم عالمی ذہنی صحت
دو باتیں سمجھانے کی کوشش ہے
1۔ ذہنی صحت بھی اتنی اہمیت کی حامل ہے ، جتنی جسمانی صحت
2۔ذہنی صحت کے حوالے سے موجود لیبلز یا ٹیگز کو نکال کر ، سوچ بدلنا

تحریر کا مقصد یہ آگاہی دینا ہے کہ روزمرہ زندگی کی مشکلات و پریشانیوں سے نبرد آزما ہوتے ہوئے کبھی ایسے جنجال میں پھنس جائیں کہ خود سے نکلنے میں دقت کا سامنا ہو تو بلا جھجھک ماہر کی مدد لی جاسکتی ہے
مثلا اس پریشانی کی نوعیت ذاتی، ازدواجی یا تعلیمی یا کوئی اور ہو سکتی ہے
فرد اس ضمن میں اپنے آپ کو لیبل نہ کرے ، نہ یہ فکر کرے کہ لوگ کیا کہیں گے
یہ سب میرے اور آپ کے لئے ہے ۔۔نارمل لوگوں کے لئے
مختصرا یہ کہ افراد اپنی سوچ بدلیں اور ماہر نفسیات سے رجوع کرنے سے نہ ہچکچائیں
 
آخری تدوین:

زوجہ اظہر

محفلین
والدین کے لئے

بطور پریکٹیشنر یہ بات ذمہ داری سے کہتی ہوں کہ یہ کہانیاں ہر دوسرے، تیسرے گھر کی ہیں کہ جہاں نو عمر (ٹین ایج) بچے موجود ہیں
بچپن اور لڑکپن کی محبتیں پہلے بھی رہیں ہیں لیکن موجودہ دور میں ان کو آسان ذرائع میسر ہیں
یا پھر ناتجربہ کاری اور ناپختہ ذہنیت کے باعث نوعمری کا دور غلط لوگوں کے لئے بھی آسان ہدف ہوتا ہے

بنیادی حل یہی ہے کہ گھروں میں مکالمے (گفتگو)کی عادت کو فروغ دیجئے

* پہلے، اپنی بلاوجہ کی جھجھک پرے ہٹا کر، بات کیجئے
انہیں بتائیے کہ اس عمر میں ہونے والی جسمانی تبدیلیوں یا جذباتی تبدیلیوں کو وہ، کس طرح لے کر چلیں۔

* دوسرے، ان کی بات سنیے
وہ ابھی سیکھنے کے مرحلے میں ہیں ،ان سے سمجھدار شخص جیسی گفتگو کی توقع نہ کیجئے
لہذاجس طرح بھی اظہار کریں ، تحمل سے سنیں
اس طرح ان کا آپ پر اعتماد بڑھے گا کہ والدین میرے جذبات و احساسات کو سمجھتے ہیں

اس ماحول کے فروغ میں ماں اور باپ دونوں کا کردار اہم ہے
اور یقین جانیے یہ کام ناممکن نہیں۔
 
Top