محاورات زبان اُردو، دکنی ،فرنگیہ و دیگر

محمد حسن شہزادہ نے 'ادبیات و لسانیات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 5, 2018

  1. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    81
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اس سلسلے میں ہم اردو، دکنی ،فرنگیہ (انگریزی) اور دیگر زبانوں میں بولے جانے والے محاوروں کے پیچھے چھپی دلچسپ اور منفرد کہانیاں پیش کریں گے اور ان محاوروں کو زندگی میں کس طرح استعمال کر سکتے ہیں اس بارے میں بات کریں گے ۔
    سلسلے کو باقاعدہ طور پر شروع کرنے سے پہلے کچھ تعارف محاورے کا کہ آخر محاورہ کس کو کہا جاتا ہے

    وکی پیڈیا

    (محاورہ : ( جمع= محاورے) ، کسی بھی زبان کا حسن ہوتے ہیں۔ خاص کر اردو زبان کے محاورے اس کا سب سے دلچسپ حصہ سمجھے جا سکتے ہیں۔ محاورہ دوسرے الفاظ میں کسی بھی زبان کے "فارمولے" کہلا‎ئے جا سکتے ہیں جو کسی بھی صورت حال کو چند الفاظ میں بیان کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اردو زبان میں کثرت سے استعمال ہونے والے چند مشہور محاورے درج ذیل ہیں۔* پڑھے نہ لکھے، نام محمد فاضل* مکّہ میں رہتے ہیں مگر حج نہیں کیا* لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔* قاضی جی کے گھر کے چوہے بھی سیانے۔* کمبختی آئے تو اونٹ چڑھے کو کتّا کاٹے۔* آگ کہنے سے منہ نہیں جلتا۔* اللہ ملائے جوڑی، ایک اندھا ایک کوڑھی۔* اندھوں میں کانا راجا۔* کالے صابن مل کر گورے نہیں ہوتے* اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے۔* جو سکھ چوبارے۔ بلغ نہ بخارے* اپنے منہ میاں مٹھو* کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا* دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر* چٹ منگنی پٹ بیاہ* ایک چپ، سو سکھ* بدن پر نہ لتّا،پان کھائیں البتہ* کھودا پہاڑ نکلا چوہا* مگرمچھ کے آنسو* دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا* گیا ہے سانپ نکل، اب لکیر پیٹا کر* آگ لگنے پر کنواں گھودنا* کتّے کی دم بارہ برس بھی نلکی میں رکھنے کے بعد ٹیڑھی نکلی۔* الٹے بانس بریلی کو لے جانا۔* اشرفیاں لٹیں کوئلوں پر مہر* اپنا عیب بھی ہنر معلوم ہوتا ہے۔* اپنا رکھ پرایا چکھ* لڑے سپاہی نام سرکار کا* آگے کنواں،پیچھے کھائی* آسمان کو تھوکا، منہ پر گرے* آسمان سے گرا،کھجور میں اٹکا* اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑتا* لوہے کو لوہا کاٹتا ہے* آم کھاؤ،پیڑ نہ گنو* اندھیر نگری چوپٹ راج* اندھا بانٹے ریوڑی اپنوں کو* اونٹ کے منہ میں زیرہ* ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں* ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں* ایک تھیلی کے چٹّے بٹّے* ایک انار سو بیمار* باوا بھلا نہ بھّیا، سب سے بڑا روپیہ* بات کا چوکا آدمی، ڈال کا چوکا بندر* بچہ بغل میں،ڈھنڈورا شہر میں * بچھو کا منتر جانتے نہیں، سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنے چلے* بدنامی سے گمنامی اچھی* بغل میں چھری منہ میں رام رام* بڑے بول کا سر نیچا* جائے لاکھ پر رہے ساکھ* بندر کیا جانے ادرک کا سواد* بھوکے بھجّن نہ ہو* پیش از مرگ واویلا* تدبیر نہیں چلتی تقدیر کے آگے* تخت یا تختہ* جسے پیا چاہے وہ ہی سہاگن* جس کا کھانا اسی کا گانا* جہاں دیکھی تری،وہیں بچھادی دری* جتنی چادر دیکھو اتنے پیر پھیلاؤ* جس کا کام اسی کو ساجھے* جس کی لاٹھی اس کی بھینس* جنّت کی غلامی سے جہنم کی حکومت بہتر

    • سونے پہ سوہاگہ
    • تیروں سے بارش
    • ایک انار سو بیمار
    • طے شدہ، بہہ شدہ* جو سوچ، وہ کھوج
    • آ بیل مجھے مار)

    دکنی محاورے

    دکنی محاورے علاقہ دکن میں دکنی اردو کے ادب میں مروجہ محاورے ہیں۔ دکنی زبان تلنگانہ، آندھرا پردیش،کرناٹک، تمل ناڈو، کیرلا اور مہاراشٹر وغیرہ ریاستوں کے ایک بڑے علاقے میں میں بولی جاتی ہے۔ یہاں کی زبان ایک مختلف لہجہ کی اردو ہے۔ اس میں شیرینی بھی ہے اور ایک لطف اندوز طرز بھی۔ یہاں کے محاورے بڑے ہی دلچسپ ہیں۔ محاوروں کو ضرب المثل بھی کہا جاتا ہے۔ دکنی محاورے عام طور پر اردو ہندی، مراٹھی، بھوج پوری زبانوں کے محاوروں کی طرح ہی ہوتے ہیں، مگر لہجہ اور پیش کش مختلف ہوتی ہے۔

    دکنی ادب کے چند محاورے درج ذیل ہیں۔[1]


    آگے کنواں پیچھے کھائی

    • مطلب جان مشکل میں آئی
    اس محاورے میں اُس چور کی طرف اشارہ ہے جو چور ی کر کے فرار ہونا چاہتا ہے اُس کو آگے کنواں دکھائی دیتا ہے اور پیچھے پلٹ کر دیکھتا ہے تو کھائی یعنی گڑھا نظر آتا ہے یعنی فرار کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا‘ ان حالات میں کہا جاتا ہے کہ آگے کنواں پیچھے کھائی۔ جان مشکل میں آئی۔


    اپنا سونا خراب رہیا تو سنار کو کیا کوسنا

    اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لڑکا شادی سے قبل تک والدین کا فرماں بردار رہتا ہے۔ شادی کے بعد وہ اپنی بیوی کی طرفداری کرنے لگتا ہے یا والدین کا نافرمان ہوجاتا ہے۔ ان حالات میں ماں کہتی ہے کہ اپنا بیٹا ہی اچھا نہیں ہے بہو کا کچھ قصور نہیں۔ اپنا سونا خراب رہیا تو سنار کو کیا کوسنا۔۔۔


    آسمان کے تارے ہاتھ کو آتیں کیا رے

    دکنی کے اس محاورے میں اُس لالچی شخص کی طرف اشارہ ہے کہ وہ دنیا حاصل کرلیتا ہے پھر بھی اس کی لالچ پوری نہیں ہوتی۔ ہر وہ چیز حاصل کرنے کی فکر میں رہتا ہے جو اس کی پہنچ سے بہت دور ہے۔ بے وقوفی سے آسمان کے تارے حاصل کرنے کے لیے بلندی پر چڑھ جاتا ہے یعنی اور بھی بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی ماں کہتی ہے آسمان کے تارے ہاتھ کو آتیں کیا رے۔


    آسمان پو تھوکے تو اپن پوچ گرتا

    دکنی کے اس محاورے میں اُس بے وقوف کی طرف اشارہ ہے کہ جو غصہ میں آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور آسمان کی طرف منھ اُٹھا کر تھوکتا ہے۔ اس بے وقوف کو یہ نہیں معلوم کہ یہ تھوک خود اُس کے منھ پر گرے گا۔


    آفت کی پوڑیہ

    اس محاورے میں اُس لڑکی کی طرف اشارہ ہے جو اپنی کم عمری کے باوجود چالاک اور مکار اس قدر ہے کہ قیامت کا منظر پیش کر رہی ہے اور ہر کسی کو اپنے جال میں آسانی سے پھانس لیتی ہے۔ بڑی بوڑھی خواتین ایسی لڑکی کو آفت کی پوڑیہ کہتے ہیں۔

    آدمی میں بس کو دیکھو سونے کو گِھس کو دیکھو

    دکنی کی اس ضرب المثل میں اُس انسان کی مثال دی جارہی ہے جو دیکھنے میں بہت اچھا ہے بات چیت بہت خوب صورت انداز میں کرتا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ رہ کر دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر خود غرض اور کم ظرف ہے ۔
    اس کی مثال اُس چمکتی چیزکی طرح ہے جو دور سے دیکھنے میں سونا معلوم ہوتی ہے لیکن جب اس چیز کو گھس کردیکھا جاتا ہے تو وہ پیتل رہتا ہے ۔

    آڑی کی بلا باڑی پو ۔۔۔ باڑی کی بلا میلی ساڑی والی پو
    دکنی کے اس محاورے میں چالاک عورت گھر کے کسی کام میں کچھ خرابی کردیتی ہے ۔ اور اپنی غلطی دوسروں پر ڈالنا چاہتی ہے ۔ اپنے کام کی خرابی ماننے تیار نہیں ہوتی۔ اس کام میں جو دوسری غریب عورت جس کی ساڑی میلی ہوتی ہے ۔اُس کی طرف اشارہ کرکے کہتی ہے یہ کام خراب میں نہیں کی بلکہ وہ میلی ساڑی والی عورت نے کیا ہے ۔

    آدھی روٹی چھوڑ کو ساری کو گئے ساری بھی گئی آدھی بھی گئی

    دکنی کے اس محاورے میں اُس لالچی انسان کی طرف اشارہ ہے کہ وہ سکون سے آدھی روٹی تو کھارہا تھا لیکن لالچ میں آکراس نے اچھی خاصی ملازمت کو چھوڑ کر دوسری ملازمت کرنے لگتا ہے وہاں کچھ تنخواہ زیادہ ملتی ہے ۔ دوسری ملازمت بھی اس وجہہ سے چھوڑ تا ہے کہ وہاں حد زیادہ تکالیف ہیں۔ اس طرح اس کی دوسری ملازمت بھی جاتی رہی اور پہلی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا۔

    دوستوں اس سلسلے کو میں نے آپ سب کے بھروسے پر شروع کیا ہے کہ آپ سب اس میں شامل ہو کر اس کو مزید بہتر بنانے میں میرا ساتھ دیں گے امید کرتا ہوں کہ آپ سب مجھ کو مایوس نہیں کریں گے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    81
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    Achilles' heel

    مضبوط ترین شے کا کمزور ترین پہلُو

    اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ یونانی ضمیات mythology کے مطابق سمندر کے دیوتا Neptune کی بیٹی ٹیٹس Thetis کی شادی Mermydon (ایک جنگجُو دَلیروں کا قبیلہ) کے سردار سے ہوٸی۔ جب وہ اُمید سے ہوٸی تو جنم کنڈلی سے اسے معلوم ہوگیا کہ اس کا بیٹا جوان ہوگا تو وہ ایک جنگ میں مارا جاٸےگا۔ لہٰذا اس کا توڑ کرنے کے لٸے اس نے اپنے بیٹے ( نومولود Achilles ) کو ایک دریا Styx میں اَیسے ڈَبو کر باہَر نِکالا کہ اُس کی ایک ایڑھی دیوی کے ہاتھ میں تھی اور بَچّہ اُلٹا تھا ۔

    اَیسا Thetis نے اس لٸے کِیا تھا کہ دیوتا اُس دَریا میں نَہاتے تھے ۔ اَب چونکہ دیوتا لافانی ہوتے تھے (یعنی انہیں موت نہیں آتی تھی) تو Thetis نے سوچا کہ اس دریا کے جادو اثر پانی میں نہا کر اس کا بیٹا بھی لافانی ہوجاٸےگا۔ لیکن چُونکہ بچّے کا باپ انسان تھا لہٰذا بچہ لافانی تو ہو نہیں سکتا تھا۔ تاہم یہ ہُوا کہ بچے کے جسم پر پانی کے اثر سے یہ خوبی پیدا ہو گٸی کہ وہ ناقابلِ زخم پذیر ہوگیاInvulrer یعنی کوٸی تیر، تَلوار یا نیزہ اس پر اثر نہ کرتا تھا۔ اِسی لٸے Achelles زِرَّہ بکتر پہنے بِغَیر لڑتا تھا۔

    لیکن چُونکہ اُس کے پاؤں کی ایک ایڑھی خُشک رہ گَئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ جس ایڑھی کو پَکَڑ کر ماں نے بَچّے کو غَوطہ دِیا تھا ، وہ ایڑھی ہی اُس کی کَمزوری تھی ۔ اَب کوئی اُس کی ایڑھی پر تِیر مارتا تو وہ مَر جاتا ۔ Troy کی جنگ میں حُسن کی دیوی Venus نے paris کو یہ راز کی بات بتادی تھی اور Paris نے اُس کی ایڑھی کو نِشانہ بَنایا اور Achelles جیسا ناقابِلِ شِکَست سُورما مَر گَیا ۔ اَور اُس کی جَنَم پَتری کی پیشین گوئی دُرُست ثابِت ہُوئی ۔

    A woman's tears are like Achellis' heel for a man .
    ایک عورت کے آنسو ایک آدمی کے لئے اچیلیس کی ہیل کی طرح ہیں

    مُحاوراتِ زَبانِ فَرَنگِیہ
     
  3. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    21,593
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہتر ہو گا، کہ جن جن ویب سائٹس سے مواد حاصل کیا ہے، ان کا باضابطہ حوالہ بھی دیا جائے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    81
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    محاوروں کا تعارف وکیپیڈیا سے لکھا ہے اس کے ساتھ میں وکیپیڈیا بھی لکھا ہوا ہے اور باقی سب ایک کتاب سے دیکھ کر لکھا ہے۔
    کتاب کا نام۔ محاورات زبان فرنگیہ ہے اس کتاب کا نام بھی ہر محاورے کی کہانی کے ساتھ لکھ دیا کروں گا اور اگر کسی اور جگہ سے لکھا تو اس کا نام بھی شامل کر دوں گا۔
     
  5. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    21,593
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    لنک بھی دے دیجیے
     
  6. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    81
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
     
  7. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    81
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
  8. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    21,593
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
  9. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    81
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    دے دیا ہے بھائی جان کچھ اور حکم
     
  10. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    81
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    محمد تابش صدیقی صاحب آپ بھی تو کچھ لکھیں
     
  11. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    81
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    عربی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ
    قتلت یوم قتل الثور الابیض
    میں تو اسی دن قتل ہو گیا تھا
    جس دن سفید بیل قتل ہوا تھا
    اس کی تفصیل یوں ہے کہ کسی جنگل میں دوبیل رہتے تھے ایک لال اور ایک سفید جن کی آپس میں گہری دوستی تھی ایک ساتھ گھومنا پھرنا اور چرنے کیلئے بھی ایک ساتھ آنا جانا
    ان کی اس مثالی دوستی کی وجہ سے اس جنگل کا شیر ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا اس نے جب کبھی ان میں سے کسی ایک پر حملہ کیا تو دونوں نے مل کر اس کی وہ درگت بنائی کہ شیر کو اپنی جان کے لالے پڑ جاتے
    شیر نے ایک چال چلی کی لال بیل سے چکنی چپڑی باتیں کرکے اور روشن مستقبل کے سہانے سپنے دکھا کر اپنے ساتھ ملا لیا
    لال بیل اس کی باتوں میں آ گیا کہ بیل کی دوستی کے مقابلے میں شیر کی دوستی زیادہ محفوظ نظر آ رہی تھی
    لال بیل جب شیر سے مل گیا اور سفید بیل اکیلا رہ گیا تو چند دنوں کے بعد شیر نے اس کے شکار کا پروگرام بنایا اور اس پر حملہ کر دیا
    پہلے تو دونوں مل کر شیر کو بھگا دیا کرتے تھے مگر اب اکیلے بیل کیلئے شیر کا مقابلہ مشکل ہو گیا
    سفید بیل نے اپنے ساتھی بیل کو بہت پکارا بہت آوازیں دیں پرانی دوستی کے واسطے دئے اور بیل ہونے کے ناطے بھائی چارے کا احساس دلایا
    مگر شیر کی دوستی کے نشے سے سرشار لال بیل ٹس سے مس نہ ہوا اور اپنی برادری کے ایک فرد کو شیر کے ہاتھوں چیر پھاڑ کا شکار ہوتا دیکھتا رہا
    وہ آج بہت خوش اور مطمئن تھا کہ شکر ہے میں اس کے ساتھ نہیں تھا ورنہ آج میرا کام بھی اس کے ساتھ ہی تمام ہوجاتا
    تھوڑے دن گذرے کہ شیر نے اسے بھی شکار کرنے کا پروگرام بنا لیا جب شیر نے اس پر حملہ کیا تو لال بیل نے زور سے ڈکارتے ہوئے جنگل کے باشندوں کو یہ پیغام دیا کہ
    میں تو اسی دن قتل ہو گیا تھا
    جس دن سفید بیل قتل ہوا تھا
    امت مسلمہ بھی آج کل اسی حالت کا شکار ہے
    سب شیر کی دوستی پر خوش اور مطمئن ہیں اور یہ یقین کئے بیٹھے ہیں کہ باقیوں کی باری تو لگ رہی ہے مگر ہماری باری نہیں لگے گی کیونکہ ہم تو جنگل کے بادشاہ کے دوست اور مقرب ہیں
    ان احمقوں کو یہ سادہ سی حقیقت سمجھ نہیں آ رہی کہ شکاری اور شکار کے درمیان دوستی جیسا غیر فطری رشتہ ہو ہی نہیں سکتا
    ہم نے باری باری
    افغانستان, عراق, فلسطین, شام, بوسنیا, چیچنیا, کشمیر, برما اور صومالیہ میں مسلمانوں کے خون میں لت پت لاشوں کو تڑپتے دیکھا
    حلب اور ادلب پر کیمیکل بموں کے حملے دیکھے فلسطینی مسلمانوں کے جنازوں پر بمباریاں دیکھیں عراق میں مسلمانوں کو قتل کرنے کے نئے سے نئے حربے دیکھے
    برمی مسلمانوں کو زندہ جلانے اور ان کے جسمانی اعضاء کو کاٹ کاٹ کر پھینکتے دیکھا
    افغانستان پر کارپٹ بمباری سے لیکر
    "بموں کی ماں " کا حملہ دیکھا
    مگر اس خوشی میں چپ سادھے اطمینان سے بیٹھے ہیں کہ ان سب کی باری تو لگی ہے مگر ہماری نہیں لگے گی
    ہم سب سعودیہ, مصر, پاکستان وغیرہ
    لال بیل ہیں
    اللہ نہ کرے کہ ہم پر پچھتاوے کی وہ گھڑی آ جائے جب ہم بھی بے ساختہ یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ
    " قتلت یوم قتل الثور الابیض "

    کتاب. عربی محاورات معہ ترجمہ
     
  12. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    81
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    Up with the lark ( rise very early )

    چِنڈول اَیسا پَرِندہ ہَے جو ہَے تو چھوٹا ، لیکِن اِتنی بُلَندی پَر اُڑتا ہَے کہ جِس بُلَندی تَک دیگَر پَرِندے جا ہی نَہیں سَکتے ۔ اِسے اَنگریزی میں Lark کہتے ہَیں ۔

    ایک بار پَرِندوں میں یہ بحث زور پَکَڑ گَئی کہ مَچھلِیوں میں جَیسے سَردار شارک ہَے ، اَور جانوَروں کا بادشاہ شیر ہَے ، اُسی طَرَح پَرِندوں کا بھی کوئی بادشاہ ہونا چاہِیے ۔

    تو یہ رائے ٹھہری کے ایک دِن سَب پَرِندے ایک جَگہ اِکَٹّھے ہوں اَور سَب پَرواز کَریں ۔ اَب جو پَرِندہ سَب سے اُونچا اُڑے گا ، وُہی پَرِندوں کا بادشاہ کہلانے کا حَق دار ہوگا ۔

    مُقَرَّرہ دِن سَب پَرِندے طَئے شُدہ دِن جَنگَل میں ایک جَگہ اِکَٹّھے ہُوئے ۔ اَور شُتَر مُرغ Ostrich ، بھیڑ مُرغ Emu ، اَور فِیل مُرغ Kiwi ، قُطبی مُرغ Penguin کو چھوڑ کَر باقی پَرِندوں نے اُڑان بَھری ۔ کبُوتر Pigeon ، قُمری ، بَیّا Robin ، پَپیہا ، نیل کَنٹھ Magpie ، پِدّی Tit ، لالی ، چِڑِیا House Sparrow ، سون چِڑِیا Robin ، جَل کُکڑی ، فاختہ Dove ، ہُدہُد Hopopo ، کَھٹ بَڑَھئی Woodpecker ، چیل Kite ، کَوّا ، پَہاڑی کَوّا Raven ، لال کَوّا ، طوطا Parrot ، مَینا ، سیمُرغ ، شِکرا Castrel / Falcon ، باز Hawk / Buzzard ، شاہین ، عَنقا Phoenix ، گِدھ Vulture ، قادُوس Albatross ، مور Peacock ، تیتَر Partridge ، اُلُّو Owl ، چَکور ، تَلور Hubara Bustard ، مَچھیرا پَنچھی Pelican بَٹیر Quail ، پیرُو Turkey ، سُرخاب Pheasant ، مُرغابی Goose ، راج ہَنس Swan ، کُونج Crane ، بُلبُل Nightingale ، مَگ Muscovy Duck ، بَطَخ Duck ، نیل سَر Mallard ، بَطَخِ ہَفت رَنگ Mandarin ، گوگیری ، اَصیل Aseel ، اَبابیل Swallow ، کوئل Cuckoo ، لال لَم ڈھینگ Flamingo ، بَگلا Stork ، مَینا Myna ، تیتَرِ چَرخی Tragopan ، مرغِ نیلگُوں Kalij ، لَم دُمّا ، ۔ ۔ ۔ ۔ غَرض سَبھی پَرِندے اُڑنے لَگے ۔ اَب جِتنی جِس کے پَروں میں طاقَت تھی ، وُہ اُتنی بُلَندی تَک جا سَکا ۔ اَور تَھک کَر واپَس نِیچے اُتَر آیا ۔ کَئی تو اِس کوشِش میں جان سے گَئے ۔

    اَب مُقابلہ نِسبَتاً بَڑے پَرِندوں میں رہ گَیا ۔ شِکاری اُلُّو ، باز ، چیل ، عُقاب ، کُونج ، ہَنس ، مُرغابی ، قادُوس ، اَور گِدھ جان توڑ کوشِش کَر رَہے تھے ۔ آخِر ایک ایک کَر کے سَبھی پیچھے رہ گَئے اَور عُقاب ہی آسمان پَر رہ گَیا ۔

    جَب شاہین نے یہ دیکھا کہ اُس کے دائیں بائیں اُڑنے والے سَبھی پَرِندے ہار گَئے اَور وُہ اَکیلا ہی باقی رہ گَیا ہَے تو وُہ شیخی مارنے لَگا ؛

    " ہُونہہ ! بَڑے آئے مُجھ سے مُقابلہ کَرنے والے ۔ مَیں ہی سَب سے اُونچا اُڑتا ہُوں ۔ "

    اِتنے میں ایک چِنڈول ،جو کہ شُرُوع میں ہی چَھلانگ لَگا کَر عُقاب پَر سَوار ہو گَیا تھا ، نے چَھلانگ لَگائی اَور عُقاب سے بھی بُلَند ہو گَیا ۔ کافی اُوپَر جا کَر اُس نے عُقاب کو لَلکارا ،

    مِیاں ! اِتنا غُرُور ٹھیک نَہِیں ۔ ذَرا خُود سے اُوپَر بھی نَظَر ڈالو ۔

    اَب چُونکہ عُقاب میں بھی ہِمَّت باقی نہ رَہی تھی ، جَبکہ چِنڈول تازہ دَم تھا ، سَو عُقاب اُس سے اُوپَر نہ جا سَکا ۔ تَبھی سے یہ طَئے ہو گَیا کہ چِنڈول سَب سے زیادہ بُلَندی پَر اُڑنے والا پَرِندہ ہَے ۔ لیکِن شِکاری اَور پُھرتیلا ہونے کی وَجہ سے عُقاب ہی پَرِندوں کا بادشاہ مانا گَیا ۔

    لیکِن چُونکہ چِنڈول سَب سے پہلے چَھلانگ لَگا کَر اُٹّھا اَور شاہین پَر سَوار ہو گَیا تھا ، سَو اَنگریزوں نے صُبحُ سَب سے پہلے اُٹھنے اَور پیش قَدمی کَرنے کو چِنڈول کے اُٹھنے سے تَشبیہہ دی اَور یہ مُحاورہ گَھڑ لِیا ۔ ذَرا دو جُملے دیکِھیے :

    Good students rise with the lark .

    The army men rise with the lark .

    مُحاوراتِ زَبانِ فَرَنگِیہ
     
  13. محمد حسن شہزادہ

    محمد حسن شہزادہ محفلین

    مراسلے:
    81
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    To leave someone in lurch
    مُشکِل وَقت پَر کِسی کو بے یار و مَدَدگار چھوڑ دینا ۔

    گَئے وَقتوں میں گِرجے سے مُتَّصِل ایک مَخرُوطی چَھت والا ایک اَحاطہ ہوتا تھا جَہاں مُردے کو تابُوت میں ڈالا جاتا تھا اَور وَہیں پادری آ کَر جَنازے کی رَسُوم اَدا کَرتا تھا ۔

    اَب کِسی چھوٹے سے گاؤں کے گِرجے میں ، شام کے وَقت ایک مُردے کو آخری رَسُوم کے لِیے لایا گَیا ، اُس غَریب کے جَنازے میں چَند ہی لوگ تھے ۔ اَب جَنازہ وَہاں رَکھ کَر باقی لوگ تو دیگَر اِنتَظامات میں لَگ گَئے ، اَور مَیَّت کے ساتھ بَس اُس کی بیوی اَکیلی رہ گَئی ۔ اُس کے پاس تَدفین کے اِخراجات کے لِیے بھی رَقَم نہ تھی ۔ جَب سُورَج ڈُوب گَیا تو اُس کا خَوف سے بُرا حال ہو گَیا ۔ جَب سَب لوگ واپَس آئے تو وُہ بُری طَرَح رو رَہی تھی ۔ سَب پہلے ہی مَرگ پَر مَغمُوم تھے ۔ لیکِن وُہ سَب پَر بَرَس پَڑی کہ تُم مُجھے ایک نَعش کے ساتھ تَنہا چھوڑ گَئے ۔ ۔ ۔ ۔ بَس تَبھی سے کِسی کو مُشکِل صُورَتِحال میں بے یارومَدَدگار چھوڑ جانے کے لِیے یہ مُحاورہ بَرتا جانے لَگا ۔

    نیز ، جَب کوئی مَیدانِ جَنگ میں شِکَست کھا جائے ، یا کِسی بھی مالی یا سَماجی مُشکِل صُورَتِحال سے دوچار ہو ، اَور اُس کے اَپنے اُسے تَنہا ، اَور بے یار و مَدَدگار چھوڑ جائیں تو اَیسے مَوقِع پَر بھی اَنگریزی میں یہ مُحاورہ بَرتا جاتا ہَے ۔

    ایک جملہ اپ کی نظر



    The other wives left Hazrat Ayyub ( AS ) in lurch , only one faithful wife wife stayed with him and nursed him .

    تَفہیمِ مُحاوراتِ زَبانِ فَرَنگِیہ
     

اس صفحے کی تشہیر