محاضراتِ قرآنی:قرآن مجید کا صوتی نظام اور ردھم

عاطف ملک نے 'اسلام اور عصر حاضر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 30, 2017

  1. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    قران مجید کا صوتی نظام اور ردھم

    قرآن کریم ایک ایسی نثر پر مشتمل ہے جس میں شعر کے قواعد و ضوابط ملحوظ نہ ہونے کے باوجود ایک ایسا لذیذ اور شیریں آہنگ پایا جاتا ہے، جو شعر سے کہیں زیادہ حلاوت اور لطافت کا حامل ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ انسان کا جمالیاتی ذوق نظم اور شعر میں ایک ایسی لذت اور حلاوت محسوس کرتا ہے جو نثر میں محسوس نہیں ہوتی۔ اگر آپ اس لذت اور حلاوت کے سبب پر غور فرمائیں گے تو معلوم ہوگا کہ اس کا راز درحقیقت لفظوں کی اس ترتیب میں مضمر ہے جو ایک خاص صوتی آہنگ پیدا کرتی ہے، عربی ، فارسی اور اُردو کی قدیم شاعری میں اس آہنگ کی لذت شعر کے خاص اوزان کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جب ایک ہی صوتی وزن کے الفاظ بار بار کانوں میں پڑتے ہیں تو اس سے ذوقِ سلیم کو ایک خاص لذت حاصل ہوتی ہے، اور پھر جب وزن کے ساتھ قافیہ بھی مل جاتا ہے تو اس کی لذت دوچند ہوجاتی ہے، اور جب اس کے ساتھ ردیف کی یکسانیت بھی شامل ہوجاتی ہے تو لذت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے، اور اگر مصرعوں کےبیچ بیچ میں عروضی اوزان کے ساتھ صرفی اوزان اور قوافی کی یکسانیت بھی شامل ہوجائے (جیسا کہ مرصّع اشعار میں ہوتا ہے) تو یہ لذت ا ور بڑھ جاتی ہے۔​
    لیکن اوزان اور قوافی کے اصول ہر خطے اور ہر زبان میں یکساں نہیں ہوتے۔ہر زبان کے لوگ اپنے اپنے ذوق اور مزاج کے لحاظ سے اس کےلیے مختلف قواعد مقرر کرتے ہیں، مثلاً اہلِ عرب نے اپنی شاعری کو وزن اور قافیہ کے سانچے الگ ہیں فارسی شاعری میں اوزان کا دائرہ کچھ اور وسیع کیا گیا، قدیم ہندی شاعری کو دیکھئے تو اس میں معروف عروضی اوزان کے بجائے صرف حروف کی تعداد کا لحاظ ہوتا ہے۔ ہم نے اہل دیہات کو دیکھا ہے جو ان دونوں اصطلاحوں سے بیگانہ ہیں، انہوں نے اپنے سلیقہ اور ذوق کے موافق ایک خاص ترکیب اور خاص تال ایجاد کرکے چند اوزان کلیات کے انضباط اور جزئیات کے انحصار کئے بغیر مرتب کرلئے ہیں جن سے وہ اپنی محفلوں کو گرماتے اور لذت پاتے ہیں۔ اس معاملے میں انگریزی شاعری کا مزاج شاید سبہی سے زیادہ آزاد واقع ہوا ہے، کہ اُس میں عروضی اوزان تو کجا مصرعوں کے طول و عرض میں بھی بسا اوقات زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ اکثر قافیے کی بھی کوئی خاص رعایت نہیں ہوتی، بلکہ صرف تلفّظ کے کھٹکوں (Syllables) سے ایک خاص آہنگ (rhythm) پیدا کیا جاتا ہے، اور وہی آہنگ اہلِ زبان کے لیے ایک خاص لذّت و کیف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس طرغ یونانیوں نے کچھ اوزان مقرر کئے ہیں جن کو وہ مقامات کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور ان مقامات سے آوازیں اور شعبے نکال کر انہوں نے ایک نہایت ہی مبسوط اور مفصل فن اپنے لئے منضبط کیا ہے۔ غرض کہ ہر ایک قوم کا اپنی نظم کے متعلق ایک خاص قانون ہے۔
    اس تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ شعر کی لذت و حلاوت میں اوزان وقوافی کے لگے بندھے قواعد کوئی عالمگیر حیثیت نہیں رکھتے، یہی وجہ ہے کہ یہ قواعد مختلف زبانوں اور خطّوں میں بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن ایک چیز ہے جو اِن سب زبانوں اور تمام قوموں میں قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتی ہے، اور وہ ہے ایک “متوازن صوتی آہنگ(ردھم)” یعنی الفاظ کو اس طرح ترتیب دینا کہ اُن کے تلفظ سے اور انھیں سُن کر انسان کا جمالیاتی ذوق حظ محسوس کرے، لیکن انسان چونکہ اس قدرِ مشترک کو اوزان و قوافی کے معروف سانچوں سے الگ کرنے پر قادر نہیں ، اس لیے جب وہ شاعری کا لُطف پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے لازماً اپنے ماحول کے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی پڑتی ہے، یہ صرف قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس نے دنیا کے مختلف خطّوںمیں مقرر کئے ہوئے شعری قواعد میں سے کسی قاعدے کی پابندی نہیں کی، بلکہ صرف “متوازن صوتی آہنگ” کی اس قدرِ مشترک کو اختیار کرلیا ہے جو اِن سارے قواعد کا اصل مقصود ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نثر ہونے کے باوجود شعر سے زیادہ لطافت اور حلاوت کا حامل ہے۔ اور اہلِ عرب ہی نہیں بلکہ دنیا کی ہر زبان کے لوگ اُسے سُن کر غیر معمولی لذت اور تاثیر محسوس کرتے ہیں۔
    یہیں سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ بعض کُفّارِ عرب نے قرآن ِ کریم کو کس بناء پر شعر قرار دیا تھا؟ ظاہر ہے کہ شعر کی معروف تعریف کسی بھی طرح قرآن کریم پر صادق نہیں آتی ، اور کفارِ عرب اپنی ہزار گمراہیوں کے باوجود اتنی حِس ضرور رکھتے تھے کہ نثر اور نظم میں تمیز کرسکیں، وہ اس بات سے بے خبر نہیں تھے کہ شعر کے لیے وزن اور قافیہ کی پابندی ضروری ہے،جو قرآنِ کریم میں مفقود ہے اس کے باوجود انھوں نے قرآن کریم کو شعر اس بناء پر قرار دیا کہ اس کے اسلوب اور آہنگ میں انھوں نے شعر سے زیادہ حلاوت اور تاثیر محسوس کی تھی اور وہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ وزن اور قافیہ کی پابندی کے بغیر اس کلام میں شعری ذوق اور وجدان کے لیے جمالیاتی لذت بدرجہ اتم موجود ہے جو اوزان و قوافی کی جکڑ بندیوں سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔
    قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ سراپا اعجاز کلام ہے جو شعر نہ ہونے کے باوجود اپنا ایک خاص صوتی وجمالیاتی نظام رکھتا ہے، جس کی تاثیر کے سامنے اچھے سے اچھا شعر بھی ہیچ ہے، جس کو جتنی بار دوہرایا جائے، اس کی چاشنی میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب ”محاضرات قرآنی “کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا۔ غازی صاحب لکھتے ہیں:
    ” آپ نے ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کا نام سنا ہوگا، انہوں نے خود براہ راست مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ غالباً 1958-1957ء میں ایک شخص ان کے پاس آیا۔ ان کی زندگی کا یہ ایک عام معمول تھا کہ ہر روز دو چار لوگ ان کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے تھے۔ وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔
    ڈاکٹر صاحب نے حسب عادت ان کو کلمہ پڑھوایا اور اسلام کا مختصر تعارف ان کے سامنے پیش کردیا۔ اپنی بعض کتابیں انہیں دے دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کا معمول تھا کہ جب بھی کوئی شخص ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا تھا تو وہ اس سے یہ ضرور پوچھا کرتے تھے کہ اسے اسلام کی کس چیز نے متاثر کیا ہے؟
    1948ء سے 1996ء تک یہ معمول رہا کہ ڈاکٹر صاحب کے دست مبارک پر اوسطاً دو افراد روزانہ اسلام قبول کیا کرتے تھے۔عموماً لوگ اسلام کے بارے میں اپنے جو تاثرات بیان کیا کرتے تھے ،وہ ملتے جلتے ہوتے تھے۔ ان میں نسبتاً زیادہ اہم اور نئی باتوں کو ڈاکٹر صاحب اپنے پاس قلم بند کرلیا کرتے تھے۔ اس شخص نے جو بات بتائی، وہ ڈاکٹر صاحب کے بقول بڑی عجیب وغریب اور منفرد نوعیت کی چیز تھی اور میرے لیے بھی بے حد حیرت انگیز تھی۔ اس نے جو کچھ کہا ،اس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا ارشاد تھا کہ میں اسے بالکل نہیں سمجھا اور میں اس کے بارے میں کوئی فنی رائے نہیں دے سکتا۔
    اس شخص نے بتایا: میرا نام ژاک ژیلبیر ہے۔ میں فرانسیسی بولنے والی دنیا کا سب سے بڑا موسیقار ہوں۔ میرے بنائے اور گائے ہوئے گانے فرانسیسی زبان بولنے والی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔آج سے چند روز قبل مجھے ایک عرب سفیر کے ہاں کھانے کی دعوت میں جانے کا موقع ملا۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہاں سب لوگ جمع ہوچکے تھے اور نہایت خاموشی سے ایک خاص انداز کی موسیقی سن رہے تھے۔
    جب میں نے وہ موسیقی سنی تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے یہ موسیقی کی دنیا کی کوئی بہت ہی اونچی چیز ہے، جو یہ لوگ سن رہے ہیں۔ میں نے خود آوازوں کی جو دھنیں اور ان کا جو نشیب وفراز ایجاد کیا ہے ،یہ موسیقی اس سے بھی بہت آگے ہے، بلکہ موسیقی کی اس سطح تک پہنچنے کے لیے ابھی دنیا کو بہت وقت درکار ہے۔ میں حیران تھا کہ آخر یہ کس شخص کی ایجاد کردہ موسیقی ہوسکتی ہے اور اس کی دھنیں آخر کس نے ترتیب دی ہیں۔جب میں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ یہ دھنیں کس نے بنائی ہیں تو لوگوں نے مجھے اشارہ سے خاموش کردیا لیکن تھوڑی دیر بعد پھر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے پھر یہی بات پوچھی، لیکن وہاں موجود حاضرین نے مجھے خاموش کردیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اس گفتگو کے دوران میں وہ فن موسیقی کی کچھ اصطلاحات بھی استعمال کررہا تھا، جن سے میں واقف نہیں، کیوں فن موسیقی میرا میدان نہیں۔
    قصہ مختصر جب وہ موسیقی ختم ہوگئی اور وہ آواز بند ہوگئی تو پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ سب کیا تھا ۔لوگوں نے بتایا کہ یہ موسیقی نہیں تھی، بلکہ قرآن مجید کی تلاوت ہے اور فلاں قاری کی تلاوت ہے۔ موسیقار نے کہا کہ یقینا یہ کسی قاری کی تلاوت ہوگی اور یہ قرآن ہوگا، مگر اس کی یہ موسیقی کس نے ترتیب دی ہے اور یہ دھنیں کس کی بنائی ہوئی ہیں؟ وہاں موجود مسلمان حاضرین نے بیک زبان وضاحت کی کہ نہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی ہیں اور نہ ہی یہ قاری صاحب موسیقی کی ابجد سے واقف ہیں۔اس موسیقار نے جواب میں کہا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی نہ ہوں لیکن اسے یقین دلایا گیا کہ قرآن مجید کا کسی دھن سے یا فن موسیقی سے کبھی کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔ یہ فن تجوید ہے اور ایک بالکل الگ چیز ہے۔ اس نے پھر یہ پوچھا کہ اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ تجوید اور قراء ت کا یہ فن کب ایجاد ہوا؟ اس پر لوگوں نے بتایا کہ یہ فن تو چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو قرآن مجید عطا فرمایا تھا تو فن تجوید کے اصولوں کے ساتھ ہی عطا فرمایا تھا۔ اس پر اس موسیقار نے کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لوگوں کو قرآن مجید اسی طرح سکھایا ہے جیسا کہ میں نے ابھی سنا ہے تو پھر بلاشبہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس لیے کہ فن موسیقی کے جو قواعد اور ضوابط اس طرز قراء ت میں نظر آتے ہیں ،وہ اتنے اعلیٰ وارفع ہیں کہ دنیا ابھی وہاں تک نہیں پہنچی۔
    ڈاکٹر حمیداللہ صاحب فرماتے تھے کہ میں اس کی یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ بعد میں ،میں نے اور بھی قراء کی تلاوت قرآن کو سنا، مسجد میں جاکر سنا اور مختلف لوگوں سے پڑھواکر سنا اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور اگر یہ اللہ کی کتاب ہے تو اس کے لانے والے یقینا اللہ کے رسول تھے، اس لیے آپ مجھے مسلمان کرلیں۔
    ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے مسلمان کرلیا لیکن میں نہیں جانتا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا تھا وہ کس حد تک درست تھا، اس لیے کہ میں اس فن کا آدمی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ میں نے ایک الجزائری مسلمان کو جو پیرس میں زیر تعلیم تھا، اس نئے موسیقار مسلمان کی دینی تعلیم کے لیے مقرر کردیا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وہ دونوں میرے پاس آئے اور کچھ پریشان سے معلوم ہوتے تھے۔الجزائری معلم نے مجھے بتایا کہ وہ نو مسلم قرآن مجید کے بارے میں کچھ ایسے شکوک کا اظہار کررہا ہے جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ جس بنیاد پر یہ شخص ایمان لایا تھا ،وہ بھی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی اب اس کے شکوک کا میں کیا جواب دوں گا اور کیسے دوں گا۔لیکن اللہ کا نام لے کر پوچھا کہ بتاؤ تمہیں کیا شک ہے؟ اس نومسلم نے کہا کہ آپ نے مجھے یہ بتایا تھا اور کتابوں میں بھی میں نے پڑھا ہے کہ قرآن مجید بعینہ اسی شکل میں آج موجود ہے جس شکل میں اس کے لانے والے پیغمبر علیہ الصلاة والسلام نے اسے صحابہ کرام کے سپرد کیا تھا۔
    ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ اب اس نے کہا کہ ان صاحب نے مجھے اب تک جتنا قرآن مجید پڑھایا ہے ،اس میں ایک جگہ کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی چیز ضرور حذف ہوگئی ہے۔اس نے بتایا کہ انہوں نے مجھے سورہٴ نصر پڑھائی ہے اور اس میں افواجاً اور فسبح کے درمیان خلا ہے۔ جس طرح انہوں نے مجھے پڑھایا ہے ،وہاں افواجاً پر وقف کیا گیا ہے۔وقف کرنے سے وہاں سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے جو نہیں ٹوٹنا چاہیے جبکہ میرا فن کہتا ہے کہ یہاں خلا نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ یہ سن کر میرے پیروں تلے زمیں نکل گئی، اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس شبہ کا جواب کیا دیں اور کس طرح مطمئن کریں۔ کہتے ہیں کہ میں نے فوراً دنیائے اسلام پر نگاہ دوڑائی تو کوئی ایک فرد بھی ایسا نظر نہیں آیا جو فن موسیقی سے بھی واقفیت رکھتا ہو اور تجوید بھی جانتا ہو۔
    ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ چند سیکنڈ کی شش وپنج کے بعد بالکل اچانک اور یکایک میرے ذہن میں ایک پرانی بات اللہ تعالیٰ نے ڈالی کہ اپنے بچپن میں جب مکتب میں قرآن مجید پڑھا کرتا تھا تو میرے معلم نے مجھے بتایا تھا کہ افواجاً پر وقف نہیں کرنا چاہیے بلکہ افواجاً کو بعد کے لفظ سے ملا کر پڑھا جائے۔ ایک مرتبہ میں نے افواجاً پر وقف کیا تھا تو اس پر انہوں نے مجھے سزا دی تھی اور سختی سے تاکید کی تھی کہ افواجاً کو آگے ملا کر پڑھا کریں۔میں نے سوچا کہ شاید اس بات سے اس کا شبہ دور ہوجائے اور اس کو اطمینان ہوجائے۔ میں نے اسے بتایا کہ آپ کے جو پڑھانے والے ہیں، وہ تجوید کے اتنے ماہر نہیں ہیں۔ دراصل یہاں اس لفظ کو غنہ کے ساتھ آگے سے ملا کر پڑھا جائے گا۔ افواجاً فسبح۔ ڈاکٹر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ وہ خوشی سے اچھل کر کھڑا ہوگیا اور مجھے گود میں لے کر کمرے میں ناچنے لگا اور کہنے لگا کہ واقعی ایسے ہی ہونا چاہیے۔
    یہ سن کر اس کو میں نے ایک دوسرے قاری کے سپرد کردیا جس نے اس شخص کو پورے قرآن پاک کی تعلیم دی۔ وہ وقتاً فوقتا ًمجھ سے ملتا تھا اور بہت سردھنتا تھا کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ وہ بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا اور ایک کامیاب اسلامی زندگی گزارنے کے بعد 1970ء کے لگ بھگ اس کا انتقال ہوگیا۔
    اس واقعے سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی جو صوتیات ہے، یہ علم وفن کی ایک ایسی دنیا ہے جس میں کوئی محقق آج تک نہیں اترا ہے اور نہ ہی قرآن مجید کے اس پہلو پر اب تک کسی نے اس انداز سے غور وخوض کیا ہے
    (محاضرات قرآنی ، ڈاکٹر محمود احمد)​

    (بشکریہ: فرقان احمد )
     
    آخری تدوین: ‏مئی 30, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 2
  2. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    23,919
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    قرآنِ کریم میں موسیقیت تو ہے جو دل کو لبھانے والی ہے، اسی طرح قرآن کی کئی ایک آیات موزوں بھی ہیں یعنی ہماری شاعری کے مروجہ اوزان پر پورا اترتی ہیں۔

    پچھلی صدی کی ساٹھ کی دہائی میں، احمد ندیم قاسمی کی ادارت میں نکلنے والے "فنون" میں رشید ملک مرحوم موسیقی پر مضامین لکھا کرتے تھے ان میں سے کچھ مضامین "مذہبی موسیقی" کے بارے میں بھی تھے، جیسے برصغیر میں اذان کا جو طریقہ رائج ہے وہ کس راگ کے سُروں کے قریب تر ہے وغیرہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  3. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,611
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    برادرم محمد وارث، اگر کیا اس بارے میں کچھ مزید معلومات مل سکتی ہیں کہ یہ کونسی سورۃ کی آیات ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  4. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    23,919
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بحر الفصاحت میں اٹھارہ آیات کا ذکر ہے، اس کے علاوہ بھی کچھ ہونگی یقینی طور پر۔ وکی پیڈیا پر علم عروض کے بارے میں مضمون لکھتے ہوئے میں نے کچھ مثالیں درج کی تھیں وہی نیچے لکھ دیتا ہوں:

    بسم اللہ الرحمان الرحیم (بحر سریع، وزن مفعولن مفعولن فاعلان)
    انا اعطینک الکوثر (بحر متدارک، وزن فعلن فعلن فعلن فعلن)
    لن تنالوا البر حتی تنفقو (بحر رمل، وزن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن)

    اسکے علاوہ ایک حدیث شریف کے الفاظ "لاحول و لا قوۃ الا باللہ" رباعی کا ایک خاص الخاص وزن ہے اور رباعی کے چوبیس اوزان یاد کروانے کی "بسم اللہ" اسی وزن سے کی جاتی ہے :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  5. نبیل

    نبیل محفلین

    مراسلے:
    16,611
    جھنڈا:
    Germany
    موڈ:
    Depressed
    جزاک اللہ برادرم۔
    لیکن قران کی بڑی خاصیت یہی ہے کہ اللہ کے کلام میں مروج اوزان کا استعمال نہیں کیا گیا۔ نبی صل اللہ علیہ وسلم اگرچہ افصح العرب تھے لیکن اللہ تعالی نے انہیں شعر کہنے کی صلاحیت نہیں دی تھی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    23,919
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آپ نے درست فرمایا برادرم، یہ محض اتفاقی بات ہے کہ کچھ آیاتِ کریمہ ہماری بحروں کے اوزان پر جا پڑی ہیں وگرنہ عروض کے قوانین یعنی اوزان اور بحریں قرآن کے نزول کے بعد بنائے گئے ہیں۔ ویسے اسی موزوں پن و آہنگ و ترنم و موسیقیت ہی کی وجہ سےعرب کے جاہل "شعر اور شاعر" کی بات کرتے تھے اور اس کا رد بھی قرآنِ کریم ہی میں موجود ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
  7. نور سعدیہ شیخ

    نور سعدیہ شیخ مدیر

    مراسلے:
    5,055
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    جانے کیا تھا ان لفظوں نے دل پر کافی اثر کیا ....ایک بندہ موسیقی کے قواعد سے اتنا شناسا اور قران پاک معجزات پہ مشتمل کتب .. اللہ کے بندے کس کس روپ میں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. امان زرگر

    امان زرگر محفلین

    مراسلے:
    1,347
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    آخری تدوین: ‏مئی 30, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. سعادت

    سعادت محفلین

    مراسلے:
    1,019
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Sleepy
    اِس نام کے فرانسیسی ہجے کیا ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  10. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    میرے خیال میں بھی ایسا ہی ہے اور شاید یہ بھی ایک وجہ ہے کہ قرآن قلیل العمری میں ہی حرف بہ حرف یاد ہو جاتا ہے۔
    مروج اوزان کا تو مجھے علم نہیں لیکن قرآن پاک ایک مخصوص لَے اور ردھم میں ہے۔
    اسی لیے عرب کے "فصحا" اس کلام کو شعر کہتے تھے کہ اس میں قوافی اور بہت سی جگہ اوزان کاخیال رکھا گیا ہے۔
    اللہ نے بطورِ خاص شعر گوئی کے علم کی نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی ذات سے نفی فرما دی تھی۔اس میں وہی مصلحت کار فرما ہے جو کہ آپ کے "اُمی" ہونے میں ہے۔اس کے علاوہ بھی بے شمار مصلحتیں ہیں۔
    استادِ محترم شعر کسی زبان کی افصح ترین شکل ہوتی ہے۔اور قرآن سےزیادہ فصیح عربی کلام یقیناً کوئی نہیں ہے۔جہاں تک میرا ناقص علم ہے قرآن کلامِ موزوں ہے اور فصاحت و بلاغت کا بے مثال نمونہ ہے تبھی عرب کے بڑے بڑے فصحا اس کو شعر کہتے تھے۔لیکن کلامِ پاک اشعار سے کہیں زیادہ فصیح و بلیغ ہے۔

    "وما ہو بقول شاعر" کا مفہوم یہ ہے کہ "یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے"
    اس میں کلامِ پاک میں شعری محاسن کی موجودگی کی نفی نہیں کی گئی بلکہ صاحبِ کلام کی نسبت شعر گوئی کے بہتان کی نفی کی گئی ہے۔


    واللہ اعلم
     
    آخری تدوین: ‏مئی 30, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  11. الشفاء

    الشفاء محفلین

    مراسلے:
    2,513
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بیان کیا گیا واقعہ قرآن پاک کے حروف و الفاظ کی نغمیت یا موسیقیت سے اتنا علاقہ نہیں رکھتا جتنا قواعد تجوید و قراءت سے رکھتا ہے۔۔۔
    اس موسیقار کو حروف و الفاظ کی بحور و اوزان نے شک میں نہیں ڈالا بلکہ ان حروف و الفاظ کی ادائیگی کے طریقہ کار سے وہ مخمصے کا شکار ہوا تھا۔ اور جب انہی حروف و الفاظ کو قواعد تجوید و قراء ت کے مطابق ملا کر پڑھا گیا تو اس کی پریشانی رفع ہو گئی۔۔۔
    قواعد تجوید و قراءت سے مراد حروف کے مخارج کے علاوہ غنہ ، اظہار، اخفاء ، اقلاب اور ادغام وغیرہ کے قواعد ہیں کہ جن کی تعلیم و تدریس ہمارے ہاں عام ہے ، الحمدللہ۔ لیکن ان کا تعلق مروجہ فن موسیقی کے ساتھ ہونا واقعی حیران کن ہے۔۔۔:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  12. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,528
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  13. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    34,705
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Cheeky
    پہلا تو Jacques لگ رہا ہے۔ آخری میں واولز کا صحیح اندازہ نہیں ہو رہا
     
    • متفق متفق × 1
  14. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    5,524
    مکمل آرٹیکل یہ رہا ۔۔۔

    ربط

    قرآن کریم ایک ایسی نثر پر مشتمل ہے جس میں شعر کے قواعد و ضوابط ملحوظ نہ ہونے کے باوجود ایک ایسا لذیذ اور شیریں آہنگ پایا جاتا ہے، جو شعر سے کہیں زیادہ حلاوت اور لطافت کا حامل ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ انسان کا جمالیاتی ذوق نظم اور شعر میں ایک ایسی لذت اور حلاوت محسوس کرتا ہے جو نثر میں محسوس نہیں ہوتی۔ اگر آپ اس لذت اور حلاوت کے سبب پر غور فرمائیں گے تو معلوم ہوگا کہ اس کا راز درحقیقت لفظوں کی اس ترتیب میں مضمر ہے جو ایک خاص صوتی آہنگ پیدا کرتی ہے، عربی ، فارسی اور اُردو کی قدیم شاعری میں اس آہنگ کی لذت شعر کے خاص اوزان کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جب ایک ہی صوتی وزن کے الفاظ بار بار کانوں میں پڑتے ہیں تو اس سے ذوقِ سلیم کو ایک خاص لذت حاصل ہوتی ہے، اور پھر جب وزن کے ساتھ قافیہ بھی مل جاتا ہے تو اس کی لذت دوچند ہوجاتی ہے، اور جب اس کے ساتھ ردیف کی یکسانیت بھی شامل ہوجاتی ہے تو لذت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے، اور اگر مصرعوں کےبیچ بیچ میں عروضی اوزان کے ساتھ صرفی اوزان اور قوافی کی یکسانیت بھی شامل ہوجائے (جیسا کہ مرصّع اشعار میں ہوتا ہے) تو یہ لذت ا ور بڑھ جاتی ہے۔
    لیکن اوزان اور قوافی کے اصول ہر خطے اور ہر زبان میں یکساں نہیں ہوتے۔ہر زبان کے لوگ اپنے اپنے ذوق اور مزاج کے لحاظ سے اس کےلیے مختلف قواعد مقرر کرتے ہیں، مثلاً اہلِ عرب نے اپنی شاعری کو وزن اور قافیہ کے سانچے الگ ہیں فارسی شاعری میں اوزان کا دائرہ کچھ اور وسیع کیا گیا، قدیم ہندی شاعری کو دیکھئے تو اس میں معروف عروضی اوزان کے بجائے صرف حروف کی تعداد کا لحاظ ہوتا ہے۔ ہم نے اہل دیہات کو دیکھا ہے جو ان دونوں اصطلاحوں سے بیگانہ ہیں، انہوں نے اپنے سلیقہ اور ذوق کے موافق ایک خاص ترکیب اور خاص تال ایجاد کرکے چند اوزان کلیات کے انضباط اور جزئیات کے انحصار کئے بغیر مرتب کرلئے ہیں جن سے وہ اپنی محفلوں کو گرماتے اور لذت پاتے ہیں۔ اس معاملے میں انگریزی شاعری کا مزاج شاید سبہی سے زیادہ آزاد واقع ہوا ہے، کہ اُس میں عروضی اوزان تو کجا مصرعوں کے طول و عرض میں بھی بسا اوقات زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ اکثر قافیے کی بھی کوئی خاص رعایت نہیں ہوتی، بلکہ صرف تلفّظ کے کھٹکوں (Syllables) سے ایک خاص آہنگ (rhythm) پیدا کیا جاتا ہے، اور وہی آہنگ اہلِ زبان کے لیے ایک خاص لذّت و کیف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس طرغ یونانیوں نے کچھ اوزان مقرر کئے ہیں جن کو وہ مقامات کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور ان مقامات سے آوازیں اور شعبے نکال کر انہوں نے ایک نہایت ہی مبسوط اور مفصل فن اپنے لئے منضبط کیا ہے۔ غرض کہ ہر ایک قوم کا اپنی نظم کے متعلق ایک خاص قانون ہے۔
    اس تفصیل سے یہ بات واضح ہے کہ شعر کی لذت و حلاوت میں اوزان وقوافی کے لگے بندھے قواعد کوئی عالمگیر حیثیت نہیں رکھتے، یہی وجہ ہے کہ یہ قواعد مختلف زبانوں اور خطّوں میں بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن ایک چیز ہے جو اِن سب زبانوں اور تمام قوموں میں قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتی ہے، اور وہ ہے ایک “متوازن صوتی آہنگ(ردھم)” یعنی الفاظ کو اس طرح ترتیب دینا کہ اُن کے تلفظ سے اور انھیں سُن کر انسان کا جمالیاتی ذوق حظ محسوس کرے، لیکن انسان چونکہ اس قدرِ مشترک کو اوزان و قوافی کے معروف سانچوں سے الگ کرنے پر قادر نہیں ، اس لیے جب وہ شاعری کا لُطف پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے لازماً اپنے ماحول کے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی پڑتی ہے، یہ صرف قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اس نے دنیا کے مختلف خطّوںمیں مقرر کئے ہوئے شعری قواعد میں سے کسی قاعدے کی پابندی نہیں کی، بلکہ صرف “متوازن صوتی آہنگ” کی اس قدرِ مشترک کو اختیار کرلیا ہے جو اِن سارے قواعد کا اصل مقصود ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نثر ہونے کے باوجود شعر سے زیادہ لطافت اور حلاوت کا حامل ہے۔ اور اہلِ عرب ہی نہیں بلکہ دنیا کی ہر زبان کے لوگ اُسے سُن کر غیر معمولی لذت اور تاثیر محسوس کرتے ہیں۔
    یہیں سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ بعض کُفّارِ عرب نے قرآن ِ کریم کو کس بناء پر شعر قرار دیا تھا؟ ظاہر ہے کہ شعر کی معروف تعریف کسی بھی طرح قرآن کریم پر صادق نہیں آتی ، اور کفارِ عرب اپنی ہزار گمراہیوں کے باوجود اتنی حِس ضرور رکھتے تھے کہ نثر اور نظم میں تمیز کرسکیں، وہ اس بات سے بے خبر نہیں تھے کہ شعر کے لیے وزن اور قافیہ کی پابندی ضروری ہے،جو قرآنِ کریم میں مفقود ہے اس کے باوجود انھوں نے قرآن کریم کو شعر اس بناء پر قرار دیا کہ اس کے اسلوب اور آہنگ میں انھوں نے شعر سے زیادہ حلاوت اور تاثیر محسوس کی تھی اور وہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ وزن اور قافیہ کی پابندی کے بغیر اس کلام میں شعری ذوق اور وجدان کے لیے جمالیاتی لذت بدرجہ اتم موجود ہے جو اوزان و قوافی کی جکڑ بندیوں سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔
    قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ سراپا اعجاز کلام ہے جو شعر نہ ہونے کے باوجود اپنا ایک خاص صوتی وجمالیاتی نظام رکھتا ہے، جس کی تاثیر کے سامنے اچھے سے اچھا شعر بھی ہیچ ہے، جس کو جتنی بار دوہرایا جائے، اس کی چاشنی میں کوئی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب ”محاضرات قرآنی “کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا۔ غازی صاحب لکھتے ہیں:
    ” آپ نے ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کا نام سنا ہوگا، انہوں نے خود براہ راست مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ غالباً 1958-1957ء میں ایک شخص ان کے پاس آیا۔ ان کی زندگی کا یہ ایک عام معمول تھا کہ ہر روز دو چار لوگ ان کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے تھے۔ وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔
    ڈاکٹر صاحب نے حسب عادت ان کو کلمہ پڑھوایا اور اسلام کا مختصر تعارف ان کے سامنے پیش کردیا۔ اپنی بعض کتابیں انہیں دے دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کا معمول تھا کہ جب بھی کوئی شخص ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا تھا تو وہ اس سے یہ ضرور پوچھا کرتے تھے کہ اسے اسلام کی کس چیز نے متاثر کیا ہے؟
    1948ء سے 1996ء تک یہ معمول رہا کہ ڈاکٹر صاحب کے دست مبارک پر اوسطاً دو افراد روزانہ اسلام قبول کیا کرتے تھے۔عموماً لوگ اسلام کے بارے میں اپنے جو تاثرات بیان کیا کرتے تھے ،وہ ملتے جلتے ہوتے تھے۔ ان میں نسبتاً زیادہ اہم اور نئی باتوں کو ڈاکٹر صاحب اپنے پاس قلم بند کرلیا کرتے تھے۔ اس شخص نے جو بات بتائی، وہ ڈاکٹر صاحب کے بقول بڑی عجیب وغریب اور منفرد نوعیت کی چیز تھی اور میرے لیے بھی بے حد حیرت انگیز تھی۔ اس نے جو کچھ کہا ،اس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا ارشاد تھا کہ میں اسے بالکل نہیں سمجھا اور میں اس کے بارے میں کوئی فنی رائے نہیں دے سکتا۔
    اس شخص نے بتایا: میرا نام ژاک ژیلبیر ہے۔ میں فرانسیسی بولنے والی دنیا کا سب سے بڑا موسیقار ہوں۔ میرے بنائے اور گائے ہوئے گانے فرانسیسی زبان بولنے والی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔آج سے چند روز قبل مجھے ایک عرب سفیر کے ہاں کھانے کی دعوت میں جانے کا موقع ملا۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہاں سب لوگ جمع ہوچکے تھے اور نہایت خاموشی سے ایک خاص انداز کی موسیقی سن رہے تھے۔
    جب میں نے وہ موسیقی سنی تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے یہ موسیقی کی دنیا کی کوئی بہت ہی اونچی چیز ہے، جو یہ لوگ سن رہے ہیں۔ میں نے خود آوازوں کی جو دھنیں اور ان کا جو نشیب وفراز ایجاد کیا ہے ،یہ موسیقی اس سے بھی بہت آگے ہے، بلکہ موسیقی کی اس سطح تک پہنچنے کے لیے ابھی دنیا کو بہت وقت درکار ہے۔ میں حیران تھا کہ آخر یہ کس شخص کی ایجاد کردہ موسیقی ہوسکتی ہے اور اس کی دھنیں آخر کس نے ترتیب دی ہیں۔جب میں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ یہ دھنیں کس نے بنائی ہیں تو لوگوں نے مجھے اشارہ سے خاموش کردیا لیکن تھوڑی دیر بعد پھر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے پھر یہی بات پوچھی، لیکن وہاں موجود حاضرین نے مجھے خاموش کردیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اس گفتگو کے دوران میں وہ فن موسیقی کی کچھ اصطلاحات بھی استعمال کررہا تھا، جن سے میں واقف نہیں، کیوں فن موسیقی میرا میدان نہیں۔
    قصہ مختصر جب وہ موسیقی ختم ہوگئی اور وہ آواز بند ہوگئی تو پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ سب کیا تھا ۔لوگوں نے بتایا کہ یہ موسیقی نہیں تھی، بلکہ قرآن مجید کی تلاوت ہے اور فلاں قاری کی تلاوت ہے۔ موسیقار نے کہا کہ یقینا یہ کسی قاری کی تلاوت ہوگی اور یہ قرآن ہوگا، مگر اس کی یہ موسیقی کس نے ترتیب دی ہے اور یہ دھنیں کس کی بنائی ہوئی ہیں؟ وہاں موجود مسلمان حاضرین نے بیک زبان وضاحت کی کہ نہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی ہیں اور نہ ہی یہ قاری صاحب موسیقی کی ابجد سے واقف ہیں۔اس موسیقار نے جواب میں کہا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی نہ ہوں لیکن اسے یقین دلایا گیا کہ قرآن مجید کا کسی دھن سے یا فن موسیقی سے کبھی کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔ یہ فن تجوید ہے اور ایک بالکل الگ چیز ہے۔ اس نے پھر یہ پوچھا کہ اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ تجوید اور قراء ت کا یہ فن کب ایجاد ہوا؟ اس پر لوگوں نے بتایا کہ یہ فن تو چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو قرآن مجید عطا فرمایا تھا تو فن تجوید کے اصولوں کے ساتھ ہی عطا فرمایا تھا۔ اس پر اس موسیقار نے کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لوگوں کو قرآن مجید اسی طرح سکھایا ہے جیسا کہ میں نے ابھی سنا ہے تو پھر بلاشبہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس لیے کہ فن موسیقی کے جو قواعد اور ضوابط اس طرز قراء ت میں نظر آتے ہیں ،وہ اتنے اعلیٰ وارفع ہیں کہ دنیا ابھی وہاں تک نہیں پہنچی۔
    ڈاکٹر حمیداللہ صاحب فرماتے تھے کہ میں اس کی یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ بعد میں ،میں نے اور بھی قراء کی تلاوت قرآن کو سنا، مسجد میں جاکر سنا اور مختلف لوگوں سے پڑھواکر سنا اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور اگر یہ اللہ کی کتاب ہے تو اس کے لانے والے یقینا اللہ کے رسول تھے، اس لیے آپ مجھے مسلمان کرلیں۔
    ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے مسلمان کرلیا لیکن میں نہیں جانتا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا تھا وہ کس حد تک درست تھا، اس لیے کہ میں اس فن کا آدمی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ میں نے ایک الجزائری مسلمان کو جو پیرس میں زیر تعلیم تھا، اس نئے موسیقار مسلمان کی دینی تعلیم کے لیے مقرر کردیا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وہ دونوں میرے پاس آئے اور کچھ پریشان سے معلوم ہوتے تھے۔الجزائری معلم نے مجھے بتایا کہ وہ نو مسلم قرآن مجید کے بارے میں کچھ ایسے شکوک کا اظہار کررہا ہے جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ جس بنیاد پر یہ شخص ایمان لایا تھا ،وہ بھی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی اب اس کے شکوک کا میں کیا جواب دوں گا اور کیسے دوں گا۔لیکن اللہ کا نام لے کر پوچھا کہ بتاؤ تمہیں کیا شک ہے؟ اس نومسلم نے کہا کہ آپ نے مجھے یہ بتایا تھا اور کتابوں میں بھی میں نے پڑھا ہے کہ قرآن مجید بعینہ اسی شکل میں آج موجود ہے جس شکل میں اس کے لانے والے پیغمبر علیہ الصلاة والسلام نے اسے صحابہ کرام کے سپرد کیا تھا۔
    ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ اب اس نے کہا کہ ان صاحب نے مجھے اب تک جتنا قرآن مجید پڑھایا ہے ،اس میں ایک جگہ کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی چیز ضرور حذف ہوگئی ہے۔اس نے بتایا کہ انہوں نے مجھے سورہٴ نصر پڑھائی ہے اور اس میں افواجاً اور فسبح کے درمیان خلا ہے۔ جس طرح انہوں نے مجھے پڑھایا ہے ،وہاں افواجاً پر وقف کیا گیا ہے۔وقف کرنے سے وہاں سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے جو نہیں ٹوٹنا چاہیے جبکہ میرا فن کہتا ہے کہ یہاں خلا نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ یہ سن کر میرے پیروں تلے زمیں نکل گئی، اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس شبہ کا جواب کیا دیں اور کس طرح مطمئن کریں۔ کہتے ہیں کہ میں نے فوراً دنیائے اسلام پر نگاہ دوڑائی تو کوئی ایک فرد بھی ایسا نظر نہیں آیا جو فن موسیقی سے بھی واقفیت رکھتا ہو اور تجوید بھی جانتا ہو۔
    ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ چند سیکنڈ کی شش وپنج کے بعد بالکل اچانک اور یکایک میرے ذہن میں ایک پرانی بات اللہ تعالیٰ نے ڈالی کہ اپنے بچپن میں جب مکتب میں قرآن مجید پڑھا کرتا تھا تو میرے معلم نے مجھے بتایا تھا کہ افواجاً پر وقف نہیں کرنا چاہیے بلکہ افواجاً کو بعد کے لفظ سے ملا کر پڑھا جائے۔ ایک مرتبہ میں نے افواجاً پر وقف کیا تھا تو اس پر انہوں نے مجھے سزا دی تھی اور سختی سے تاکید کی تھی کہ افواجاً کو آگے ملا کر پڑھا کریں۔میں نے سوچا کہ شاید اس بات سے اس کا شبہ دور ہوجائے اور اس کو اطمینان ہوجائے۔ میں نے اسے بتایا کہ آپ کے جو پڑھانے والے ہیں، وہ تجوید کے اتنے ماہر نہیں ہیں۔ دراصل یہاں اس لفظ کو غنہ کے ساتھ آگے سے ملا کر پڑھا جائے گا۔ افواجاً فسبح۔ ڈاکٹر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ وہ خوشی سے اچھل کر کھڑا ہوگیا اور مجھے گود میں لے کر کمرے میں ناچنے لگا اور کہنے لگا کہ واقعی ایسے ہی ہونا چاہیے۔
    یہ سن کر اس کو میں نے ایک دوسرے قاری کے سپرد کردیا جس نے اس شخص کو پورے قرآن پاک کی تعلیم دی۔ وہ وقتاً فوقتا ًمجھ سے ملتا تھا اور بہت سردھنتا تھا کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ وہ بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا اور ایک کامیاب اسلامی زندگی گزارنے کے بعد 1970ء کے لگ بھگ اس کا انتقال ہوگیا۔
    اس واقعے سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی جو صوتیات ہے، یہ علم وفن کی ایک ایسی دنیا ہے جس میں کوئی محقق آج تک نہیں اترا ہے اور نہ ہی قرآن مجید کے اس پہلو پر اب تک کسی نے اس انداز سے غور وخوض کیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  15. عاطف ملک

    عاطف ملک محفلین

    مراسلے:
    965
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Innocent
    بہت بہت شکریہ فرقان احمد بھیا!
    میں نے لڑی کے عنوان اور متن میں آپ کے ربط اور اس تحریر کے مطابق تدوین کر دی ہے۔
    واقعی میں یہی قرآن کا اعجاز ہے کہ اس کا اندازِ بیان اپنے ردھم اور مخصوص طرز کے باعث ہر طرح کے شعری و نثری کلام سے بدرجہا افصح اور ابلغ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  16. ملک حبیب

    ملک حبیب محفلین

    مراسلے:
    127
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ماشاءاللہ بہت عمدہ اور معلوماتی تحریر ہے،،،، براہِ کرم یہ فرمائیے کہ یہ مکمل تحریر آپکی ہے یا ڈاکٹر محمود احمد صاحب کی کتاب محاضرات قرانی کا اقتباس ہے۔
     
  17. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    21,579
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    تحریر کے آخر میں ڈاکٹر صاحب مرحوم کا نام شامل ہے۔
     
  18. ملک حبیب

    ملک حبیب محفلین

    مراسلے:
    127
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    لیکن اوپر یہ بھی لکھا ہے کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب " محاضرات قرآنی " کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا۔۔۔ الخ
    اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ تحریر کسی اور کی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    21,579
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    جی اب غور کیا۔
    تحریر کا ربط جس ویب سائٹ سے ہے، وہاں بھی صرف ایڈمن لکھا ہے۔
     
  20. ملک حبیب

    ملک حبیب محفلین

    مراسلے:
    127
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    جی محترمی اسی لیے فقیر نے سوال کیا۔
     

اس صفحے کی تشہیر