مجھے یاد رکھنا دعاؤں کی صورت

ایم اے راجا

محفلین
[تمام اہلیانِ محفل کو سلام عرض، بہت دن بعد ایک بے ردھم غزل حاضر ہے، برائے اصلاح و رائے۔ شکریہ۔

مجھے یاد رکھنا دعاؤں کی صورت
سرِ شام ٹھنڈی ہواؤں کی صورت

مجھے بھول کر تم نہ جینا کبھی بھی
مجھے ساتھ رکھنا رداؤں کی صورت

کسی سمت دیکھو، مجھے یاد کرنا
چلا آؤں گا میں فضاؤں کی صورت

مرے دل میں بستا ہے وہ آج تک بھی
ستاتی ، رلاتی جفاؤں کی صورت

مرے ساتھ رہتا ہے ہر جا ترا غم
مرے جسم کی اب عباؤں کی صورت

مرے سر پہ سایہ فگن ہے تپش میں
تری ذات گہری گھٹاؤں کی صورت

یہ دھرتی محبت کی پالی ہوئی ہے
یہاں پر فقط ہے وفاؤں کی صورت

لہو میں مرے آج شامل ہے راجا
جو کلتک صرف تھا جفاؤں کی صورت
 

الف عین

لائبریرین
میرے خیال میں ہر شعر میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے، یا تو ’کی صورت‘ فٹ نہیں ہو رہا ہے۔، یا مطلب واضح نہیں ہے، یا محاورہ درست نہیں اور ہمیشہ کی طرح حشو و زوائد تو زائد ہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں ایک ایک شعر کے بخئے ادھیڑ دوں، تم خود ہی سدھارنے کی کوشش کرو، اور اس پر غور کرو کہ میں اتنے سخت کمنٹس کیوں دے رہا ہوں۔
 

ایم اے راجا

محفلین
میرے خیال میں ہر شعر میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے، یا تو ’کی صورت‘ فٹ نہیں ہو رہا ہے۔، یا مطلب واضح نہیں ہے، یا محاورہ درست نہیں اور ہمیشہ کی طرح حشو و زوائد تو زائد ہی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں ایک ایک شعر کے بخئے ادھیڑ دوں، تم خود ہی سدھارنے کی کوشش کرو، اور اس پر غور کرو کہ میں اتنے سخت کمنٹس کیوں دے رہا ہوں۔
بہت شکریہ استادِ محترم، میں نے کافی غور کیا ہے مگر مجھے یوں ہی سمجھ آئی ہے، اب آپ کے حوالے کرتا ہوں۔ شکریہ۔
 

ایم اے راجا

محفلین
السلام علیکم اور عید مبارک۔

استادِ محترم میں ابتک انتظار ہی کر رہا ہوں شاید آپ بھول گئے ہیں، سو اپکوع یاد دلانا مقصود تھا۔ شکریہ۔
 

الف عین

لائبریرین
میں ہی آ گیا ہوں، تیر تلوار سب لے کر:

مجھے یاد رکھنا دعاؤں کی صورت
سرِ شام ٹھنڈی ہواؤں کی صورت

مطلع میں یہ گڑبڑ ہے کہ ردیف قافئے، دونوں معانی سے خالی ہیں۔ دعاؤں کی طرح یاد رکھنا؟؟ اوہ وہی بات ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ بھی ہتے۔ ان کو بھی یاد نہیں رکھا جاتا۔ اس پر اصلاح نہ ہو سکنے کی وجہ سے ہی در اصل اس غزل میں دیر ہو گئی۔ یہاں ہی گاڑی اٹک جاتی تھی۔ اب اس کو چھوڑ کر اگلے سٹیشن پر۔۔۔۔

مجھے بھول کر تم نہ جینا کبھی بھی
مجھے ساتھ رکھنا رداؤں کی صورت

رداؤں کی صورت (یا طرح) کیسے رکھا جاتا ہے، سوال اٹھتا ہے۔ ’کبھی بھی‘ میں ‘بھی‘ زیادہ ہے۔
کبھی اس طرح مجھ کو مت بھول جانا
ایک ممکنہ رواں مصرع ہے۔ لیکن دوسرے مصرع میں دوبارہ ’مجھے‘ ہے۔ اس کی جگہ سدا کر دو تو ہمیشہ والی بات بھی آ جائے
یعنی:

کبھی اس طرح مجھ کو مت بھول جانا
سدا ساتھ رکھنا رداؤں کی صورت (‘اس طرح میں‘ ایک داستان بھی مخفی لگتی ہے)


کسی سمت دیکھو، مجھے یاد کرنا
چلا آؤں گا میں فضاؤں کی صورت

اس میں بھی بیان کی اغلاط ہیں۔فضائیں کیا آتی ہیں جو تم ان کی صورت آ سکو گے؟ قافیہ بدلنا ہوگا، یا مضمون ہی۔ ہاں ’گھٹائیں‘ آ سکتی ہیں۔ اس کو یوں کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ بات تب بھی اتنی نہیں بنتی ہے:

کبھی تشنگی میں مجھے یاد کرنا
چلا آؤں گا میں گھٹاؤں کی صورت


مرے دل میں بستا ہے وہ آج تک بھی
ستاتی ، رلاتی جفاؤں کی صورت

جفاؤں کی صورت بسنا؟ بقول محسن حجازی۔۔ ایں چہ چکر است؟ اس کو بھی اصلاح کرنی مشکل ہے۔


مرے ساتھ رہتا ہے ہر جا ترا غم
مرے جسم کی اب عباؤں کی صورت
عباؤں کی صورت غم؟ کیوں اوڑھے ہوئے ہو، اتار پھینکو!!! اور عبا ایک ہی پہنی جاتی ہے ایک وقت میں۔ عبائیں ایک ساتھ نہیں پہنی جاتیں۔ یہ قافیہ بھی پسند نہیں آیا۔
’ہر جا‘ کی ضرورت نہیں، ہر پل، ہر لمحے کا مقام ہے۔ غم کی جگہ یادیں زیادہ ساتھ رہ سکتی ہیں، اس صورت میں
مرے ساتھ ہر لمحہ یادیں ہیں تیری
ورنہ غم ہی رکھنا ہو تو
ترا غم مرے ساتھ رہتا ہے پل پل
بدن کی دریدہ عباؤں کی صورت
دریدہ کا اضافہ محض ’اب‘ نکال دینے کی غرض سے


مرے سر پہ سایہ فگن ہے تپش میں
تری ذات گہری گھٹاؤں کی صورت

ذات کا سایہ؟ ’یاد کا سایہ‘ ہو سکتا ہے۔ ، ذرا ’تپش‘ ساتھ نہیں دے رہا لہجے کا۔ اس کو یوں کہو تو؟
بہت دھوپ ہے، پھر بھی سایہ فگن ہے
تری یاد گہری گھٹاؤں کی صورت


یہ دھرتی محبت کی پالی ہوئی ہے
یہاں پر فقط ہے وفاؤں کی صورت

وفاؤں کی صورت بھی گڑبڑ ہے۔ اور دھرتی محبت کی پالی ہوئی سے کیا مراد ہے؟ اس کی بجائے ’ماؤں‘ کا قافیہ یہاں لایا جا سکتا ہے۔ (ہندوستانی ہو کر پاکستانی وطنی جذبے کا شعر ’بنا‘ رہا ہوں اس کو)

اسی پاک دھرتی کی ممتا ہے ہر سو
یہی پیار دیتی ہے ماؤں کی صورت


لہو میں مرے آج شامل ہے راجا
جو کل تک صرف تھا جفاؤں کی صورت
پہلا مصرع بہت اچھا ہے، اسی قسم کا میں اوپر ’پل پل والے شعر میں لگانا چاہ رہا تھا کہ نیچے نظر پڑی کہ اسی مضمون کا مصرع یہاں بھی ہے۔
لیکن یہ ؔ’جفاؤں کی صورت‘ سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کے علاوہ " صِرف‘ کا تلفظ بھی غلط ہے۔ اس میں ’ر‘ پر جزم ہے۔ بر وزن فِعل۔ فَعَل نہیں۔ اس کا کوئی دوسرا مصرع سوچو تو قابل قبول ہو۔
مجموعی طور پر وہی بات دوہراؤں گا کہ قافیے یہاں ایک آدھ شعر کو چھوڑ کر کہیں درست نہیں ہیں۔ جن پر اصلاح دی ہے، ان سے بھی مطمئن نہیں ہوں۔
 

ایم اے راجا

محفلین
شکریہ، استادِ محترم، اصل میں یہ تخیل کا سفر ہے کسی کا کسی طرف اور کسی کا کسی طرف۔
استادِ محترم میں نے کسی سے سنا تھا یا پڑھا تھا کہ صرف اور طرح کو دونوں صورتوں میں باندھا جاسکتا ہے، 21 اور 12 بھی، کیا یہ درست نہیں؟
 

الف عین

لائبریرین
غلط سنا تھا، ’صرف‘ تو ایک ہی صورت میں درست ہے، طرح البتہ دونوں طرح باندھتے ہیں۔ زیادہ درست اگرچہ بسکوت ر، بر وزن فعل ہے۔ فَعَل نہیں۔
 
Top