مجھے ڈر ہے ۔

ناعمہ عزیز

لائبریرین
ڈر اور خوف د و ایسے احساسات ہیں جو کسی بھی انسان کو کسی بھی وقت پیش آسکتے ہیں ، مگر میرا ڈر بڑا عام سا ہے مگر میرے لئے یہ ڈر کسی بھی عذاب سے کم نہیں۔ اور اس ڈر کا ذمہ لوگوں کے سر جاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے ! لوگوں کے کہنے کے ڈر سے ہم وہ نہیں کر سکتے جو ہم کرنا چاہتے ہیں ، وہ کہہ نہیں سکتے جسے ہم ٹھیک سمجھتے ہیں ، تو پھر لوگوں کے ڈر سے محسوس کرنا کیوں نہیں چھوڑ دیتے ؟
ہم اپنے کام سے کام کیوں نہیں رکھ سکتے ؟ ہم کیوں معاشرے کے ننگے سچ دیکھ کر کڑھتے رہتے ہیں ؟ ہمیں آزادی رائے کا اختیار نہیں ہوتا تو ہم ان سوچوں سے آزاد کیوں نہیں ہو سکتے ! اور پھر جو سب سے بڑی اور اہم بات وہ ایک عورت ہونا ہے ، مردوں کو سب کہنے کرنے کی آزادی حاصل ہو تی ہے مگر ایک عورت ہونے کے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ،
عورت کو اپنی حددود میں رہنا ہے ۔ مجھے یاد ہیں عنیقہ ناز! ایک بہادر خاتون بلاگر، بے دھڑک سچ کہہ دینے والی، کسی سے نا ڈرنے والی ، لوگ انکی تعریف کرتے تھے ، انہیں سراہتے تھے ، اور کچھ انہیں بے باک عورت کا خطاب دیتے تھے ، مجھے وہ بہت پسند تھیں، میں تو بلاگنگ کے نام پر شاید دھبہ ہوں ، میں نے شاید آج تک اپنی ذات سے باہر جا کر کچھ نہیں لکھا کہ کہیں لوگ کچھ کہہ نا دیں ، مگر مجھے لگتا تھا عنیقہ ناز اپنا نہیں میرا موقوف بھی بیان کر دیتی ہیں ، مجھے ان کے اندر ااپنی ذات دکھائی دیتی تھی ، میں ان کے بلاگ کی ایک خاموش قاری تھی ، ان کی کسی بھی تحریر پر میں نے کوئی کمنٹ نہیں کیا ، بس چپ چاپ انکی تحریریں اور تبصرے پڑھتی ، اور جوش و خروش سے خوش ہوتی ، صرف اس لیے کہ میں انکی طرح باہمت نہیں تھی مگر انکی ہمت کو اپنا سمجھتی ، جس دن میں نے انکی وفا ت کی خبر پڑھی ! مجھے لگا وہ نہیں میرے اندر کوئی مر گیا ہے ! کافی دیر تک میں سُن بیٹھی رہی کہ اب کیا ہو گا! وہ صرف ایک عورت نہیں تھی ، وہ ایک ہمت تھی جو میرے علاوہ بہت ساری بزدل خواتین بلاگزر انکی وجہ سے تھی ۔ مگر وہ اتنی جلدی چپ چاپ چلی گئیں کہ سوچنے سمجھنے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔
عرصہ دراز تک مجھے سوشل میڈیا پر ان جیسی خاتون نظر نہیں آئیں اور پھر یہی کوئی دو سال پہلے میں نے عفاف اظہر کو ایڈ کیا، مجھے لگا ووہ عنیقہ ناز سے بھی زیادہ باہمت ہیں وہ ہر سچ کو باریکی سے دیکھتی ہی نہیں بلکل اسی طرح بیان کر دیتی ہیں ، پڑھنے والوں کو شرمندگی ہوتی ہے مگر لکھنے والی کو نہیں ، وہ اپنے قلم کے ساتھ اتنی مخلص ہیں جیسے ایک ماں اپنی اولاد کے ساتھ ، ان کے اندر کوئی کرپشن نہیں ۔ بارہا انہوں نے اپنے سٹیٹس پر لکھا کہ انکے ایسا لکھنے پر لوگ انہیں دھکمیاں دیتے ہیں ، ذاتی پیغامات گندی باتیں کرتے ہیں ، اور ننگی تصاویر بھیجتے اور گھٹیا فقرے کستے ہیں مگر انہیں ان باتوں کی کوئی پروا نہیں وہ جو دیکھتی ہیں وہ ہی لکھتی ہیں ، بہرحال وہ ناعمہ جسے لگتا تھا کہ صرف عنیقہ ناز نہیں گئیں بلکہ ناعمہ کے جذبات بھی ان کے ساتھ ہی مر گئے ہیں وہ عفاف اظہر کے لفظوں نے زندہ کر دئیے ، دو سال ان کو پڑھنے کے بعد میں پہلی بار تین دن پہلے ہمت کی انکے ایک سٹیٹس پر تبصرہ کرنے کے۔ اور پھر اسی تبصرے کو اپنے پروفائل پر پوسٹ کر دیا ،بہت سال لگے مجھے اپنے کو باہمت کرنے میں ، اس سوچ سے آزاد کروانے میں کہ نہیں میں جو دیکھتی ہوں لکھ سکتی ہوں مگر چند گھنٹوں بعد بھائی کا میسج آیا کہ یہ کس قسم کے سٹیٹس لگا رہی ہیں آپ اور اس پر لوگ تبصرے کر رہے ہیں ؟
بس پھر ساری ہمت ٹُھس ہو گئی ! میں نے وہ سٹیٹس ڈیلیٹ نہیں کیا مگر اس وقت میں جان گئی تھی کہ اب میں کبھی کچھ نہیں لکھ پاؤں گی ، جیسے میں لوگوں سے ڈرتی آ ئی ہوں وہ بھی میرے لیے لوگوں سے ڈرتے ہیں اور یہ کہ کوئی میرے ساتھ کھڑا نہیں ہو گا اور نا یہ کہے کا کہ جو دل میں آئے کہہ دو ، پہلے ہی کرپشن بہت ہے اب تم لکھنے میں کرپشن نا کرنا۔
بس پھر کل میں نے اپنا بیس صفحات پر شروع کردہ ناول چپکے سے ڈیلیٹ کر دیا کیونکہ میں ڈر گئی تھی کہ اگر یہ ٹھکرایا گیا تو مجھے اس سٹیٹس سے کہیں زیادہ تکلیف کا سامنا ہو گا۔
 
آخری تدوین:

نایاب

لائبریرین
عنیقہ ناز! ایک بہادر خاتون بلاگر، بے دھڑک سچ کہہ دینے والی، کسی سے نا ڈرنے والی ،
متفق
حق تعالی مغفرت فرمائے آمین
بلا شک اک سچی لکھاری
جن کا قلم سرجن کے نشتر کی مثال معاشرے کی " بغل " میں نکلے چھپے " پھوڑوں کا آپریشن کرتے " گند " صاف کرنے کی ایسے کوشش کرتا کہ "مریض " کو کم سے کم تکلیف ہو ۔۔۔۔۔۔
محترم عفاف اظہر " عنیقہ ناز " سے بہت مختلف لکھتی ہیں ۔ اور اکثر ان کا قلم کسی " قصائی " کے " ٹوکے " سے بھی زیادہ بے رحمی سے معاشرے پر ایسے برستا ہے ۔ کہ " جنون " بھی پیچھے رہ جاتا ہے ۔ یہ اکثر اپنی " حد " سے بہت آگے نکل جاتی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر دو شخصتیں اک محترم عفاف اظہر اور دوسرے محترم رفیع رضا کی " تحاریر " سے صد فیصد متفق ہوتے ہوئے بھی ان کے انداز بیان اورحد سے بڑھی آزاد گوئی ان کے " قاری " کو ان سے متنفر کرنے میں صد فیصد کامیاب رہتی ہے ۔۔۔
کل میں نے اپنا بیس صفحات پر شروع کردہ ناول چپکے سے ڈیلیٹ کر دیا
نہ تو آپ نے بالکل بھی اچھا نہیں محترم بٹیا جی
آپ کو اپنی تحریر پر یقین کامل کی حد تک اعتبار ہونا چاہیئے تھا کہ یہ آپ کی سوچ اور خیال کی پرواز کے ابھرے مشاہدے پر استوار تھی ۔
آپ لکھیں اور بنا ڈرے لکھیں ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی تحریر خود میں " تلخ ننگا سچ " تو لیے ہوئے ہوگی ۔ مگر کسی بھی " فساد و انتشار " کے جراثیم سے بہت دور ہو گی ۔
ریٹنگ اس لیے نہ دی کہ " |غیر متفق " ہوں آپ کی تحریر سے ۔
بہت دعائیں
 
شکریہ حمیرا ،،
مگر یہ تحریر نہیں ہے تکلیف ہے ، اور تکلیف بھی وہ کہ جو آدھی اندر رہ گئی اور تھوڑی بہت بیان کر دی تاکہ کچھ تو دل کا بووجھ ہلکا ہو جائے
یار ہم خواتین کے ساتھ یہ المیہ تو ہمیشہ سے ہے میری نظر میں بہت بہادر لڑکیاں ہوتی ہیں جو ہر طرح کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر ہر طرح کے موضوع کھل کر بات کر لیتی ہیں
 

لاریب مرزا

محفلین
بشر کو مار دیتا ہے بہت حساس ہونا بھی۔۔۔۔
ناعمہ بہنا!! یہ تو ہمیں پتا تھا کہ آپ بہت حساس دل رکھتی ہیں۔ لیکن آپ کی شخصیت کے اس پہلو نے ہمیں حیران کیا ہے۔ :)
ہم ان دونوں خواتین کو نہیں جانتے اور نہ ان کی تحاریر کے محرک کو، لیکن ہمیں ان اور ان جیسی دوسری خواتین کی تحاریر پہ حیرت ضرور ہوتی ہے، بلکہ بہت حیرت ہوتی ہے کہ ان کی تحریروں میں اس قدر شدت کہاں سے آ جاتی ہے؟؟ شاید ذاتی تجربات ہوتے ہوں یا عمیق مشاہدہ۔
لیکن ہمارا خواتین کے رجحان اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں نظریات کچھ اور ہیں، جن کو اگر ہم بیان کر دیں تو ہمیں یقین ہے کہ آپ اختلاف کریں گی۔ :)
شدید قسم کے احساسات سے لبریز ایک حساس تحریر :)
 

دوست

محفلین
پُتر فیس بک پر لکھنے میں اور ناول کہانی افسانہ لکھنے میں فرق ہے. وہاں حاجی صاحب سے لے کتے بلے تک کی خصلت والے لوگ اپنی اپنی آواز میں بولنے /بھونکنے کے لیے تیار رہتے ہیں اس لیے وہاں صرف اتنی بات جتنی مناسب ہو. فیس بک اپنے گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر بات کرنے کی طرح ہے، جسے محلے والے نوٹس بھی کریں گے اور ردعمل بھی دیں گے. فکشن لکھو، لکھنے سے پہلے پڑھو کہ اردو اور دنیا کی معروف فکشن نگاروں نے کیسے اور کیا لکھا. بات کہنے کا ایک ڈھنگ ہوتا ہے اور فکشن سے بہتر انداز میں شاید ہی کسی اور صنف میں یہ کام ہو سکے. ادب میں علامات اور استعارے بڑی بڑی بات کہنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں. فکشن لکھو اللہ خیر کرے گا. ریجیکٹ ہو گا تو ہی ایکسپٹ بھی ہو گا کسی دن. فیس بک پر ہر بات منہ پھاڑ کر کہہ دینا ان لوگوں کا کام ہے جن کے پاس پنجابی والا آڈّا لگانے کا بہت سا وقت اور انرجی ہوتی ہے. اس لیے اس بات پر پریشان نہیں ہونا. درانی جٹھانی کی کنورسیشن اور ہیر وارث شاہ میں کچھ تو فرق ہوتا ہے حالانکہ دونوں میں بولنا ہی انوالو ہے. اسی طرح ہر لکھنا ایک سا نہیں ہوتا. فیس بک، بلاگ اور ناول تین انتہائی مختلف چیزیں ہیں جن میں قارئین، مقاصد، مواد کی عمر، اثر پذیری غرض دسیوں حوالوں سے فرق پایا جاتا ہے.
 
آخری تدوین:

عثمان

محفلین
پہلی بات تو یہ کہ عنیقہ ناز کو یاد کرنے کا بہت شکریہ۔ :)
واقعی اردو بلاگنگ کی دنیا میں وہ منفرد تھیں۔
عفاف اظہر کون ہیں۔ ان کے بلاگ کا ربط مل جائے تو خوب ہو۔

اپنی رائے دینے سے ہرگز نہ گھبرائیں۔ ہاں رائے کہاں دینی ہے اورکہاں نہیں اس کے انتخاب میں احتیاط کرنا ہے۔شاکر کی بات درست ہے کہ فیس بک اس قابل نہیں کہ اپنی تمام تر شناخت کے ساتھ آزادی سے اپنی بات کہہ دی جائے۔
آپ کسی فورم یا بلاگ پر اپنی شناخت خفیہ رکھ کر اپنی بات کھل کر کہہ سکتی ہیں۔
آپ بہت پختہ نکتہ نظر رکھتی ہیں۔ اپنی اظہار رائے جاری رکھیں۔ :)
 
آخری تدوین:

باباجی

محفلین
کل میں نے اپنا بیس صفحات پر شروع کردہ ناول چپکے سے ڈیلیٹ کر دیا کیونکہ میں ڈر گئی تھی کہ اگر یہ ٹھکرایا گیا تو مجھے اس سٹیٹس سے کہیں زیادہ تکلیف کا سامنا ہو گا۔
بہت غلط کیا ۔۔ آپ چاہے اسے اپنے تک محدود رکھتی مگر ڈیلیٹ نا کرتیں
بلکہ ایک کام کریں کسی کاغذ پہ لکھ لیں ۔۔ کاغذ سیاہ کرنا دل کو جلانے سے کہیں بہتر ہے
 

سارہ خان

محفلین
ایسا لگ رہا ہے تم نے میرے دل کی باتیں لکھ دی ہیں سب ۔۔۔
عنیقہ ناز کی ذہانت اور بہادری کی میں بھی متعرف ہوں جس طرح اتنے سارے مرد بلاگرز کی مخالفت کے سامنے ڈٹ کے رہتی تھیں قال تعریف تھا ۔۔
اور عفاف اظہر دو تین سال سے ایڈ ہیں میرے پاس فیس بک پر۔۔ اس سے پہلے ان کا بلاگ شوق سے پڑھتی تھی ۔۔ کبھی ان کے اسٹیٹس پر تبصرہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی لائک کر لیتی ہوں بس۔۔
 

نمرہ

محفلین
عنیقہ کے درجات خدا بلند کرے, میں ان کے بلاگ کی خاموش قاری تھی اور انسپیریشن کا ذریعہ تو وہ اب تک ہیں میرے لیے.
باقی آپ اپنی پرائویسی کا خیال رکھ کر جو لکھنا چاہیں لکھیں. دنیا میں ہر میڈیم ایسا نہیں ہوتا کہ لوگوں کے فضول تبصرے برداشت کرنے پڑیں.
 

زیک

مسافر
اگرچہ کتاب لکھنا، بلاگ لکھنا اور فیسبک پر تبصرہ کرنا یا سٹیٹس اپڈیٹ کرنا کافی مختلف کام ہیں مگر ہیں سب ہی اظہارِ رائے کے ذریعے۔ اگر ایک پر لوگ ڈراتے ہیں تو باقی پر بھی اعتراض کریں گے۔ ہاں ہر پلیٹ فارم پر سامعین و قارئین کو سمجھ کر لکھنا بہتر ہے۔
 

شزہ مغل

محفلین
ڈر اور خوف د و ایسے احساسات ہیں جو کسی بھی انسان کو کسی بھی وقت پیش آسکتے ہیں ، مگر میرا ڈر بڑا عام سا ہے مگر میرے لئے یہ ڈر کسی بھی عذاب سے کم نہیں۔ اور اس ڈر کا ذمہ لوگوں کے سر جاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے ! لوگوں کے کہنے کے ڈر سے ہم وہ نہیں کر سکتے جو ہم کرنا چاہتے ہیں ، وہ کہہ نہیں سکتے جسے ہم ٹھیک سمجھتے ہیں ، تو پھر لوگوں کے ڈر سے محسوس کرنا کیوں نہیں چھوڑ دیتے ؟
ہم اپنے کام سے کام کیوں نہیں رکھ سکتے ؟ ہم کیوں معاشرے کے ننگے سچ دیکھ کر کڑھتے رہتے ہیں ؟ ہمیں آزادی رائے کا اختیار نہیں ہوتا تو ہم ان سوچوں سے آزاد کیوں نہیں ہو سکتے ! اور پھر جو سب سے بڑی اور اہم بات وہ ایک عورت ہونا ہے ، مردوں کو سب کہنے کرنے کی آزادی حاصل ہو تی ہے مگر ایک عورت ہونے کے نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ،
عورت کو اپنی حددود میں رہنا ہے ۔ مجھے یاد ہیں عنیقہ ناز! ایک بہادر خاتون بلاگر، بے دھڑک سچ کہہ دینے والی، کسی سے نا ڈرنے والی ، لوگ انکی تعریف کرتے تھے ، انہیں سراہتے تھے ، اور کچھ انہیں بے باک عورت کا خطاب دیتے تھے ، مجھے وہ بہت پسند تھیں، میں تو بلاگنگ کے نام پر شاید دھبہ ہوں ، میں نے شاید آج تک اپنی ذات سے باہر جا کر کچھ نہیں لکھا کہ کہیں لوگ کچھ کہہ نا دیں ، مگر مجھے لگتا تھا عنیقہ ناز اپنا نہیں میرا موقوف بھی بیان کر دیتی ہیں ، مجھے ان کے اندر ااپنی ذات دکھائی دیتی تھی ، میں ان کے بلاگ کی ایک خاموش قاری تھی ، ان کی کسی بھی تحریر پر میں نے کوئی کمنٹ نہیں کیا ، بس چپ چاپ انکی تحریریں اور تبصرے پڑھتی ، اور جوش و خروش سے خوش ہوتی ، صرف اس لیے کہ میں انکی طرح باہمت نہیں تھی مگر انکی ہمت کو اپنا سمجھتی ، جس دن میں نے انکی وفا ت کی خبر پڑھی ! مجھے لگا وہ نہیں میرے اندر کوئی مر گیا ہے ! کافی دیر تک میں سُن بیٹھی رہی کہ اب کیا ہو گا! وہ صرف ایک عورت نہیں تھی ، وہ ایک ہمت تھی جو میرے علاوہ بہت ساری بزدل خواتین بلاگزر انکی وجہ سے تھی ۔ مگر وہ اتنی جلدی چپ چاپ چلی گئیں کہ سوچنے سمجھنے کا موقع بھی نہیں مل سکا۔
عرصہ دراز تک مجھے سوشل میڈیا پر ان جیسی خاتون نظر نہیں آئیں اور پھر یہی کوئی دو سال پہلے میں نے عفاف اظہر کو ایڈ کیا، مجھے لگا ووہ عنیقہ ناز سے بھی زیادہ باہمت ہیں وہ ہر سچ کو باریکی سے دیکھتی ہی نہیں بلکل اسی طرح بیان کر دیتی ہیں ، پڑھنے والوں کو شرمندگی ہوتی ہے مگر لکھنے والی کو نہیں ، وہ اپنے قلم کے ساتھ اتنی مخلص ہیں جیسے ایک ماں اپنی اولاد کے ساتھ ، ان کے اندر کوئی کرپشن نہیں ۔ بارہا انہوں نے اپنے سٹیٹس پر لکھا کہ انکے ایسا لکھنے پر لوگ انہیں دھکمیاں دیتے ہیں ، ذاتی پیغامات گندی باتیں کرتے ہیں ، اور ننگی تصاویر بھیجتے اور گھٹیا فقرے کستے ہیں مگر انہیں ان باتوں کی کوئی پروا نہیں وہ جو دیکھتی ہیں وہ ہی لکھتی ہیں ، بہرحال وہ ناعمہ جسے لگتا تھا کہ صرف عنیقہ ناز نہیں گئیں بلکہ ناعمہ کے جذبات بھی ان کے ساتھ ہی مر گئے ہیں وہ عفاف اظہر کے لفظوں نے زندہ کر دئیے ، دو سال ان کو پڑھنے کے بعد میں پہلی بار تین دن پہلے ہمت کی انکے ایک سٹیٹس پر تبصرہ کرنے کے۔ اور پھر اسی تبصرے کو اپنے پروفائل پر پوسٹ کر دیا ،بہت سال لگے مجھے اپنے کو باہمت کرنے میں ، اس سوچ سے آزاد کروانے میں کہ نہیں میں جو دیکھتی ہوں لکھ سکتی ہوں مگر چند گھنٹوں بعد بھائی کا میسج آیا کہ یہ کس قسم کے سٹیٹس لگا رہی ہیں آپ اور اس پر لوگ تبصرے کر رہے ہیں ؟
بس پھر ساری ہمت ٹُھس ہو گئی ! میں نے وہ سٹیٹس ڈیلیٹ نہیں کیا مگر اس وقت میں جان گئی تھی کہ اب میں کبھی کچھ نہیں لکھ پاؤں گی ، جیسے میں لوگوں سے ڈرتی آ ئی ہوں وہ بھی میرے لیے لوگوں سے ڈرتے ہیں اور یہ کہ کوئی میرے ساتھ کھڑا نہیں ہو گا اور نا یہ کہے کا کہ جو دل میں آئے کہہ دو ، پہلے ہی کرپشن بہت ہے اب تم لکھنے میں کرپشن نا کرنا۔
بس پھر کل میں نے اپنا بیس صفحات پر شروع کردہ ناول چپکے سے ڈیلیٹ کر دیا کیونکہ میں ڈر گئی تھی کہ اگر یہ ٹھکرایا گیا تو مجھے اس سٹیٹس سے کہیں زیادہ تکلیف کا سامنا ہو گا۔
ناعمہ عزیز آپی میں ان دونوں ہستیوں سے واقف نہیں اور نہ ہی آپ سے کچھ زیادہ آشنائی ہے مگر میں اس ڈر کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں جو ہر عورت کے ساتھ سایہ بن کر چلتا ہے۔
آج محفل میں مٹر گشت کرتے ہوئے آپ کے اس کمرے کا دروازہ ملا۔ کمرے میں جھانکا تو آپ کا دیدار ہوا۔ آپ کا مذکورہ ڈر مجھے بھی بےحد تکلیف دیتا ہے آپی۔
 

شزہ مغل

محفلین
ایک چبھتی ہوئی سچی تحریر!!!!!! خوب است
ابن رضا بھیا برا محسوس مت کیجیئے گا۔ یہ محض تحریر نہیں ہے۔ یہ ایک حل طلب مسئلہ ہے۔ صرف خواتین کا نہیں مرد حضرات کا بھی۔ کیونکہ لوگوں کا ڈر سبھی کو ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ عورتیں ہر جانب سے اس ڈر کے تیر سہتی ہیں۔
 

شزہ مغل

محفلین
آپ کو اپنی تحریر پر یقین کامل کی حد تک اعتبار ہونا چاہیئے تھا کہ یہ آپ کی سوچ اور خیال کی پرواز کے ابھرے مشاہدے پر استوار تھی ۔
آپ لکھیں اور بنا ڈرے لکھیں ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کی تحریر خود میں " تلخ ننگا سچ " تو لیے ہوئے ہوگی ۔ مگر کسی بھی " فساد و انتشار " کے جراثیم سے بہت دور ہو گی ۔
نایاب بھیا مسئلہ لکنے کا نہیں ہے اس لکھے ہوئے کو سمجھنے اور حل نکالنے کا ہے۔ کبھی میں نے کسی مرد کو یہ کہتے نہیں سنا کہ میں اگر ایسا لباس پہنوں گا تو لوگ کیا کہیں گے۔ میں نے اگر کسی عورت پہ نظر ڈالی تو لوگ کیا کہیں گے۔ میں نے اگر سگریٹ پیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ میں نے اگر گھٹیا الفاظ استعمال کیے تو لوگ کیا کہیں گے۔ میں نے اگر عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا تو لوگ کیا کہیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔
(دلی معذرت کے ساتھ)
 

شزہ مغل

محفلین
یار ہم خواتین کے ساتھ یہ المیہ تو ہمیشہ سے ہے میری نظر میں بہت بہادر لڑکیاں ہوتی ہیں جو ہر طرح کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر ہر طرح کے موضوع کھل کر بات کر لیتی ہیں
مجھے نہیں معلوم کہ کن موضوعات کا ذکر کیا جا رہا ہے یہاں۔ بس اتنا جانتی ہوں کہ مسائل کا حل اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب ان پر بات بھی کی جائے۔ سمجھا بھی جائے اور پھر سمجھایا بھی جائے۔ اگر میرے سر میں درد ہے تو جب تک کسی کو بتاؤں گی نہیں تو کوئی کیسے علاج کر سکے گا؟؟؟؟ اور اگر سننے والا میری تکلیف کو سمجھے گا نہیں تو میرا بتانے کا کیا فائدہ؟؟؟؟ اور اگر سننے والا سمجھ بھی جائے مگر اس کا علاج نہ بتائے تو کیا میں درد کو بھول سکتی ہوں؟؟؟؟ اور اگر سننے والا علاج بھی بتا دے مگر میں اس پر عمل ہی نہ کروں تو؟؟؟؟
 
Top